اقبال اور نواب بہادر یار جنگ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-11-10

اقبال اور نواب بہادر یار جنگ

نواب بہادر یار جنگ ؒ شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے بڑے مداح تھے اور ان کے مرد مومن کی زندہ تفسیر بھی !اقبالؒ کو مولانا روم سے جو نسبت تھی نواب صاحب کا وہی تعلق اقبالؒ سے رہا۔ وہ پیر یہ مرید، وہ شہباز یہ شاہین۔ نواب صاحب اکثر کہا کرتے تھے "میرا رہنما اقبالؒ ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ نواب صاحب اپنی تقاریر میں سب سے زیادہ شاعر مشرق ہی کے اشعار استعمال کرتے تھے ۔ یہ استعمال اتنا برجستہ اور بر محل ہوتا کہ لگتا، اقبالؒ نے اسی موقع کے لئے شعر کہے تھے ۔ بعض دفعہ نواب صاحب پوری تقریر"اقبالی زبان" میں کر ڈالتے ۔ شاعر مشرق سے بے پناہ عشق ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کی زندگی میں پہلا "یومِ اقبالؒ" نواب صاحب اور ڈاکٹر لطیف کی تحریک پر حیدرآباد میں منایا گیا تھا۔
سچ یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کی فکر نے نواب صاحب کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی کوٹھی میں ہفتے میں ایک دن "درس اقبالؒ" کا سلسلہ شروع کردیا جو ان کی وفات تک جاری رہا۔ تاہم اس میں نواب صاحب درس نہیں دیتے تھے بلکہ معلمین کے فرائض ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، ڈاکٹر یوسف حسین خان اور پروفیسر غلام دستگیر رشید جیسے عالم فاضل انجام دیتے ۔ حیدرآباد کے معززین اور جامعہ عثمانیہ کے طلبہ متعلمین ہوتے ۔
اس محفل درس میں شاعر مشرق کا تقریبا سارا کلام سبقاً سبقاً پڑھا گیا ۔ پروفیسر رشید اشعار کے لغوی و لفظی معنی بیان کرتے، ڈاکٹر رضی اور ڈاکٹر یوسف ان کے مطالب کی توضیح کرتے۔ بعدکو زبان و بیان پر ردوقدح ہوتی اور شاعر مشرق کے فلسفہ و پیام کی تشریح کی جاتی ۔ آخر میں پھر نواب بہادر یار جنگ تقریر فرماتے۔ جب وہ بولتے تو حاضرین کا دل کہتا ؎
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
علامہ اقبالؒ کا ذکر اور نواب مرحوم کا بیان، اللہ اللہ ایک سماں بندھ جاتا ۔ ایک سحر تھا جو محفل برخاست ہونے کے بعد نہ ٹوٹتا۔ افسوس اس زمانے میں ریکارڈنگ کا کوئی بندوبست نہ تھا ورنہ اقبالیات کا ایک انمول خزانہ مدون ہوجاتا اور آج نئی نسل کی رہنمائی کرتا ۔ یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے کہ قدرت کی طرف سے نواب بہادر یار جنگ کو زندگی کے صرف انتالیس سال ملے لیکن انہوں نے اپنی اس مختصر زندگی میں مسلمان ہند کے لئے ایسی شاندار خدمات انجام دیں کہ ان کا نام نامی ہمیشہ زندہ رہے گا۔
نواب بہادر یار جنگ کا تعلق مسلمانوں سے تھا، اس لئے وہ سب میں رہے اور ہر فرقے کی محفل میں شریک ہوتے تھے ۔ وہ بنیادی طور پر خادم دین تھے ۔ وہ اس اسلام کی داعی تھے جو حجۃ الوداع کے دن اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا ۔ انہوں نے ذاتی طور پر کئی ہزار غیر مسلموں کو مسلمان کیا تھا لیکن انہیں صرف مسلم ہی بنایا، کسی فرقہ وارانہ عقیدے کی تعلیم نہیں دی۔
یہ حقیقت ہے کہ ان کے اجداد جب قصبہ بارہ بستی میں مقیم ہوئے تو وہاں مہدیوں کی اکثریت کے باعث خود بھی مہدی بن گئے ۔ اسی لئے نواب صاحب کے خصوصی اساتذہ بھی مہدی تھے ۔ شروع میں نواب صاحب اس مسلک پر کاربند رہے لیکن جب وہ ملت محمدیہ ﷺ کے غم خوار اور پر درد مبلغ، رضاکار، مصلح اور بالآخر قائد ملت کی صورت نمایاں ہوئے تو وہ فکروعمل کے اعتبار سے ہر قسم کی فرقہ واریت سے مبرا ہوگئے ۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی انفرادی اور مجلسی زندگی میں فرقہ وارانہ اثر کی معمولی سی جھلک بھی نہیں ملتی ۔ درحقیقت ان کی اس حریت پسندی کے باعث فرقہ مہدویہ کے علماء نے ان پر کفر کا فتوی لگا دیا مگر جس طرح امام غزالیؒ ، ابن تیمیہؒ اور دیگر مصلحین امت نے فتاویٰ کی پروا نہ کی ، اس طرح نواب بہادر یار جنگ بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور کفر کے فتوی کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔
جب کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ مہدی ہیں ؟ تو نواب صاحب جواب دیتے،"نہیں میں مسلمان ہوں۔"
اس سلسلے میں"مکاتیب بہادر یار جنگ"(شائع کردہ بہادر یار جنگ ؒ اکادمی) میں نواب صاحب کی تحریری شہادت تمام شکوک کا ازالہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔ مرحوم نے یہ خط ریاست حیدرآباد دکن کے ایک ممتاز وکیل سلطان احمد نقشبندی کے نام ۲۲ جنوری ۱۹۳۸ء کو تحریر فرمایا تھا ، گویا اپنی وفات سے ساڑھے چھ برس قبل ۔اس میں نواب صاحب نے واضح الفاظ میں لکھا ہے:
میرامسلک یہ ہے کہ (مذہبی) اختلافی مسائل پر گفتگو نہ کروں۔ اسلام پر ایسا عبوری دور پھر آگیا ہے جب کہ تمام مسائل سے قطع نظرکر کے"من قال لا الہ الا اللہ فدخل الجنہ" کے اعلان کی ضرورت ہے۔ شیعیت ، سلیت، بدعت ، وہابیت، احمدیت، مہدویت وغیرہ سب زمانہ امن کے لمحات فرصت کی پیداوار ہیں۔ آج جب کہ خانہ اسلام کے اطراف بارود بچھی ہوئی ہے اور شعلۂ کفر اس کو بھسم کرنے کی کی تیاری کررہا ہے میں کافی سمجھتا ہوں کہ لوگ سب کچھ چھوڑ کر صرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر جمع ہوجائیں۔



Iqbal and Nawab Bahadur Yar Jung.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں