اپنے بارے میں - جاوید اختر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-01-30

اپنے بارے میں - جاوید اختر

javed-akhtar
لوگ جب اپنے بارے میں لکھتے ہیں تو سب سے پہلے یہ بتاتے ہیں کہ وہ کس شہر کے رہنے والے ہیں، میں کس شہر کو اپنا شہر کہوں ؟۔۔ پیدا ہونے کا جرم گوالیار میں کیا لیکن ہوش سنبھالا لکھنو میں۔ پہلی بار ہوش کھویا علی گڑھ میں، پھر بھوپال میں رہ کر کچھ ہوشیار ہوا۔ لیکن بمبئی آ کر کافی دنوں تک ہوش ٹھکانے رہے۔ تو آئیے ایسا کرتے ہیں کہ میں اپنی زندگی کا چھوٹا سا فلیش بیک بنا لیتا ہوں۔ اس طرح آپ کا کام یعنی پڑھنا بھی آسان ہو جائے گا اور میرا کام بھی یعنی لکھنا۔

شہر لکھنؤ۔۔
کردار، میرے نانا، نانی، دوسرے گھر والے اور میں۔۔ ۔ میری عمر آٹھ برس ہے، باپ بمبئی میں ہے، ماں قبر میں ! دن بھر گھر کے آنگن میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کرکٹ کھیلتا ہوں۔ شام کو ٹیوشن پڑھانے کے لئے ایک ڈراؤنے سے ماسٹر صاحب آتے ہیں۔ انہیں پندرہ روپے مہینہ دیا جاتا ہے ( یہ بات بہت اچھی طرح یاد ہے اس لئے کہ روز بتائی جاتی تھی) صبح خرچ کرنے کے لئے ایک ادھنا اور شام کو ایک اکنی دی جاتی ہے۔ اس لئے پیسے کی کوئی سمسیا نہیں ہے۔ صبح رام لال جی بنئیے کی دکان سے رنگین گولیاں خریدتا ہوں اور شام کو سامنے فٹ پاتھ پر خوانچا لگانے والے بھگوتی کی چاٹ پر اکنی لٹاتا ہوں۔ عیش ہی عیش ہے۔ اسکول کھل گئے ہیں۔ میرا داخلہ لکھنو کے مشہور اسکول کالون تعلقے دار کالج میں چھٹی کلاس میں کرا دیا جاتا ہے۔ پہلے یہاں صرف تعلقے داروں کے بیٹے پڑھ سکتے تھے۔ اب میرے جیسے کم ذا توں کوبھی داخلہ مل جاتا ہے۔ اب بھی بہت مہنگا اسکول ہے۔ میری فیس سترہ روپے مہینہ ہے ( یہ بات بہت اچھی طرح یاد ہے اس لئے کہ روز۔۔ ۔ جانے دیجئے ) میری کلاس میں کئی بچے گھڑی باندھتے ہیں، وہ سب بہت امیر گھروں کے ہیں۔ ان کے پاس کتنے اچھے اچھے سوئیٹر ہیں۔ ایک کے پاس تو فاؤنٹین پین بھی ہے۔ یہ بچے انٹرول میں اسکول کی کینٹین سے آٹھ آنے کی چاکلیٹ خریدتے ہیں۔ (اب بھگوتی کی چاٹ اچھی نہیں لگتی) کل کلاس میں راکیش کہہ رہا تھا اس کے ڈیڈی نے کہا ہے کہ وہ اسے پڑھنے کے لئے انگلینڈ بھیجیں گے۔ کل میرے نانا کہہ رہے تھے۔۔ ارے کمبخت! میٹرک پاس کر لے تو کسی ڈاکخانے میں مہر لگانے کی نوکری تو مل جائے گی۔ اس عمر میں جب بچے انجن ڈرائیور بننے کا خواب دیکھتے ہیں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بڑا ہو کر امیر بنوں گا۔۔ ۔

شہر علی گڑھ۔۔
کردار۔ میری خالہ، دوسرے گھر والے اور میں۔۔ ۔ میرے چھوٹے بھائی کو لکھنو میں نانا کے گھر میں ہی رکھ لیا گیا ہے اور میں اپنی خالہ کے حصے میں آیا ہوں جواب علی گڑھ آ گئی ہیں۔ ٹھیک ہی تو ہے۔ دو یتیم بچوں کو کوئی ایک گھر تو نہیں رکھ سکتا۔ میری خالہ کے گھر کے سامنے دور جہاں تک نظر جاتی ہے، میدان ہے۔ اس میدان کے بعد میرا اسکول ہے۔۔ نویں کلاس میں ہوں۔ عمر چودہ برس ہے۔ علی گڑھ میں جب سردی ہوتی ہے تو جھوٹ موٹ نہیں ہوتی۔ پہلا گھنٹہ سات بجے ہوتا ہے، میں اسکول جا رہا ہوں۔ سامنے سے چاقو کی دھار جیسی ٹھنڈی اور نکیلی ہوا آ رہی ہے۔ چھوکر بھی پتہ نہیں چلتا کہ چہرہ اپنی جگہ ہے یا ہوانے ناک کان کاٹ ڈالے ہیں۔ ویسے پڑھائی میں تو ناک کٹتی ہی رہتی ہے۔ پتہ نہیں کیسے، بس پاس ہو جاتا ہوں۔ اس اسکول میں جس کا نام منٹو سرکل ہے، میر اداخلہ کراتے ہوئے میرے خالونے ٹیچر سے کہا ہے۔ خیال رکھئے گا ان کا، دل پڑھائی میں کم، فلمی گانوں میں زیادہ لگتا ہے۔ دلیپ کمارکی اڑن کھٹولہ، راج کپور کی شری چار سو بیس دیکھ چکا ہوں۔ بہت سے فلمی گانے یاد ہیںل یکن گھرمیں یہ فلمی گانے تانا تو کیا سننا بھی منع ہے۔
اس لئے اسکول سے واپس آتے ہوئے راستے میں زور زور سے گاتا ہوں، (معاف کیجئے گا جاتے وقت تو اتنی سردی ہوتی تھی کہ صرف پکے راگ ہی گائے جا سکتے تھے ) میرا اسکول یونیورسٹی ایریا ہی میں ہے۔ میری دوستی اسکول کے دوچار لڑکوں کے علاوہ زیادہ تر یونیورسٹی کے لڑکوں سے ہے۔ مجھے بڑے لڑکوں کی طرح ہوٹلوں میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ اکثر اسکول سے بھاگ جاتا ہوں۔ اسکول سے شکایتیں آتی ہیں۔ کئی بارگھر والوں سے کافی پٹا بھی، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسکول کی کتابوں میں دل نہیں لگا تو نہیں لگا۔ لیکن ناولیں بہت پڑھتا ہوں۔ ڈانٹ پڑتی ہے لیکن پھر بھی پڑھتا ہوں۔ مجھے شعر بہت یاد ہیں۔ یونیورسٹی میں جب بھی بیت بازی ہوتی ہے، میں اپنے اسکول کی طرف سے جاتا ہوں اور ہر بار مجھے بہت سے انعام ملتے ہیں۔ یونیورسٹی کے سارے لڑکے لڑکیاں مجھے پہچانتے ہیں۔ لڑکے مجھے پہچانتے ہیں مجھے اس کی خوشی ہے، لڑکیاں مجھے پہچانتی ہیں اس کی تھوڑی زیادہ خوشی ہے۔ اب میں کچھ بڑا ہوچلا ہوں۔۔ ۔ میں پندرہ سال کا ہوں اور زندگی میں پہلی بار ایک لڑکی کو خط لکھ رہا ہوں۔ میرا دوست ببلومیری مدد کرتا ہے۔ ہم دونوں مل کر یہ خط تیار کرتے ہیں۔ دوسرے دن ایک خالی بیڈ منٹن کورٹ میں وہ لڑکی مجھے ملتی ہے اور ہمت کر کے میں یہ خط اسے دے دیتا ہوں۔ یہ میری زندگی کا پہلا اور آخری پریم پتر ہے۔ ( اس خط میں کیا لکھا تھا یہ بھول گیا لیکن وہ لڑکی آج تک یاد ہے ) میٹرک کے بعد علی گڑھ چھوڑ رہا ہوں، میری خالہ بہت رو رہی ہیں اور میرے خالو انہیں چپ کرانے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ تم تو اس طرح رو رہی ہو جیسے یہ بھوپال نہیں war front پر جا رہا ہو ( اس وقت نہ وہ جانتے تھے نہ میں جانتا تھا کہ میں سچ مچ war front پر ہی جا رہا تھا۔ )

شہر بھوپال۔۔
کردار۔۔ ان گنت مہربان، بہت سے دوست اور میں۔ علی گڑھ سے بمبئی جاتے ہوئے میرے باپ نے مجھے بھوپال یا یوں کہئے آدھے راستے میں چھوڑ دیا ہے۔ کچھ دنوں اپنی سوتیلی ماں کے گھر میں رہا ہوں۔ پھر وہ بھی چھوٹ گیا۔ صوفیہ کالج میں پڑھتا ہوں اور دوستوں کے سہارے رہتا ہوں۔ دوست جن کی لسٹ بنانے بیٹھوں تو پٹلی فون ڈائرکٹری سے موٹی کتاب بن جائے گی۔ آج کل میں بی۔ اے سیکنڈ ایئر میں ہوں۔ اپنے دوست اعزاز کے ساتھ رہتا ہوں۔ کرایہ وہ دیتا ہے میں تو بس رہتا ہوں۔ وہ پڑھتا ہے اور ٹیوشن کر کے گزر کرتا ہے۔ سب دوست اسے ماسٹر کہتے ہیں۔ ماسٹر سے میرا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا ہے۔ بات چیت بند ہے اس لئے میں آج کل اس سے پیسے نہیں مانگتا۔ سامنے دیوار پر ٹنگی ہوئی اس کی پینٹ میں سے نکال لیتا ہوں یا وہ بغیر مجھ سے بات کئے میرے سرہانے دو ایک روپے رکھ کر چلا جاتا ہے۔
میں بی اے فائنل میں ہوں۔ یہ اس کالج میں میرا چوتھا برس ہے۔ کبھی فیس نہیں دی۔۔ ۔۔ کالج والوں نے مانگی بھی نہیں۔ یہ شاید صرف بھوپال ہی میں ہو سکتا ہے۔ کالج کے کمپاؤنڈ میں ایک خالی کمرہ، وہ بھی مجھے مفت دے دیا گیا ہے۔ جب کلاس ختم ہو جاتی ہے تو میں کسی کلاس روم سے دو بنچ اٹھا کر اس کمرے میں رکھ لیتا ہوں۔ اور ان پر اپنابستر بچھا لیتا ہوں۔ باقی سب آرام ہے۔ بس بینچوں میں کھٹمل بہت ہیں۔ جس ہوٹل میں ادھار کھاتا تھا وہ میرے جیسے مفت خوروں کو ادھار کھلا کھلا کر بند ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ جوٹوں کی دکان کھل گئی ہے۔ اب کیا کھاؤں۔ بیمار ہوں، اکیلا ہوں، بخار کافی ہے، بھوک اس سے بھی زیادہ ہے۔ کالج کے دو لڑکے جن سے میری معمولی سی جان پہچان ہے، میرے لئے ٹفن میں کھانا لے کر آتے ہیں۔۔ ۔ میری دونوں سے کوئی دوستی نہیں ہے، پھر بھی۔۔ ۔ عجیب بے وقوف ہیں۔ لیکن میں بہت چالاک ہوں انہیں پتہ بھی نہیں چلنے دیتا کہ ان دونوں کے جانے کے بعد میں روؤں گا۔۔ میں اچھا ہو جاتا ہوں، وہ دونوں میرے بہت اچھے دوست ہو جاتے ہیں۔ مجھے کالج میں ڈبیٹ بولنے کا شوق ہو گیا ہے۔ پچھلے تین برس سے بھوپال روٹری کلب کا ڈبیٹ کا انعام جیت رہا ہوں، انٹر کالج ڈبیٹ کی بہت سی ٹرافیاں میں نے جیتی ہیں۔ وکرم یونیورسٹی کی طرف سے دلی یوتھ فیسٹول میں بھی حصہ لیا ہے۔ کالج میں دو پارٹیاں ہیں اور الیکشن میں دونوں پارٹیاں مجھے اپنی طرف سے بولنے کو کہتی ہیں۔۔ ۔ مجھے الیکشن سے نہیں صرفبولنے سے مطلب ہے، اسلئے میں دونوں کی طرف سے تقریر کر دیتا ہوں۔
کالج کا یہ کمرہ بھی جاتا رہا۔ اب میں مشتاق سنگھ کے ساتھ ہوں۔ مشتاق سنگھ نوکری کرتا ہے اور پڑھتا ہے۔ وہ کالج کی اردو اسوسی ایشن کا صدسر ہے۔ میں بہت اچھی اردو جانتا ہوں۔ وہ مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے۔ مجھے ان گنت شعر یاد ہیں۔ اسے مجھ سے زیادہ یاد ہیں۔ میں اپنے گھر والوں سے الگ ہوں۔ اس کے گھر والے ہیں ہی نہیں۔۔ دیکھئے ہر کام میں وہ مجھ سے بہتر ہے۔ سال بھر سے وہ مجھ سے دوستی کھانے کپڑے پر نبھارہا ہے۔ یعنی کھانا بھی وہی کھلاتا ہے اور کپڑے بھی وہ سلواتا ہے۔ پکا سردار ہے۔ لیکن میرے لئے سگریٹ خریدنا اس کی ذمہ داری ہے۔

اب میں کبھی کبھی شراب بھی پینے لگا ہوں۔ ہم دونوں رات کو بیٹھے شراب پی رہے ہیں۔ وہ مجھے پارٹیشن اور اس زمانے کے دنگوں کے قصے سنارہا ہے۔ وہ بہت چھوٹا تھا لیکن اسے یاد ہے۔ کیسے دلی کے قرول باغ میں دو مسلمان لڑکیوں کو جلتے ہوئے تارکول کے ڈرم میں ڈال دیا گیا تھا اور کیسے ایک مسلمان لڑکے کو۔۔ میں کہتا ہوں، مشتاق سنگھ تو کیا چاہتا ہے جو ایک گھنٹے سے مجھے ایسے قصے سنا سنا کر مسلم لیگی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ظلم کی یہ تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی تھی۔ اب ذرا دوسری طرف کی بھی تو کوئی واردات سنا۔
مشتاق سنگھ ہنسنے لگتا ہے۔۔ ۔ چلو سنا دیتا ہوں، جگ بیتی سناؤں یا آپ بیتی؟ میں کہتا ہوں، آپ بیتی۔۔ ۔ اور وہ جواب دیتا ہے۔ میرا گیارہ آدمیوں کا خاندان تھا، دس میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئے گئے ہیں۔
مشتاق سنگھ کو اردو کے بہت سے شعر یاد ہیں۔ میں مشتاق سنگھ کے کمرے میں ایک سال سے رہتا ہوں۔ بس ایک بات سمجھ میں نہیں آتی۔ مشتاق سنگھ تجھے ان لوگوں نے کیوں چھوڑ دیا؟ تیرے جیسے بھلے لوگ چاہے کسی ذات کسی مذہب میں پیدا ہوں ہمیشہ سولی پر چڑھائے جاتے ہیں۔ تو کیسے بچ گیا؟۔۔ ۔ آج کل وہ گلاس کو میں ہیں۔ جب ہم دونوں الگ ہورہے تھے تو میں نے اس کا کڑا اس سے لے کر پہن لیا تھا اور وہ آج تک میرے ہاتھ میں ہے اور جب بھی میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں ایسا لگتا ہے کہ وہ میرے سامنے ہے اور کہہ رہا ہے:
بہت ناکامیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے ناکامیاں میری

شہر بمبئی
کردار۔ فلم انڈسٹری، دوست، دشمن اور میں۔۔ ۔۔ 4 ؍اکتوبر 1964ء۔
میں بمبئی سینٹرل اسٹیشن پر اترا ہوں۔۔ اب اس عدالت میں میری زندگی کا فیصلہ ہونا ہے۔ بمبئی آنے کے چھ دن بعد باپ کا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ جیب میں 27؍ نئے پیسے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ زندگی میں کبھی اٹھائیس نئے پیسے بھی جیب میں آ گئے۔ تو میں فائدے میں رہوں گا اور دنیا گھاٹے میں۔
بمبئی میں دو برس ہونے کو آئے، نہ رہنے کا ٹھکانہ ہے نہ کھانے کا۔ یوں تو ایک چھوٹی سی فلم میں سو روپے مہینے پر ڈائیلاگ لکھ چکا ہوں۔ کبھی کہیں اسٹینٹ ہو جاتا ہوں، کبھی ایک آدھ چھوٹا موٹا کام مل جاتا ہے۔ اکثر وہ بھی نہیں ملتا۔ دادر ایک پروڈیوسر کے آفس اپنے پیسے مانگنے آیا ہوں، جس نے مجھ سے اپنی پکچر کے کامیڈی سین لکھوائے تھے۔ ( یہ سین اس مشہور رائٹر کے نام سے ہی فلم میں آئیں گے جو یہ فلم لکھ رہا ہے ) آفس بندہے۔ واپس باندرہ جانا ہے، جو کافی دور ہے۔ پیسے بس اتنے ہیں کہ یا تو بس کا ٹکٹ لے لوں یا کچھ کھالوں مگر پھر پیدل واپس جانا پڑے گا۔ چنے خرید کر جیب میں بھرتا ہوں اور پیدل سفر شروع کرتا ہوں۔ کوہ نور ملز کے گیٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے سوچتا ہوں کہ شاید سب بدل جائے لیکن یہ گیٹ تو رہے گا۔ ایک دن اسی کے سامنے سے اپنی کار میں گزروں گا۔ ایک فلم میں ڈائیلاگ لکھنے کا کام ملا ہے۔ کچھ سین لکھ کر ڈائرکٹر کے گھر جاتا ہوں۔ وہ بیٹھا ناشتے میں انناس کھارہا ہے۔ سین لے کر پڑھتا ہے اور سارے کاغذ میرے منہ پر پھینک دیتا ہے اور فلم سے نکالتے ہوئے مجھے بتاتا ہے کہ میں زندگی میں کبھی رائٹر نہیں بن سکتا۔ تپتی دھوپ میں ایک سڑک پر چلتے ہوئے میں اپنی آنکھ کے کونے میں آیا ایک آنسو پونچھتا ہوں اور سوچتا ہوں میں ایک دن اس ڈائریکٹر کو دکھاؤں گا کہ میں۔۔ ۔ پھر جانے کیون خیال آتا ہے کہ کیا یہ ڈائرکٹر ناشتے میں روز انناس کھاتا ہوگا۔

رات کے شاید دو بجے ہوں گے۔ بمبئی کی برسات، لگتا ہے آسمان سے سمندر برس رہا ہے۔ میں کھار اسٹیشن کے پورٹیکوسیڑھیوں پر ایک کمزور سے بلب کی کمزور سی روشنی میں بیٹھا ہوں۔ پاس ہی زمین پر اس آندھی طوفان سے بے خبر تین آدمی سو رہے ہیں، دور کونے میں ایک بھیگا ہوا کتا ٹھٹھر رہا ہے۔ بارش لگتا ہے اب کبھی نہیں رکے گی۔ دور تک خالی اندھیری سڑکوں پر موسلا دھار پانی برس رہا ہے۔ خاموش بلڈنگوں کی روشنیاں کب کی بجھ چکی ہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں سورہے ہوں گے۔ اسی شہر میں میرے باپ کابھی گھرہے۔ بمبئی کتنابڑا شہر ہے اورمیں کتنا چھوٹا ہوں، جیسے کچھ بھی نہیں ہوں۔ آدمی کتنی بھی ہمت رکھے کبھی کبھی بہت ڈر لگتا ہے۔

۔۔ ۔ میں اب سال بھر سے کمال اسٹوڈیو (جو کہ اب نٹ راج اسٹوڈیو ہے ) میں رہتا ہوں۔ کمپاؤنڈمیں کہیں بھی سوجاتا ہوں۔ کبھی کسی بر آمدے میں، کبھی کسی پیڑ کے نیچے۔ کبھی کسی بینچ پر۔ کبھی کسی کوریڈور میں۔ یہاں میرے جیسے اور کئی بے گھر اور بے روزگار اسی طرح رہتے ہیں۔ انہیں سے ایک جگدیش ہے جس سے میری اچھی دوستی ہو جاتی ہے۔ وہ روز ایک نئی ترکیب سوچتا ہے کہ آج کھانا کہاں سے اور کیسے مل سکتا ہے۔ آج دارو کون اور کیوں پلا سکتا ہے۔ جگدیش نے برے حالات میں جینے کو ایک آرٹ بنا لیا ہے۔
میری جان پہچان اندھیری اسٹیشن کے پاس فٹ پاتھ پر ایک سیکنڈ ہینڈ کتاب بیچنے والے سے ہو گئی ہے۔ اس لئے کتابوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ رات رات بھر کمپاؤنڈ میں جہاں بھی تھوڑی روشنی ہوتی ہے، وہیں بیٹھ کر پڑھتا رہتا ہوں۔ دوست مذاق کرتے ہیں کہ میں اتنی کم روشنی میں اگر اتنا زیادہ پڑھتا رہا توکچھ دنوں میں اندھاہو جاؤں گا۔ آج کل ایک کمرے میں سونے کا موقع مل گیا ہے۔ اسٹوڈیو کے اس کمرے میں چاروں طرف دیواروں سے لگی بڑی بڑی الماریاں ہیں جن میں فلم پاکیزہ کے درجنوں کاسٹیوم رکھے ہیں۔ مینا کماری کمال صاحب سے الگ ہو گئی ہیں اس لئے ان دنوں فلم کی شوٹنگ بند ہے۔
ایک دن میں ایک الماری کا خانہ کھولتا ہوں۔ اس میں فلم میں استعمال ہونے والے پرانی طرح کے جوتے چپل اور سینڈل بھرے ہیں اور انہیں میں مینا کماری کے تین فلم فیر ایوارڈ بھی پڑے ہیں۔ میں انہیں جھاڑ پونچھ کر الگ رکھ دیتاہ وں۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی فلم ایوارڈ کو چھوا ہے۔ روز رات کو کمرہ اندر سے بند کر کے وہ ٹرافی اپنے ہاتھ میں لے کر آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ جب یہ ٹرافی مجھے ملے گی تو تالیوں سے گونجتے ہوئے ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر میں کس طرح مسکراؤں گا۔ اور کیسے ہاتھ ہلاؤں گا، اس سے پہلے کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکوں، اسٹوڈیو کے بورڈ پر نوٹس لگا ہے کہ جو لوگ اسٹوڈیومیں کام نہیں کرتے وہ کمپاؤنڈ میں نہیں رہ سکتے۔
جگدیش مجھے پھر ایک ترکیب بتاتا ہے کہ جب تک کوئی اور انتظام نہیں ہوتا ہم لوگ مہا کالی کی گپھاؤں میں رہیں گے ( مہاکالی اندھیرے سے آگے ایک علاقہ ہے جہاں اب ایک گھنی آبادی اور کمالستان اسٹوڈیو ہے، اس زمانے میں وہاں صرف ایک سڑک تھی، جنگل تھا، اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں جن میں بودھ بھکشوؤں کی بنائی پرانی گپھائیں تھیں جو آج بھی ہیں۔ ان دنوں ان میں کچھ چرس، گانجا پینے والے سادھو پڑے رہتے تھے ) مہاکالی گپھاؤں میں مچھر اتنے بڑے ہیں کہ انہیں کاٹنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے تن پر صرف بیٹھ جائیں تو آنکھ کھل جاتی ہے۔ ایک ہی رات میں یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ یہاں چرس پئے بنا کوئی سوہی نہیں سکتا۔ تین دن جیسے تیسے گزارتا ہوں۔ باندرہ میں ایک دوست کچھ دنوں کے لئے اپنے ساتھ رہنے کے لئے بلالیتا ہے۔ میں باندرہ جا رہا ہوں، جگدیش کہتا ہے دو ایک روز میں وہ بھی کہیں چلا جائے گا۔ ( جگدیش سے یہ میری آخری ملاقات تھی، آنے والے برسوں میں زندگی مجھے کہاں سے کہاں لیگئی۔ مگر وہگیارہ برس بعد وہیں اور انہیں گپھاؤں میں چرس اور کچی دارو پی پی کر مر گیا۔ اور وہاں رہنے والے سادھوؤں اور آس پاس کے جھونپڑپٹی والوں نے چندہ کر کے اس کاکریا کرم کر دیا۔ قصہ ختم! مجھے اور اس کے دوسرے دوستوں کو اس کے مرنے کی خبربھی بعد میں ملی۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ مجھ میں کون سے لعل ٹنکے ہیں اور جگدیش میں ایسی کیا خرابی تھی۔ یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ تین دن بعد جگدیش کے کسی دوست نے اسے باندرہ بلالیا ہوتا اور میں پیچھے ان گپھاؤں میں رہ جاتا۔ کبھی کبھی سب اتفاق لگتا ہے۔ ہم لوگ کس بات پر گھمنڈ کرتے ہیں )

میں باندرہ میں جس دوست کے ساتھ ایک کمرے میں آ کر رہا ہوں وہ پیشہ ور جواری ہے۔ وہ اور اس کے دو ساتھی جوئے میں پتے لگانا جانتے ہیں، مجھے بھی سکھا دیتے ہیں۔ کچھ دنوں ان کے ساتھ تاش کے پتوں پر گزارا ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگ بمبئی سے چلے جاتے ہیں اور میں پھر وہیں کا وہیں۔ اب اگلے مہینے اس کمرے کا کرایہ کون دے گا۔ ایک مشہور اور کامیاب رائٹر مجھے بلا کر آفر دیتے ہیں کہ اگر میں ان کے ڈائیلاگ لکھ کر دیا کروں ( جن پر ظاہر ہے میرا نہیں ان کا ہی نام جائے گا۔ ) تو وہ مجھے چھ سو روپے مہینہ دیں گے۔ سوچتا ہوں یہ چھ سو روپے اس وقت میرے لئے چھ کروڑ کے برابر ہیں، یہ نوکری کر لوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ نوکری کر لی تو کبھی چھوڑنے کی ہمت نہیں ہو گی۔ زندگی بھریہی کرتا رہ جاؤں گا۔ پھر سوچتا ہوں اگلے مہینے کا کرایہ دینا ہے۔ پھرسوچتا ہوں دیکھا جائے گا۔ تین دن سوچنے کے بعد انکار کر دیتا ہوں۔ دن، ہفتے، مہینے، سال گزرتے ہیں۔ بمبئی میں پانچ برس ہونے کو آئے۔ روٹی ایک چاند ہے حالات، بادل، چاند کبھی دکھائی دیتا ہے کبھی چھپ جاتا ہے۔ یہ پانچ برس مجھ پر بہت بھاری تھے، مگر میرا سر نہیں جھکا سکے۔ میں نا امید نہیں ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے، پورا یقین ہے، کچھ ہوگا، ضرور ہوگا۔ میں یوں ہی مر جانے کے لیے نہیں پیدا ہوا ہوں۔ اور آخر نومبر 1969ء میں مجھے وہ کام مل جاتا ہے جسے فلم والوں کی زبان میں سہی، بریک کہا جاتا ہے۔

کامیابی بھی جیسے الہ دین کا چراغ ہے۔ اچانک دیکھتا ہوں کہ دنیا خوبصورت ہے، اور لوگ مہربان! سال ڈیڑھ سال میں بہت کچھ مل گیا ہے اور بہت کچھ ملنے کوہے۔ ہاتھ لگتے ہی مٹی سونا ہورہی ہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں اپنا پہلا گھر، اپنی پہلی کار، تمنائیں پوری ہونے کے دن آ گئے ہیں مگر زندگی میں ایک تنہائی تو اب بھی ہے۔ سیتا اور گیتا، کے سیٹ پرمیری ملاقات ہنی ایرانی سے ہوتی ہے۔ وہ ایک کھلے دل کی، کھری زبان کی مگر بہت ہنس مکھ سبھاؤ کی لڑکی ہے۔ ملنے کے چار مہینے بعد ہماری شادی ہو جاتی ہے۔ میں نے شادی میں اپنے باپ کے کئی دوستوں کو بلایا ہے مگر اپنے باپ کو نہیں (کچھ زخموں کو بھرنا الہ دین کے چراغ کے دیو کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام صرف وقت ہی کر سکتا ہے ) دو سال میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا زویا اور فرحان ہوتے ہیں۔

اگلے چھ برسوں میں ایک کے بعد ایک لگاتار بارہ سپرہٹ فلمیں، اعزازات، تعریفیں اخباروں اور میگزینوں میں انٹر ویو، تصویریں، پیسہ اور پارٹیاں، دنیا کے سفر، چمکیلے دن، جگمگاتی راتیں، زندگی ایک ٹیکنی کلر خواب ہے۔ مگر ہر خواب کی طرح یہ خواب بھی ٹٹتا ہے۔ پہلی بارایک فلمکی ناکامی۔۔ (فلمیں تواس کے بعد ناکام بھی ہوئیں اور کامیاب بھی، مگر کامیابی کی وہ خوشی اور خوشی کی وہ معصومیت جاتی رہی۔ )

18؍اگست1976ء کو میرے باپ کا انتقال ہو گیا ( مرنے سے نو دن پہلے انہوں نے مجھے اپنی آخری کتاب آٹو گراف کر کے دی تھی۔ اس پر لکھا تھا۔ جب ہم نہ رہیں گے تو بہت یاد کرو گے، انہوں نے ٹھیک لکھا تھا) اب تک تو میں اپنے آپ کو ایک باغی اور ناراض بیٹے کے روپ میں پہچانتا تھا مگر اب میں کون ہوں، میں اپنے آپ کو اور پھر اپنے چاروں طرف نئی نظروں سے دیکھتا ہوں کہ کیا بس یہی چاہئے تھا مجھے زندگی سے۔ اس کا پتہ ابھی دوسروں کو نہیں ہے مگر وہ تمام چیزیں جو کل تک مجھے خوشی دیتی تھیں جھوٹی اورنمائشی لگنے لگی ہیں۔ اب میرا دل ان با توں میں زیادہ لگتا ہے جن سے دنیا کی زبان میں کہا جائے، تو کوئی فائدہ نہیں۔ شاعری سے میرا راشتہ پیدائشی اور دلچسپی ہمیشہ سے ہے۔ لڑکپن سے جانتا ہوں کہ چاہوں تو شاعری کر سکتا ہوں مگر آج تک کی نہیں ہے۔ یہ بھی میری ناراضگی اور بغاوت کا ایک حصہ ہے۔
1979ء میں پہلی بار شعر کہتا ہوں اور یہ شعر لکھ کر میں نے اپنی وراثت اور اپنے باپ سے صلح کر لی ہے۔ اسی دوران میری ملاقات شبانہ سے ہوتی ہے۔ کیفی اعظمی کی بیٹی شبانہ بھی شاید اپنی جڑوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اسے بھی ایسے ہزاروں سوال ستانے لگے ہیں جن کے بارے میں اس نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ کوئی حیرت نہیں کہ ہم قریب آنے لگتے ہیں۔ دھیرے دھیرے میرے اندر بہت کچھ بدل رہا ہے۔ فلمی دنیا میں جو میری پارٹنر شپ تھی ٹوٹ جاتی ہے۔ میرے آس پاس کے لوگ میرے اندر ہونے والی ان تبدیلیوں کو پریشانی سے دیکھ رہے ہیں۔ 1983ء میں میں اور ہنی الگ ہو جاتے ہیں۔
(ہنی سے میری شادی ضرور ٹوٹ گئی مگر طلاق بھی ہماری دوستی کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اور اگر ماں باپ کے الگ ہونے سے بچوں میں کوئی ایسی کڑواہٹ نہیں آئی تو اس میں میرا کمال بہت کم اور ہنی کی تعریف بہت زیادہ ہے۔ ہنی آج ایک بہت کامیاب فلم رائٹر ہے اور میری بہت اچھی دوست۔ میں دنیا میں کم لوگوں کو اتنی عزت کرتا ہوں جتنی عزت میرے دل میں ہنی کے لئے ہے۔
میں نے ایک قدم اٹھا تو لیا تھا مگر گھرسے نکل کے کئی برسوں کے لئے میری زندگی کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر، جیسی ہو گئی۔ شراب پہلے بھی بہت پیتا تھا مگر پھر بہت ہی زیادہ پینے لگا۔ یہ میری زندگی کا ایک دور ہے جس پر میں شرمندہ ہوں۔ ان چند برسوں میں اگر دوسروں نے مجھے برداشت کر لیا تو یہ ان کا احسان ہے۔ بہت ممکن تھا کہ میں یونہی شراب پیتے پیتے مر جاتا مگر ایک سویرے کسی کی بات نے ایسا چھو لیا کہ اس دن سے میں نے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ کبھی لگاؤں گا۔

آج اتنے برسوں بعد جب اپنی زندگی کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ پہاڑوں سے جھرنے کی طرح اترتی، چٹانوں سے ٹکراتی، پتھروں میں اپنا راستہ ڈھونڈتی، امڈتی، بل کھاتی، ان گنت بھنور بناتی، تیز چلتی اور اپنے ہی کناروں کو کاٹتی ہوئی یہ ندی اب میدانوں میں آ کر پرسکون اور گہری ہو گئی ہے۔
میرے بچے زویا اور فرحان بڑے ہو گئے ہیں اور باہر کی دنیا میںا پنا پہلا قدم رکھنے کو ہیں۔ ان کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں آنے والے کل کے حسین خواب ہیں۔ سلمان میرا چھوٹا بھائی، امریکہ میں ایک کامیاب سائیکو انیا لسٹ۔ بہت سی کتابوں کا مصنف، بہت اچھا شاعر، ایک محبت کرنے والی بیوی کا شوہر اور دو بہت ذہین بچوں کا باپ ہے۔ زندگی کے راستے اس کے لئے کچھ کم کٹھن نہیں تھے۔ مگر اس نے اپنی انتھک محنت اورلگن سے اپنی ہر منزل پالیہے۔ اور آج بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ میں خوش ہوں اور شبانہ بھی۔ جو صرف میری بیوی نہیں، میری محبوبہ بھی ہے۔ جو ایک خوبصورت دل بھی ہے اور ایک قیمتی ذہن بھی۔ میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے۔ یہ مصرعہ اگربرسوں پہلے مجاز نے کسی کے لئے نہ لکھا ہوتا تو میں شبانہ کے لئے لکھتا۔

آج یوں تو زندگی مجھ پر ہر طرح مہربان ہے مگر بچپن کا وہ ایک دن، 18؍جنوری 1953ء اب بھی یاد آتا ہے۔ جگہ لکھنو، میرے نانا کا گھر، روتی ہوئی میری خالہ میرے چھوٹے بھائی سلمان کو جس کی عمر ساڑھے چھ برس ہے، اور مجھے ہاتھ پکڑکے گھر کے اس بڑے کمرے میں لے جاتی ہیں جہاں فرش پر بہت سی عورتیں بیٹھی ہیں۔ تخت پر سفید کفن میں لیٹی میری ماں کا چہرہ کھلا ہے۔ سرہانے بیٹھی میری بوڑھی نانی تھکی تھکی سی ہولے ہولے رورہی ہے۔ دو عورتیں انہیں سنبھال رہی ہیں۔ میری خالہ ہم دونوں بچوں کو اس تخت کے پاس لے جاتی ہیں اور کہتی ہیں اپنی ماں کو آخری بار دیکھ لو۔ میں کل ہی آٹھ برس کاہوا تھا۔ سمجھدار ہوں جانتا ہوں موت کیا ہوتی ہے۔ میں اپنی ماں کے چہرے کو بہت غور سے دیکھتا ہوں کہ اچھی طرح یاد ہو جائے۔ میری خالہ کہہ رہی ہے، ان سے وعدہ کرو کہ تم زندگی میں کچھ بنو گے، ان سے وعدہ کرو کہ تم زندگی میں کچھ کرو گے۔ میں کچھ کہہ نہیں پاتا۔ بس دیکھتا رہتا ہوں اور پھر کوئی عورت میری ماں کے چہرے پر کفن اوڑھا دیتی ہے۔
ایسا تو نہیں ہے، کہ میں نے زندگی میں کچھ کیا ہی نہیں ہے لیکن پھر یہ خیال آتا ہے کہ میں جتنا کر سکتا ہوں اس کا تو ایک چوتھائی بھی اب تک نہیں کیا اور اس خیال کی دی ہوئی بے چینی جاتی نہیں۔


About Myself. Article: Javed Akhtar

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں