واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اور دفاعِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-04-26

واقعہ کربلا از انجینئر محمد علی مرزا اور دفاعِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

engr-mirza-vs-hafiz-zubair
انجینئر محمد علی مرزا ایک دلیر اور جرات مند شخص ہیں اور سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت کے خلاف تیار کردہ اپنے ویڈیوز کے ذریعے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنا ایک ریسرچ پیپر بعنوان "واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر (المعروف ہائیڈروجن بم)" پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر حافظ زبیر نے متذکرہ ریسرچ پیپر کے حوالے سے ان سے ایک طویل مکالمہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ :
  • انجینئر مرزا صاحب دین اور دینی علوم سے حد درجے دور ہیں۔
  • عربی میں اصول حدیث، اصول فقہ، اصول تفسیر، عقیدہ وغیرہ کی کسی کتاب کے نہ دو لفظ پڑھ سکتے اور نہ ہی ان کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔
  • مرزا صاحب ترجمے کی کتابوں سے کام چلاتے ہیں، عربی زبان کے علاوہ دینی علوم کی بنیادی اصطلاحات سے ناواقف ہیں۔

یہ مکالمہ آڈیو شکل میں یوٹیوب پر ان چار حصوں میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
حصہ-1 ، حصہ-2 ، حصہ-3 ، حصہ-4

مرزا صاحب کی اس خودساختہ تحقیق کا جو حصہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے، اس کے کچھ جوابات تحریری شکل میں ذیل میں، ڈاکٹر زبیر کے شکریے کے ساتھ پیش ہیں۔
انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم "واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر" کے تیسرے باب میں ص 15 پر، حدیث نمبر 31 کے تحت مسند احمد کی ایک روایت کے ترجمے میں ڈنڈی مارتے ہوئے یہ الزام لگاتے ہیں کہ معاذ اللہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، اسلام لانے کے بعد شراب پیتے تھے۔ مرزا صاحب نے مسند احمد کی روایت کا غلط ترجمہ یوں کیا ہے:

سیدنا عبد اللہ بن بریدہ تابعی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملنے گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں فرشی نشست [یعنی قالین] پر بٹھایا، پھر کھانا لایا گیا جو ہم نے تناول کیا، پھر ہمارے سامنے ایک مشروب لایا گیا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پینے کے بعد [وہ مشروب والا برتن] میرے والد کو پکڑا دیا تو انھوں نے [سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ] نے فرمایا: "جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔" پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: "میں قریشی نوجوانوں میں سب سے حسین ترین اور خوبصورت دانتوں والا نوجوان تھا اور جوانی کے ان دنوں میں میرے لیے دودھ اور اچھے قصہ گو آدمی سے بڑھ کر کوئی چیز لذت آور نہیں ہوتی تھی۔"

اس حدیث کا عربی متن یہ ہے:
"22941 - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ "أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي، ثُمَّ قَالَ: مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ [مسند أحمد ط الرسالة (38/ 25)]

مرزا صاحب نے اپنے ترجمے میں بریکٹس میں جو اضافے کیے ہیں، وہ عربی متن میں نہیں ہیں۔ عربی متن میں یہ بات موجود نہیں ہے کہ سیدنا بریدہ نے یہ کہا تھا: "جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔" عربی متن میں صرف یہ موجود ہے کہ "اُس" نے یہ کہا اور یہ "اُس" سے مراد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشروب پینے کے بعد برتن سیدنا بریدہ کو پکڑاتے ہوئے کہا کہ "جب سے اُس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اُسے نوش نہیں کیا۔" اور یہاں "اس" سے مراد "اُس" ہے۔

اب اس حدیث کو سمجھیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر جس برتن سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا تھا، اس میں شراب ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی یہ نہ کہتے کہ "جب سے اُس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا" کیونکہ شراب کو قرآن مجید نے حرام کیا ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے شربت کی بعض صورتوں سے منع کیا تھا کہ جسے "نبیذ" کہتے ہیں۔ تو اس حدیث میں مشروب سے مراد "نبیذ" یعنی کھجور کا مشروب ہے کہ جس میں کچھ خمار آ چکا ہو۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے مخالفین نے الزام لگایا تھا، شراب نوشی کا نہیں، اتنی جرات نہیں تھی کسی میں، بلکہ نبیذ پینے کا الزام تھا۔ اور نبیذ اصلا جائز تھی جیسا کہ آگے روایت آ رہی ہے کہ عرب پانی میں کھجور یا انگور ڈال کر رکھ لیتے تھے تا کہ میٹھا شربت بن جائے لیکن بعض اوقات ایک خاص وقت کے بعد اس مشروب میں سکر یعنی مدہوشی آ جاتی تو اسے پینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا تھا۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس مشروب کو پیا، وہ دودھ تھا جیسا کہ اسی روایت کے آخر میں دودھ کا لفظوں میں ذکر موجود ہے۔ اور اسی دودھ کے برتن کو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے یہ بات کہی کہ "جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔" یعنی اے بریدہ، یہ دیکھ لیں کہ میرے گھر میں میرے دستر خوان پر وہ چیز نہیں پی جاتی کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور میرے بارے یہ باتیں درست نہیں ہیں جو بعض لوگ پھیلا رہے ہیں کہ میں مدہوش کر دینے والی نبیذ پیتا ہوں۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ اپنی صفائی میں کہا ہے۔ یہ جملہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا نہیں ہے۔ اسے بلاغت میں اصطلاحا استطراد کہتے ہیں۔

روایت کا آخری حصہ بتلاتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تو دور جاہلیت میں بھی دودھ کا شوقین تھا تو اے بریدہ، اسلام لانے کے بعد نبیذ میرا پسندیدہ مشروب کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «مَا شَيْءٌ كُنْتُ أَسْتَلِذُّهُ وَأَنَا شَابٌّ فَآخُذُهُ الْيَوْمَ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِنِّي آخُذُهُ كَمَا كُنْتُ آخُذُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ» [مصنف ابن أبي شيبة (6/ 188)]۔ ترجمہ: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے جوانی میں بھی دودھ سے زیادہ کچھ پسند نہ تھا اور آج بھی میں، دودھ ہی لے رہا ہوں جیسا کہ آج سے پہلے بھی میں دودھ ہی لیتا تھا۔ تو مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت میں اس مشروب کے لیے "دودھ" کے الفاظ واضح طور موجود ہیں۔ تو اتنے واضح الفاظ کے بعد کہ میں آج کے دن دودھ پی رہا ہوں، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا طعن کہ وہ شراب پیتے تھے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ، اور دلیل کیا ہے کہ اس روایت میں "شراب" کا لفظ ہے۔

اور عربی زبان میں شراب کے لیے "خمر" کا لفظ آتا ہے نہ کہ "شراب" کا۔ اردو میں شراب کے لیے "شراب" کا لفظ ہے۔ عربی میں شراب کسے کہتے ہیں؟ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ: الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ، وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ"۔ [صحيح مسلم (3/ 1591)] ترجمہ: میں نے اپنے اس برتن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی شراب یعنی مشروب پلایا ہے؛ شہد بھی، نبیذ بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔ یہ تو اس روایت کا صحیح مفہوم ہوا۔ اور جہاں تک اس کی سند کی بات ہے تو اس کی صحت میں بھی اختلاف ہے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس روایت کو "منکر" کہا ہے۔

*****
انجینیئر مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر کے تیسرے باب میں ص 15 پر، حدیث نمبر 31 کے تحت سنن ابو داود کی ایک روایت کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں حرام اشیا مثلا ریشم، سونا اور درندوں کی کھال بطور قالین استعمال ہوتی تھی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اس حدیث کی تحقیق میں علامہ البانی اور شیخ زبیر علی زئی رحمہما اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو "اسنادہ صحیح" کہا ہے۔ ہم نے اپنی ویڈیوز میں تفصیل سے یہ بات واضح کی ہے کہ جب محدثین کسی حدیث کے بارے "اسنادہ صحیح" کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ حدیث "صحیح" ہے۔ اور یہ مرزا صاحب کی بنیادی ترین غلطی ہے کہ وہ "صحیح الاسناد" اور "صحیح" حدیث کا فرق بھی نہیں جانتے۔ اور اپنی اسی جہالت کے سبب اپنے کتابچے کا عنوان "واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر، 72۔ صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں" رکھ بیٹھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک "اسنادہ صحیح" کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ حدیث "صحیح" بھی ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ "صحیح" حدیث کی پانچ شرائط میں سے ان تین شرائط کی ہم نے اس روایت میں تحقیق کر لی ہے کہ جن کا تعلق صرف سند سے ہے، باقی کی دو شرائط کہ جن کا تعلق سند اور متن سے ہے، اس کو دیکھنے کی ہمیں فرصت نہیں ملی، وہ تم دیکھ لو۔ یا آسان الفاظ میں ہم نے اس روایت کی آدھی تحقیق مکمل کر لی ہے، باقی کی دوسرے محققین پر چھوڑتے ہیں۔ تو ایسی حدیث کہ جس کی تحقیق ابھی نامکمل ہے، اسے آپ اپنے دعوی کی دلیل بنا رہے ہیں؟ یا تو پہلے اس کی تحقیق مکمل کرتے تو پھر بھی کوئی بات تھی۔

تیسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کے اس کتابچے میں حدیث کی تحقیق کے ضمن میں انہوں نے چند محققین کی تحقیقات کو اپنا مصدر بنایا ہے مثلا علامہ البانی، شیخ شعیب ارنووط، شیخ زبیر علی زئی وغیرہ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ان حضرات میں کسی حدیث کی تحقیق میں اختلاف ہو جاتا ہے تو پھر مرزا صاحب کے ہاں ذاتی عصبیت کے علاوہ کوئی دوسرا اصول نظر نہیں آتا کہ جس کے تحت وہ ایک محقق کی تحقیق قبول کر رہے ہوں اور دوسرے کی چھوڑ دیں۔ مثال کے طور پر اسی روایت کو علامہ البانی نے اگر "صحیح الاسناد" کہا ہے تو شیخ شعیب ارنووط نے اسی روایت کو "إسناده ضعيف" کہا ہے یعنی اس کی سند ضعیف ہے لیکن مرزا صاحب نے شیخ شعیب ارنووط کی تحقیق نہیں لی ؟ کیونکہ وہ ان کے سوچے سمجھے نتائج کے خلاف تھی۔

اگر یہاں اس روایت میں علامہ البانی کی تحقیق لی ہے تو بعض مقامات پر علامہ البانی کی تحقیق چھوڑ دی ہے کیونکہ وہ ان کے نتائج کے خلاف تھی۔ تو یہ ساری تحقیق pick and choose کے اصول پر کھڑی ہے اور اس میں بائیسنیس بہت زیادہ موجود ہے۔ پھر امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کو "منکر" کہا ہے، چلیں امام کثیر تو آپ کے کتابچے کے مصادر میں نہیں ہیں لیکن شیخ شعیب ارنووط تو ہیں ناں۔ تو جو شخص آپ کے مصادر میں ہے، اسے بھی آپ مکمل نقل نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کے نتائج کے لیے نقل کرتے ہیں، بھلے وہ علامہ البانی ہو، شیخ شعیب ارنووط ہو، یا شیخ زبیر علی زئی ہوں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ معجم الطبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دے کر کہا کہ اے لوگو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو چیزوں سے منع کیا اور میں بھی تمہیں ان نو چیزوں سے منع کرتا ہوں؛ نوحہ کرنے سے، شعر سے، دور جاہلیت کی طرح عورتوں کے بن سنور کر باہر نکلنے سے، تصاویر سے، دردندوں کی کھالوں سے، موسیقی سے، سونے سے، بدکاری سے اور ریشم سے۔ اس روایت کو علامہ البانی نے "صحیح" کہا ہے۔ لیکن مرزا صاحب کو اپنے کتابچے میں یہ روایت نقل کرنے کی توفیق نہ ہوئی کیونکہ یہ ان کے مقصد کے خلاف جا رہی ہے۔ پھر اس روایت کو علامہ البانی نے "صحیح الاسناد" بھی نہیں بلکہ "صحیح" کہا ہے اور علامہ البانی آپ کے کتابچے کے مصادر میں ہیں۔ تو ایک ہی موضوع پر ایک ہی محقق سے "صحیح" روایت آپ نے نہ لی لیکن اس سے درجے میں کم "صحیح الاسناد" روایت لے لی، کیوں ؟

جب ایک موضوع پر ایک روایت آپ لے آئے ہیں تو دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس کے خلاف اگر کوئی روایت موجود ہے تو اس کا بھی ذکر کریں اور حق بات نہ چھپائیں۔ لیکن مرزا صاحب سے ملاقات میں بھی میں نے کھل کر یہ کہا تھا کہ آپ کے بقول آپ نے بھی اس کتابچے میں وہ تمام روایات چھپانے کا جرم کیا ہے جو آپ کے دعوے اور مقدمے کے خلاف جاتی ہیں لہذا اس کتابچے کے پہلے پیج پر جو طعنہ آپ نے علما کو دیا ہے کہ وہ حق بات چھپاتے ہیں، تو اس کتابچے کے مطالعے سے صاف نظر آ رہا ہے، کہ یہی کام آپ نے پورے دھڑلے سے اس کتابچے میں کیا ہے۔ تو یہ کتابچہ تحقیق کے کن اصولوں پر مرتب ہوا ہے؟ ایک ہی اصول ہے؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی طرح سے گندا کرنا ہے، by hook and by crook ۔۔۔

*****
انجینیئر مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر کے تیسرے باب میں ص 14 پر، حدیث نمبر 27 کے تحت لکھتے ہیں "یعنی صحابیت کے سوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے۔"

سنن الترمذی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: "اللَّهمّ اجعله هاديا مهديّا، واهد به." اے اللہ، انہیں ہادی بھی بنا اور مہدی بھی، یعنی ہدایت کا رستہ دکھانے والا بھی، اور وہ بھی کہ جسے ہدایت کا رستہ دکھایا گیا ہو، اور ان کے ذریعے خلق خدا کو ہدایت دے۔ امام بخاری بھی اس روایت کو اپنی کتاب "التاریخ الکبیر" میں لے کر آئے ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو "حسن" کہا ہے۔ علامہ الجورقانی نے کہا کہ یہ روایت "حسن" ہے۔ امام ذہبی نے کہا کہ اس کی سند "قوی" ہے۔ ابن حجر الہیثمی نے اسے "حسن" کہا ہے۔ علامہ آلوسی نے بھی "صحیح" کہا ہے۔ علامہ البانی نے بھی "صحیح" کہا ہے۔

دوسری روایت المعجم الکبیر للطبرانی اور مسند احمد وغیرہ کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللَّهمّ علّمه الكتاب والحساب، وقه العذاب۔" اے اللہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب اور فرائض کا علم سکھا اور انہیں عذاب سے بچا۔ اس رواٰیت کے پہلے حصے کو سنن ابو داود اور سنن النسائی نے بھی نقل کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس روایت کو "صحیح" کہا ہے۔ بعض معاصر محققین نے اس روایت کو مسلم کی شرط پر "صحیح" قرار دیا ہے۔

مرزا صاحب نے اپنے کتابچے میں امام اسحاق بن راہویہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی ایک روایت بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قول ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کب سے "بابی" یعنی بابوں کو ماننے والے ہو گئے؟ ان کا تو نعرہ ہی یہی ہے: "نہ میں وہابی، نہ میں بابی، میں ہوں مسلم، علمی کتابی"۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا صاحب سے بڑھ کر کوئی "بابی" نہیں ہے۔

باقیوں کے ہاں تو پھر "بابوں" کو نقل کرنے کا کوئی ضابطہ ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے لیکن یہاں تو وہ بھی نہیں ہے۔ مرزا صاحب جب چاہتے ہیں، اپنے مقصد کے لیے بابوں کو نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس کتابچے میں اپنے موقف کی دلیل کے طور پر بابوں کے بیسیوں اقوال جمع کر دیے ہیں۔ اور جب چاہتے ہیں، بابوں پر نقد شروع کر دیتے ہیں جبکہ وہ ان کے موقف کے خلاف جا رہے ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں "بابوں" کو اس لیے نقل کرتا ہوں کہ یہ لوگ "بابوں" کو مانتے ہیں۔ تو بھئی، پھر یہاں بھی علامہ البانی کو نقل کرو ناں اپنے کتابچے میں کہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی روایت "اللَّهمّ اجعله هاديا مهديّا، واهد به." کو "صحیح" کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ جن کے لیے آپ بابوں کو نقل کرتے ہیں، یہاں علامہ البانی کو نہیں مانتے؟

تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرزا صاحب اپنی تحقیق میں "خائن" ہیں، حق بات کو چھپاتے ہیں، تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہر منفی بات، جہاں سے انہیں ملی، بھلے تاریخ کی کتابوں سے، اپنے کتابچے میں جمع کر دی ہے جبکہ ان کے بارے ہر مثبت بات چھپا لی ہے، بھلے حدیث کی کتابوں میں موجود ہو۔ تو اسے غیر جانبدارانہ تحقیق کہتے ہیں؟ رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل، تو وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہیں، اپنے مناقب میں بھی اور درجات میں بھی، اور یہ سب صحیح روایات سے ثابت ہے۔

*****
انجینیئر مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر کے چوتھے باب بعنوان "چوتھے خلیفہ راشد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان اور ان پر منبروں سے لعنت کرنے کی بدعت کب اور کس نے ایجاد کی ؟" میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ان کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبروں پر گالیاں دی جاتی تھیں۔ مرزا صاحب کا یہ کتابچہ چھ ابواب پر مشتمل ہے کہ جس کا دوسرا بڑا باب یہ ہے جبکہ اس کتابچے کے سب سے بڑے باب میں مرزا صاحب نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی اور بدعتی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اور دونوں ابواب مل کر نصف سے زیادہ کتابچے کے مواد پر مشتمل ہیں کہ کتابچہ 32 صفحات کا ہے اور دونوں ابواب 17 صفحات کے ہیں اور بقیہ ابواب میں بھی روایات کی بڑی تعداد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے کہ جنہیں مرزا صاحب سے کھینچ تان کر، کبھی بریکٹس کی صورت ترجمے میں مذموم اضافے کر کے اور کبھی گھٹیا قسم کے فٹ نوٹس لگا کر، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے ہر مثبت بات کو بھی منفی بنا دیا ہے۔ کتابچہ واقعہ کربلا کا پس منظر کم اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ زیادہ معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کتابچے کا صحیح عنوان "امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ" ہی بنتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے تئیں، اس امت میں پیدا ہونے والے ہر فساد کی جڑ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے رد میں ہم سلسلہ وار گفتگو کر رہے ہیں۔

اپنے اس دعوی کے ثبوت میں مرزا صاحب نے جن روایات کو نقل کیا ہے، انہیں ہم راویوں کے اعتبار سے پانچ قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی قسم کی روایات سعد بن ابی وقاص رضی عنہ سے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے؛ "أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟" اس روایت کا غلط ترجمہ مرزا صاحب یوں کرتے ہیں کہ امیر معاویہ نے، سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا کہ علی رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہیں حالانکہ روایت میں یہ کہیں موجود نہیں ہے۔ "أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا" کا معنی یہ ہے کہ امیر معاویہ نے، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کو امیر حج مقرر کیا۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص سے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ "مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟" کہ آپ کو ابو تراب کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ تو یہ ایک سوال ہے نہ کہ کوئی حکم۔ دوسرا یہ کہ "سب" کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ جس کا معنی نامناسب الفاظ میں تذکرہ کرنا ہے جیسا کہ "سبابہ" شہادت کی انگلی کو کہتے ہیں اور عرب کسی کو عار دلانے کے لیے اس انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: "أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا" ترجمہ: اے اللہ، جس مسلمان کو بھی میں نے سب وشتم کیا یعنی اس پر تنقید کی، تو میرے اس عمل کو اس کے لیے گناہوں کی معافی اور اجر کا ذریعہ بنا دے۔ تو سب وشتم کا معنی تنقید بھی ہے۔

اب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیوں پوچھا؟ تو اس کی توجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وہ کیا خواص ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ ان پر نقد نہیں کرتے جبکہ کچھ اور لوگ کر رہے ہیں؟ سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ امیر معاویہ حج کے لیے تشریف لائے تھے تو ایک مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہما کا ذکر چھڑ گیا تو روایت کے الفاظ ہیں: "فَذَكَرُوا عَلِيًّا، فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ۔" ترجمہ: لوگوں نے حضرت علی کا ذکر کیا تو امیر معاویہ نے ان پر تنقید کی ہے تو اس سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سخت غصے ہو گئے۔ تو اس کے جواب میں اسی روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے تین فضاٗئل بیان فرمائے کہ جن کی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نقد نہیں کرتے تھے۔ تو اہم بات یہ بھی ہے کہ خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں ایسے صحابہ موجود تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید برداشت نہیں کرتے تھے۔

تو پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے یا ان پر تنقید کرنے کا حکم دیا ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ سب وشتم تھا کیا جو کبھی منبر پر کسی کی طرف سے ہو گیا تو یہ دوسری قسم کی روایات سے واضح ہوتا ہے جو سہل بن سعد سے ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آ کر کہنے لگا کہ مدینے کا گورنر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر برا بھلا کہتا ہے تو سہل بن سعد نے کہا: "فَيَقُولُ: مَاذَا؟ قَالَ: يَقُولُ لَهُ: أَبُو تُرَابٍ فَضَحِكَ،"۔ وہ کیا برا بھلا کہتا ہے؟ تو اس شخص نے کہا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہتا ہے۔ تو سہل بن سعد یہ سن کر مسکرا پڑے۔ اور انہوں نے بعد میں کہا کہ یہ نام تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بہت محبوب تھا۔ تو یہ بات درست ہے کہ امیر مدینہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے یہ الفاظ بطور نقد استعمال کیے تھے لہذا اس کا یہ عمل بالکل غیر مناسب تھ۔

لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مرزا صاحب جو یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برسر منبر گالیاں دی جاتی تھیں اور لوگوں کے ذہنوں میں پنجابی کی گالیاں آ جاتی ہیں کہ جن میں کسی کی ماں بہن ایک کر دی جاتی ہے تو وہ یہ کام بالکل غلط کرتے ہیں۔ تو اکا دکا ایسے واقعات ضرور ہوئے ہیں کہ کسی مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید ہوئی ہے لیکن بر سر منبر گالیاں دینے کا کوئی اسٹیٹ آڈر جاری ہوا تھا تو یہ بہتان عظیم ہے اور اس بہتان کو ثابت کرنے کے لیے جس انجینیئرنگ کی ضرورت ہے، وہ کمال درجے میں مرزا صاحب میں موجود ہے۔ اور ویسے وہ خود بھی اس کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ انجینئرنگ کرتے ہیں۔ تو دینی معاملات میں انجینیئرنگ کیا کوئی اچھی چیز ہے کیا؟

تیسری قسم کی روایات کا مرکزی راوی عبد اللہ بن ظالم ہے جو سعید بن زید سے روایت کرتا ہے، رضی اللہ عنہ۔ عبد اللہ بن ظالم کی روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خطبا مقرر کیے ہوئے تھے جو لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے کا حکم کرتے تھے۔ لیکن اس معاملے میں عبد اللہ بن ظالم کی روایات قابل قبول نہیں ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا کہنا ہے: "عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ"۔ عبد اللہ بن ظالم کی سعد بن زید سے روایات، صحیح نہیں ہیں۔

چوتھی قسم کی روایات کا مرکزی راوی ابو عبد اللہ الجدلی ہے۔ ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا عام فعل تھا۔ ابو عبد اللہ الجدلی کے بارے ابن سعد لکھتے ہیں: "وكان شديد التشيع." کہ وہ کٹر شیعہ ہے۔ امام ذہبی اس کے بارے کہتے ہیں: "شيعي بغيض." یعنی بغض رکھنے والا شیعہ ہے۔ اور راوی اگر بدعتی ہو اور اس کی روایت اس کی بدعت کے حق میں ہو تو اس کی ایسی روایت قابل قبول نہیں ہوتی، یہ محدثین کا اتفاقی کلیہ ہے لہذا اس مسئلے میں اس راوی کی روایات مردود ہیں۔

پانچویں قسم کی روایت قیس بن ابی حازم کی ہیں جو خود مرزا صاحب کے موقف کے خلاف دلیل بن رہی ہیں۔ رہی یہ منطقی دلیل کہ انہوں نے آپس میں جنگ وجدال کر لیا تو گالم گلوچ کیوں نہ کی ہو گی؟ تو اس سے فضول کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا دنیا میں ہر قتل کرنے والا اپنے مقتول کو پہلے گالی دیتا ہے؟ اور جنگ وجدال بھی کن غلط فہمیوں سے ہوا، اس کی تفصیل کے لیے ہماری پہلی چار ویڈیوز ملاحظہ فرمائیں۔ اور سب وشتم کے موضوع پر مزید تفصیل جاننے کے لیے ملحق ویڈیو ملاحظہ فرمائیں جو اس سلسلے کی پانچویں ویڈیو ہے۔

***
اسسٹنٹ پروفیسر، کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور
mzubair[@]ciitlahore.edu.pk
فیس بک : Hm Zubair
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

Eng'r Mohd Ali Mirza's blunderness regarding Ameer Muawiyah. Article: Dr. Hafiz Md. Zubair

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں