ستاروں کی سیر - کرشن چندر - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-01-29

ستاروں کی سیر - کرشن چندر - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

ستاروں کی سیر - کرشن چندر کا ایک سائنسی ناول ہے۔ جو اردو داں بچوں کے سائنس فکشن میں ایک شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ بچوں کے لیے سن 1961 میں کرشن چندر نے اسے تحریر کیا تھا۔

ڈاکٹر عابدہ خانم سونور اپنے مقالہ "بیسویں صدی میں بچوں کا اردو ادب - ایک تنقیدی مطالعہ" (برائے پی۔ایچ۔ڈی ڈگری، شعبۂ اردو و فارسی، کرناٹک یونیورسٹی، دھارواڑ) کے چوتھے باب "بیسویں صدی میں بچوں کا نثری ادب" میں لکھتی ہیں:
کرشن چندر نے "ستاروں کی سیر" لکھ کر بچوں کے نثری ادب میں ایک خوبصورت اضافہ کیا۔ "ستاروں کی سیر" ہمارے بچوں کو نئے نئے جہانوں کی گھر بیٹھے سیر کراتا ہے۔ اس میں تحیر و استعجاب سے لے کر تخیلات و حادثات تک کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تفریح کے پردے میں بچوں کو سائنسی ایجادات و کائنات کے اسرار سے روشناس کرایا گیا ہے۔ اس ناول میں ایک عجیب و غریب روبوٹ سائنس دان کے احکامات کا پابند ہے۔ اور اس کے سارے کام انجام دیتا ہے۔
ستاروں کی سیر کا ماحول آج سے 60 برس پہلے کا تھا۔ ایٹم بموں اور راکٹوں کی جنگ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی یکسر ختم کر چکی ہے۔ زمین کا محور بدل چکا ہے۔ اس کی سطح نیچی اور سمندر کی سطح نسبتاً اوپر ہو گئی ہے۔ اس طرح دنیا کا تین چوتھائی حصہ سمندر میں غرق ہو گیا ہے۔اور انسان پہاڑوں پر پناہ گزیں ہے۔ یہ جغرافیائی تحیر اس ناول کے پلاٹ میں موجزن ہے۔ اور بچوں کی دلچسپیوں میں حیرت انگیز طور پر اضافہ کرتا ہے۔

"ستاروں کی سیر" بیس ابواب پر مشتمل ہے۔ ناول کا آغاز روبوٹ جمی کے تعارف سے ہوتا ہے جس کو سائنسدان نے آٹھ برس کی طویل عرق ریزی کے بعد تیار کیا ہے۔ اس ناول کا سائنسدان چاند پر حکومت کرنے کا آرزو مند ہے اس مقصد کے تحت روبوٹ کی تربیت کی گئی ہے۔ لیکن سائنسدان سے پہلے ہی بچے روبوٹ کی مدد سے راکٹ جہاز لے اڑتے ہیں۔

پورا پلاٹ نہایت عمدگی اور خوش سلیقگی سے مرتب کیا گیا ہے۔ ہر چند کہ ایک سائنسی ناول ہے اور مصنف بچوں کو جدید سائنسی ترقیات سے روشناس کرانا چاہتا ہے ، لیکن اس خشک موضوع کے لئے جو پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے اس کی مثال اردو کے کسی دوسرے ناول میں نہیں ملتی۔ ماہر فنکار نے باتوں باتوں میں بچوں کو چاند کی دنیا کی سیر کرائی ہے۔ ان کی دلچسپی کے لئے وہاں کی دنیا کو مافوق الفطرت عناصر اور جن، پری، دیو جیسے بعید از قیاس کرداروں کے برعکس بالکل نئی قسم کی مخلوق اور نئے جہانوں سے متعارف کرایا ہے۔
کردار نگاری کی یہ انوکھی تیکنک بچوں کے فکشن میں خوش آمدید کہی جائے گی۔ مصنف نے ایسے عجائبات کی سیر کرائی ہے جس کی مثال طلسمی داستانوں میں بھی نہیں ملتی۔ بچوں کے لئے داستانی فضا سے راہ نکالنے کا یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔
بہر کیف "ستاروں کی سیر" بچوں کے سائنس فکشن میں ایک شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ ناول کے ہر باب میں خیر و شر کی کشمکش اور بدی پر نیکی کی فتح اپنے دل آویز طریقہ سے دکھائی گئی ہے کہ نوخیز ذہن اس صحت مند تاثیر کو قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مقدمہ
ڈاکٹر خوشحال زیدی

اردو میں دوسری اصناف نثر کی طرح بچوں کا ادب برابر لکھا جا رہا ہے۔ اردو کے تقریباً ہر بڑے شاعر اور بلند پایہ ادیب نے ادب اطفال کی طرف خاطر خواہ توجہ کی اور نظم و نثر میں بےشمار نگارشات چھوڑی ہیں۔
تقسیم ہند کے بعد ادب اطفال کے موضوعات بدلے، اسلوب بدلے، مسائل بدلے ہیں، اس عہد کے تمام لکھنے والوں نے ادب اطفال میں بھی ان تمام موضوعات مسائل کا احاطہ کیا ہے، اس ضمن میں عظیم افسانہ نگار کرشن چندر کا نام سرفہرست ہے۔
کرشن چندر نے بچوں کے لئے فنطاسیہ، مہماتی اور سائنس فکشن تخلیق کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایسی نگارشات میں بھی شعریت آمیز نثر استعمال کر کے ، ان کو دلچسپ، خوبصورت اور زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ کرشن چندر کی زیادہ تر کہانیاں اور ناول تمثیلی اور طنزیہ ہیں جن میں مزاح کی لطیف چاشنی سے مقصدیت کو خوشگوار بنایا گیا ہے۔ ان کی تخلیقات ، زبان، اسلوب، طرز نگارش غرض کہ ہر اعتبار سے بچوں کے مزاج اور افتادِ طبع سے ہم آہنگ ہیں۔ کرشن چندر بچوں کی نفسیاتی پیچیدگیوں، ذاتی ضروریات اور دلچسپیوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرشن چندر اردو ادب اطفال میں بھی کئی حیثیتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لئے ڈرامے بھی لکھے ہیں اور بہترین ناول بھی۔ وہ بچوں کے سب سے بڑے اور سب سے پہلے کہانی لکھنے والوں میں سے ہیں جنہوں نے جدید سائنسی اور صنعتی دنیا کے پس منظر میں بچوں کو عجیب و غریب دنیا کی سیر کرائی ہے۔
دور جدید میں بچہ مافوق الفطرت واقعات اور کرداروں کی بہ نسبت نئی نئی ایجادات اور خلائی معلومات میں زیادہ دلچسپی لینے لگا ہے۔ وہ بے بنیاد باتوں پر یقین کرنے پر آمادہ نہیں ، یہی سبب ہے کہ عصر حاضر میں سائنس فکشن نے بچوں کے ادب میں منفرد مقام بنا لیا ہے۔ سائنس فکشن جہاں بچوں کو جدید سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے وہیں انہیں خلائی مہمات، فضائی سیر و سیاحت اور اس نوع کے دلچسپ موضوعات پر تازہ بہ تازہ معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔ تخیلاتی اڑن کھٹولہ اب پرانی چیز ہو گئی ہے۔ بچے خود ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آسمان کی سیر کرتے ہیں۔ انسان خلا میں جاکر اپنی ہی دنیا کو چھوٹے سے سیارے کی شکل میں دیکھتا ہے۔
کرشن چندر نے ناول "ستاروں کی سیر" میں بچوں کو نئے نئے جہانوں کی گھر بیٹھے سیر کرائی ہے ۔ اس ناول میں تحیر و استعجاب سے تخیلات و حادثات کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہے اور تفریح کے پردے میں بچوں کو جدید سائنسی ایجادات اور کائنات کے اسرار سے روشناس کرایا ہے۔
اس ناول میں ایک روبوٹ سائنس داں کے احکامات کا پابند ہے، اونچے اونچے پہاڑوں پر ایٹمی قلعہ بندیاں کی جا چکی ہیں۔ دنیا دو گروہوں میں بٹ چکی ہے۔ ایک سائنسدانوں کی دنیا دوسری عام انسانوں کی دنیا۔ سائنس داں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔ ان سائنس دانوں میں ایک بوڑھا سائنس دان، تین بچوں ، عرفی، ناز اور موہنی کے ساتھ پہاڑ کی سب سے بلند چوٹی پر رہتا ہے ۔ اس کا چوتھا سائنسی بیٹا جمی روبوٹ ہے۔ جمی کے ہاتھ، پاؤں، ناک کان حتی کہ بال تک ہیں۔ اس کے پاس دماغ بھی ہے۔ سائنسداں نے چاند پر پہنچنے کے لئے ایک راکٹ تیار کیا۔ جس کو صرف جمی ہی چلا سکتا ہے۔ ایک دن اچانک بچے روبوٹ کے ساتھ پروفیسر کے تیار کردہ راکٹ کو اسٹارٹ کر لیتے ہیں اور خلا میں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں انہیں عجیب و غریب کائنات دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ کائنات مافوق الفطرت واقعات ، پریوں اور دیو کی دنیا اور پرستان جیسی قدیمی داستانی دنیاؤں سے قطعی مختلف ہے۔ تخیلی اور سائنسی انکشافات کی آمیزش سے مصنف نے ایسی پر اسرار اور عجیب و غریب فضا تخلیق کی ہے کہ اس کے سامنے طلسمی دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔
ناول "ستاروں کی سیر" تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب کا آغاز روبوٹ 'جمی' کے تعارف سے ہوتا ہے۔ سائنس داں نے یہ روبوٹ آٹھ برس میں تیار کیا ہے۔ اس کو باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔ بچے اس کی مدد سے ہی راکٹ کو خلا میں لے جاتے ہیں۔
ناول کا پلاٹ نہایت عمدگی اور خوش سلیقگی سے مرتب کیا گیا ہے۔ خلا کے باشندے ، ستاروں کی سیر، عجیب و غریب دلچسپ واقعات، سائنسی کرشمے۔۔۔ غرضیکہ بچوں کی دلچسپی ، تفریح طبع کے ساتھ ان کو سائنسی معلومات اور جدید ترقیات سے نہایت خوبصورت پیرایہ میں متعارف کرایا گیا ہے۔ جہاں تخریب کار سائنس داں اور امن پسند بچوں کی پوری داستان افسانوی رنگ میں پیش کی گئی ہے۔

***

***
نام ناول: ستاروں کی سیر
سن اشاعت: جولائی 1961
تعداد صفحات: 136
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 7 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک: (بشکریہ: archive.org)
SitaronKiSair_KrishanChander.pdf

Archive.org Download link:

Sitaron ki sair, science fiction, pdf download. Novel by Krishan Chander.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں