میں لیڈر کیوں بنا - مولانا مودودی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-11-02

میں لیڈر کیوں بنا - مولانا مودودی

Monthly Alhasanat Yadgar-e-Maududi number
جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر کا ماحول بہت پر سکون سمجیدہ اور باوقار ہے ۔ چھوٹے سے خوبصورت لان کے ارد گرد سر سبز روشیں ہیں اور صحن میں گلاب کے پھول کھلنے لگے ہیں۔ ذیلدار پارک اچھرہ کی ایک مختصر سی خوبصورت کوٹھی میں جماعت اسلامی پاکستان کا دفتر ہے ۔ اسی میں ایک طرف نشر و اشاعت کا شعبہ ہے اور اسی کوٹھی کے چند کمروں میں جماعت اسلامی کے امیرمولانا ابوالاعلی مودودی رہا کرتے ہیں۔
چھوٹے سے بر آمدے میں چند کرسیاں سلیقے سے لگی ہوتی ہیں جن کے درمیان میں میز پر اخبار کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔ اس عمارت کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے ہی خود بخود کچھ ایسا احساس ہوتا ہے جیسے بورڈ لگا ہوا ہے کہ"یہاں بات کرنا منع ہے ۔" نشرواشاعت کے کمرے میں مجھے چند حضرات باتیں کرتے نظر آئے لیکن بہت آہستگی کے ساتھ، یہاں کی فضا کچھ مقدس سی ہے ۔
مولانا کے کمرے میں ان سے شرف نیاز حاصل ہوا کمرے میں دیواروں کے ساتھ ساتھ الماریوں میں کتابیں آراستہ ہیں اور ان کے بیچوں بیچ مولونا مودودی کی صاف ستھری میز ہے، جس پر لکھنے کے کاغذ اور قلم و دوات سے لے کر پن لگانے کا ڈبہ تک نفاست کے ساتھ رکھا رہتا ہے ۔ مولانا نے اپنے جانے پہچانے دل آویز تبسم کے ساتھ پذیرائی کی ۔ میرا ہمیشہ سے خیال ہے کہ اس کمرے کی آب و ہوا تمام پاکستان کی آب و ہوا سے مختلف ہے یہاں ہر موسم میں بڑی خوشگوار گی ہوتی ہے اور ماحول علمی و ادبی سا محسوس ہوتا ہے۔ کمرے میں ٹنکچر آئیوڈین قسم کی بو پھیلی ہوئی تھی ، یہ بو مولانا کی پنڈلی کی چوٹ سے آرہی تھی ۔ کچھ دن قبل لاہورسے قصور جاتے ہوئے موٹر الٹجانے کے باعث مولانا کی پنڈلی میں چوٹ آگئی تھی جو ان دنوں قریب قریب ٹھیک ہوچلی تھی ۔

پیشہ ورانہ سیاست
میرے اس سوال پر کہ آپ نے سیاست کیوں اختیار کی؟
مولانا مسکرا کر بولے: کیا سیاست بھی کوئی پیشہ ہے جسے اختیار کیاجائے ؟
میں نے عرض کیا: "آج کل تو اسے زیادہ تر اختیارہی کیاجاتا ہے اس سوال کا مطلب دراصل یہ ہے کہ آپ نے سیاسی زندگی کیوں اپنائی؟"
مولانا ایک تبسم کے ساتھ بولے:
"یہ تو پیشہ ورانہ سیاست ہے جسے لوگ ڈاکٹری، بیرسٹری یا اس قسم کے دوسرے پیشوں کی طرح اختیار کرلیتے ہیں ، آج کل سیاست کی یہ قسم عام ہے ابھی کچھ عرصہ کی بات ہے کہ میں عرصہ درازکے بعد اپنے ایک عزیز کے پاس گیا۔ وہاں میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ اپنے لڑکے کو کس طرف بھیج رہے ہیں؟
وہ سنجیدگی سے کہنے لگے: 'ایل ایل بی تو کر ہی آیا ہے اور اس نے پریکٹس بھی شروع کر دی ہے ، میں نے اس سے کہا ہے کہ اب اگر تم سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کردو تو تمہاری پریکٹس خاصی چل جائے گی اور نام بھی ہوجائے گا ۔ اس طرح بڑے لوگوں سے یاد اللہ بھی ہوسکتی ہے'۔ دراصل سیاست کو تو آج کل اوپر چڑھنے کا زینہ اور شہرت کا ہتھکنڈا بنالیا گیا ہے۔"
مولانا نے آگے چل کر فرمایا:
" میں نے سیاست اختیار نہیں کی۔ جو لوگ اپنا کوئی مقصد زندگی رکھتے ہیں وہ اجتماعی زندگی کے معاملات میں کچھ اختیار کرکے دلچسپی نہیں لیا کرتے ، بلکہ ان کے مقصد کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلہ سے دلچسپی لیں جس کا اثر ان کے مقصد پر موافق یا مخالف پڑتا ہو۔"
مولانا نے فرمایا:
"میں نے آج سے بیس بائیس برس پہلے اپنے مطالعہ اور غور و خوض کے نتیجے میں شعور ی طور پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ شعوری طور پر اسلام قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص محض نسلی مذہب پر اکتفا نہ کرے بلکہ جان بوجھ کر صدق دل سے یہ سمجھے کہ یہی راستہ حق کا ہے اور اسی میں فلاح ہے ۔ اس طرح کے"قبول اسلام" کے بعد لا محالہ میری زندگی کایہ مقصد بن گیاکہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کوشش کروں اور پھر اس نشاۃ ثانیہ کے لئے جس جس پہلو میں بھی کام کرنے کی ضرورت پیش آتی گئی ۔ میں اس کی طرف عین اپنے مقصد کے تقاضے سے توجہ کرتا چلا گیا ۔ اس کام کے لئے ضرورت تھی کہ علمی حیثیت سے اسلام کی اصل حقیقت کو غلط فہمیوں کے انبار سے نکال کر اصل رنگ میں پیش کیاجائے اور ان تمام نظاموں پر علمی تنقید کی جائے ۔ فکری اور عملی حیثیت سے دوسرے نظامات فکر و عمل کا جو اثر ہے اسے دور کیاجائے اس کے لئے یہ بھی ضرورت تھی کہ اسلام کو از سر نو غالب کرنے میں جو جو طاقتیں مزاحم ہیں انکی مزاحمت کو دور کیاجائے اس کے لئے یہ بھی ضرورت تھی کہ رائے عامہ کو صحی اسلامی نظام کے لئے تیار کیاجائے ۔ اس طرح یہ مختلف ضرورتیں جیسے جیسے محسوس ہوتی گئیں مجھے آپ سے آپ اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ کرنا پڑی بغیر اس کے کہ کسی روز بیٹھ کر میں ارادہ کرتا کہ مجھے فلاں چیز اختیار کرنی چاہئے ۔"
میں نے کہا:
" لیکن عام طور پر یہ خیال کیاجاتا ہے کہ دنیا میں سیاست سے زیادہ اہم بھی بعض مسائل ہیں جن کی طرف اولیں توجہ دی جانی چاہئے۔"
مولانا مجھے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے:
"اس معنی میں کہ جس پہلو کو بھی ہم چھوڑ دیں گے فکروعمل دونوں کا توازن بگڑ جائے گا کیوں کہ اسلام انسان کی پوری زندگی سے بحث کرتا ہے اور عملاً اس کا قیام اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ہر شعبہ زندگی کو پورے توازن کے ساتھ اس کے دائرہ عمل میں لایاجائے ۔ اس لئے ہم کسی پہلو کوبھی نظر اندازنہیں کرسکتے ۔"
میں نے پوچھا:
" لیکن مولانا! زیادہ تر سوال یہ کیاجاتا ہے کہ زندگی کے بعض شعبے سیاست کے مقابلے میں زیادہ اہم ہیں اور ان کی طرف توجہ دینا زیادہ ضروری ہے مثال کے طور پر لوگوں کی اخلاقی اور مذہبی اور معاشرتی اصلاح سے اگر لوگوں کو سمجھدار اور باعلم بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ مسائل کو زیادہ خوبی سے سمجھ سکتے ہیں چنانچہ یہی اعتراض کیاجاتا ہے کہ جماعت اسلامی نے پہلے سماجی اور مذہبی اصلاح کی طرف توجہ کیوں نہیں دی؟

زندگی کے غلط نظریے
مولانا مسکرائے اور کہنے لگے:
"میں اس بحث کو فضول سمجھتا ہوں کہ زندگی کا فلاں پہلو زیادہ اہم ہے یا کم اہم ہے اس قسم کی تقسیم وہی لوگ بیٹھ کر سوچا کرتے ہیں جو زندگی پر کوئی جامع نظر نہیں رکھتے ۔"
میں نے عرض کیا:" لیکن اس طرح عمل کیاجائے تو کاموں میں یک سوئی تو پیدا ہو سکتی ہے ۔"
مولانا نے فرمایا:
"یکسوئی اس صورت میں مفید ہوسکتی ہے جب کہ مختلف پہلوؤ ں کو مختلف گروہ ایک ہی مقصد سامنے رکھ کر اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ان کے درمیان اشتراک اور تعاون کی کوئی صورت موجود ہو تاکہ تعاون کے ساتھ کام کیاجاسکے ۔ اس وقت یہ ممکن ہے کہ کوئی گروہ کسی ایک شعبہ پر اپنی تمام قوتیں صرف کردے لیکن یہاں صورت کچھ انارکی کی سی ہے ۔ یعنی کوئی ایک مقصد موجود نہیں ہے مختلف مقاصد ہیں اور مختلف نظریے مختلف طریقہ ہائے کار اختیار کر کے لوگ زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں اور ناکام ہیں کیوں کہ اس طرح سے نہ تو کبھی زندگی میں ہمواری پیدا ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی مفید نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔"

سیاست کا مفہوم
میں نے دریافت کیا:
" آپ کی نظر میں سیاست کی تعریف کیا ہے اوراس کے متعلق آپ کس طرح سوچتے ہیں۔"
مولانا چند ثانیے سوچنے کے بعد بولے :
"سیاست سے مراد؟ ویسے تو سمجھئے کہ حکومت اور طاقت سے ملک کا انتظام کرنے کا نام سیاست ہے، لیکن اس کا جو وسیع تر مفہوم ہے اس کے اعتبار سے سیاست اجتماعی زندگی کا وہ شعبہ ہے جو سوسائٹی کو اقتدار کی طاقت سے اپنے راستے پر چلانے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی شخص جو کسی مخصوص نظریہ حیات پر ایمان رکھتا ہو اس سوال کو نظر انداز نہیں کرسکتا کہ جو سیاسی اقتدار سو سائٹی پر حاوی ہے آیا وہ اس کے نظریہ زندگی کا حامی ہے یا اس کا مخالف ہے؟ غیر جانب داری تو اس معاملہ میں ناممکن ہے اور اس کا ذکر ہی فضول ہے۔ اس بنا پرجو ہم نظریہ حیات رکھتے ہیں ۔ اسکے مطابق سیاست سے بے تعلق ہونا ہماری لئے ممکن نہیں ہے۔ ہمارے لئے ناگزیر ہے کہ اگر سیاسی اقتدار ہمارے نظریے کا حامی ہے تو ہم آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ بٹائیں تاکہ اس کی مدد سے زندگی کے تمام شعبوں کی اصلاح و تکمیل ہوسکے اور اگر وہ ہمارے نظریہ حیات کے مخالف ہے تو اس کو اپنی طرف مائل کرنے یا تبدیل کرادینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں"۔

ماخوذ از رسالہ : ماہنامہ الحسنات (رامپور ، انڈیا) [یادگار مودودی نمبر]
شمارہ: جنوری 1980

How I became a leader, Maudoodi. Interviewer: Ali Sufyaan Aafaqi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں