ناول موت کے کھلونے - ماہنامہ مجرم جون 1985 - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-07-26

ناول موت کے کھلونے - ماہنامہ مجرم جون 1985 - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

Mujrim maut-ke-khilone June-1985

ادارہ شمع (نئی دہلی) نے فلمی/ادبی ماہنامہ 'شمع' کے علاوہ بالغوں کے لیے جرم و جاسوسی پر مشتمل ناول سیریز "مجرم" کا اجرا کیا تھا۔ اس سیریز کے جو کردار مقبول ہوئے ان میں کرنل زاہد (انٹلیجینس بیورو کا ایک اعلیٰ عہدیدار) کے بشمول کرنل کیو (انٹلیجینس بیورو کے سربراہ اعلیٰ)، کیپٹن سیما (کرنل زاہد کی پرائیویٹ سکریٹری)، کیپٹن جاوید (کرنل زاہد کا دستِ راست) اور پرائیویٹ سراغرساں ڈاگا شامل ہیں۔
ماہنامہ "مجرم" کا ایک ناول "سرد موت" تعمیرنیوز کے ذریعے پیش کیا جا چکا ہے، اب جون-1985 کا ناول بعنوان "موت کے کھلونے" پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔
تقریباً سوا سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 8 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

ناول کا ایک دلچسپ اقتباس ۔۔۔
۔۔۔ باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ آفس والی عمارت میں داخل ہوئے۔ یہ عمارت بھی ایک ایکڑ زمین پر بنی تھی۔ اندر بہت سے کمرے تھے۔ کلرک، ٹائپسٹ اور منیجر وغیرہ اپنے کام میں مصروف تھے۔ دروازے کے پاس ہی ایک ہال میں شوروم تھا۔ شوروم میں میزوں پر وہ کھلونے رکھے تھے جن سے ربڑ کی گولیاں نکلتی تھیں اور سپاہی روبوٹوں کی طرح چلتے تھے۔ کھلونا ٹینک، کھلونا آرمرڈ کاریں، کھلونا توپیں، کھلونا ہوائی جہاز، کھلونا مزائل۔۔ غرض کہ آج کل کی جنگ میں کام آنے والے ہر قسم کے ہتھیاروں کے کھلونے بنے ہوئے تھے۔ زاہد نے ایک نظر پورے ہال پر ڈال کر کہا:
"کیا یہ سب کھلونے آٹومیٹک طور پر کام کرتے ہیں؟"
"جی ہاں" سیمویل بولا۔ "اور سب ریموٹ کنٹرول سے کام کرتے ہیں۔ ان کو چابی دینے کی ضرورت نہیں۔ ریموٹ کنٹرول آپ ہاتھ میں رکھئے۔ بٹن دبائیے۔ کھلونے اپنے آپ کام کرنا شروع کر دیں گے۔ دیکھئے آپ کو تجربہ کر کے دکھاتا ہوں۔"
یہ کہہ کر سیمویل نے ایک کھلونا سپاہی میز سے اٹھا کر زمین پر رکھا۔ یہ کھلونا سپاہی تین فٹ کا بونا سپاہی لگ رہا تھا۔ اس کے جسم کے سائز کے مطابق ہی اس کے ہاتھ میں رائفل تھی۔ سیمویل نے ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر زاہد سے کہا۔
"اب آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیے اور جب یہ گولیاں چلائے تو ان گولیوں سے بچنے کی کوشش کیجئے۔ گھبرائیے بالکل نہیں کیونکہ گولیاں کارک کی طرح ہلکی اور جیلی کی طرح نرم ربڑ کی بنی ہیں۔"
زاہد سپاہی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ سیمویل نے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبایا۔ سپاہی فوراً حرکت میں آیا۔ اس نے رائفل سیدھی کی ، ٹھس ٹھس کی آوازوں کے ساتھ ربڑ کی گولیاں زاہد کے جسم سے ٹکرانے لگیں ۔۔۔ زاہد جلدی سے چھلانگ لگا کر ایک جانب کو ہٹا۔ فوراً ہی کھلونا سپاہی بھی اس کی جانب گھوم گیا۔ زاہد اچھل کر دوسری جگہ پہنچا تو سپاہی اسی طرف گھوم گیا۔ غرض یہ کہ زاہد جدھر جدھر جاتا رہا ، سپاہی اسی طرف گھوم کر اس پر گولیاں چلاتا رہا۔
آخر سیمویل نے ریموٹ کنٹرول کا دوسرا بٹن دبا دیا اور سپاہی ساکت ہو گیا۔
زاہد دل ہی دل میں اس کھلونے کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ واقعی یہ کھلونے حیرت انگیز ایجاد تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر سپاہی کو اٹھایا، اس کا وزن پانچ کیلو کے قریب تھا، اس نے سپاہی کو واپس میز پر رکھ دیا۔

ناول "موت کے کھلونے" کا خلاصہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ ناول ایک بین الاقوامی تنظیم کی تحیر خیز کہانی پر مبنی ہے جو ساری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنے کی سازش رچتی ہے۔
انٹلیجنس بیورو کے چیف کرنل کیو نے اپنے ذہین ترین ماتحت کرنل زاہد کو ملک "آزونا" میں دہری شخصیت بنا کر ایک مہم کو سر کرنے روانہ کیا۔ اس ملک میں کرنل کیو کے ایک ایجنٹ شاؤلی کاک کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ اور کرنل کیو کو شبہ ہے کہ اس قتل کے پس پشت کھلونا بنانے والی ایک فرم کا ہاتھ ہے کیونکہ کاک نے اپنی آخری رپورٹ میں اسی فرم کا ذکر کیا تھا۔
دراصل یہ فرم ساری دنیا میں اپنے بنائے گئے لائف سائز کھلونوں کو فروخت کرنے اور اپنے اس کاروبار کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ فرم کے چار حصے داروں میں حکومت آزونا کا سوشل ویلفئر منسٹر، فزکس کا ایک سائنس داں، جنگی ہتھیار بنانے کی لاتعداد فیکٹریوں کا مالک یہودی کھرب پتی کے علاوہ ہانک کانگ کی انڈرورلڈ مافیا کا باس بھی شامل تھا۔
کرنل زاہد ایک ہندوستانی ارب پتی تاجر کے بھیس میں ان لوگوں سے ملتا ہے اور انہیں اپنے ملک میں ان کی فرم کی ایجنسی ڈالنے کی پیشکش کرتا ہے جس کے جواب میں وہ لوگ اپنے کاروبار میں پارٹنرشپ کی پیشکش کرتے ہیں۔ اور اپنی فیکٹری کا تفصیلی معائنہ کرواتے ہیں جسے دیکھ کر زاہد دنگ رہ جاتا ہے۔
پھر اچانک کسی طریقے سے کرنل زاہد کی اصلیت سامنے آ جاتی ہے اور وہ لوگ کرنل زاہد پر عین اس وقت قابو پا لیتے ہیں جب زاہد اپنے اسسٹنٹ کیپٹن جاوید کے ہمراہ فیکٹری کی تلاشی کے لیے چوری چھپے داخل ہوتا ہے۔
زاہد کو قتل کرنے سے قبل فرم کے چاروں ارکان وضاحت سے اپنا منصوبہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے ان لائف سائز کھلونوں کے ذریعے دنیا کے سارے ممالک کو اپنے قبضے میں کریں گے؟
کیا کرنل زاہد کو وہ لوگ ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے؟ لائف سائز کھلونوں کی حقیقت کیا تھی؟ ہندوستانی ایجنٹ کاک کی موت کا کیا سبب تھا؟

یہ سب جاننے کے لیے ناول کا مطالعہ کیجیے جس کے مطالعے کا دورانیہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کا ہے۔

***
نام ناول: موت کے کھلونے
مصنف: قانون والا
تعداد صفحات: 130
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 8 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Mujrim Maut-ke-Khilone.pdf

Direct Download link:

Maut ke khilone, a spy novel, Monthly 'Mujrim', Jun. 1985, pdf download.

1 تبصرہ:

  1. قانون والا کا اصل نام کیا ہے؟کیا وہ حیات ہے؟

    جواب دیںحذف کریں