جمعہ کے خطبہ اور خطیب کی تبدیلی کی ضرورت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-04-27

جمعہ کے خطبہ اور خطیب کی تبدیلی کی ضرورت

khutba-jumma
جمعہ کے خطبہ میں مسجدیں خالی کیوں؟
خطیبوں کو بدلیئے - انتظامی کمیٹیوں سے درخواست

تمام مساجد کی انتظامی کمیٹیوں سے ادباً درخواست ہے کہ اس پر غور فرمائیں کہ کیوں لوگ جمعہ کے خطبے میں شروع سے حاضر نہیں رہتے۔ خطبہ رسمی طور پر چلتا رہتا ہے اور مسجد خالی رہتی ہے۔ صرف پندرہ بیس بوڑھے حضرات ہوتے ہیں وہ بھی زیادہ تر کرسیوں پر۔ لوگ آخری پانچ منٹ میں دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور سلام پھیرتے ہی الٹے پاؤں بھاگتے ہیں؟ نمازیوں کی اکثریت خطبے کے اہم حصّوں سے جان بوجھ کر محروم رہتی ہے۔ اِس دیری کی وجہ کاہلی ہے یا کچھ اور؟ ان سے سبب پوچھئے تو کہیں گے کہ مولوی صاحب وہی گِھسا پِٹاStereotype خطبہ دیتے ہیں، قصّے کہانیاں سناتے ہیں اور Unscientific باتیں کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کو یہ احساس نہیں کہ کچھ خطیب آدھے گھنٹے کے خطبے کیلئے کئی گھنٹے مطالعہ کرکے کئی کتابوں کا نچوڑ پیش کرتے ہیں لیکن خطیبوں کی اکثریت چونکہ یہ محنت نہیں کرتی اسلئے خطبے سے عام طور پر بیزاری پائی جاتی ہے۔

کیا ایسے خطبوں کی ضرورت ہے؟
دوسرا مسئلہ زبان کا بھی ہے۔نمازیوں کی اکثریت چونکہ انگلش میڈیم کی پیداوار ہے اسلئےخطیبوں کے عربی اور اردو کے الفاظ ان کے سروں کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ اگر یہ خطبے یوں ہی خالی رہے تواِن خطیبوں کی مثال اُنہی پنڈتوں کی طرح ہوجائیگی جو سنسکرت کے اشلوک پڑھتے ہیں جن کو کوئی سمجھتا نہیں لیکن لوگ اپنی اپنی رسمی پوجا کرکے مندر سے نکل جاتے ہیں۔ تیسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بقول شاعر’’کیا مرے وقت کا تقاضہ ہے ۔۔۔ کیا صدا آرہی ہے منبر سے‘‘۔ لوگ زمینی مسائل پر رہنمائی چاہتے ہیں اور خطیبوں کے پاس سوائے زمین کے نیچے کے یا آسمان کے اوپر کے کوئی اور موضوع ہی نہیں۔ کیونکہ خود خطیبوں کو حقیقی زمینی مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہوتا۔ اس لئے اب وقت آچکا ہے کہ خطبوں اور خطیبوں کے پورے نظام کو بدلیں۔ اِس کےلئے پہلے تو خطبہ کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

خطبہ سننا واجب ہے۔
علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ خطبہ سننا واجب ہے۔ اگر لو گ جان بوجھ کر اس واجب کو ترک کررہے ہیں تو کیوں کررہے ہیں اور اس کا وبال کس کے سر آئیگا یہ سوچنا انتظامی کمیٹیوں کی پہلی ذمہ داری ہے ورنہ ایک اجتماعی غفلت کی جوابدہی کی ذمہ داری ان کے سر ہوگی اس کے بعد محلے کے ہر فرد پر ہوگی۔ خطبہ امر بالمعروف کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہر اہم موقع کو خطبہ کیلئے استعمال فرمایا۔ جمعہ، عیدین، تدفین، جنگ و غزوات اور نکاح کے موقعوں پر آپﷺ خصوصی خطبہ بیان فرماتے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بشارت بیان فرمائی کہ جو شخص خطبہ شروع ہونے سے پہلے مسجد میں داخل ہوجائے اس کی ہر جائزدعا قبول کی جاتی ہے۔ خطبہ حقیقت میں ایک ایسا Grinding toolہےجس سے جذبۂ ایمانی کو تلوار کی طرح تیز کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ ہر ہفتہ سیاست میں، اکنامی میں، سوسائٹی میں اور نیشنل و انٹرنیشنل حالات میں کوئی نہ کوئی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ، لوگوں کے ذہنوں میں مسلسل سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اسلئے لازمی ہے کہ کم از کم ہفتہ میں ایک بار امت کو اجتماعی طور پریہ رہنمائی ملے کہ نئے حالات میں اسلام کا Applicationکیسے ہوگا۔

کیا خطبہ سے پہلے کی اردو تقریر کو خطبہ کہا جاسکتا ہے؟
آج خطبے اِ س طرح ہورہے ہیں کہ برسہابرس سےایک ہی خطیب صاحب منبر سنبھالے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں خطبہ محض ایک رسمی شئے بن جکر رہ گیا ہے اس لئے نہ کوئی تبدیلی آتی ہے نہ انقلاب۔ ہر جمعہ ہوتا یہ ہیکہ پہلے مقامی زبان میں کسی عالم یا مفتی صاحب کو منبر سے الگ ہٹ کے تقریر کیلئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ جس کے ختم ہونے کے وقت ہی لوگ مسجد میں تشریف لاتے ہیں۔ پھر خطیب صاحب منبر پر آکردو خطبےعربی زبان میں دیکھ کر پڑھتے ہیں جس کو نہ وہ خود سمجھتے ہیں اور نہ سامعین۔ خطبہ کا جو مقصد شریعت نے بتایا ہے وہ دور دور تک پورا نہیں ہوتا۔یہ عربی خطبہ مشکل سے پانچ منٹ کے ہوتے ہیں لیکن انہی پانچ منٹ میںمسجد بھر جاتی ہے۔ گویا لوگ اردو تقریر کے ختم ہونےکے انتظار میں پاس ہی کہیں تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس اردو تقریر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس کا بھی سننا واجب ہے جس طرح خطبہ سننا واجب ہے؟ کیا یہ اردو یا تلگو تقریر ایک اضافی شئے نہیں ہے جس کو علما نے محض ایک حکمت کی بنا رائج کیا ہے؟ چونکہ شریعت میں خطبے صرف دو ہیں جو خطیب صاحب عربی میں پیش کرتے ہیں اسلئے اردو تقریر کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ اگر اس اردو تقریر کو خطبہ کہا جائے تو پھر خطبے تین ہوجائیں گے جو کہ سنّت کے خلاف ہیں۔ اسلئے لوگوں کے اردو تقریر کے ختم ہونے کے بعد صرف عربی خطبہ شروع ہونے کے وقت آنے پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
چونکہ خطبہ کا اصل مقصد نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے اسلئے انتظامی کمیٹیاں مجبور ہیں کسی عالم یا مفتی کو معاوضہ دے کر ایک تقریر کروادیں تاکہ اوّلِ وقت جو لوگ آجاتے ہیں انہیں خطبہ سننے کا ایک احساس ہو۔ سالہاسال ایک ہی مقرّر یا واعظ اس کام کیلئے فِکس کردیئے جاتے ہیں اس لئے ان مقرّروں یا واعظین کی ایک اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے۔ چونکہ ہر مقرّر کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے اسلئے وہ اپنے مزاج ہی کے مطابق تقریریں کرتے ہیں۔ کوئی صاحب مسلسل فقہی مسائل پر بات کرتے ہیں تو کوئی صاحب مستقل اولیااللہ کے معجزات و کرامات پر، کسی خطیب کا مستقل زور سیاست پر ہوتا ہے وہ مسلسل جہاد و قتال پر نوجوانوں کو جوش دلاتے رہتے ہیں تو کہیں توحید ، شرک اور بدعت ہی کا مستقل بیان ہوتا ہے ۔ کہیں سادے سیدھے آدابِ زندگی ہی بیان ہوتے رہتے ہیں تو کہیں مسلکی اختلافات پر مناظرہ اور مباہلہ جیسی تقریریں ہوتی رہتی ہیں جن میں کفر، شرک، بدعت وغیرہ کے فتوے جاری ہوتے رہتےہیں۔ ۔ اسی لئے ایک ہی خطیب جب مسلسل ایک ہی قسم کا خطبہ دینے لگے تو انسانی نفسیات ہے کہ لوگ اُکتا جاتے ہیں۔ ٹھہرے ہوئے پانی میں جس طرح جمود اور تعفّن پیدا ہوجاتا ہے اسی طرح آج خطبوں میں بھی ایک جمود ہے جس کی وجہ سے لوگ خطبے میں شریک ہی نہیں ہوتے۔

طویل خطبہ دینے والے خطیبوں کو کون سمجھائے؟
کہیں کہیں تو یہ مصیبت ہوتی ہے کہ خطیب صاحب گھڑی دیکھے بغیر خطبہ دینے کے عادی ہیں۔ ایک ایک گھنٹہ ہوجاتا ہے خطبہ ختم ہوکر ہی نہیں دیتا۔ جب کہ حدیث میں خطبہ کو مختصر کرنے کا حکم موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا کوئی خطبہ ہمیں بیس پچیس منٹ سے زیادہ کا نہیں ملتا۔ یہ بھی حدیث میں ہے کہ ’’خیرالکلام ما قلّ و دلّ‘‘ یعنی سب سے بہترین کلام وہ ہے جو مختصر ترین ہو اور دلیل کے ساتھ ہو۔ کوئی خطیب چاہے کتنا ہی بڑا عالم اور اچھا مقرّر یا انٹلکچویل کیوں نہ ہو، Human Psychology یہی ہے کہ بار بار اسی کو نہیں سنا جاسکتا۔ لوگ Change چاہتے ہیں۔ اس کے لئے موجودہ خطبوں کا نظام بدلنا ہوگا۔

خطیب کا عالم ہونا یا مفتی ہونا ضروری نہیں ہے ۔
یہ نظام کیسے بدلے گا، یہ سمجھنے سے پہلے دو غلط فہمیاں دور کرنی ہوں گی۔ ایک تو انتظامی کمیٹیوں کی یہ غلط فہمی کہ خطبہ یا تقریر پیش کرنے کیلئے خطیب کا عالم ہونا یا مفتی ہونا ضروری ہے۔ یہ غلط ہے۔ خطبہ دینے کے لئے عالم یا مفتی ہونا ضروری نہیں ہے۔ شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں ملتا۔
چونکہ خطبہ کا مقصد جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے، وہ یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک بار حالاتِ حاضرہ کی روشنی میں اسلام کے تقاضے بیان کئے جائیں۔ گویا امت کی قیادت کیلئے منبر ایک بہترین مرکز کا کام کرتا ہے۔ ایسا خطبہ وہی دے سکتا ہے جو ایک طرف حالاتِ حاضرہ سے خاطرخواہ واقف ہو اور دوسری طرف شریعت کے منشا سے بھی واقف ہو۔ اسی لئے شریعت نے خطبہ دینے کا پہلا حقدار عالم یا مفتی کو نہیں بلکہ خلیفۂ وقت یا امیرِ شہر یا پھر سب سے زیادہ بااثر فرد کو قرار دیا ہے، تاکہ وہ خود بھی راہِ راست پر رہیں اور لوگوں کو بھی تلقین کریں۔ لیکن جب سے عالم یا مفتی یا اہلِ سلسلہ ہونے کی شرطیں عائد کردی گئیں، نتیجتاًبااختیار اور بااثر قابل افراد خطبے سے دور ہوتے چلےگئے ۔ حتیٰ کہ وہ تعلیم یافتہ حضرات جو اکنامی، سیاست، سماجیات، نفسیات اور صحافت پر گہری نظر رکھتے ہیں، وہ بھی خطبوں سے دور ہوتے چلے گئے۔ وہ بھی روایتی اردو خطبہ ختم ہونے کے بعد ہی مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور سلام پھیرتے ہی نکل جاتے ہیں۔ چونکہ مسجدوں کی انتظامی کیمٹیوں نے یہ مفروضہ قائم کرلیا کہ ایک مولوی جس نے میٹرک بھی پاس نہیں کی چند حدیثیں یا آیتیں یاد کرکے منبر سے قیادت تو کرسکتا ہے لیکن ایک قابل صحافی، یا ڈاکٹر یا انجینئریا لکچرر ٹیچر امّت کے حالات کا ادراک رکھنے کے باوجود خطبہ دینے کا اہل نہیں۔ فاتح بیت المقدس سلطاں صلاح الدین ایوبی نے تمام عرب علما سے فتح سے قبل جب اُس جہاد میں شرکت کی درخواست کی تھی تو عرب کے بڑے علما نے یہی کہہ کر اس کو رد کردیا تھا کہ تو عالم نہیں ہے تجھے جہاد کا اعلان کرنے کا حق کس نے دیا؟ دوسرے یہ کہ تیری زبان بھی عربی نہیں بلکہ کُرد ہے تو ہماری قیادت کیسے کرسکتا ہے؟

دونوں خطبوں کا عربی میں ہونا ضروری نہیں ہے۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں خطبوں کا عربی زبان میں ہونا لازمی ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔اگرچہ کہ بعض علما نے خطبہ کے مسنون ہونے کی بنا دونوں خطبوں کا عربی میں ہونا لازمی قرار دیا لیکن یہ ان کا ذاتی اجتہاد ہے، اس ضمن میں کوئی آیت یا حدیث ہمیں بطور حکم کہیں نہیں ملتی۔ خطبہ کا مقصد ایک بار پھر سمجھئے کہ عصرِ حاضر میں اسلام کی رہنمائی کرنی ہو تو سننے والوں ہی کی زبان میں یہ ممکن ہے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عربی زبان کے لوگ تھے اسلئے آپ ﷺ نے انہیں عربی میں مخاطب کیا۔ مقصد عربی زبان کو دوسری زبانوں پر مسلّط کرنا نہیں تھا بلکہ جس زبان میں عوام بات سمجھے اسی زبان میں بات سمجھانا تھا۔ اسی لئے علما نے یہ حل نکالا کہ پہلا خطبہ اردو یا جوبھی مقامی زبان میں ہو اسی میں ہو اور دوسرا خطبہ عربی میں باقی رہے جس میں حمدوثنا، درود اور دعا شامل ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ بنوامیہ ہی کے دور میں شروع ہوچکا تھا جب عراق اور کُرد کےوہ علاقے اسلام میں آگئے جہاں لوگ عربی نہیں سمجھتے تھے ان کیلئے خلیفۂ وقت کی جانب سے مقامی زبان میں ہی خطبہ دینے کا رواج شروع کردیا گیا۔ کیرالا کی کئی مساجد میں پہلا خطبہ ملیالی میں اور دوسرا عربی میں ہوتا ہے۔ دوبئی میں کئی مساجد میں غیرعربیوں کی کثرت کی وجہ سے پہلا خطبہ انگلش میں ہوتا ہے۔

خطبوں کے پورے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
نظام اس طرح بنایا جائے کہ جو تقریر پہلے منبر سے ہٹ کر کروائی جاتی ہے اس کو خطبہ کی شرعی حیثیت دی جائے۔ الگ سے تقریر کروانے کا سسٹم بند کروایا جائے جس کو سننے لوگ آنا نہیں چاہتے۔ دونوں خطبے عربی میں دیکھ کر پڑھنے کے بجائے منبر سے پہلا خطبہ مقامی زبان میں ہو اور دوسرا خطبہ عربی میں ہو۔ ایک جمعہ کوئی عالم یا مفتی خطبہ دے دوسرا جمعہ کوئی عصری تعلیم سے فارغ شخص خطبہ دے۔ کسی کو فِکس نہ کیا جائے۔ کوشش یہ کی جائے کہ ہر خطیب کی باری چار پانچ جمعہ کے بعد ہی آئے۔ یہ لازمی طور پر دیکھا جائے کہ جو شخص خطبہ دے رہا ہے اس کے پاس دین اور دنیا دونوں کا کامل شعور ہو۔ یہ صحیح ہے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگ دین کے معاملے میں کورے ہیں اور دوسری طرف مدرسوں سے نکلنے والے دنیاوی معاملات میں کورے ہیں۔ لیکن پھر بھی بعض علما ایسے ضرور مل جاتے ہیں جن کے پاس دینی بصیرت کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات کا بھرپور ادراک ہے اور دوسری طرف ایسے ڈگری ہولڈر افراد بھی کافی تعداد میں ہیں جن کے پاس دینی بصیرت بھی ہے۔ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ ہر شہر ہی نہیں بلکہ ہر محلے میں مل جاتے ہیں۔ منبر صرف خطبہ گاہ نہیں ہے بلکہ صاف ستھری قیادت کو پیدا کرنے کا ایک بہترین اسٹیج بھی ہے۔قیادت سازی ہم پر فرض بھی ہے اسلئے ہم کو جہاں ایسے افراد ملیں انہیں مسجد لانا چاہئے۔ ہم کو علما بھی چاہئے اور عصری تعلیم کے دانشور بھی چاہئے۔ ورنہ صرف مدرسوں کا طبقہ خطبوں میں باقی رہے گا اور عصری تعلیم کا طبقہ رفتہ رفتہ مسجدوں سے غائب ہوتا چلا جائیگا، جو کہ آج عام طور پر ہورہا ہے۔ خطبوں کے اس نظام کو رائج کرنےکے لئے انتظامی کمیٹیوں کو سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا ۔ یہ مشکل کام ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی روایت برسوں بلکہ صدیوں سے چلی آرہی ہو تو اس کو بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ کسی فعل کا قدیم ہونا اس فعل کے حق ہونے کی دلیل بن جاتا ہے۔ لوگ آسانی سے نہیں مانتے۔ بقول علامہ اقبال کے
آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا ۔۔۔ منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
خطبوں اور خطیبوں کو بدلتے رہنے سے بے شمار فائدے ہیں جیسے سب سے پہلے زبان کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔ نئی نسل جس زبان میں بات سمجھتی ہے اس زبان میں اس کو خطبہ سننے کا موقع ملے گا۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے پاس اردو تقریر سننا واجب نہیں ہے کہنے کا بہانہ ختم ہوجائیگا۔جب اردو تقریر ہی پہلا خطبہ بن جائے اور منبر سے نشر ہو تو لوگ خودبخود مسجد میں وقت سے پہلے آئینگے۔

خطبہ نئی نسل کو آگے لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ فرقہ بندیاں کم ہوجائنگی۔ ایک ہی خطیب کو Fix کردینے سے ایک ہی آئیڈیالوجی کو مسلّط کردینے کا جو رواج قائم ہوچکا ہے وہ ٹوٹے گا۔نئے نئے موضوعات پر تحقیقی باتیں جب سامنے آئیں گی تو لوگوںمیں اختلاف الرائے کو سننے اور غور کرنے کا Tolerance پیدا ہوگا۔
چوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوان نسل جو بے شک خطبے یا وعظ کم سنتی ہے لیکن اس میں انٹرنیٹ پر پڑھنے کی جستجو ہے، وہ جب مختلف خطیبوں کو مختلف فکری موضوعات پر سننا شروع کرے گی توان میں بھی Curiousity پیدا ہوگی۔ ان میں بھی یہ خواہش پیدا ہوگی کہ مزید ریسرچ کرکے وہ بھی ایک دن منبر پر آئیں اور قوم کو لیڈ کریں۔ انہیں یہ حق دیا جانا چاہئے۔ ورنہ ہماری نئی نسل پُرانوں سے زیادہ ذہین ہونے کے باوجود قیادت سے دور رکھی جاتی ہے ہم میں اور غیروں میں یہی فرق ہے کہ ہمارے ہاں چاہے کوئی جماعت ہو کہ سلسلہ یا کہ مسجد کی کمیٹی، جو بھی صدر یا امیریا خطیب یا مرشد ہوتا ہے وہ تاحیات ہوتا ہے تاوقتکہ اُس کو ہٹایا نہ جائے۔ قابل لوگ ان بزرگوں کے مرنے کے اتنظار میں خود بھی بوڑھے ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں میں کوئی انقلاب نہیں آتا جبکہ غیروں میں نئی نسل پر بھرپور اعتماد کرکے قیادت کو مسلسل نئے خون کے ہاتھوں میں دینے کی کوشش جاری رہتی ہے۔

اہلِ مدرسہ اور اہلِ کالج کا ایک دوسرے کو کمتر سمجھنا
پانچواں فائدہ یہ ہوگا کہ اہلِ مدرسہ اور اہلِ یونیورسٹی میں Interaction پیدا ہوگا۔ Educated طبقہ عام طور پر اہلِ مدرسہ کو Visionlessسمجھتا ہے اور مذاق اڑاتا ہے۔ دوسری طرف علما کےغیرعلما سے تعصب اور احساسِ برتری سے سبھی واقف ہیں۔کئی علما کُھلے عام یہ کہتے ہیں کہ کیا ٹائی سوٹ والے ہمیں قرآن و حدیث سمجھائیں گے؟ یہ ایک برہمنانہ سوچ ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں رویّے غلط ہیں۔ آج کالج اور یونیورسٹی سے نکلنے والے کئی افراد میڈیا، سائنس، ٹکنالوجی، ایجوکیشن ، اکنامکس اور کامرس کے میدانوںمیں اسلام کی سربلندی کیلئے جو کام کررہے ہیں اس کی برابری کرنے کا علما سوچ بھی نہیں سکتے۔آج قرآن فہمی اور عربی دانی کے جتنے اہم ادارے ہیں یا بلا سودی بنکنگ کے جتنے کام ہوئے ہیں یا انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے بڑے علما کو سوشیل میڈیا میں پھیلانے اور قدیم دینی ذخائر کو انٹرنیٹ پر محفوظ کردینے کے کام جتنے کالج اور یونیورسٹی سے نکلنے والوں نے کیا وہ اہلِ مدارس نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف علما جو گاؤں گاؤں شہر شہر مدرسوں کا جال پھیلا کر حافظ، عالم، فاضل، امام اور خطیب پیدا کررہے ہیں Ground level پراس طرح Field workکرنے کاEducated طبقہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر مدرسوں اور علما کی یہ محنت نہ ہوتی تو آج پوری قوم جاہل مطلق رہ جاتی۔ اس لئے اگر منبر پر دونوں کو موقع دیا جائے، دونوں ایک دوسرے کو بغور سنیں تو ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گااور سوچ کو بدلنے اور اپنے اپنے دائروں سے ہٹ کر بھی کچھ سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

کیا اتنظامی کمیٹیاں اب بھی ضد پر اڑی رہیں گی؟
اب اتنا سب کچھ جان لینے کے باوجود اگر کوئی انتظامی کمیٹی یہ ضد کرتی ہے کہ دونوں خطبے عربی میں ہوں اور اردو تقریریں سائڈ میں چلتی رہیں، خطبہ کے دوران مسجد خالی ہی رہے تو وہ کمیٹی خطبہ کے مقصد اور اہمیت کو ضائع کردیتی ہے۔ یہی وہ موقع ہے جس میں عام جلسوں کی طرح ہزاروں روپیہ خرچ کئے بغیر سینکڑوں لوگ بنا کسی اشتہار کے جمع ہوجاتے ہیں ۔ قربان جایئے نبی ﷺ کی اس حکمت اور تدبّر کے جنہوں نے ہم کو ہر ہفتہ پوری امت کی بہترین رہنمائی کا اتنا زبردست موقع عطا کیا۔ اگر سینکڑوں لوگ مسجد آکر بھی خالی ہاتھ جائیں تو اس کی جوابدہی مسجد کے ذمہ داروں پر ہوگی۔ چرچ اور اسٹیٹ کی تقسیم کی طرح مسجدوں میں مولویوں ملّاؤں کی اجارہ داری چلے گی اور عصری تعلیم والے سوشیل میڈیا یا اخبار کے ذریعے اپنے دین کو پھیلاتے رہیں گے، دونوں میں کوئی تال میل نہ ہوگا۔ بالخصوص آج کی نئی نسل جس تیزی سے اخلاقی برائیوں کی طرف بڑھ رہی ہے ، وہ ایک جمعہ کی نماز کیلئے بھی آجاتی ہے تو بہت غنیمت ہے۔ اگر اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انہیں دین سے قریب کروانے کی یہ کوشش نہ کی گئی تو نئی نسل کیلئے یہ دین بھی دوسرے ادیان کی طرح چند رسمی عبادات کا مذہب بن جائیگا۔ اس لئے ایک بار پھر انتظامی کمیٹیوں کے ذمہ داروں سے التماس ہے ان خطبوں کے نظام کو بدلنے کیلئے تعاون فرمائیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ بس خطبوں کے نظام کو بدل دینے سے ہی کوئی انقلاب آجائیگا۔ انقلاب کیلئے اور بھی کئی اقدامات لازمی ہیں لیکن پہلے قدم پر اگر اس مہم میں آپ ساتھ دیں تو رفتہ رفتہ بہت سارے دوسرے اقدامات آسان ہوجائینگے۔ انشااللہ۔ جزاکم اللہ خیراً۔

***
ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیو ریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد
aleemfalki[@]yahoo.com
موبائل : 09642571721
ڈاکٹر علیم خان فلکی

The need for change in Friday Sermon & Cleric. by: Dr. Aleem Khan Falaki

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں