اردو کے خلاف صدر جمہوریہ راجندر پرشاد کے فیصلہ کن ووٹ کی حقیقت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-07-25

اردو کے خلاف صدر جمہوریہ راجندر پرشاد کے فیصلہ کن ووٹ کی حقیقت

president-rajendra-prasad-urdu-vote

اردو اور صدر جمہوریہ راجندر پرشاد کا فیصلہ کن ووٹ؟
اردو ہندوستان کی سرکاری زبان بننے سے محروم
حقیقت یا فسانہ ۔۔۔؟!


اردو زبان کے مسائل پر بحث و مباحثۃ کے دوران اور باتوں کے علاوہ یہ بات بڑی شد و مد سے برجستہ طور پر کہی جاتی ہے کہ ایک ووٹ نہ ملنے کے سبب اردو ہندوستان کی سرکاری زبان بننے سے محروم رہ گئی۔
ہم اردو والوں کے لئے یہ بات بڑی خوش کن ہے کہ تقسیم ملک کے بعد اردو اور اردو والوں پر جو پیغمبری وقت آ پڑا تھا، اس دور نا گفتہ بہ میں بھی اردو کے حق میں اتنی راہ ہموار تھی۔ اس سے، اس دور کے سیاست دانوں کی وسیع قلبی ، بصیرت افروزی اور دور اندیشی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی بات قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: "اکیسویں صدی میں اردو - فروغ اور امکان" میں بھی ہوئی ہے۔ یہ کانفرنس جسے سن کر ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ:
"یہ سب کچھ صحیح نہیں ہے۔ تاریخ میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا"۔
میں نے کہا: "نہیں صاحب، ایسا دستور ساز اسمبلی میں سرکاری زبان پر بحث و تمحیص کے بعد ہوا ہے"۔
ان کے چہرے کی لکیریں پڑھ کر معلوم ہوا کہ وہ صاحب میری بات سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے اس تاثر سے میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ آیا یہ غلط ہے یا صحیح۔ لیکن چوں کہ صدر موصوف کی بات دل میں گھر کر گئی تھی لہٰذا دماغ مطمئن تھا کہ جو میں نے ان صاحب سے کہا وہ حقیقت پر مبنی ہے۔

شب و روز گزرتے گئے لیکن یہ بات دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی۔ بالٓاخر دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس کی تصدیق کے لئے سرکاری زبان سے متعلق دستور ساز اسمبلی میں جو مباحث ہوئے ہیں، ان سے رجوع کیا جائے؟
دستور ساز اسمبلی کے مباحث کے نویں حصے یعنی
Constituent Assembly Debate - IX 30 July 1949 to 18 September 1949, Third print-1999
میں صفحات 1314 سے لے کر 1493 تک میں سرکاری زبان سے متعلق مسودہ (Draft) پر پیش کی گئیں ترمیمات (Amendments) ، مباحث، ووٹنگ اور منظور شدہ ڈرافٹ جو آئین ہند کا حصہ بنا، سب کچھ شامل ہے۔
اس ڈرافٹ سے متعلق 350 امنڈمنٹس پیش کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک 65ویں ترمیم (amendment) ہے جسے جناب این گوپالا سوامی اینگر(Shri N. Gopalaswami Ayyangar) نے دستور ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد کی اجازت سے ایک جامع اور پر مغز تقریر کے بعد پیش کیا۔ اس کا متن درج ذیل ہے:
That after part XIV, the following new part be added:
New part XIV-A
Chapter 1- Language for the union.
301A(1) The official language of the Union shall be Hindi in Devanagari script and the form of numbers to be used for the official purposes of the Union shall be the international form of Indian numerals.
اردو ترجمہ:
حصہ XIV کے بعد مندرجہ ذیل نیا حصہ جوڑ دیا جائے۔
نیا حصہ۔ چودھواں۔ الف۔
باب۔(1) یونین کی زبان کے لئے۔
301 A (1) یونین کی سرکاری زبان دیوناگری رسم الخط میں ہندی ہوگی اور یونین کی سرکاری اغراض کے لئے استعمال کئے جانے والے ہندسوں کی شکل بھارتی ہندسوں کی بین الاقوامی شکل ہوگی۔

اس حصے کے تحت دو اور دفعات (2) اور (3) کے نام سے درج ہیں۔ چوں کہ میرا نقطۂ ارتکاز یہی دفعہ ہے لہٰذا اسی کو اوپر درج کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ اس دفعہ کو لے کر اراکین قانون ساز اسمبلی نے خوب بحث و مباحثۃ کیا۔ کسی نے یونین کی سرکاری زبان کے لئے انگریزی کی وکالت کی تو کسی نے سنسکرت کی، کسی نے بنگالی کی کی تو کسی نے ہندوستانی کی (ہندی اور اردو رسم الخط ، رومن رسم الخط میں)۔ زیادہ تر نے ہندی کو دیونگری رسم الخط میں یونین کی سرکاری زبان بنانے کی وکالت کی کیونکہ ہندی بولنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس طویل بحث میں اردو کو بطور سرکاری زبان بنانے کی ترمیم کا ذکر کہیں نظر نہیں آتا۔

ان مباحث کے دوران قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے درمیان جن ترمیمات (amendments) پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا تھا ان پر بالآخر ووٹنگ سے فیصلہ لیا گیا۔ دستور ساز اسمبلی کے اراکین نے ان کارروائیوں میں حصہ لیا تھا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
(مسلم اراکین)
مولانا حسرت موہانی (United Provinces) محمد اسماعیل(Madras)، نظیر الدین احمد(West Bengal)، قاضی سید کریم الدین (C.P & Berar)، محمد حفظ الرحمن (United Provinces)، مولانا ابوالکلام آزاد (United Provinces)۔ زیڈ، ایچ، لاری (United Provinces)، محبوب علی بیگ صاحب بہادر (Madras) اور محمد طاہر(Bihar)۔
دستور ساز اسمبلی میں دفعہ 301A(1)کے تحت جن لفظوں پر ووٹنگ ہوئی ان کے سوالات اور ووٹنگ کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

Mr. President:The question is:
"That in amendment No.65 above, in clause (1) of the proposed new aritide, 301-A for the word 'Hindi' the word 'Hindustani be substituted".
The assembly divided (by show of hands.)
Yes: 14
No: The rest, a large majority.
The amendment was negatived.

Mr. President: the question is:
"That in amendment no. 65 above, in clause (1) of the proposed new artide 301-A after the word 'Devanagari' the words 'and Urdu' be inserted".
The assembly divided (by show of hands.)
Yes: 12
No: The rest, a large majority.
The amendments were negatived'.

ان الفاظ کا اردو ترجمہ کرنے سے قبل مجوزہ نئے آرٹیکل 301 A(1)کو قارئین کے لئے درج کرتا چلوں جو اس طرح ہے:
301-A (1)
'The State language of the Union shall be Hindi in Devanagari'
اردو ترجمہ:
صدر: سوال ہے:
'' کہ بالا مندرج ترمیم نمبر65 میں مجوزہ نئے آرئیکل 301-A کے کلاز(1) میں ہندی لفظ کے لئے ( کی جگہ) 'ہندوستانی' لفظ بدل دیا جائے۔''
اسمبلی بٹ گئی (ہاتھ دکھا کر)
ہاں: 14(چودہ)
نہیں: باقی ماندہ، بھاری اکثریت
ترمیم مسترد کر دی گئی۔

صدر : سوال ہے:
'' کہ بالا مندرج ترمیم نمبر 65 میں مجوزہ نئے آرٹیکل 301-A کے کلاز(1) میں دیوناگری لفظ کے بعد 'اور اردو' کے لفظ جوڑ دئیے جائیں۔''
اسمبلی بٹ گئی (ہاتھ دکھا کر)
ہاں: 12(بارہ)
نہیں: باقی ماندہ، بھاری اکثریت
ترمیمات مسترد کر دی گئیں۔

معلوم یہ ہوا کہ قانون ساز اسمبلی میں ' ہندی' کے بجائے 'ہندوستانی' اور 'دیوناگری' کے بعد 'اور اردو' دونوں ترمیمات کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ۔۔۔
ایک ووٹ نہ ملنے کے سبب اردو ہندوستان کی سرکاری زبان بننے سے محروم رہ گئی؟
۔۔۔ کی بات کس نے کب اڑائی اور یہ کیوں آج تک اردو والوں کی زبان سے دہرائی جا رہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ 'اردو اور اردو والوں' کو تقسیم ہند کا جو ضرب کاری لگا تھا اس پر مرہم لگانے کے لئے کسی نے یہ کہہ دیا ہو اور جسے ہم آج خوش کن ہونے کی بنا پر ورد کرتے رہتے ہیں؟؟

ڈاکٹر ایس۔ عابد حسین نے بھی زبان کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے اس ایک ووٹ کا ذکر اپنی کتاب The National Culture of India میں یوں کیا ہے:
'After a sharp and long controversy, it was decided by a marginal majority of one vote that Hindi in the Devanagari script was to be the official language of the Union'.

تند اور طویل تنازعہ کے بعد ایک ووٹ کی مارجینل اکثریت کے ذریعے یہ طے کیا گیا کہ ہندی دیانگری رسم الخط میں یونین کی سرکاری زبان (ہوگی) ہونا تھا۔

چونکہ یہاں حوالہ درج نہیں ہے لہٰذا اس بات کے منبع و مخرج تک پہنچنا ممکن نہیں۔ لیکن قانون ساز اسمبلی کے مباحث کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس کا کوئی ''دور پتہ" نہیں ہے۔

ایک اور بات، ہندوستان میں اردو کے تحفظ کے لئے آئین ہند کے آرٹیکل 347 کا خوب ذکر کیا جاتا ہے جس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
347. Special provision relating to language spoken by a section of the population of a state. On a demand being made in that behelf the President may, if he is satisfied that a substantial proprtion of the population of a state desire the use of any language spoken by them to be recognised by the state, direct that such language shall also be officially recognised throughout that state or any part thereof for such purpose as he may specify.

347۔ ا س زبان کے متعلق خصوصی توضیع، جو ریاست کی آبادی کا ایک حصہ بولتا ہو۔ اس بارے میں مطالبہ کیے جانے پر صدر، اگر وہ مطمئن ہو کہ کسی ریاست کی آبادی کے قابل لحاظ تناسب افراد کی خواہش ہے کہ وہ ریاست کی کسی زبان کے استعمال کو، جسے وہ بولتے ہیں، تسلیم کرے تو صدر ہدایت کر سکے گا کہ ایسی زبان بھی اس ریاست بھر میں یا اس کے کسی حصہ میں اس غرض کے لئے، جس کی وہ صراحت کرے ، سرکاری طور پر تسلیم کر لی جائے۔

اس آرٹیکل کا حوالہ ڈاکٹر ظفر محمود نے قومی اردو کونسل کے ذریعے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے پہلے اجلاس بعنوان "اردو کے فروغ میں سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کا کردار" پر اپنے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن میں دیا تھا۔
ان کے اس حوالہ پر دوسرے امور کے علاوہ اس پر بھی Intervention کیا گیا تھا کہ اس آرٹیکل میں ان الفاظ
a substantial proportion of the population of a state
کی تشریح آئین ہند میں موجود نہیں ہے لہٰذا صدر جمہوریہ اس نوع کی ہدایت ریاست کو کیسے جاری کر سکتے ہیں؟
بات معقول لگی کیوں کہ ڈاکٹر ذاکر حسین، صدر انجمن ترقی اردو ہند کی قیادت میں انجمن ترقی اردو ہند کا ایک وفد ڈاکٹر راجندر پرساد سے 15/فروری/1954 کو ملا اور ان سے درخواست کی کہ وہ آئین ہند کے آرٹیکل 347 کے تحت ہدایت جاری کریں کہ اتر پردیش کی ریاست میں 'اردو' بطور ایک ریاستی زبان کے تسلیم کی جائے جس کے لئے وہاں کے 27 لاکھ سے زائد لوگوں نے دستخط کئے تھے۔

رالف رسل نے اطہر فاروقی کی تحریر کے حوالے سے اور محمد عبدالقدیر نے از خود بیس لاکھ دستخطوں کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر راجندر پرساد نے اس نوع کی ہدایت جاری نہیں کی اور نہ ہی ڈاکٹر ذاکر حسین بذات خود جب اس ملک کے صدر جمہوریہ بنے۔

اس سے ایک بات نکل کر سامنے آتی ہے کہ کیا آئین ہند کے آرٹیکلس کے وہ الفاظ جن کی تشریح آئین میں کہیں موجود نہیں ہے یا تشریح طلب ہے ، ان آرٹیکلس کا استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے ؟
اس کا حل فالی ایس نریمن کی اس عبارت میں نظر آتا ہے:

I also recall one occasion when arguing on behalf of minority educational institutions, before the (initial) bench of seven judges (6 February 1997), when the bench had reframed the questions and referred them for decision to a bench of 11 judges. On this occasion justice A.S. Anand (who was then on the bench presided over by the senior most judge, Justice M.M. Punchhi) put to me the following queistion:
"Mr. Nariman, was it ever contemplated by the framers of our Consititution that postgradeuate ecducation and specialty education should also fall within the provisions of Article-30?
Obviously, he thought not. So when Justice Anand posed this question, I responded by saying that under article 30 of the constitution (in the Fundamental Rights chapter) all minorities whether based on religion or language had the right to establish and administer educational institutions of their choice, and that ever since the 1974 decision in the Ahmedabad St Xavier's College society case , in wihich a bench of nine judges had participated, even secular education in schools and colleges was regarded as covered by the provisions of Article 30. How then could it have been ever contemplated by the framers of consititution (I asked rhetorically with considerable heat and emphasis!) that post garduate education would fall outsice the provisions of Article 30?
اردو ترجمہ:
مجھے وہ ایک موقع بھی یاد آتا ہے جب سات ججوں پر مبنی ( ابتدائی) بنچ کے سامنے اقلیتی تعلیمی اداروں کے لئے بحث کر رہا تھا۔( 6/فروری/1997) تو بنچ نے سوالوں کو ریفرم کرکے گیارہ ججوں والی بنچ کو فیصلے کے لئے ریفر کر دیا تھا۔ اس موقع پر جسٹس اے۔ ایس آنند ( جو بنچ میں بطور ایک ممبر موجود تھے، اور جس بنچ کی صدارت سینئر ترین جج جسٹس ایم۔ ایم پنچھی کر رہے تھے) نے مجھ سے مندرجہ ذیل سوال کیا:
"مسٹر نریمن کیا ہمارے آئین سازوں کے ذریعے یہ کبھی سوچا گیا تھا کہ پوسٹ گریجویٹ ایجوکیشن اور اسپیشلٹی ایجوکیشن آرٹیکل 30 کے پروویزنس کے تحت بھی آنی چاہئے؟"
صریحاً (انہوں نے) ایسا نہیں سوچا تھا۔ لہٰذا جب جسٹس آنند نے یہ سوال کیا تو میں نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ :
"آئین کے 30 ویں آرٹیکل کے تحت ( بنیادی حقوق کے باب میں) تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہبی ہوں یا لسانی ، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کے نظم و نسق کا حق حاصل ہے اور وہ احمد آباد سینٹ زیویرس کالج سوسائٹی کیس کے 1974کے فیصلے سے ہے، جس میں 9 ججوں کی بنچ نے حصہ لیا تھا۔ اس فیصلے سے آرٹیکل 30 کے پروویزنس کے تحت اسکولوں اور کالجوں کی سیکولر تعلیم بھی کور ہوتی ہے۔ تب، آئین سازوں کے ذریعے کبھی یہ کیسے سوچا جا سکتا تھا (میں نے جذباتی طور پر بڑے گرم اور پرزور انداز سے پوچھا) کہ پوسٹ گریجویٹ ایجوکیشن آرٹیکل-30 کے پروویزنس سے باہر ہوگی؟

قطع نظر اس عدالتی چارہ جوئی کے، قانون ساز اسمبلی کے مباحث میں ان الفاظ کی تشریح خود موجود ہے، جو حسب ذیل ہے:

Then in article 301-E it is said that where the president is satisfied that a substantial proportion of the population desires the use of some other language, he may direct that such language shall also be officially recognised. I agree to that, but it seems to me that it would be better to follow the Congress Working Committee's direction in this matter and lay down a certain proportion of the population on whose demand a language may be recognised. I think the Working Commettee laid down 20 per cent and we right well adhere to that; otherwise it would become very diffoult for the Central Government to decide as to where to give in and where to refuse and that might create some confusion and a certain amount of bitterness also in certain provinces. Where a proportion is fixed, the way for the Central Government will be clear."

301, where on a demand being made in that behalf the president is satisfied that a substantial proportion of a state, but not less than 20 per cent, desires the use of any language spoken by them to be recognised by that state, he may direct that such language shall be recognised throughout that state or any part there of for such purpose as he may specify.
اردو ترجمہ:
تب آرٹیکل 301-E میں یہ کہا جاتا ہے کہ جہاں صدر مطمئن ہو کہ آبادی کا قابل لحاظ تناسب کسی دوسری زبان کے استعمال کی خواہش کرتا ہے تو وہ ہدایت دے سکتے ہیں کہ اس طرح کی زبان کو بھی سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں تاہم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ہدایت پر عمل کرنا بہتر ہوگا اور آبادی کے کچھ تناسب کو متعین کیا جائے جن کے مطالبے پر کوئی زبان تسلیم کی جا سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ورکنگ کمیٹی نے 20 فیصد متعین کیا تھا اور ہمیں اسی پر ٹھیک سے جمے رہنا چاہئے وگرنہ مرکزی حکومت کے لئے کہاں مانے اور کہاں نہ مانے کا فیصلہ کرنا بہت دشوار ہو جائے گا اور یہ معاملہ کچھ الجھن پیدا کر سکتا ہے اور کچھ صوبوں میں کسی حد تک تلخی بھی۔ جہاں تناسب متعین ہوگا وہاں مرکزی حکومت کے لئے راہ صاف ہوگی۔

جہاں کہیں اس بارے میں مطالبہ کیے جانے پر صدر ، اگر مطمئن ہو کہ کسی ریاست کی آبادی سے قابل لحاظ تناسب جو 20 فیصد سے کم نہ ہو ، خواہش کرتا ہے کہ وہ ریاست کی کسی زبان کے استعمال کو جس کو وہ بولتے ہیں، تسلیم کر لیا جائے تو صدر ہدایت کر سکتا ہے کہ ایسی زبان اس ریاست بھر میں یا اس کے کسی حصے میں اس غرض کے لئے جس کی وہ صراحت کرے، تسلیم کرلی جائے گی۔

ان تحریروں سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ صدر جمہوریہ نے آئین کے آرٹیکل 347 کے تحت ریاست اتر پردیش کو
a substantial proportion of the population of a state
کی تشریح نہ ہونے کے سبب ہدایت جاری نہیں کی تھی بلکہ اس کی وجوہ کچھ اور تھیں جن کی وضاحت اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے اس خط کے اقتباسات سے ہوتا ہے جو انہوں نے 12/مارچ/1954 کو اس وقت کے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کو اس آل انڈیا انجمن ترقی اردو کے میمورنڈم کے حوالے سے لکھا تھا جو انہیں صدر جمہوریہ کے دفتر سے رائے مشورے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس خط کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

'It is, of course, a serious matter to suggest that the president should issue any directive, as suggested. That might well create some kind of a constitutional crisis, and, in addition, it would make the controversy even more acute and bitter, and thus actually injure the prospects of Urdu. It seems to me that the right way to teckle this question is in a friendly, cooperative way.'
اردو ترجمہ:
یہ تجویز کرنا درحقیقت ایک سنجیدہ معاملہ ہے کہ صدر جمہوریہ کو کوئی ہدایت جاری کرنا چاہئے جیسا کہ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ کسی نوع کا آئینی بحران پیدا کر سکتا ہے اور مزید برآں یہ تنازع کو اور زیادہ تند اور تلخ کرے گا اور اس طرح حقیقتاً اردو کے امکانات کو مجروح کرے گا۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس سوال کو حل کرنے کا صحیح طریقہ دوستی اور باہمی تعاون ہے۔

مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھ کر آرٹیکل 347 کے نفاذ کے متعلق ذہن کا مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ اس سے متعلق مزید نکات کے لئے پنڈت نہرو کے متذکرہ خط سے رجوع کریں۔

***
ڈاکٹر کلیم اللہ (نئی دہلی)۔
drkalimullah3[@]gmail.com

The reality of single vote against Urdu by President Rajendra Prasad.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں