اندرا گاندھی - سیکولرازم اور سوشلزم - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-05-17

اندرا گاندھی - سیکولرازم اور سوشلزم

indira-gandhi
اسے کچھ نظام فطرت کہئے یا تاریخ کا اپن کو دہرانا کہ ایک سے ایک لوگ جنم لیتے رہتے ہیں اور اگر تھوڑی دیر کے لئے کسی مہان ہستی کے اٹھ جانے سے ہماری آنکھوں میں اندھیرا چھاتا بھی ہے تو فوراً ہی دوسری انمول شخصیت سامنے آ کر ہمیں روشنی دینے لگتی ہے۔
اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا سدا کے لئے اندھیرے میں ڈوب جائے اور اجالے کی طرف سے نا امید ہو کر ہم مستقل مایوسی کا شکار ہو جائیں۔
عام طور پر ذمہ داران اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ فرید آباد کانگریس اجلاس میں مسز گاندھی بالکل نئے روپ میں سامنے آئیں اور سولہ مہینے پہلے حیدرآباد اجلاس کے موقعے پر جن لوگوں نے انہیں دیکھا تھا وہ حیرت میں پڑ گئے۔
لیکن مجھے کوئی حیرت نہیں ہے چونکہ درمیانی مدت کے چناؤ میں جس لگن سے انہوں نے کانگریس کے لئے دوڑ دھوپ کی اور عوام نے جو ان کو خراج عقیدت پیش کیا وہ اسی وقت اس کی پیشین گوئی کر رہا تھا کہ ان کی خود اعتمادی اور قوت ارادی بیحد مستحکم ہو چکی ہے۔
اسی لئے فرید آباد میں انہوں نے کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کی اور صاف صاف بتادیا کہ کانگریس کا نصب العین سماج واد ہے۔ وہ سیکولرازم و جمہوریت کی علمبردار ہے اور حالات کتنے یہ دل شکن اور مختلف کیوں نہ ہو جائیں اپنے راستے سے نہ وہ کبھی ہٹی ہے نہ ہٹے گی۔
اس جماعت کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اس نے ابتداء سے راستہ و منزل کا تعین کر لیا ہے اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم ان قربانیوں کو رائے گاں نہ جانے دیں گے۔ گاندھی جی کے خون ناحق کو فراموش نہیں کریں گے اور پنڈت جواہر لال نہرو کی کوششوں پر پانی نہ پھیریں گے۔
اگر ہمارے ٹھوس اور مستحکم اصولوں کے خلاف پر لوک نواسی بھی کوئی بات کریں گے تو ہم قطعی نہیں سنیں گے۔ ہر سچے کانگریسی کے کچھ جذبات ہوتے ہیں۔ اور اس جماعت کا کتنا ہی بڑا فرد کیوں نہ ہو۔ اگر وہ بنیادی اصولوں پر چوٹ لگائے گا تو اسے برداشت کرنا کسی سے بھی ممکن نہ ہو گا۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کانگریس ابتداء سے ایک ایسا سماج بنانا چاہتی ہے جس سے امیروغریب کا فرق مٹ جائے سارے لوگ اطمینان کی سانس لے سکیں۔ اور آسودگی کے ساتھ زندگی کے دن کاٹ سکیں۔ اسی لئے وہ بھید بھاؤ، چھوت چھات کے خلاف بھی قدم اٹھاتی رہی اور ہمیشہ ایک قومی نظریہ کی ماننے والی بھی رہی ہے۔
انگریز سامراج نے ہرموڑ پر اسے اپنا رخ بدلنے کے لئے مجبور کیا گولیان چلائیں۔ لوگوں کو پھانسیاں دیں، قید خانوں میں ڈالا مگر اس پارٹی کے اصولوں میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔
اور برطانوی نوکر شاہی نے اپنے آزمائے ہوئے اصول لڑاؤاور راج کرو۔ کی روشنی میں دو قومی نظریہ کا پرچار کرنے والوں کو ہمارے خلاف کھڑا کیا۔ انہوں نے دشمن کے کہنے میں آ کر سب کچھ کیا اور ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ہمیں ملک کا بٹوارہ تک مان لینا پڑا۔ پھر بھی ہمارے بنیادی نظریات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اور ہم نے اقلیت کو سینہ سے لگانا ضروری سمجھا۔ پست اقوام و ہریجن کو بلند کرنا فرض خیال کیا۔ اور سیکولرازم کا دامن نہ چھوڑا۔
بالکل اسی طرح مہاتما گاندھی کے تصور میں جو سوراج تھا جس طرح وہ چاہتے تھے۔ ہر گھر میں گھی دودھ کی ندیاں بہیں اور شہرودیہات کے لوگ مساویانہ حیثیت سے خوشحال ہو سکیں۔ اس کا احترام کرتے ہوئے ہم نے سائنسی عہد کے تقاضوں کی روشنی میں سوشلزم کی طرف اپنے قافلہ کو بڑھایا اور جمہوری نظام قائم کر کے عوام کے سر پر تاج رکھ دیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ حالات زمانہ کے پیش نظر یہ چاہا کہ ہمارا ملک صنعتی اعتبار سے نمایاں ترقی کرے۔ نئی نئی صنعتیں یہاں قائم ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ بے روزگار وں کو بر سر کار کیا جا سکے۔ اور بڑے بڑے کارخانے حکومت کے کنٹرول میں ہوں تاکہ سرمایہ لگانے والے محنت کش طبقہ کا خوں نہ چوس سکیں۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے جو پروگرام بنایا تھا اسے عملی جامہ پہنانے میں کامیابی بھی حاصل کی۔
جس دیش میں آزادی سے پہلے معمولی سی سوئی نہیں بنتی تھی وہاں آج سامان جنگ تیار ہورہا ہے اور دنیا نے اسے تسلیم کر لیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ہندوستان کا نام نمایاں ہے۔ اسی کے ماتحت ہم نے انشورنس کمپنیوں کو قومیاکر سرمایہ کو چند لوگوں کی گرفت سے نکالا اور عوام کے قبضے میں دے دیا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہم نے سماج واد کا ابتدائی راستہ بڑی حد تک طے کر لیا ہے۔ اب اگر کوئی ذمہ دار فرد ہمارے ان اقدامات پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ کسی اور ڈھنگ سے سوچتا ہے اور سماجی کنٹرول کی مذمت کرتا ہے تو ہم کیسے ان با توں کو مان سکتے ہیں۔
شریمتی اندرا گاندھی نے فرید آباد میں صدر کے خطبہ پڑھنے کےد و گھنٹے بعد تقریر کرتے ہوئے سرکاری زمرے میں بڑے خارخانوں اور بھاری صنعتوں کا قیام ضروری بتایا۔ چونکہ نجی سرمایہ دار ایسی صنعتوں میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں جن کا فائدہ بہت دیر میں سامنے آتا۔
مسز گاندھی نے کسی قدر جوش کے ساتھ معاشی برابری قائم کرنے اور اجارہ داریاں توڑنے پر زور دیا ہے اور چند لوگوں کی تجوریوں میں دولت جمع ہو جانے کے خلاف اقدام کرنا بھی ضروری بتایا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک زندہ و صحتمند سماج تعمیر کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سامنے روس اور اسی قبیل کے پسماندہ اور شہنشاہیت کے اسیر ممالک کی چلتی پھرتی تصویریں ہیں وہ جانتی ہیں کہ انہوں نے جو کچھ بھی ترقی کی ہے سوشلزم کے راستے پر چل کر۔ پھر وہ کیسے سوشلزم سے منہ پھیر نہ پسند کر سکتی ہے یہی تو ایک ذریعہ ہے ترقی و برابری کا۔
کانگریس جب سے قائم ہوئی ہے یہ پہلی مثال ہے کہ اونچے طبقے میں نظریاتی اختلاف ہوا ہے اور یقین ہے کہ آئندہ جو بنگلور میں اجتماع ہونے والا ہے اس میں یہ گتھی سلجھ جائے گی۔
لیکن ہم اس طرح سے گتھی سلجھ جانے پر بس کرنے کے حق میں نہیں ہے اور چاہتے ہیں کہ ذہنوں کے جال صاف ہوں اور ہم میں کا ایک ایک فرد دل سے سوشلزم سیکولرازم اور جمہوریت کو تسلیم کریں اور اس کی پروا نہ کرے کہ وقت کے دھارے کسی اور طرف بہہ رہے ہیں ان کا رخ ہماری جانب نہیں ہے اور ہمیں حالات کے سامنے سپرڈال دینا چاہیے۔
چونکہ کانگریس شکست کھانا نہیں چاہتی ہے اس کی لغت میں فتح کے معنی حکومت بنانا اور کرسی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ وہ عمدہ اصولوں پر قائم رہنا سمجھتی ہے اور اس کا یہ عقیدہ ہے کہ اس راہ میں اگر جان بھی چلی جائے تو غم نہیں۔
اندرا جی اسی راہ کی رہنما ہیں اسی لئے تمام صحتمند اصول پسندوں کی وہ واحد لیڈر ہیں۔ ہم ان کی پالیسی کو اپنے لئے مفید خیال کرتے ہیں۔ اور قابل عمل بھی تصور کرتے ہیں چونکہ وہی ایک ایسی شخصیت ہیں جو ہمارے بیڑے کو بحسن و خوبی پار لگا سکتی ہیں۔
میں نے انہیں قریب سے دیکھا اور میں جانتا ہوں کے ملک کے بدلتے ہوئے مزاج کا ان کو صحیح اندازہ ہے۔ وہ ہمت ہار دینے والی ہستی نہیں ہیں۔ اسی لیے آج پورا ملک ان کے ساتھ ہے انھی کے دم سے کانگریس کی ساکھ باقی ہے۔
تصویر کا ایک تاریک رخ یہ بھی ہے کہ ذمہ داران کے ذہن الجھے ہوئے ہیں اور وہ پیچیدہ حالات میں کچھ غیر متوازن سے محسوس ہو رہے ہیں چنانچہ جب اقلیت بالخصوص مسلمانوں کا مسئلہ اٹھتا ہے تو صحیح طور پر غیرجانبدار ہو کر سوچنا بڑا دشوار ہو جاتا ہے۔
مگر اندرا جی اس معاملے میں بھی ہمیشہ صاف ستھرا رول ادا کرتی ہیں سچائیوں پر پردہ نہیں ڈالتی ہیں اور بڑی بے باکی سے معقول اور سیکولر روایات کو برقرار رکھنے پر زور دیتی ہیں۔
ان کی یہ پالیسی اکثر لوگوں کو پسند نہیں آتی اور گھٹا گھٹا دبادبا جذبہ ان کے خلاف بعض دل و دماغ میں ابھر تا رہتا ہے۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا ہے اس لئے کہ اندراگاندھی سچائی پر ہیں اور سچائی ہی اصل طاقت ہے کسی کو انہیں کمزور نہ سمجھنا چاہیے۔ اور اسے محسوس کرنا چاہیے کہ اپنے پرائے ہندو مسلمان سکھ عیسائی پارسی بدھسٹ اور ہر طبقہ و خیال کے بھارت واسی ان کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ وہ جنتا کی آواز ہیں اور اس کا سب سے بڑا سہارا بھی۔

اندرا گاندھی کا عظیم الشان کارنامہ
یہ صحیح ہے کہ اواوی کانفرنس میں پنڈت نہرو نے ملکوں کو سوشلزم کا نعرہ دیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس کا نصب العین سماجواد ہی رہا اور اس کی بہترین کوشش یہی رہی کہ وہ جلد سے جلد ایک ایسے ہندوستان کو جنم دے سکے جس میں تمام بسنے والے اپنی جائز ضروریات زندگی کی فراہمی میں کوئی دشواری نہ محسوس کریں اور مطمئن انداز میں زندگی کی سانس لے سکیں۔
بھونیشور اجلاس میں جواہرلال جی نے اس پر شدت سے زور دیا تھا کہ اب با توں سے زیادہ کاموں کی ضرورت ہے اور ہمیں تیزی سے اپنے اپنے ارادہ کو پورا کرنا چاہیے۔
لیکن اسے ملک کی بدقسمتی کہئے یا نظام قدرت کے ان کی صحت ان کا ساتھ نہ دے سکی کو ہم بیمار ہوئے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید وہ ابھی نہ مرتے لیکن کچھ بیرونی ہوا اندرونی دوستوں کی طرف سے ان کے اعتماد کو اتنی زبردست چوٹ پہنچی کہ ان کی روح برداشت نہ کر سکیں اور اور تڑپ کر قید جسم سے آزاد ہو گئی۔
اس خیال سے قطع نظر یہ ماننا ہی پڑے گا کہ کانگریس میں ایک ایسا بھی توقع رہا جس کی فطرت ترقی پسند رجحانات کے منافی کہی جا سکتی ہے تو ایک مخصوص عینک سے سب کچھ دیکھنے کا خواہاں ہے اور جسے انداز فکر کے باعث رجعت پسند کہنا غلط نہ ہو گا۔
پنڈت نہرو کے عہد میں بھی اس نے گام گام پر روڑے اٹکائے اور وہ صرف جمہوریت کے احترام میں اسے برداشت کرتے رہے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔
ان کے بعد شاستری جی کو تعمیری کاموں کا موقع نہ مل سکا لہٰذا ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح اس طبقے سے نپٹتے ان کا عہد حکومت بے حد مختصر ہے اور اس مختصر عرصہ میں وہ پاکستان سے جنگ میں الجھے رہے ساری توجہ ایک خاص مرکز پر رہی اور اس روشنی میں بس اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی اپنے کرتب دکھا رہے تھے اور بائیں بازو والے رسوخ بڑھانے کے لیے پر پرواز تول رہے تھے۔ وہ کامیاب ہوتے یا ناکامیاب اس کا فیصلہ تو اسی وقت ہو سکتا تھا جب تاشقند معاہدہ کے بعد لال بہادر شاستری زندہ رہتے اور اندرونی پالیسی پر دخل انداز ہوتے۔
البتہ اندراجی قلمدان وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ضرور معاملات کو سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ ابتداء میں تو وہ خاموش رہی۔ لیکن گرد و پیش کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد انہوں نے محض اپنی دانشمندی کے بھروسے پر آگے بڑھنا طریقہ کار بنا لیا۔
ان کی یہ روش رجعت پسندوں کے لئے یقینی تازیانے کا کام کرتی ہے اور وہ اسے آمریت سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ سماجوادی جمہوریت میں جب شریک کار اپنے دل ہوا دماغ صاف کر کے عوامی مفاد کے لئے معقول مرکز پر متحد نہیں ہوتے ہیں تو ایسی ناکام جمہوریت کے مقابلے میں وہ آمریت زیادہ بہتر قرار پا جاتی ہے جس کے ہاتھوں کو وہ ملک کا بھلا ہو۔
جمہوریت خلاء کی پیداوار نہیں ہے۔ نہ کسی دوسری دنیا والوں کے لئے ہے بلکہ یہ ہماری اپنی دنیا کے لوگوں کا بنایا ہوا ایک ایسا نظام حیات ہے جو ہمارے لئے ہوتا ہے صرف ہمارے لیے۔ اور ہمارے سے مراد ملک کے کل بسنے والے ہیں اب دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ کل بسنے والوں کا کتنا بھلا ہو رہا ہے ہیں انہیں تن ڈھانکنے کو کتنا کپڑا مل رہا ہے پیٹ بھرنے کو کتنی روٹی میسر ہو رہی ہے اور سر چھپانے کو کیسی جگہ نصیب ہوئی ہے ؟
ہم آپ سب جانتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے اب تک ہم اپنے عوام کو مکمل طور پر ہاں آ سودہ نہیں کرپائے ہیں اسی لئے ہمارے یہاں تخریب پسند عناصر سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ جذباتی سیاست کا بازار گرم ہوتا ہے اور کچھ دیر کے لیے ہماری توجہ تعمیری کاموں سے ہٹ کر جھگڑے فساد پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
اندرا جی اسے عرصے سے محسوس کر رہی ہیں اور وہ مختلف انداز سے بار بار اس پر زور دے رہی تھیں کہ اب وقت محض با توں کا نہیں ہے، نہ قانونی طور پر کوئی کاغذی تیاری کر لینا کافی ہے۔ بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ کہنے سے زیادہ کچھ کر کے دکھایا جائے۔
اور جب انہوں نے سوشلزم کا عملی ثبوت دیتے ہوئے بنک کو قومیانے کے لئے نعرہ لگایا تو ایوان امارت میں زلزلہ آ گیا۔ پونجی وادی بت منہ کے بل گر پڑے اور ان کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا۔
"جواہر لال نہرو کی بیٹی تو اور غضب کی نکلی۔ "
بڑے باپ کی بیٹی بھی بڑی ہوتی ہے اس کا عظیم باپ جس منزل پر قافلہ کو چھوڑ جاتا ہے وہ اس منزل سے اسے آگے بڑحاتی ہے۔ اس کا کام حرکت و عمل ہوتا ہے اور جمود و تعطل نہیں۔ اور بینکوں کو قویمانہ حقیقۃً ایک انتہائی اونچے پیمانے کی کوشش ہے۔ آج تک تو یہ ہوتا رہا ہے کہ بینکوں پر چند پونجی وادی قابض رہے۔ انہوں نےا پنے مفاد کے مد نظر ان ہی چیزوں پر روپیہ لگایاجس سے ان کا گروپ مالا مال ہو سکے اسی لئے سچ پوچھئے تو نئے ہندوستان میں سرمایہ دار تو اور زیادہ سرمایہ دار ہو گیا لیکن غریب بدستور غریب رہا۔
بینکوں کو قومیانے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ براہ راست حکومت کے کنٹرول میں آ گئے اور حکومت چونکہ عوام کی ہے لہذا وہ ان ہی چیزوں میں روپے لگائے گی جو ملک و قوم کے لئے منافع بخش ہوں اور اس طرح ہمارا دیش خوشحال، مضبوط اور زیادہ سے زیادہ مطمئن ہو سکے گا۔
یہ اقدام حقیقتاً رجعت پسندی اور سرمایہ داری کے منہ پر طمانچہ ہے اور طمانچہ کون کھانا چاہتا ہے، وہ بھی عورت کے ہاتھ سے۔ بڑے بڑے غصے سے بل کھانے لگے۔ سارا ملمع اتر گیا اور انہوں نے مل جل کر اس کی شدید کوشش کی کہ وہ شاخ ہی کٹ جائے جس پر آشیانہ تعمیر ہورہا ہے۔
اقتدار کے بھوکے کے لئے یہ بڑا نازک وقت ثابت ہو سکتا تھا اور وہ ہتھیار ڈال دیتا لیکن اندرا جی پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر اٹل رہیں۔ جوار بھاٹا آیا طوفان آیا، اور وہ سب کچھ ہوا جس کی ایسے موقع پر توقع کی جا سکتی تھی۔۔ ۔ مگر آخر میں جیت اندرا جی کی ہوئی۔ تاریخ ہند میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔۔ ۔ کانگریس نے قول سے زیادہ عمل کا ثبوت دیا۔ اور پورے ملک کے عوام نے ان کو بدھائیاں دیں۔
آنے والے دور کا مورخ شریمتی اندرا گاندھی کا نام سنہری حروف سے لکھنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے بتیس دانت میں ایک زبان ہو کر یہ بتا دیا کہ حق کی خاطر لڑنے والے شکست نہیں کھاتے ہیں اس لئے کہ ان کے ساتھ عوامی طاقت ہوتی ہے۔ وہ عوام کے نمائندہ ہوتے ہیں اور عوامی راج قائم کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔
صرف ہندوستان ہی نہیں وری دنیا ان کے اس مستحسن اقدام پر ان کو مبارکباد دے رہی ہے۔۔ ۔ اور ہر طرف سے آوازیں آ رہی ہیں :
شریمتی اندرا گاندھی زندہ باد !!

***
ماخوذ از کتاب: اندرا گاندھی
مصنف: ضیاء عظیم آبادی
ناشر: اندراپرکاشن، لکھنو۔ سن اشاعت: اگست 1969ء

Indira Gandhi, her concept of secularism and socialism. Article by: Zia Azeemabadi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں