جدید شاعری میں علامت نگاری - ڈاکٹر رؤف خیر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-12-07

جدید شاعری میں علامت نگاری - ڈاکٹر رؤف خیر

alamat-nigari in urdu poetry
علامت نگاری کسی بھی زبان کومالامال کرنے کابہترین ذریعہ ہے ۔جب ایک فنکار یہ دیکھتا ہے کہ لفظ اپنی حس کھوتاجارہا ہے تو اسے ایسی توانائی عطا کرتا ہے کہ وہ گھسا پٹا لفظ ایک خوبصورت پیکر اختیار کرلیتا ہے ۔ لفظ اپنی عمومیت کھوکر جب خصوصیت اختیار کرلے تو ایک خوشگوار علامت بن جاتا ہے ۔ جیسے شمع ، پروانہ، قفس، آشیانہ اپنے عمومی معنوں میں الگ مفاہیم رکھتے ہیں ، لیکن جب یہی لفظ مخصوص رنگ میں استعمال کئے جانے لگے تو علامت کہلائے۔ اس طرح فنکار علامتوں کی تخلیق کے ذریعہ اپنی ہی زبان میں تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا رہتا ہے اور وہ نوبت آنے سے رہ جاتی ہے جو اقبال اور غالب کو زبان ہی کا دامن چھوڑنے پرمجبورہوگئی۔
محاورہ، تشبیہ، استعارہ اور تلمیح وغیرہ کی زیادہ ارفع و اعلیٰ صورت، علامت ہے ۔ محاورہ تو لفظ کا وہ کثیر استعمال ہے جہاں لفظ اپنی پہچان تک کھودیتا ہے ۔ اور صرف مجازی معنوں میں زندہ رہتا ہے مثلاً راہ میں آنکھیںبچھانا، پانی بھرنا، ہاتھوں کے طوطے اڑجانا وغیرہ ، یہاں تو لفظ وہ پردۂ زنگاری ہے جس میں سے کوئی اور ہی معشوق بولتا ہے ۔
تشبیہہ میں دو چیزیوں کا پایاجانا ضروری ہے اور چونکہ تشبیہہ ممکنات کا نام ہے ، اس لئے دونوں چیزوں میں معروضی مطابقت کا پایاجانا ضروری ہے ۔مثلاً احمد شیر کی طرح ہے ۔ یہاں احمدبھی ہے اور شیر بھی اور دونوں کی واقعاتی خصوصیات بھی۔ استعارہ البتہ تشبیہہ کی بہ نسبت قدرے بلیغ ہواکرتا ہے، جیسے احمد شیرہے ، اس استعارہ میں احمد کے لفظ کو اس مفہوم میں استعمال کیاجارہا ہے جو اس کا ذاتی نہیں بھی ہے اور ہے بھی ۔ اور چونکہ استعارہ ابہام کی بہترین مثال ہوتا ہے اور تشبیہہ اور تلمیح کی بہ نسبت زیادہ بہتر خصوصیات کا حامل ہونے کی وجہ سے علامت کا زینہ اول بھی قرار دیاجاسکتا ہے۔ تلمیح وہ مخصوص علامت ہے جو اساطیری بنیادوں کی محتاج ہے اور یہ اساطیری علامتیں اپنے آپ ہی میں سارے مفاہیم رکھتی ہیں اور جومتعین ہوتے ہیں اور ایک ایک تلمیح بجائے خود اک پورا واقعہ یا حکایت ہوتی ہے ۔ اس میں شک نہیں تلمیح اجمال کی بہترین مثال ہونے کی وجہ سے شعر میں بڑا لطف دیتی ہے کیونکہ شعر اجمالی خصوصیات کا بہترین نمائندہ ہوتا ہے ۔ بہر حال علامت اپنے اکہرے پن میں زندہ نہیں رہتی، بلکہ اس کے پچھلے وہ سارے عوامل کام کرتے ہیں جومحاورہ، تشبیہہ استعارہ اورتلمیح کی جان ہیں۔
اب رہا علامت کے استعمال کا سوال ۔ دنیا کا کوئی فن ہو جب بھونڈے پن کے ساتھ اس کا مظاہرہ ہوگا تو وہ فن اپنی کوئی گونج پیدا نہ کرسکے گا ۔ الٹا ہدف ملامت بنے گا ۔ اور چونکہ شعر فنی رچاؤ سے عبارت ہے اس لئے بھونڈا پن تو الگ لفظ کی اعرابی غلطی تک کو برداشت نہیں کرسکتا ۔ جب محمد علوی کیچڑمیں لت پت ، بھینس کے کالے تھوں میں دودھ کا ایک قطرہ بھی رہنے نہ دینے کی بات کرتے ہیں اور وہ بھی بعنوان شہوت ۔ یا پھر افتخار جالب جب یہ کہتے یہں کہ سرخ گوشت کی لمبی نوک جانے کہاں تک جاتی ہے تو اس میں اور امیر مینائی کے یہ کہنے میں کہ دوبوسے لوں گا جان من اک اس طرف اک اس طرف۔ میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے ۔ دونوں ایک ہی سطح فکر پر آجاتے ہیں ۔ اس سے بہتر تو وہ قدیم شاعر ہے جس کے کلام میں زندگی بھر کی قنوطیت رہی یعنی فانی کہتے ہیں۔
گرا کے قطرۂ شبنم گلوں کے دامن پر
تجلیات کے دریابہا دئے ہم نے
اس قطرۂ شبنم کونطفہ دے کر شعر کا حظ اٹھائیے یا پھر ظفر اقبال کے یہ دو شعر۔
چمکا ہے تیری خاک میں میرے لہو کا رنگ
یعنے مرے کئے کی سزا ہے ترے لئے
تلوار ایسے اس کے بدن میں اتار دی
جیسے کہ آدمی نہیں وہ نیام ہے کوئی
ظفر اقبال نے کس خوش اسلوبی سے اسی مفہوم کو ادا کیاہے ۔ بہر حال میرا منشا ۔یہ نہیں کہ میں اصلاح قوم کا ذمہ اپنے سر لوں ۔ جہاں تجربہ بولتا ہے وہاں اس پر اخلاقی پابندی بے معنی ہے۔لیکن فنی پابندی تو ضروری ہے ، جو ذوق سلیم کا خاصہ ہے ۔
شعر فنی رچاؤ سے الگ کب ہے؟ ریل آتی ہے ، ریل جاتی ہے اور
ریل مضطر گئی جوانی انتظار اب کہاں کی بس کا ہے
(مضطرمجاز)
میں کچھ تو فرق ہوگا ہی ، دراصل علامت نگاری تہذیب فن کی متقاضی ہے اور کوئی علامتVULGARہو تو ادب میں اس کے لئے گنجائش نکلنا مشکل ہے ۔ شہوت، نفرت ،غصہ، محبت جیسی جبلتوں کا اظہار جہاں راست(DIRECT) اور بھونڈے پن سے ہوگا، وہ کھلے گا اور جہاں ان کی تہذیب ہوگی وہ اچھا فن کہلائے گا۔
علامت مبہم ہوتی ہے لیکن بے معنی نہیں ، اور یہی ابہام علامت کے وسیلے سے اجمال کی جملہ خصوصیت لئے ہوئے ہو تو لطف دے جاتا ہے ۔ندافاضلی کے اس شعر
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دئیے رات ہوگئی
پرکافی لے دے کی گئی۔ گاؤں اور شہر کی زندگی کے تفاوت کی ساری عکاسی اس شعر میں موجود ہے ۔ اور اس چابک دستی اور فنی رچاؤ کے ساتھ ساری روایتیں دھری کی رہ گئیں۔
بعض وقت کسی مخصوص لفظ کو علامت کے طور پر استعما ل کرنے کے بجائے عام الفاظ ہی میں اک تصویر کھینچ دی جاتی ہے جو علامت کا کام کرتی ہے ۔ مثلاً بانی کا یہ شعر
آ ملاؤں تجھے اک شخص سے آئینے میں
جس کا سر شاہ کا اور ہاتھ سوالی کا ہے
یا پھر بانی ہی کا اک اور شعر
میں ایک بے برگ وبارمنظر کمر برہنہ، میں سنسناہٹ تمام یخ پوش، اپنی آواز کا کفن ہوں
محاذ سے لوٹتا ہوا نصف تن سپاہی، میں اپنا ٹوٹا ہوا عقیدہ ، اب آپ اپنے لئے وطن ہوں
ہر علامت مکمل اور مفرد معنوںمیں کبھی استعمال نہیں ہوتی۔ ایک ہی لفظ کہیں ایک علامت کے لئے اور کہیں دوسری ہی علامت کے لئے استعمال کیاجاتا ہے ۔ مثلاً
سناؤں کیسے کہ سورج کی زد میں ہیں سب لوگ
جو حال رات کو پرچھائیوں کے گھر کا ہوا
(شہر یار)
سورج کے ساتھ سو رہوں کپڑے اتار کے
مطلب یہی ہے دھوپ کے پیلے پیام کا
(ظفر اقبال)
ہوا طلوع وہ سورج مرے ہی اندر سے
جلا گیا ہے جو میلی رفاقتوں کے بدن
(زبیر رضوی)
اے ساعت اول کے ضیا ساز فرشتے
سورج کی سواری کے نکلنے کی خبر دے
(بانی)
آنکھ بھی وا ہوئی ، سورج بھی سفر سے آیا
ذرۂ زرد نہ صحرائے ہنر سے آیا
(ظفر اقبال)
مٹھاس چوس لی سورج نے کتنے چہروں کی
شناخت ہوتی ہے مشکل سے اب کے لوگوں کی
(علیم صبا نویدی)
سورج کا ایک مفرد لفظ بے شمار چہرے لئے ہوئے ہے ۔ سورج کی علامت اتنی توانا اور تکثیری قوتیں لئے ہوئے ہے کہ اس کا ہمہ معنی ہونا واجب ہے ۔ اور یہ استعمال مختلف احساسات کا ترجمان ہے ۔ گویا ایک ہی علامت مختلف احساسات کے لئے مختلف انداز میں مختلف روپ اختیار کرجاتی ہے ۔ جس طرح بعض مخصوص علامتیں کسی خاص زبان یاملک میں ایک مفہوم رکھتی ہیں ، لیکن دوسری زبان اور ملک میں انتہائی جداگانہ بلکہ متصادمعنی بھی رکھتی ہیں۔ مثلاً مخدوم محی الدین نے کڑیل شباب کے لئے سمندروں کے جھاگ سے بنی ہوئی جوانیاں ، کہا تھا جب کہ عربی میں جھاگ (غساء) انتہائی کمزور ی کی علامت ہے ۔شیر، چیتا ،بھیڑیا ،اور گلاب کی علامتیں دانتے کیTHE DIVINE COMEDYمیں جن معنوں میں استعمال ہوئی ہیں، وہی اپنی جگہ مکمل ہیں لیکن یہ کلیہ نہیں بن سکتاکہ سارے ادبمیں ان ہی مفاہیم میں وہ استعمال ہوتی رہیں ۔ علامت کی خوبی یہی ہے کہ وہ نئے نئے مفاہیم کا دائرہ بنتی ہے ، ورنہ زبان کا ارتقا کوئی معنی نہ رکھتا۔
علامت کی تفہیم اسی وقت ممکن ہے جب اس کی ترسیل ہو۔ ترسیل کی ناکامی کی وجہ سے علامت اپنا مفہوم کھودیتی ہے حالانکہ اس میں مفہوم پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس مفہوم کی پردہ دری کی ذمہ داری صرف قاری کے سر رکھنا زیادتی ہے ، کیونکہ قاری کے صاحب ذوق ہونے کی گارنٹی اس وقت تک مشکو ک ہے جب تک کہ علامت ترسیل کی حدود میں نہیں آتی۔ اسی لئے علامتوں کے استعمال میں فنی رچاؤ کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ ورنہ اچھی خاصی علامت چیستان ہوکے رہ جاتی ہے۔ بنگالی زبان کی بھوکی پیڑی، گجراتی زبان کارے گروپ اور تلگو زبان کے ڈگمبری کوی ابہام اور فنی رچاؤ بغیر جب زبان و ادب کا استعمال غیر فنی پیکری علامتوں کے ذریعے کرنے لگے تو ناکام ہوگئے ۔ نرالا، بچن، قاضی نذر الاسلام، ٹیگور، غالب اور اقبال آج بھی زندہ ہیں۔ انیس کی شاعری کی تمام تر فضا، مصنوعی اور غیر فطریUNNATURALہونے کے باوجود اپنے علامتی قدوقامت میں کسی سے کم نہیں ۔
علامت کے استعمال میں افراط و تفریط سے گریز کرنا ضروری ہے ۔ اس سے نہ صرف علامت کی توقیر باقی رہتی ہے بلکہ خود ادب کا اقتصا بھی یہی ہے ۔ علامت کا جاو بے جا استعمال اس کے حسن کو نہ صرف بگاڑتا ہے بلکہ اسے باہر بھی کردیتا ہے ۔ جیسے قفس ، شمع، پروانہ، آشیانہ قبیل کی تمام علامتیں جدید ادب میں قطعاً بار پانے کے قابل نہیں رہیں ، بلکہ جدید شاعری پر تہمت کا حکم رکھتی ہیں ۔
ترقی پسندوں نے دارورسن ، محنت، سرمایہ،محبت، اندھیرے اجالے وغیرہ علامتوں کو اتنا گھسا کہ اب یہ علامتیں اپنا آب و روغن کھوچکی ہیں۔ اسی طرح جدید شاعروں نے تنہائی کے ساتھ وہ رویہ اختیار کیا کہ یہ علامت اب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی ۔ علامت کا اک خاص حد تک استعمال بشرط تکثیریت فن کی حدوں میں رہتا ہے ، لیکن جہاں علامت بنجر ہوجاتی ہے اسے ادب سیباہر کردینا پڑتا ہے ۔ یا خود بخود وہ ادب باہر ہوجاتی ہے، جیسے فصیل، شب، سحر، آرزو، پھانسی کی علامتیں اب بے چہرہ ہوگئی ہیں ۔ بعض علامتیں مخصوص حالات کی پیداوار ہونے کی وجہ سے ان حالات کے ساتھ ختم ہوجاتی ہیں ۔مثلاً شراب، جام اور مینا وغیرہ کی علامتوں کا استعمال متشرع علمائے وقت سے چہل کے طور پر شروع ہوا ۔ پھر اس میں تصوف کی شراب خانہ ساز کو انڈیلا گیا اور غالب کو بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر ، کہنا پڑا اور ریاض خیرآباد تک آتے آتے ان علامتوں کا سارا نشہ ٹوٹ گیا۔ اسی طرح جدوجہد آزادی اور حصول آزادی کے دور کی علامتیں ترقی پسند ادب کی دین ہیں، جن کی تان یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر پر آکر ٹوٹ گئی۔
کسی بھی علامت کاREPETATIONنہ صرف یہ کہ اس علامت کوبے وقار کردیتا ہے بلکہ اس علامت کو باربار استعمال کرنے والے شعر کی تخلیفی صلاحیتوں پر بھی حرف لاتا ہے جیسا کہ خورشید احمد جامی کے ساتھ ہوا کہ انہوں نے زخم، فصیل ، مہتاب، شام، سحر، شب ، اندھیرے ، اجالے، فصل، پھانسی، اور دردوغیرہ علامتوں کو اپنی شاعری میں اس کثرت سے استعمال کیا کہ رخسار سحر کی شاعری اس REPETATIONکا شکارہوگئی ، لیکن برگ آوارہ اور یاد کی خوشبو میں یہ تکرار باقی نہیں رہی۔
احمد ہمیش نے کہا تھا کہ جب کوئی لفظ ایک بار استعمال کیاجاتا ہے وہ مرجاتا ہے بر خلاف اس کے کسی دوسرے ادیب نے کہا تھا کہ میں جب کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں وہاں سے اس کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ یہ دونوں خیالات اپنی اپنی جگہ صحیح بھی ہیں اور غلط بھی ۔ احمد ہمیش نے جس تناظرمیں لفظ کے مرجانے کی بات کی وہ دراصل زندگی کی علامت ہے ۔ وہ ہل من مزید اور تخلیقی قوتوںکی زرخیزی کی دعوت دیتے ہیں ۔ ایک مرتبہ استعمال کئے ہوئے کسی ایک علامت یا لفظ کے سحر میں گم ہوکر اس کے ٹوٹنے کی اذیت برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ اس سے پہلے ہی کوئی اور لفظ جنم دے لیں۔ احمد ہمیش کا خیال غلط اس لئے ہے کہ جب کسی لفظ یا علامت کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے تو علامت و ہ شاخ تر ہوجاتی ہے جس پر نئے پھول پھل آتے ہیں۔ اس لئے اس علامت کی حیات وموت کا انحصار اس کی اپنی نمو پر ہوتا ہے ۔دوسرے ادیب کا خیال اس لئے صحیح ہے کہ ایک علامت جب وجود میں آجاتی ہے تو پھر دائرہ در دائرہ جدولی انداز میں جینے لگتی ہے ۔اور غلط اس لئے ہے کہ کل من علیہا فان۔ آخر کار جب اس کی ساری زر خیزی خصوصیات ختم ہوجاتی ہیں تو معاشیات کا اصول یہاں بھی لاگو ہوہی جاتا ہے اور وہ علامت از کار رفتہ ہوکر اپنی افادیت UTILITY کھودیتی ہے اور پھر شاعر کو لمبس کی طرح نئے خطہ، معنی کی تلاش میں نکلتا اور پیر تسمہ پا سے بچ بچ کر حیات گزارتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ خود مرجاتا ہے ۔
علامتیں کئی طرح کی ہوتی ہیں، مذہبی علامتیں جیسے
اس طرح پھانسیوں نے پکارا ہمیں کہ ہم
جیسے کوئی رسول تھے اہل کتاب تھے
(خورشید احمد جامی)
مہاجرین سے انصار خوش نہیں ہوتے
توپھر کہاں کی یہ ہجرت برا ہے بھارت کیا
(رؤف خیر)
عمیق حنفی کی پوری صلصلۃالجرس شاہد ہے
ہوا کہتی رہی آؤ
مگر میں خشک چھاگل اپنے دانتوں میں دبائے
پیاس کی برہم سپہ سے لڑ رہا تھا، میں کہاں جاتا
مجھے سورج کے رتھ سے آتشیں تیروں کا آنا
اور چھاگل سے ہمک کر آب کا گرنا
کسی بچے کا رونا اور پانی مانگنا بھولا نہیں تھا، میں کہاں جاتا
(ہوا کہتی رہی آؤ، وزیر آغا)
اور
نہیں مجھے نہ کھاؤ تم
ابھی نہ کھا سکوگے تم
یہ سانپ دیکھتے ہو کیا
تمہارے جسم و جاں میں کھارہا ہے بل
تمام دن تمام رات
وہ سانپ جس سے پہلی مرتبہ بہشت میں ملے تھے ہم
کبھی یہ اپنے زہر ہی میں جل کے خاک ہوگیا
کبھی یہ اپنے آپ کو نگل کے پاک ہوگیا
کبھی یہ اپ نے ہی آپ ہی میں سو گیا
(صداؤں کی آبنائے کے آر پار ، ن۔م۔ راشد)
اساطیری، تلمیحاتی اور دیومالائی علامتیں جہاں غیر ضروری اکتا دینے والی تشریحات سے شعر کوبچالیتی ہیں، وہیں شعر کے حسن کو بڑھا بھی دیتی ہیں۔
وہ اب کے آئے تو سچ ان کے ساتھ تھا لیکن
عجیب طرح کا بے درد سچ تھا کہتے تھے
تمہارا جھوٹ ہے ننگا یہی تو اک سچ ہے

وہ ہم سے صدیوں پرانا چراغ چھین گئے
نئے چراغ پرانے چراغ کے بدلے
وہ کاش اب کے بھی ایسا فریب دے جاتے
(نئے لوگ۔ عزیز قیسی)
یا پھر یہ اشعار
کبھی تو ساری تھکانوں کا یوں صلہ مل جائے
ہرن کی کھوج میں نکلوں شکنتلا مل جائے
(نجیب رامش)
اپنی ہی آرزوؤں کا مارا ہوا ہوںمیں
خود اپنے ہاتھیوں ہی کی روندی سپاہ ہوں
(بشر نواز)
کتنا آباد تھا ویرانہ دل
ہر کھدائی میں حویلی نکلی
(مضطر مجاز)
جدید شاعری میں علامتوں کے لئے رنگوں اور پرندوں کا استعمال بھی بڑے اچھے انداز میں کیا گیا ہے۔
کیا سر شام نہ لوٹوں گا نشیمن کی طرف
کیا اندھیرا ہو تو جگنوبھی بھٹک جاتا ہے
(شاذ تمکنت)
اس جسم سبز کے سورج کو روشن کرو
ہجر کی لمبی رات کی تاریکی بڑھنے لگی
(شہر یار)
شانتی کی دوکانیں کھولی ہیں
فاختائیں کہاں کی بھولی ہیں
کیسی چپ سادھ لی ہے کووں نے
جیسے بس کوئلیں ہی بولی ہیں
(محمد علوی)
آنکھوں میں شوروشر ہے بدن کے بسنت کا
میں وہ ہوں جس نے حسن کو دیکھا ہی زرد ہے
اٹھے اباس نواح سے کس طرح موج سبز
بہتا ہوا یہ خاک کا دریا ہی زرد ہے
ّ(ظفر اقبال)
ریاضی کی علامتیں بھی ادب میں بار پاسکتی ہیں، مگر سلیقہ ، اظہار شرط ہے، ورنہ کہاں ریاضی اور کہاں ادب۔ لیکن من موہن تلخ نے اپنی ایک نظم میں ریاضی کی علامتوں کا بڑا اچھا استعمال کیاہے ۔
خود کو میں سب سے بڑا مانتا ہوں
مجھے جمع مجھ میں کرو ، ضرب دو مجھ کو مجھ سے
تو دیکھو میں کتنا بڑا ہوں
مگر میں تو ڈر کے گلی میں کھڑا ہوں
مجھے لگ رہا ہے
میں ذاتوں کی تفریق و تقسیم کا ہوں وہ حاصل
کہ جو عمر کی طرح بڑھتے ہوئے گھٹ رہاہے
تعلق کا میں فارمولا ہوں شائد(کلوز اپ من موہن تلخ)
پاکستان کی ایک شاعرہ عذرا ساگر نے اعراب کو علامتی پیکر دے کر بڑی پیاری نظم کہی ہے ،میں زیر ہوں تو تو زبر۔
فلسفیانہ اور نفسیاتی علامتیںتو بے شمار ہیں کہ یہ میدان زیادہ وسیع ہے ۔ میں یہاں دواک مثالیں دے کر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔
میں حرف اثبات کا ہوں قاتل
نفی کا اظہار ہوں سزا دے
نہیں ہے اب کچھ بھی مثل دیوار
میں آر ہوں پار ہوں سزا دے
(بانی)
میں وہی دشت ہمیشہ کا ترسنے والا
تو مگر کونسا بادل ہے برسنے والا
(ساقی فاروقی)
اس تند سیاہی کے پگھلنے کی خبر دے
دے پہلی اذاں ، رات کے ڈھلنے کی خبر دے
(بانی)
ان تھکے ہارے پرندوں کا خیال آتا ہے
جو کسی بام پہ ناچار اتر پڑتے ہیں
(شاذ تمکنت)
بہر حال علامت کی خصوصیت یہی ہے کہ اس کی تمام خصوصیت کا احاطہ ناممکن ہے۔ یہ تو وہ ریگ نم ہے کہ جہاں کھودئے میٹھے پانی کا چشمہ نکل آتا ہے ۔

ماخوذ از کتاب:
خطِ خیر۔ از: رؤف خیر
ناشر: خیری پبلی کیشنز، گولکنڈہ، حیدرآباد۔ سن اشاعت: 1997۔

Symbolism in modern urdu poetry. Essay by: Dr. Rauf Khair

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں