کتے کا خط پطرس کے نام - احمد جمال پاشا - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-02-18

کتے کا خط پطرس کے نام - احمد جمال پاشا

اردو کے نامور ادیب پطرس بخاری کا ایک بہت ہی مشہور و مقبول انشائیہ "کتے" ہے۔ جو ریختہ پر یہاں پڑھا جا سکتا ہے اور یو-ٹیوب پر یہاں سنا جا سکتا ہے۔
اردو کے ایک اور ممتاز مزاح نگار احمد جمال پاشا نے اس انشائیے کا جواب بعنوان "کتے کا خط پطرس کے نام" تحریر کیا تھا۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

مکرمی!
"کتے " پڑھنے والوں نے بلند آواز سے پڑھا اور اس خاکسار نے بغور سنا۔ اس دل آزار مضمون سے ہماری قوم میں کافی اشتعال پھیل چکا ہے۔ گزشتہ کئی راتوں ہم اپنی "رات کی نشست" میں اس پر کافی غور و خوض کر چکے ہیں۔
آپ نے ہمیں اس قابل بھی نہیں چھوڑا کہ اب ہم چار بھلے آدمیوں کے سامنے دم اٹھا کر چل سکیں۔ خوب! غالباً سگ نوازی اسی کا نام ہے۔ نہ ہوئے آپ ہمارے پاس ورنہ ضرور آپ کو کاٹ کھاتے۔ ہم گویا آپ کا دیا ہوا راتب کھاتے ہیں۔ سو سنئے نہ، اگر اس قسم کے مضامین ہم بھی باندھنا شروع کر دیں تو آپ کا کیا رہ جائے؟
مضمون میں گائے بکری سے ہمارا موازنہ کرتے وقت آپ یہ بھول گئے کہ اس خرافات پر کسی گائے کی نظر اگر بھولے سے بھی پڑ جاتی تو یہ کب کا دفتر را گاؤ خورد ہو چکا ہوتا۔
بندہ پرور! ہم آپ کی نظر میں برے سہی مگر ہماری قوم کی بہادری، وفا داری اور جفا کشی تو ضرب المثل ہے۔ ان ہی خوبیوں نے ہم کو اشرف الحیوانات کے مرتبہ تک پہنچا دیا ہے۔ ایمان کی بات یہ ہے کہ ہماری اصلیت کو فرنگی پہچانے، ورنہ آپ حضرات نے ہمیشہ گھر کی مرغی دال برابر سمجھا اور دال کو بھی نظر انداز کر بیٹھے۔

اللہ اللہ کیسے کیسے بزرگ ہماری قوم نے پیدا کئے۔ خواجہ سگ پرست کے نام سے کون واقف نہیں۔ وہ ہمارے ہی ایک جلیل القدر بزرگ کی پرستش فرمایا کرتے تھے۔ خواجہ صاحب کا قول تھا کہ :
"سامنے کا کتا دور کے بھائی سے اچھا ہوتا ہے۔"
مگر موصوف سامنے کے بھائی پر بھی دور کے کتے کو فوقیت دیتے تھے۔ حاتم طائی کی خدمت میں ہمارے ایک بزرگ ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آخر میں حاتم طائی ان کی خدمت میں حاضر رہنے لگے تھے۔
اب بزرگوں پر بات نکلی تو دور کیوں جائیے، اصحاب کہف کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ ان کو ہمارے ایک بزرگ اس قدر بھائے کہ قیامت تک خود سے جدا رکھنے پر راضی نہ ہوئے۔ اصحاب کہف نے صرف اسی گراؤنڈ پر کہ "حق گو کتا ناشکرے آدمی پر بھاری ہوتا ہے"، ہمارے بزرگ کی رفاقت پر خدا کا شکر ادا کیا۔
اور یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ لیلیٰ کے کتے سے مجنوں کے ذاتی تعلقات تھے۔ ان کو لیلیٰ کی جدائی گوارا تھی مگر ہمارے بزرگ کی جدائی کی تاب نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت نے عمر عزیز کا بیشتر حصہ ان کی دم سے چمٹ کر گزار دیا۔

جن بزرگوں سے آپ کا سابقہ سر راہے اکثر پڑتا ہے وہ ثقہ بزرگ اپنی دم کا لنگوٹ کسے، کھرے کھوٹے کی پہچان کے لئے صبح صبح نعرۂ حق بلند کرتے رہتے ہیں اور پیٹ بھر جانے پر بھی آخرت و انجام بخیر کے امکانات پر سوچ بچار کرتے رہتے ہیں۔ جس طرح آپ چاند تک پہنچنے کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہیں اسی طرح یہ حضرات اس بات پر غور کیا کرتے ہیں کہ ہم کتوں کے پر کیوں نہیں ہوتے؟ یہ بالکل دوسرا مسئلہ ہے کہ اس موقع پر آپ ان سے گاڑی بھر راستے کے لئے ضد کریں اور یہ آپ کو کاٹ کھائیں۔

ہماری مقبولیت کے آپ منکر ہوں تو ہوں مگر حق بات یہ ہے کہ دنیا کو اس وقت ہماری سخت ضرورت ہے۔ ساری دنیا کی آنکھیں ہماری قوم پر لگی ہوئی ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے میں نے آپ کی قوم کے ایک ممبر کو دعا کرتے پکڑا تھا۔ وہ حضرت گڑگڑا رہے تھے :
"چھوٹا بھائی ہونے سے کتا ہونا گوارا ہے۔"
اس وقت میں نے اندازہ کیا تھا کہ دنیا کس تیزی سے ہمیں اپنانے کے لئے آگے بڑھ رہی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سب کسی منظم پلان کے تحت ہوتا ہو۔ دور کیوں جائیے۔ روز مرہ کی زندگی میں دیکھئے۔ آج بھی آپ میں کتنے اسی ستمگر حلقۂ دُم کے اسیر ہیں جو بغیر ہمارے، اپنی تصویر تو تصویر کارٹون تک نہیں کھنچوا سکتے۔
ہمارے لئے کتنے حسن کے مقابلے اور عالمی نمائش کی جاتی ہیں۔ سیر و شکار، جلوت و خلوت میں بلا ہمارے ہر محفل سونی و تشنہ محسوس کی جاتی ہے۔ مگر اس نسلی امتیاز کے باوجود آج بھی ہماری قوم اعلیٰ ترین خوبیوں کی حامل ہے۔ آج بھی بلا کسی ہتھیار کے ہم ہاتھی اور شیرکو پچھاڑ دیتے ہیں۔ ہم میں کتنے شیر افگن اور شیر شاہ ہیں۔

دشمنوں کو اب ہمارے بھونکنے پر بھی اعتراض ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ ہم صرف اصولاً بھونکتے ہیں۔ آپ کے یہاں جو مثل مشہور ہے کہ بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے۔ بجا سہی، لیکن کون جانتا ہے کہ ایک کاٹتا ہوا کتا کب کاٹنا بند کر دے اور بھونکنا شروع کر دے۔ سیدھی سی بات ہے۔ مثال دے کر سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ بھئی جس کو بھونکنا ہوگا وہ بھونکے گا اور کتنا بھونکے گا؟ یہ اس کی قوتِ بھونک پر منحصر ہے۔ وہ کتا ہی کیا جو نہ بھونکے۔ اگر کتا ہوگا تو بھونکے گا ضرور۔ ہم اکثر چلتے وقت بھونکا کرتے ہیں۔ مگر یہ ہمارا محض اسٹائل ہوتا ہے۔ ایسے موقعوں پر اگر ہمارے اوپر اینٹ اور پتھر نہ مارے جائیں تو ہم شاید خود بخود تھک کر خاموش بھی ہو جائیں۔ ورنہ دوسرے حالات میں ہم جھوٹ موٹ کاٹ بھی کھاتے ہیں۔

لیکن ہماری اس بھونک کو اگر آپ مشاعرہ گرم کرنے سے تعبیر (معاف کیجئے گا تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے ) کریں تو یہ محض آپ کا خیال ہوگا ورنہ اطمینان رکھئے، ہم میں آپ کو شاعر ملیں گے نہ لیڈر۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمارا کوئی فرد صاحبِ دیوان نہیں پایا گیا۔ ہمارے یہ اجتماع در اصل کھیل کود کے ہلکے پھلکے ورزشی مظاہرے ہوتے ہیں۔ مگر یہ بھی ہم نے آپ ہی سے سیکھا ہے۔ ابھی حال میں آپ کے ایک جلسہ میں شرکت کرنے اس خیال سے گیا کہ دیکھیں ایسے موقعوں پر آپ لوگ کیا کیا کرتے ہیں۔ پتہ چلا کہ ایسے موقعوں پر آپ لوگ جو دنگل کرتے ہیں اس کو الیکشن لڑانا کہتے ہیں۔ الیکشن تو کہیں نظر نہیں آیا ہاں اس مار پیٹ کے ہنگامے میں کئی بار پٹتے پٹتے بچا اور وہاں سے اپنی جان بچا کر بھاگا۔

لڑنا بری بات نہیں، لڑنے کو آخر ہم بھی لڑاہی کرتے ہیں۔ مگر لڑنے کے لئے ہم نہ اپنے سے کمزور کو تلاش کرتے ہیں۔ نہ لڑائی میں شرکت کرنے کے لئے لڑتے ہیں۔ اپنے حریف کو دیکھ کر ہم غرانے لگتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر اگر کوئی ARGUMENTS پیش کرنے کے بجائے دُم دبا کر چلا جائے یا خاموشی سے ڈائلاگ سننے پر قناعت کرے تو ہم اس پر حملہ نہیں کرتے۔ لڑنے کے وقت ہم صرف لڑتے ہیں مگر نہ ہم لڑائی ختم کرنے کے لئے لڑتے ہیں نہ سبق سکھانے کے لئے۔ ہم کو لڑنے کے لئے آپ کی طرح مذہب یا امن کا سہارا بھی نہیں لینا پڑتا۔ ہمارا سارا غصہ سوڈے کا ابال ہوتا ہے۔ ذرا دیر کی مہابھارت کے بعد ہمارا دل اور جھگڑا صاف ہو جاتا ہے۔
ہمارے یہ جھگڑے خالص اصلاحی قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ مگر واضح ہو کہ ہم لوگ صرف جلسہ کرتے ہیں چندہ کبھی نہیں کرتے۔

ہمارے راتوں کو جاگنے اور دن کو سونے کے بارے میں جو کچھ مشہور ہے اس کو اسی طرح مشہور رہنے دیا جائے۔ اس کے بارے میں کوئی صفائی ہم کو نہیں پیش کرنا ہے۔ دنیا کی تباہی اور انسانوں کی انسانوں سے عصبیت اور کم ظرفی کے باعث ہمیں دن میں آرام سے جاگنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے طے کر لیا ہے کہ جب تک انسان، انسان نہ ہو جائے ہم دن کو سویا کریں گے۔ ہم ان کی حرکتوں کو نظر انداز کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ پھر رات میں جاگ کر ہم اپنے کو قدرے آرام میں محسوس کرتے ہیں۔ اس وقت ہمارا محبوب مشغلہ تاریک راتوں میں چھپ چھپ کر حرکتیں کرنے والے بزدل انسانوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں رات گئے اگر ہم کسی کو آوارہ گردی کرتے دیکھتے ہیں تو بطور احتجاج اسے ٹوک بھی دیتے ہیں۔

ہماری قوم آپ کی نظر میں کچھ بھی سہی، مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا کوئی ہم جنس کبھی رشوت دیتا یا لیتا ہوا نہیں پکڑا گیا۔ رہی مکان، جائداد کی طرف سے ہماری بےنیازی تو اس کا سبب آپ حضرات کی وہ مشق ستم ہے جو ان مٹی کے گھرندوں کے لئے آپ ایک دوسرے پر فرمایا کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی کوئی مذہب یا روزگار اسی سبب سے اختیار نہیں کیا کہ اس میں ہمیں بوئے فساد آتی ہے۔ اور وہ تو کہئے کہ ہم نے مصلحتاً سائنس کی تعلیم پر زور نہیں دیا ورنہ آج بلا تکلف ایٹم بم کی ایجاد ہمارے سر تھوپی جا چکی ہوتی۔

عورتوں کے حقوق آپ ہم سے مستعار لے سکتے ہیں۔ اس بیسویں صدی میں بھی ہمارے یہاں اس قدر مساوات ہے کہ اگر ہم ایک دفعہ اپنی بیگم صاحبہ پر بھونکنے کا ارادہ بھی کریں تو وہ ہم کو اس درمیان میں تین چار مرتبہ کاٹ کھائیں گی یا اس وقت تک لگاتار بھونکتی رہیں گی جب تک ہم اپنا ارادہ POST PONE نہ کر دیں۔
ہمارے یہاں ہر چیز کا ایک نام ہوتا ہے۔ اس کے آگے ہم لفظ "اصلی" کا اضافہ اس وجہ سے نہیں کرتے کہ وہ لفظ بذات خود اصلیت ہوتا ہے۔ اگر آپ ہمارے یہاں جھوٹ، تصنع بدکرداری، بلیک مارکیٹ کے قسم کی چیز کھانے کے خیال سے بھی ڈھونڈھیں تو آپ کو سخت مایوسی ہوگی۔
ہماری قوم سیاست اور لیڈردونوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان سے دور رہتی ہے۔ ہم نے آپ کی نام نہاد تعلیم پر اپنی جہالت کو عزیز رکھا مگر عزیز داری سے ہمیشہ دور بھاگے۔ دولت اور غربت پر اپنی حیثیت خاموش تماشائی کی جانی۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ جس قوم کے پاس لاٹھی اور بھینس دونوں ہی مفقود ہوں، جو قوم شاعر، لیڈر اور سیاست دانوں سے یکسر خالی ہو، آپ اس کو خراب کہاں سے کہہ سکتے ہیں؟ جن کے آدرش اتنے بلند ہوں کہ وہ 'زندہ رہو اور زندہ رہنے دو' کے لئے دن رات بھونکتے رہتے ہوں ان کو آپ انسانوں پر فوقیت کیوں نہیں دے سکتے ؟

میرے خیال میں خط بہت طویل ہوا جاتا ہے۔ مگر اس کو ختم کرنے سے قبل آپ کی توجہ ایک بات کی طرف دلا دوں۔ بات تو خواب و خیال کی ہے کہ خواب میں آپ کو کتے ہی کتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم میں سے کسی کو جاگتے میں انسان نظر آ جائیں تو اس کو پاگل تصور کیا جاتا ہے اور حتی الامکان اس سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

امید ہے، آپ تھوڑے کو بہت اور خط کو تار سمجھیں گے اور دوسروں کے دامن کو تار تار کرنے کی آئندہ کوشش نہ کریں گے۔ معلوم نہیں آپ میرے خیال سے متفق ہوں گے یا نہیں لیکن اتنا ضرور چاہوں گا کہ دوران خط و کتابت اگر آپ اختلاف بھی کریں تو علمی انداز سے۔ اس سے مجھے بھی فائدہ ہوگا۔
فقط
آپ کا مخلص
"ایک کتّا"


Kuttay ka khat patras ke naam. Humorous Essay by: Ahmad Jamal Pasha

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں