ادبی تحقیق کا طریقہ کار - یوسف سرمست - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-10-22

ادبی تحقیق کا طریقہ کار - یوسف سرمست

method-of-literary-research
سارے علوم کی ترقی تحقیق کی رہین منت ہے ۔ انسان نے آج جتنی بھی ترقی کی ہے وہ تحقیق کی بدولت ہے ۔ تحقیق جیسا کہ سب جانتے ہیں ۔ حقیقت کو معلوم کرنا حق کو جاننا اور سچائی تک پہنچناہے ۔فارسی میں تحقیق کے لئے "پژوہش" کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کھوج کرنے اور تلاش کرنے کے ہیں۔ جستجو کا لفظ بھی تحقیق کے لئے فارسی میں استعمال ہوتا ہے ۔ تحقیق کے لئے انگریزی میں ریسرچ کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے ۔ جس سے مراد صرف حقائق کا دریافت کرنا نہیں ہے یا حقائق کو جمع کردینا نہیں ہے ۔ بلکہ تحقیق کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ حقائق از سرے نو جائزہ لے کر نئے نتائج تک پہنچنے کی کوشش کی جائے ۔ کسی مسئلہ کا مطالعہ اور تجزیہ حقائق کی روشنی میں اس طرح کیاجائے کہ حل تک رسائی ہوسکے ۔ تحقیق میں بیشتر معلومات اور بکھرے ہوئے حقائق کی ترتیب اسی طرح سے کی جاتی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت ہوں ۔ یعنی نئے حقائق تک رسائی ہوسکے یا مسئلہ کا حل نکل آئے ۔
تحقیق اور تنقید ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں ۔ یہ الفاظ معنوی اعتبار سے ایک دوسرے کے اتنے ہی قریب ہیں جتنے عملی طور پر ہی۔ تحقیق کے معنی سچائی اور حقیقت تک پہنچنا ہے ۔ اس کے لئے جمع شدہ مواد کو پرکھنا ضروری ہے تاکہ اصل رسائی ہوسکے ۔تنقید کے معنی بھی پرکھناہے۔ لفظ نقد سے مشتق ہے نقد عام طور پر سکے یا CASH کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایران میں ٹکسال میں سکوں کو پرکھاجاتا تھا۔ تاکہ اصلی اور نقلی سکوں میں فرق کیاجاسکے۔ اسی لئے لفظ"نقد‘ ‘ پرکھنے کی منزل سے گزرتا ہوا خود سکوں کے لئے استعمال ہونے لگا ۔ تحقیق میں ہر قدم پر تنقید سے کام لینا ہوتا ہے ۔ جیسے تحقیق کا سب سے پہلا مرحلہ ، موضوع کے دائرہ کار کا انتخاب ہے یعنی نظم میں تحقیق کرنا مقصود ہے یا نثر میں نظم و نثر کا انتخاب کرنے کے بعد صنف کو منتخب کرناہوتا ہے ۔اس کے بعد اپنے لئے کسی خاص موضوع کاانتخاب ہے۔ موضوع لیتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ موضوع کیوں لیاجارہا ہے۔ اس پر کام کرنے کی کتنی ضرورت ہے اور کیوں ہے ۔ اس سے علم کا دائرہ کتنا وسیعہوگا ۔ جن موضوعات پربہت کام ہوچکا ہے اس میں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سا پہلو ہے جس پر مزید تحقیق کرنے کی گنجائش ہے پھر یہ کہ یہ موضوع محقق کے مزاج سے مطابقت بھی رکھتا ہے یا نہیں یوں موضوع کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر اسے اپنانا اچھے مقالے کے لئے ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں نگراں یا SUPERVISOR کا مکمل تعاون حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔
موضوع کا تعین ہونے کے بعد کسی مفروضے یا HYPOTHESIS قائم کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض محققین کے نزدیک ادبی تحقیق میں مفروضے کی ضرورت نہیں ہے یہ بات صحیح نہیں ہے۔ہر تحقیق کے سلسلے میں ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی مفروضہ قائم کرکے ہی تحقیق کی اگلی منزل طے کرتے ہیں۔ کچھ اور نہیں تو یہی مفرضہ پیش نظر ہوتا ہے کہ اردو پر اس موضوع پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس مفروضہ کو سامنے رکھ کر جب مطالعہ کیاجاتا ہے تو بعض وقت یہ انکشاف ہوتاہے کہ یہ اس موضوع پر کام کرنا غیر ضروری ہے۔ ایسی صورت میں موضوع بدلناہوگا ۔ یا یہ کہ میر تقی میر کی شاعری پر کام کرتے ہوئے یہ مفروضہ قائم کرلیں کہ وہ ہر لحاظ سے اردو کے عظیم شاعر ہیں ۔ اور جب مواد جمع کیاجائے اور مطالعہ کیاجائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غزل کے سوا دوسری اصناف میں ان کو وہ عظمت حاصل نہیں ہے جو دوسرے شاعر کو حاصل ہے ایسی صورت میں مفروضہ کو بدلنا پڑتا ہے ۔
کسی موضوع کا انتخاب کرنے کے بعد تیسرا مرحلہ ریسرش اسکالر کے لئے یہ ہوگا کہ وہ اس موضوع پر جتنا بھی اب تک کام ہوا ہے اس کا جائزہ لے ان تمام کتابوں کو دیکھے جو اس موضوع سے متعلق ہیں ۔ اور ایسی کتابوں کی فہرست یا کتابیات مرتب کرلینی چاہئے ۔ تاکہ اپنے موضوع سے متعلق اس کے سامنے سارا مواد رہے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو وہ خود بھی گمراہ ہوتا ہے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ادیب نے ایک موضوع پر ایک ضخیم مضمون لکھ دیا ہے ۔اس موضوع پر اس نے دو کتابیں جو عام طور پر کسی نے اس کو بتادی تھیں وہی پیش نظر رکھیں اور اپنا مضمون یا مقالہ ایک رسالے میں اشاعت کے لئے بھیج دیا ۔ یہ مضمون بڑے اہتمام سے شائع بھی ہوگیا لیکن اس پر بڑی کڑی تنقید ہوئی ۔ کیونکہ اسی موضوع پر بعد میں ایک ضخیم کتاب چائع شائع ہوئی تھی جس میں پچھلی کتابوں پر جو تحقیقی اور تاریخی کوتاہیاں تھیں ان کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس مقالے پر تنقید کرنے والے نے اس کتاب کے حوالے سے یہ بات ثابت کی کہ جو غلط فہمیاں عرصے سے چلی آرہی تھیں ان کو بعد میں شائع ہونے والی کتاب میں درست کیا گیا تھا۔چونکہ مضمون نگار نے وہ کتاب دیکھے بغیر ا پنامضمون لکھا تھا اس لئے وہ بے بنیاد باتیں جو دوسری کتابوں میں ملتی ہیں ان کو اس نے پھر دہرایا تھا ۔اسلئے جس موضوع پر کام کرنا ہواس پر اب تک جتنا بھی کا م ہوا ہے اس کا جائزہ لیناچاہئے۔
منتخبہ موضوع پر اب تک جو کچھ کام ہوا اس کا جائزہ لینے کا ایک اور زبردست فائدہ یہ ہے کہ اس موضوع پر کہاں کہاں سے مواد حاصل ہوسکتا ہے اس کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ اور مواد کی فراہمی میںبڑی مدد ملتی ہے ۔
تحقیقی مقالے کی چوتھی منزل خاکہ یا مقالہ بیک نظر SYNOPSIS ہے۔ SYN کے معنی ایک ساتھ کے ہیں اور OPSIS کے معنی دکھنا ہے۔ گویا SYNOPSIS یا خاکے میں پیش کردیتا ہے ۔ گویا یہ مقالے کی تلخیص ہوتی ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ مقالہ نگار کن خطوط پر تحقیق کرنا چاہتا ہے اس سے زبان و ادب کو کیافائدہ ہوگا یا موجودہ معلومات میں کیا اور کتنا اضافہ ہوگا اور یہ کہ مقالے کی ترتیب اور تنظیم کس طرح کی جائے گی۔ یہ ساری باتیں خاکے سے بیک نظر چوکہ معلوم ہوجاتی ہے اس لئے اسے SYNOPSIS کہاجاتا ہے۔
مواد جمع کرنے کے لئے سب سے اہم ذریعہ تو کتابیں ہوتی ہیں۔ جو اس موضوع پر لکھی ہوتی ہیں۔ پھر رسالے بھی مواد کا ایک اہم ماخذ ہوتے ہیں موضوع کی مناسبت سے شخصی انٹر ویو بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح خطوط سے لے کر کتبہ تک جہاں کہیں سے جتنا مواد حاصل ہو۔ تحقیق میں ان سب سے مدد لینی چاہئے ۔صرف موضوع سے متعلق ہی کتابوں کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ اس صنف پر لکھی گئی تمام اہم کتابوں کا مطالعہ اور ان سے مواد حاصل کرنا ضروری ہے ۔ مواد جمع کرتے ہوئے مصنف کا نام، کتاب کا نام، سنہ اشاعت اور مقام اشاعت کالکھ لینا ضروری ہے اس کے ساتھ کتب کا صفحہ نمبر بھی نوٹس میں درج ہونا چاہئے۔ اگر رسالے سے کوئی مواد لیاجارہا ہے یا اس کا حوالہ دیاجارہا ہے تو اس سلسلے میں مضمون نگار کا نام،مضمون کا عنوان، رسالے کا نام شمارہ نمبر اورجلد نمبر ، تاریخ اشاعت اور مقام اشاعت دینا ضروری ہے ۔ مواد جمع کرنے کے لئے اصلی ماخذ تک رسائی ضروری ہے ۔ ثانوی ماخذ پر بھروسہ مقالے کو غیر معتبر بنادیتا ہے جیسا کہ اوپر بتایاجاچکا ہے کہ مضمون نگار نے نہ صرف یہ کہ اس موضوع پر جتنا کام ہوا ہے اس کا مطالعہ نہیں کیا تھا بلکہ ثانوی ماخذ پر بھروسہ کرکے کسی کتاب کو مثال کے طورپر ناول کہہ دیا۔ اگر وہ اسی کتاب کو خود دیکھتا یعنی اصل ماخذ تک رسائی حاصل کرتا تو اسے معلوم ہوتا کہ وہ کتاب ناول نہیں بلکہ ڈراما ہے ۔
مواد جمع کرنے کے بعد مقالہ کی تسوید ہوتی ہے ۔ یعنی مقالہ لکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ مقالہ لکھنے سے پہلے اس کا خاکہ بنالینا ضروری ہے تاکہ حاصل شدہ مواد کی ترتیب و تنظیم کا لائحہ عمل پہلے سے تیار رہے ۔ مقالہ میں حاصل شدہ مواد کو ترتیب اور تنظیم کے ساتھ پیش کیاجاتا ہے ۔ جو بھی بات مقالہ میں کہی گئی ہو وہ مستند ہو یعنی اپنی کہی ہوئی بات کے لئے کسی کتاب یر رسالے یا جہاں کہیں سے مواد حاصل کیا گیا ہو اس کا حوالہ دینا ضروری ہے ۔ تحقیق اور دوسری تحریروں میں اہم فرق یہی ہوتا ہے کہ دوسری تحریر میں شخصی خیالوں اور تجربہ پر منحصر ہوتی ہیں۔ جب کہ تحقیق میں دوسرے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ تحقیق دوسروں کی معلومات اور خیالات کا مجموعہ ہوتی ہے بلکہ اس کے بر خلاف ان معلومات پر غوروفکر کرکے کوئی نئی بات یا تصویر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض وقت مروجہ خیالات یا معلومات کی نفی کرنے کے لئے بھی پہلے ان کو پیش کردیاجاتا ہے یا ان کا حوالہ دیاجاتا ہے اور پھر اس سوسلے میں تحقیق کے بعد جو نئی بات دریافت ہوتی ہے اس کو پیش کیاجاتا ہے ۔ بعض وقت نئی تحقیق شدہ معلومات تصورات کی تصدیق یا وضاحت کرنے کے لئے یا اپنی بات کو مدلل بنانے کے لئے بھی دوسروں سے اخذ کردہ معلومات کو پیش کیاجاتا ہے ۔ ان تمام باتوں کے لئے حوالہ دینا تحقیق میں لازمی اور ضروری ہے۔ مقالہ کی زبان اور انداز بیان سادہ ہو لیکن سپاٹ اوربے تکلف نہ ہو۔ بیان میں طوالت ہو نہ غیر متعلق یا غیر ضروری باتیں ہوں ۔
تحقیقی مقالے میں حاشیوں یا فٹ نوٹ کی بڑی اہمیت ہے ۔ وہ تمام باتیں جن کو متن میں بیان نہیں کیاجاسکتا حاشیے یا فٹ نوٹ میں دی جاتی ہیں ۔ کتابوں کے حوالے جن کی طرف سے اشارہ کیاگیا ہے ان کا اندراج حاشیے میں کیاجاتا ہے ۔
تحقیقی مقالے میں آخر میں کتابیات کا حصہ ہوتا ہے ۔ مقالے کی ابتداء سے پہلے بھی کتابیات کی اہمیت ہے اور مقالے کے اختتام پر ان کی فہرست دینا بے حد ضروری اور لازمی ہے۔ کتابیات کے بغیر مقالہ مکم ہوتا ہے نہ وہ تحقیقی مقالہ کہلا سکتا ہے ۔ کتابیات میں ان سارے مصنفین اور کتابوں کی فہرست حرف تہجی کے لحاظ سے دی جاتی ہے جن سے استفادہ کیاگیا ہے اور جن کے حوالے دئے گئے ہیں۔ کتابیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ محقق کا مطالعہ کیسا اور کتنا ہے ۔ کتابیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع پر اب تک کتنا کام ہوچکا ہے ۔ اور یہ کہ مقالہ نگار نے اس موضوع پر کتنا اور کیسا کام کیا ہے ۔ کونسی نئی معلومات فراہم کیں ہیں اور ان میں کیا اضافہ کیا ہے ۔ بعض مقالہ نگار اور خاص طور پر ان کے نگران تحقیقی مقالے کے بنیادی مطالبات اور ضرورتوں کو نہیں جانتے ۔ اسی وجہ سے وہ صرف انہی کتابوں کا حوالہ دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ جو کہ انہوں نے اقتباس لیا ہے ۔ حالانکہ اس موضوع پر جو بھی کام ہوا ہے اس کا حوالہ، کتابیات میں دینا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اس موضوع پر کون سے نئے گوشے دریافت کئے گئے ہیں یا نئی معلومات فراہم کی گئی ہے۔ اس لئے کتابیات کی تیاری میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ کتابیات کو ایک نظر دیکھنے سے مقالے میں پیش کردہ مواد کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔

ماخوذ از کتاب:
تحقیق و تنقید۔ مصنف: یوسف سرمست
اشاعت اول: مارچ 1999۔ ناشر: آل انڈیا اردو ریسرچ اسکالرس کونسل

The method of Literary research. Article: Yousuf Sarmast.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں