ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن - ہندی کا خاموش مگر بلند آواز تخلیق کار - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-03-10

ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن - ہندی کا خاموش مگر بلند آواز تخلیق کار

harivansh-rai-bachchan
ہری ونش رائے بچن (اصل نام: ہری ونش رائے سری واستو ، پ: 27/نومبر 1907 ، م: 18/جنوری 2003)
ہندی ادب کے ایک ممتاز شاعر، ایک ممتاز ہستی، ایک خاموش مگر بلند آواز کا تخلیق کار کا نام ہے۔
ہری ونش رائے بچن کی صحیح شناخت ہندی میں ان کی شعری تخلیق "مدھو شالا" (اردو ترجمہ یہاں) ہے۔ اس طویل نظم نے انہیں ملک گیر شہرت اور مقبولیت سے نوازا۔ اس نظم کو آج بھی ہندی ادب میں کلاسیکی حیثیت حاصل ہے۔
1907ء میں اتر پردیش کے پریاگ شہر کے نزدیک اموڑھا گاؤں میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس دور کی تعلیمی سہولیات کے تحت انہوں نے ہندی اور انگریزی میں تعلیم حاصل کی۔ والد چونکہ با حیثیت تھے، اسلئے اعلیٰ تعلیم کے لئے انہیں ولایت بھیج دیا گیا۔ وہاں رہ کر انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی اور انگریزی میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انہیں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل ہو گئی۔ ان کا مزاج اپنے ہم عصر ساتھیوں سے بالکل جدا تھا۔ سنجیدگی اور برد باری ان کا مزاج تھی۔ اس زمانے میں کسی کا ولایت جانا اور وہاں سے تعلیم پا کر لوٹنا بڑا کام مانا جاتا تھا۔ ہری ونش رائے بچن ایک چھوٹے سے گاؤں کے باشندے تھے، اسلئے گاؤں کے لئے یہ بہت فخر کی بات تھی۔
اتر پردیش کے شہروں میں علم و ادب کی شمعیں روشن تھیں۔ اردو کے ساتھ ہی ہندی شاعروں اور ادیبوں، کی محفلیں گویا رات میں دن کا سماں پیدا کرتی تھیں۔ ہری ونش رائے بچن کو جب ایسے ہی ہم عصروں کا ساتھ ملا تو وہ بھی کو یتائیں کہنے لگے۔
ان کی کویتاؤں کے عنوانات سے ہی اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ ان کویتاؤں میں ایک وطن پرست نوجوان کے رومانی جذبات کا کیسا اظہار ہے۔ "مدھو شالا" آکورانتر"، نشانرمنتر"وغیرہ میں امید اور نا امیدی کی اضطرابی کیفیت ہے لیکن جو مقبولیت انہیں "مدھو شالا" سے ملی وہ ان کے تمام کلام پر بھاری ہے۔ اس کی مقبولیت کا سب سے بڑا صلہ ان کے بیٹے فلمسٹار امیتابھ بچن کو دے دیا جانا چاہئے۔
ان کی شادی تیجی بچن سے ہوئی تھی، جو بذات خود بھی تعلیم یافتہ اور مہذب خاتون تھیں۔ ان سے ہری ونش رائے کے دو بیٹے امیتابھ بچن اور اجیتابھ بچن ہوئے۔ امیتابھ بچن موجودہ عہد میں ہندوستانی فلم صنعت کے ممتاز اور مقبول اداکار ہیں۔ وہ اپنے والدین کا بہت احترام کرتے تھے اور والد کی شعری تخلیقات سے کچھ زیادہ ہی متاثر تھے۔ انہوں نے مدھو شالا کو اپنی آواز میں ریکارڈ بھی کیا ہے۔
ہری ونش رائے بچن کے کلام کی اس خوبی کے مد نظر فلمسازوں نے ان کے گیتوں کو اپنی فلموں میں شامل کر کے گویا انہیں خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ہری ونش رائے بچن فلم اور سنیما کے کسی بھی شعبے میں اپنا مقام بنانے کے خواہشمند نہیں رہے۔ صرف تین فلموں میں ان کے صرف تین گیتوں کو ہی موسیقاروں نے راگوں میں ڈھال کر فلموں میں پیکچرائز کیا تھا۔
ہری ونش رائے بچن نے طویل عمر پائی تھی۔ وہ ایک بڑے اور مقبول فلم اداکار کے والد تھے۔ دنیا کی ہر نعمت انہیں حاصل تھی۔ بمبئی جیسے میٹرو پولیٹین شہر کے بے حد پوش علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ اور ان کے گھر پر فلم سیاست اور سماج کی بڑی بڑی ہستیاں نیاز مندانہ آیاکرتی تھیں۔ لیکن ہری ونش رائے بچن اس تہذیب کے نمائندہ فرد تھے جس میں سب سے پہلے بچوں کو مہذب آداب و اطوار سکھائے جاتے ہیں۔ وہ میزبان کی حیثیت سے ہر مہمان سے خندہ پیشانی سے ملتے، ان کی پذیرائی کرتے لیکن کبھی کسی محفل کا حصہ بننے سے انہوں نے ہمیشہ گریز کیا۔ وہ اپنی دیا کے وہ خاموش فرد تھے جہاں تنہائی تخلیق کی صورت میں بولتی ہے اور تخلیق کار کے ذہن میں اطمینان بخش طمانیت کا احساس جاگزیں ہوتا ہے جس میں سر شاری ہے، سرفرازی ہے، لطافت ہے جو جذبات کے فن کی تزئین کرتی ہے اور ذات کی کائنات کو گلبدنی دے کر ہر مصنوعیت سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہری ونش رائے بچن نے ہندی ادب میں جائزمقام حاصل کیا اور جنوری2003ء میں 96سال کی طویل عمر پا کر بمبئی میں انتقال کیا۔

ہری ونش رائے بچن کے فلمی گیت:
1971ء "بدنام بستی" موسیقار: وجے راگھو راؤ۔
"میلے میں کھوئی گجریا"(آواز: ہری ونش رائے بچن)

1971ء "پھربھی" موسیقار: رگھو ناتھ سیٹھ
"سانجھے کھلے، بھورجھرے، پھول ہر سنگھار کے۔ "(ہیمنت کمار اور انو مکرجی)

1977ء "آلاپ" موسیقار: جے دیو۔
۱۔ "کوئی گاتا میں سوجاتا۔" (یسوداس)

1981ء "سلسلہ" موسیقار: شوہری
"رنگ برسے بھیگے چنر والی رنگ برسے "(امیتابھ بچن اور ساتھی)

بشکریہ مصنف: رشید انجم
ماخوذ از کتاب: ادب سے فلم تک (سن اشاعت: 2017)

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تحریر: احمد سہیل
ہری ونش رائے بچن : جدید ہندی شاعری کا ایک بڑا نام اور "مدھو شالہ" کے خالق
(بشکریہ: فیس بک گروپ 'ادب گاہ')

ہندی کے ممتاز شاعر اور بالی وڈ کے اداکار امیتابھ بچن کے والد۔ ہیں ہری ونش رائے بچن (1907-2003)۔ انہیں ہندی زبان کا اھم شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اترپردیش میں الہ آباد کے محلے" چک" کے ایک مکان میں پیدا ہوئے اب یہ مکان موجود نہیں ہے اب اس علاقے سے " زیرو روڈ" گذر رہی ہے۔ {کچھ کا کہنا ہے وہ پرتاب گڑھ میں پیدا ہوئے؟؟} 1926 میں ان کا خاندان محلہ چک سے " مٹھی گنج" منتقل ہوگیا۔ ان کے والد پائنز پریس میں ملازم تھے۔ ۔ اعلیٰ تعلیم الہ آباد یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بچّن جی سن انیس سو چالیس میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ انھون نے آئرلینڈ کے قوم پرست شاعر ایٹس {W.B.Yeats} کی شاعری اور فکری جہات پر اپنا مقالہ لکھا تھا۔ ایک دفعہ مشہور فلسطینی / امریکی نقاد اور مزاحمت کار ایڈورڈ سعید بتارہے تھا کہ انھوں نے مسٹر بچن کا یہ مقالہ پڑھا ہے۔ جس سے میں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی سند کے لیے مواد حاصل کیا۔ بلکہ میری بعد کے بہت سے مقلوں میں بھی اس دیتا دکھائی دیتا ہے ۔ ایڈورڈ سعید بچن جی کے اس مقالے سے خاصے متاثر تھے۔
تشنہ بریلوی مرحوم نے لکھا ہے "یک دن جوش صاحب اپنے آفس میں دوستوں کے درمیان بیٹھے تھے کہ رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری ہری ونش رائے بچّن کو لے کر وارد ہوئے ۔ دروازے پر رک کر فراق صاحب نے ہر چہرے کا جائزہ لیا اور پھر بولے ۔
"دیکھ ہری ونش غور سے دیکھ۔ یہاں گیارہ لوگ کمرے میں ہیں جو سب اردو کے مشہور شاعر اورادیب ہیں ۔ ان میں دس لوگ ہندو یا سکھ ہیں اور صرف ایک مسلمان۔”
"اور وہ بھی کیا مسلمان " کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے فقرا جڑا ۔اس وقت جوش صاحب کی محفل میں یہ حضرات موجود تھے ۔ مہندر سنگھ بیدی ۔ جگن ناتھ آزاد ‘پنڈت ہری چند اختر،گوپال متل ، فکر تونسوی ، عرش ملسیانی ،گلزار دہلوی، نریش کمار شاد ‘ پرکاش پنڈت اور راجندر ناتھ شیدا۔
ہری ونش رائے نے مسکرا کر کہا " میں بھی تو اردو کا دشمن نہیں ہوں ۔ میری تعلیم اردو سے شروع ہوئی تھی میں نے تو عمر خیام کی رباعیات کا انووادن بھی کیا ہے ۔۔۔دیو ناگری رسم الخط ( لیپی) سے آپ مطمئن نہیں تھے ۔ آپ نے " لیپی سدھار” کے لیے بہت سی تجاویز پیش کیں لیکن قدامت پرستوں نے ان کو رد کردیا اس لیے ہندی " کی بورڈ” اب بھی بہت مشکل ہے چار جلدوں میں بچّن جی نے آپ بیتی لکھی جس پر انھیں دس لاکھ روپے انعام ملا جو بڑی رقم تھی۔
جب اندرکمار گجرال ماسکو میں ہندوستان کے سفیر تھے تو فیض صاحب بھی وہاں گئے ۔ فیض صاحب اندرکمار گجرال کے استاد بھی رہ چکے تھے ۔اتفاق کی بات کہ ہری ونش رائے بچّن بھی ماسکو میں تھے ۔گجرال صاحب نے بچّن جی کا تعارف یہ کہہ کر کیا "فیض ان سے ملیے یہ ہیں ہندی کے فیض احمد فیض۔” دونوں ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئے ۔ جب ودکا اور کونیاک کے جام چلے تو بچّن جی پیچھے ہٹ گئے۔
فیض صاحب نے کہا " بچن جی آپ تو مدھو شالا ( میخانہ) لیے پھرتے ہیں پھر یہ گریز؟”
" بات یہ ہے ۔” بچن جی ہنس کر بولے " میں خیام کی رباعیوں کے جام پی چکا ہوں ۔ اب اورکیا پیوں گا ۔”
بچّن جی نے ستّر سے زیادہ کتابیں لکھیں ان میں دو درجن شاعری کے مجموعے ہیں۔ چار جلدوں میں آپ بیتی لکھی ۔ شیکسپیئر کے کئی ڈرامے ھندی میں ڈھالے ۔دیگر علمی و ادبی موضوعات پر بہت کچھ لکھا جن میں جواہر لال نہرو کی بائیوگرافی بھی شامل ہے ان کی مشہور ترین کتاب "مدھو شالا” رباعیوں کا مجموعہ ہے جو بہت مقبول ہوا ۔ اس طرح آپ ہندی کے عمر خیام بھی ہیں۔آپ نے آخری نظم اندراگاندھی کے قتل پر لکھی۔آپ کی "شرابی” شاعری پر لوگوں نے اعتراض کیا تو گاندھی جی نے کہا کہ شاعری میں سب چلتا ہے"۔۔۔ ہندی کے شاعر اور فلمی گیت نگار نیرج ان کے جگری دوست تھے۔ اور فلمی دنیا سے بچن صاحب نے ہی انھیں متعارف کرایا تھا۔
ایک زمانے میں جب اردو کے ممتاز شاعر فراق کورکھ پوری الہ آباد یونیورسٹی کے انگریزی کے شعبے کے سربراہ تھے، بچّن جی اسی شعبے میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر دیو بھی اس شعبے سے منسلک تھے۔ اس زمانے میں ہر دنش بچن جے انھوں نے شیکسپیئر کے المیہ ڈراموں کا ہندی میں ترجمہ کیا تھا۔ ہندی شاعری میں ان کی طویل نظم ‘مدھوشالہ’ بہت مقبول ہے۔
سن انیس سو سڑسٹھ میں میں ہری ونش بچّن کو ہندی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے لیے نامزد کئے گے۔۔
ہری ونش بچن کی آواز بہت اچھی تھی اور اس کو کویتائین پڑھنےکا سلیقہ آتا تھا۔ ان کا خیال تھا شاعری انھیں تنہائی کا شکار نہیں ہونے دیتی۔ مراد آباد کے ایک ہوٹل میں نہاتے ہوئے ان کے منہ سے یہ مصرعہ برآمد ہوا۔۔۔۔
۔۔۔"درونٹر کمل کلیوں کی پالی، پھولوں کا پیلا " ۔۔۔۔
یہ مصرعہ ان کی مشہور نظم " مدھو شالہ" کا حرف اول ثابت ہوئی اور یہ نظم ایک ایسی صورت میں خلق ہوئی جس مین ہندی کی مروجہ بحروں اور دھنوں سے با لکل جد اگانہ طرز اظہار تخلیق ہوا۔ اس مین عمر خیام کی رباعیات کی شعری فضا اور اس کے علامتی شعری نظام کا گہرا اثر ہے۔
ان کی کتاب مدھوشالہ ہندی شاعری کی سب سے زیادہ پڑھے جانی والی کتاب مانی جاتی ہے۔ ہری ونش رائے کا تعلق کایستھ ذات سے تھا، اور کایستھ ہندوؤں میں پچھلی صدی کے ابتدائی دور تک بچوں کو اردو اور فارسی سکھانے کی روایت رہی ہے۔ لہذا ہری ونش صاحب نے بھی اپنے بچپن میں اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ہری ونش بچن کا کہنا تھا " اردو کو ان کی والدہ نے ان سے روشناس کروایا۔ جن ان کے گھر مین ان کی با قاعدہ تعلیم شروع ہوئی تو اس تقریب میں ایک پرہت جی نے تختی پر" اوم گنیزیشائے نمو" لکھوایا اور ایک مولوی صاحب نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھی لکھوایا۔ اور دیگر لوگوں کی طرح انہیں بھی عمر خیام کی رباعیات نے بہت متاثر کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی رباعیات کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا، لیکن اس ترجمے کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے رباعیات کے ہی رنگ میں مدھوشالہ لکھی، جسے خواص و عوام نے خوب پسند کیا۔ میں نے ہری وشن رائے بچن کا ان کے ہاتھ سے اردو میں لکھا ہوا ایک پوسٹ کارڈ دیکھا ہے۔ جو انحوں نے لاہور میں اپنے ایک دوست کو لکھا تھ۔ا ۔ ان کے کچھ ناقدیں ان کو اوسط درجے کا شاعر کہتے ہیں ۔ جب میں ان کی شاعری کا تقابل اردو شعرا کے ساتھ کرتا تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ اردو کے عبد الحمید عدم ہیں۔
ان کی تخلیق مدھوشالہ (1935) چار چار مصرعوں کے 134 بندوں پر مشتمل ایک طویل نظم ہے جس میں انہوں نے عمر خیام کا اتباع کرتے ہوئے رندانہ زبان میں زندگی کے حقائق اور اپنا فلسفہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عرض کرتا چلوں کہ چونکہ میں فارسی زبان و ادب اور عجمیت کا ڈسا ہوا ہوں، اس لیے میں اسے وہ ادبی درجہ تو نہیں دیتا جس سے یہ بھارت میں متصف ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ تخلیق ہندی زبان کی ایک نمائندہ تخلیق ہے جس کا مطالعہ جدید ہندی میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کے لیے اہم ہے۔ ہری ونش بچن نے نے عمر خیام کی رباعیات کا انگریزی سے ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ انھیں فارسی اور اردو بھی آتی تھی اس لیے انحیں ترجمی کرنے میں کسی قسم کی دقت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کو ہندی میں عمر خیام کی رباعیات کا بہتریں ترجمہ کہا جاتا ہے۔
ہری ونش رائے بچن نے یش چوپڑہ کی فلم " سلسلہ" {1981} میں ایک گیت لکھا تھا۔۔ جس کے بول یہ تھے۔ " رنگ برسے بھیگے چنروالی۔۔۔ رنگ برسے" ۔۔۔۔ جو بہت مقبول ہوا تھا۔ یہ گانا ان کے صاحب زادے امیتابھ بچن پر فلم بند ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا "میں اس دھاگے میں نظم کے ہر بند کا نستعلیق میں متن مع ہندی الفاظ کی فرہنگ کے ساتھ ٹائپ کرتا جاؤں گا۔ امید ہے کہ ہندی زبان و ادب میں دلچسپی رکھنے والے حضرات اس سے لطف اندوز ہوں گے اور انہیں میری یہ کاوش پسند آئے گی۔ "

" مدھو شالہ" کی چند اشعار دیکھیں۔:
۔۔۔۔ چلنے ہی چلنے میں کتنا جیوں ہائے بتا دیا
دور ابھی ہے پر کہتا ہے پتھ تبلانے والا
سب سے بڑھون آگے کو ساہسن ہے نہ پھرون پیچھے
کنکر تو { بے حسی، گرمگو، مہبوت}یہ موڈھ مجھ سے دور کھڑی ہے مدھو شالہ ۔۔۔۔۔۔
۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-
ہری ونش رائے بچن نے قومی شاعری کیا اور آزادی کی تحریک میں بھی فعال رہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیے لیے ہندوستان عوام کو یہ پیغام دیا:
اہے ، ۔۔۔۔۔ نہیں پھڑپراتا جھندا وایوویگ سے
چنچل ہوا ہمیں بلاتی ہے، ماں بھارت
ہلا ۔۔۔۔۔ ہلا کے آنچل کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی ایک نظم ملاخطہ کریں:
میں یادوں کا
قصہ کھولوں تو،
کچھ دوست بہت
یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔گزرے پل کو سوچوں
تو، کچھ دوست
بہت یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
۔ جانے کون سی نگری میں،
آباد ہیں جا کر مدت سے۔ ۔ ۔ ۔
دیر رات تک جاگوں تو،
کچھ دوست
بہت یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
باتیں تھیں پھولوں جیسی،
لہجے خوشبو جیسے تھے،
صحنِ چمن میں ٹہلوں تو،
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں۔
زندگی بدل گئی،
نئے سرے میں ڈھل گئی،
۔ ۔ ۔ کو نوکری سے فرصت نہیں۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ کو دوستوں کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔
یار گم ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔
"تو” سے "تم” اور "آپ” ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
گزرے پل کو سوچوں
تو، کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ دھیرے عمر کٹ جاتی ہے۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ یادوں کی پستک بن جاتی ہے،
۔ ۔ ۔ کسی کی یاد بہت تڑپاتی ہے۔ ۔ ۔
اور کبھی یادوں کے سہارے زندگی کٹ جاتی ہے۔ ۔ ۔
کناروں پہ ساگر کے خزانے نہیں آتے،
جیون میں دوست پرانے نہیں آتے۔ ۔ ۔
جی لو ان پَلوں کو ہنس کے دوست!
پھر لوٹ کے دوستی کے زمانے نہیں آتے۔ ۔ ۔ ۔
{"بہت یاد آتے ہیں "۔۔۔ ہری ونش رائے بچن}
٭٭٭
ہری ونش رائے بچن کی تصانیف کی فہرست کچھ یوں بنتی ہے:
شاعری مجموعہ[لکھو]
تیرا ہار (1929
مدھوشالا (1935)،
مدھوبالا (1936)،
مدھوکلش (1937)،
نشا نمنترن (1938)،
ایکانت سنگیت (1939)،
آکل انتر (1943)،
سترنگنی (1945)،
ہلاہل (1946)،
بنگال کا کاوی (1946)،
کھادی کے پھول (1948)،
سوت کی مالا (1948)،
ملن یامنی (1950)،
پرنی پترکا (1955)،
دھار کے ادھر ادھر (1957)،
آرتی اور انگارے (1958)،
بدھ اور ناچگھر (1958)،
تربھنگما (1961)،
چار خیمے چونسٹھ کھونٹے (1962)،
دو چٹانیں (1965)،
بہت دن بیتے (1967)،
کٹتی پرتماؤں کی آواز (1968)،
ابھرتے پرتمانوں کے روپ (1969)،
جال سمیٹا (1973)
آپ بیتی[لکھو]
کیا بھولوں کیا یاد کروں (1969)،
نیڑ کا نرمان پھر (1970)،
بسیرے سے دور (1977)،
بچن رچناولی کے نوں کھنڈ (1983)،
دشدوار سے سوپان تک {1985 }

Harivansh Rai Bachchan, a Hindi poet best known for his early work Madhushala.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں