مضطر مجاز - دکن کے ممتاز شاعر ادیب محقق - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-10-19

مضطر مجاز - دکن کے ممتاز شاعر ادیب محقق

muztar-majaz
حیدرآباد دکن کے ممتاز شاعر، ادیب، محقق اور ماہر اقبالیات جناب مضطر مجاز کا آج جمعہ 19/اکتوبر 2018 کو بعمر 83 سال انتقال ہو گیا۔ نماز جنازہ ہفتہ 20/اکتوبر کو بعد نماز ظہر مسجد میر مومن سعیدآباد میں ادا کی جائے گی اور تدفین قبرستان احاطہ درگاہ حضرت اجالے شاہ صاحب میں عمل میں آئے گی۔

مضطر مجاز کا اصل نام سید غلام حسین رضوی تھا۔ ان کا تعلق بلند شہر (اترپردیش) کے ایک ذی علم سادات گھرانے سے تھا۔ تلاش معاش میں ان کے والد حیدرآباد دکن آئے تو یہیں ان کی پیدائش 13/فروری 1935 کو ہوئی۔ جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کے بعد وہ سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوئے اور 1993 میں اسپیشل کیڈر ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹیو کی حیثیت سے اپنی خدمات سے سبکدوش ہوئے۔
مضطر مجاز اردو کے علاوہ فارسی اور انگریزی زبانوں اور ادبیات سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ ہندی اور تلگو زبان و ادب سے بھی انہیں دلچسپی تھی۔ انہوں نے علامہ اقبال کے جس فارسی کلام کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا، ان میں 'جاوید نامہ' ، 'ارمغان حجاز' اور مثنوی 'پس چہ باید کرد اے اقوام' کا ترجمہ بہ عنوان "طلوع مشرق" اور 'پیام مشرق' کی رباعیات (لالۂ طور) شامل ہیں۔ یہ تراجم شائع ہو کر اہل علم سے خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں۔

مضطر مجاز نئے دور کے شاعر تھے۔ وہ جدیدیت کے دلداہ تھے لیکن ان کی تخلیقی فکر کی ایک خاص سمت تھی جو زندگی کو اعتماد اور توانائی عطا کرتی تھی۔ مضطر مجاز نے زندگی کے کرب اور آلام کو بھی اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری ان کی طرف دیکھتے ہوئے گھبرا کر منہ نہیں پھیرتا بلکہ جرات سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے۔ ان کے اظہار کرب میں امید کی رمق اور ایک طرح کی حس مزاح موجود تھی۔
مضطر مجاز، ہندوستان کے علاوہ لندن، نیویارک، شکاگو، لاس اینجلس اور امریکہ کی کئی دیگر ریاستوں کے بین الاقوامی مشاعروں میں اپنا کلام سنا کر خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں۔
مضطر مجاز کے کلام کے مجموعے "موسم سنگ" اور تراجم کلام اقبال میں "جاوید نامہ" اور "طلوع مشرق" کے خصوصی ایڈیشن علمی مجلس (لندن) نے بھی شائع کیے ہیں۔

اپنے شعری مجموعہ "موسم سنگ" کے دیباچہ میں مضطر مجاز لکھتے ہیں:
شعر گوئی میرے تجربے میں شعور اور لاشعور کے اسود و ابیض کے درمیان ایک جھٹپٹے کے سماں میں وقوع پذیر ہونے والا عمل ہے، نہ یہ نری آمد ہے نہ تمام تر آورد۔ شعوری عمل سے 'طلسم سخن آرائی' تو تعمیر کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ چیز جو پتھر کو بھی گداز کرے پیدا نہیں ہوتی۔ کلی طور پر نیم شعوری عمل شعر کو چیستاں بنا دیتا ہے۔ فرانسیسی علامتی شاعری اس کی بہترین مثال ہے۔ ہماری جدید شاعری کا بڑا حصہ بھی اسی قبیل میں آتا ہے۔
مجھے اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں نے کب، کہاں اور کیوں شعرگوئی شروع کی؟ البتہ میرے اوراقِ خود نوشتہ و کرم خوردہ میں 1951 تا 53 تک کی تحریریں ہاتھ آئی ہیں ، تاہم 58 سے 78 تک کا انتخاب ہی اس مجموعے میں شامل کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ابتدائی سات آٹھ سال مشق و مزاولت کی نذر ہوئے۔ اور اب اس کی حیثیت بےموسم کے ملہار کی بھی ہے۔ اس انتخاب میں 58 سے 68ء تک فی سال ایک نظم یا ایک غزل کے حساب سے تخلیقات کو شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے کڑا انتخاب بھی ممکن تھا لیکن اہل نظر جانتے ہیں کہ خود فنکار کے لیے یہ کتنا کٹھن مرحلہ ہے، لہذا اب جو کچھ سامنے ہے اسے بھگتئے اور خدا کا شکر ادا کیجیے کہ سارا رطب و یابس شامل ہو جاتا تو آپ شاعر کا کیا بگاڑ لیتے؟

سنا رہا ہوں سمندر لغاتِ شبنم میں
زبانِ ذرہ میں صحرا کی بات کرتا ہوں
کتابِ قطرہ کے اوراق چاٹنے والو !
میں کاوشِ دلِ دریا کی بات کرتا ہوں

مضطر مجاز کی شائع شدہ کتب:
موسم سنگ - 1979 (ریختہ پر مطالعہ : یہاں)
اک سخن اور - 1994 (ریختہ پر مطالعہ : یہاں)
نقش ہائے رنگ رنگ - 2004 (غالب کے منتخب فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ) (ریختہ پر مطالعہ : یہاں)

Biography of Muztar Majaz
Muztar Majaz, a renown poet of modernism from Hyderabad.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں