ہندوستان اور عالم اسلام - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-08-25

ہندوستان اور عالم اسلام

india-and-muslim-world

مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں دفعہ 370 کی برخاستگی اور اسے دو مرکزی زیر انتظام ریاستوں میں تقسیم کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے۔ حالانکہ امریکہ برطانیہ اور دیگر ممالک نے بھی اس معاملہ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ثالثی کا رول ادا کرنے کی بھی پیشکش کی ہے حالانکہ امریکہ نے واضح طور پر کہہ دیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم امریکہ نے جلد از جلد کشمیر میں حالات کو بحال کرنے اور محروس قائدین کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔
دوسری طرف پاکستان، کشمیر کی صورتحال کو ایک بین الاقوامی مسئلہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر کے مختلف ممالک کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندوستان کے نمائندہ سید اکبرالدین نے مدبرانہ قیادت کے ذریعہ پاکستان کے عزائم کو بری طرح ناکام بنا دیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاک مقبوضہ کشمیر میں مظفر آباد اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور وہاں کی موجودہ صورتحال کو عالمی سطح پر مسلمانوں کا مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی۔ وادی کی موجودہ صورتحال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں دنیا بھر کے ڈیڑھ بلین مسلمان متحد ہیں۔ عمران خان نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ سارا عالم اسلام اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
عمران خان کے اس بیان پر مسلم ممالک کی جانب سے تو کوئی آواز نہیں اٹھی لیکن اس بیان کے صرف چار روز بعد ہی سعودی عرب کی سرکاری اور دنیا کی بڑی تیل کمپنی سعودی ارامکو اور ہندوستان کی ریلائنس پٹرولیم انڈسٹریز کے درمیان ہندوستان میں اب تک کی سب سے بڑی راست بیرونی سرمایہ کاری کے اعلان سے پاکستانی وزیر اعظم کے دعوی کی قلعی کھل گئی۔

پاکستان دنیا بھر میں چاہے جتنا ہوا کھڑا کر لے اور کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کی دہائی دے لے لیکن اسلامی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ تعلقات ہمیشہ مستحکم رہے ہیں اور ان پر بھی کوئی آنچ نہیں آئے گی۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف مہم اور کشمیر کے نام پر اسلامی ممالک کو اپنی جانب راغب کروانے کی کوششوں کے دوران ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی مشرق وسطی کے دو اہم ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین کا سہ روزہ دورہ کر رہے ہیں۔ 23 سے 25 اگست تک ہونے والے اس دورہ میں نریندر مودی دونوں ممالک کے قائدین سے مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی وزیراعظم کو ملک کے اعلی ترین سیویلین اعزاز "آرڈر آف زائد" سے نوازا جائے گا۔

اسی سال مارچ میں جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہندوستان کے دورہ پر نئی دہلی پہنچے تو سرزمین ہند پر قدم رکھتے ہی وہ نہایت ہی پرجوش انداز میں ہندوستانی وزیراعظم سے اس طرح بغل گیر ہو گئے جیسے برسوں پرانے دوست آپس میں مل رہے ہیں۔ قبل ازیں 2016 میں نریندر مودی نے جب سعودی عرب کا دورہ کیا تو انہیں اس وقت بھی سعودی عرب کا اعلی ترین سیول اعزاز عطا کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 2010ء میں اس وقت کے وزیر اعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ کے تین روزہ دورہ ریاض کے موقع پر انہیں سعودی عرب کی مجلس شوری کو مخاطب کرنے کا نادر اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے استقبال کے لئے ریاض کی اہم ترین شاہراہوں کو دونوں ممالک کے پرچموں سے اس طرح سجایا گیا تھا کہ اہلیان ریاض آج بھی اسے بھول نہیں پائے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے کشمیر کے نام پر اسلامی ممالک کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کے درمیان، وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے دورہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ان ممالک کے قائدین مودی کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کے مسئلے کو اٹھاتے ہیں یا نہیں اور اگر اٹھاتے بھی ہیں تو اس پر ان کا موقف کیا رہے گا؟ اس پر علاقہ کی عوام کی نظر ٹکی ہوئی ہے۔

عالم اسلام میں خلیجی ممالک کو بڑی اہمیت حاصل ہے خاص کر معاشی اعتبار سے مضبوط سمجھے جانے والے دو بڑے ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہندوستان کے ساتھ بہت ہی مضبوط اور قریبی تعلقات ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی ان ممالک سے ہندوستان کے تعلقات ناقابل تسخیر ہیں۔ خواہ ہندوستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت برسراقتدار رہی ہو روایتی طور پر ان ممالک سے ہندوستان کے تعلقات ہمیشہ بہتر رہے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی کو عرب ممالک یا کسی اور ملک میں سرکاری طور پر کسی بھی اعزاز سے نوازا جاتا ہے تو یہ ان کی اپنی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ اعزاز دینے والے ملک اور ہندوستان کے درمیان قائم مضبوط اور مستحکم رشتوں اور دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر یہ ایوارڈس دیے جاتے ہیں۔ یہ شخصی طور پر نریندر مودی کو دیئے جانے والے اعزاز نہیں ہیں بلکہ ہندوستانی وزیراعظم کو دیئے گئے اعزاز کی حیثیت سے یہ ہر ہندوستانی کے لئے اہم ہیں۔
ہندوستان میں نریندر مودی، ان کی جماعت اور ان کے نظریات سے ہمیں کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا لیکن بیرون ہند وہ بطور وزیراعظم، ہندوستان کے پورے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لئے اگر انہیں کسی بھی ملک میں کوئی ایوارڈ یا اعزاز سے نوازا جاتا ہے تو یہ بات سارے ملک کے لئے باعث فخر ہوگی۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے نام پر عالم اسلام کے ایک ساتھ کھڑے ہونے کا سراسر جھوٹ بولا ہے جبکہ حقیقت میں مشرق وسطی کے سبھی مالک ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس میں مزید استحکام پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔ سعودی آرامکو کی ہندوستانی کمپنی میں سرمایہ کاری کا اعلان اس بات کی تازہ ترین مثال ہے۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے بیان کے تناظر میں بی بی سی لندن کو دیئے گئے انٹرویو میں امور مشرق وسطی کے ماہر اور سابق سفیر ہند برائے سعودی عرب تلمیذ احمد نے کہا کہ عالم اسلام کا لفظ استعمال کر کے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک متحد ہیں جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں سیاست نفع اور نقصان کی بنیاد پر ٹکی ہے اور ہر ملک اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر پالیسی اختیار کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندوستان کے منہ توڑ جواب سے ہزیمت اٹھانے کے بعد اب پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی عدالت (انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس) سے رجوع ہوگا۔ پاکستان کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ خواہ وہ اقوام متحدہ ہو یا بین الاقوامی عدالت یا اور کوئی پلیٹ فارم ہو ہندوستان ہر محاذ پر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔ سربجیت کی پھانسی کا معاملہ اور حال ہی میں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے موقف سے پاکستان کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔
ہندوستان کے خلاف پروپگنڈہ کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی اور دیگر ممالک کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے پاکستان جتنی توانائیاں صرف کر رہا ہے اگر وہی توانائی پاکستان اپنے اندرونی حالات کو بہتر بنانے پر صرف کرے تو وہ زیادہ بہتر ہوگا کیوں کہ اسے ہندوستان کے خلاف کسی بھی محاذ پر کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔
پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم ممالک ہندوستان سے تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نریندر مودی کے زیر اقتدار بی جے پی حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے باوجود بھی مسلم ممالک ہندوستان سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھتے ہیں تو حکومت ہند پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کے مسلمانوں کے تئیں اپنی پالیسی اور اپنے نظریات پر نظرثانی کرے۔

***
بشکریہ:
روزنامہ اعتماد ، اتوار ایڈیشن، 25/اگست 2019۔

The strategy of India among Muslim world

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں