حفظ قرآن کا سیٹ اپ اور ادارے - کچھ تجاویز - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-09-14

حفظ قرآن کا سیٹ اپ اور ادارے - کچھ تجاویز

hifz-e-quran-course
حفظ قرآن کا بہترین سیٹ اپ: چند تجاویز
---------------------------------
جب سے بچوں کو حفظ میں ڈالا ہے تو یہ احساس شدت پکڑ گیا ہے کہ ہمارے معاشرے حفظ کے اچھے اداروں سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حفظ کے روایتی اداروں یعنی دینی مدارس میں اصل مسئلہ مار کٹائی کا ہے کہ قاری صاحب مار نہیں بلکہ بری مار مارنے سے باز نہیں آتے اور اب ماحول بہت تبدیل ہو چکا ہے کہ والدین میں مار کٹائی کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رہ گیا ہے اور نہ ہی بچوں کو مار کر پڑھانا کوئی ثواب کا کام ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

ایسے حالات میں پاکستان میں حفظ قرآن کے کچھ نئے ادارے وجود میں آئے جیسے اقراء، روضۃ الاطفال وغیرہ اور پھر کئی ایک اسلامی اسکولز نے بھی حفظ کے سیٹ اپ بنائے جیسا کہ دار ارقم وغیرہ۔ مجھے حفظ کے قدیم اور جدید کافی سارے سیٹ اپ دیکھنے کا موقع ملا، بلکہ اپنے اسکول میں بھی شروع کیا ہوا تھا جو کہ اب ختم کر دیا ہے۔ بچوں کو مدرسہ میں بھی ڈالا اور اب اقراء کی ایک شاخ میں زیر تعلیم ہیں۔

حفظ کے جدید اداروں یعنی اسکولز وغیرہ کا اصل مسئلہ اوقات کار کا ہے کہ کم اوقات کی وجہ سے بچوں کو منزلیں بالکل یاد نہیں رہتیں۔ عام طور بچے صبح سات بجے اسکول جاتے ہیں اور دو بجے واپس آ جاتے ہیں۔ درمیان میں بریک اور نماز کا وقفہ بھی ہوتا ہے۔ اگر بریک اور نماز ظہر کا وقفہ نکال دیں تو اس طرح بچوں کو مسلسل چھ گھنٹے پڑھنے کا وقت ملتا ہے جو کہ حفظ کے لیے کافی کم وقت ہے۔ ایسے میں بچوں کے والدین شام کو گھر پر ٹیوشن والے قاری صاحب رکھ لیتے ہیں جو کہ مزید پانچ جگہ ٹیوشن پڑھا رہے ہوتے ہیں کہ ان کی بھی معاشی مجبوری ہے لہذا وہ صرف آنے اور جانے کی کرتے ہیں۔

حفظ کے اوقات کار کے اعتبار سے بہترین سیٹ اپ روایتی مدارس کا ہے جس میں ہاسٹل میں رہنے والے بچے تو صبح نماز فجر سے آدھ گھنٹہ پہلے بیدار ہو جاتے ہیں جبکہ شہری بچے صبح فجر کی نماز مسجد میں جا کر پڑھتے ہیں۔ اب فجر کے بعد بچے سب سے پہلے تو نیا سبق سناتے ہیں جو انہوں نے کل لیا تھا۔ اس کے بعد رات کو جو منزل یاد کی تھی، وہ سناتے ہیں۔ اس کے بعد سبقی پارہ کھڑے ہو کر دہراتے ہیں۔ اس کے بعد قاری صاحب سے نیا سبق لے کر یاد کرتے ہیں۔ درمیان میں ناشتے کا وقفہ ہوتا ہے اور یہ سیشن گیارہ بجے آف ہو جاتا ہے۔

درمیان میں بچے ڈیڑھ دو گھنٹہ لازماً آرام کریں، لنچ کریں اور ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد عصر تک پھر دوسرا سیشن ہو۔ اس میں بچے صبح کا لیا ہوا سبق آدھ پون گھنٹے میں یاد کر کے سنائیں۔ اس کے بعد سبقی سنائیں جو کہ سات اسباق پر مشتمل ہو۔ اس کے بعد اگر وقت ہو تو بچے قاری صاحب کو اپنے ایک دو پارہ منزل کا امتحان دیں۔ یہ سیشن عصر کی نماز کے ساتھ ختم ہو جائے۔ عصر سے مغرب بچوں کو کھیلنے کا وقت دیں۔ اس کے بعد مغرب سے عشاء کلاس ہو۔ اس میں بچے منزل یاد کریں جو انہوں نے صبح سنانی ہے۔ اگر کسی بچے کو منزل یاد نہ ہو تو اسے عشاء کے بعد بھی آدھ پون گھنٹہ بٹھایا جائے۔ اس سسٹم میں ایک بچہ ایک دن میں حفظ کو تقریبا دس گھنٹے دیتا ہے جو کہ بہت ہی مناسب وقت ہے۔

کرنے کا کام یہ ہے کہ حفظ کے جدید ادارے مثلا اسکولز وغیرہ اس سیٹ اپ کے مطابق حفظ کروانے کے پروگرام تشکیل دیں بلکہ کچھ اسکولز ایسے ہونے چاہییں جو صرف حفظ کروانے کے لیے ہی مخصوص ہوں مثلاً حفاظ اسکول سسٹم وغیرہ۔ اور ان اسکولز میں شہری بچوں کو اس ترتیب کے مطابق حفظ کروایا جائے تو یہ بہترین بزنس بھی ہے اور نیکی بھی۔ باقی شہری بچوں کے لنچ اور کھانے کی ذمہ داری یا تو اسکول کا میس لے لے یا پھر خود والدین پہنچا دیا کریں۔

حفظ قرآن کے ادارے: چند تجاویز
---------------------------------
1- حفظ قرآن کا بہترین ادارہ مسجد ہے۔ اس لیے آپ نے اگر حفظ قرآن کا کوئی اچھا ادارہ کھولنا ہے تو بہتر ہے کہ مسجد میں کھولیں۔ اس کے کئی ایک فوائد ہیں جیسا کہ بچے کا مسجد سے ایک نفیساتی اور معاشرتی تعلق قائم ہو گا، باجماعت نماز کی عادت پڑے گی، مسجد آنے جانے کی عادت پڑے گی، بہت سے اخراجات مثلاً بلڈنگ وغیرہ کی بچت ہو گی، مسجد کے بابرکت ماحول کے اثرات ہوں گے، مسجد کا کشادہ ہال مل جائے گا کہ اس کے بھی اثرات ہوتے ہیں کہ تنگ جگہ سے ذہن میں بھی تنگی پیدا ہوتی ہے وغیرہ۔
اگر آپ کے پاس مسجد نہیں ہے تو کسی مسجد والوں سے رابطہ کر کے ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیں جیسا کہ آپ حفظ کے بچوں سے فیس لیں گے اور اس کے بدلے قاری صاحب کو معقول تنخواہ دیں گے اور بجلی وغیرہ کا مناسب بل ادا کریں گے۔ اگر مسجد میں ممکن نہ ہو تو پھر اسکول یا کسی دوسری بلڈنگ میں شروع کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جگہ کھلی ہو اور صاف ستھری ہو۔ حفظ کے بعض جدید اداروں میں تھوڑی سی جگہ پر زیادہ بچوں کا داخلہ کر لیا جاتا ہے کہ جس سے ماحول میں بہت گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہ گھٹن بچوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

2- حفظ قرآن کے لیے بہترین اوقات کار حفظ کے روایتی نظام یعنی مدرسہ کے ہیں۔ فجر کی نماز باجماعت سے لے کر صبح گیارہ بجے تک، پھر ظہر سے عصر تک، اور اس کے بعد مغرب سے عشاء تک۔ اگر ان اوقات کی پابندی ممکن نہ ہو تو پھر کچھ ایسی ترتیب ہو کہ نماز کا وقفہ اور لنچ بریک وغیرہ نکال کر روزانہ کی بنیاد پر بچے کو آٹھ گھنٹے پڑھائی کا موقع مل جائے۔ اس سے کم وقت دینے میں منزل کی پختگی کے مسائل پیدا ہوں گے یا حفظ کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔

3- حفظ کے ساتھ اسکول کی تعلیم کو جمع نہ کیا جائے اگرچہ پہلے پانچ پاروں میں چونکہ منزل زیادہ نہیں ہوتی ہے لہذا اسکول کی تعلیم کو جمع کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔

4- حفظ میں چھٹیاں بہت نقصان دہ ہیں، عید وغیرہ کے موقع پر بھی دو یا تین سے زیادہ چھٹیاں نہ ہوں۔ عموماً ہفتہ دس دن کی چھٹیوں سے بچے بہت کچھ بھلا کر واپس آتے ہیں کہ جسے دوبارہ یاد کرنے میں اور ان کا ٹمپو بننے میں کافی وقت ضائع ہوتا ہے۔

5- قاری صاحب کو کلاس میں اسمارٹ فون لانے کی کسی بھی صورت اجازت نہ دی جائے۔

6- قاری صاحب کو معقول اور مناسب تنخواہ دی جائے تا کہ وہ ٹیوشن وغیرہ کے چکر میں پڑ کر اصل کلاس پر توجہ نہ کھو بیٹھیں۔

7- بچوں کے قاری صاحب تبدیل نہ ہوں کہ اس سے بھی بہت نقصان ہوتا ہے لہذا کوئی بڑا اور سیریس ایشو ہو تو قاری صاحب تبدیل کیے جائیں۔

8- مسجد اور مدرسہ کے نظام میں والدین کو بچوں کے حفظ پر توجہ کی عموماً ضرورت نہیں پڑتی ہے لیکن اسکول کے حفظ کی ترتیب میں کم اوقات ہونے کی وجہ سے والدین کی توجہ بہت ضروری ہے بلکہ گھر میں بچوں کو سبق یاد کروانے کی ذمہ داری وغیرہ بھی والدین پر پڑ جاتی ہے۔ اس کا لحاظ رہے۔

9- دس پارے منزل ہونے کے بعد دو دو بچوں کو مغرب کے بعد نوافل میں ایک دوسرے کو منزل سنانے کے لیے کھڑا کرنا چاہیے۔

10- لائق بچہ ایک سال میں، اوسط درجہ کا بچہ ڈیڑھ سال میں اور کمزور بچہ دو سال میں حفظ کر سکتا ہے۔

11- حفظ مکمل ہونے کے بعد بچہ چار ماہ میں لازماً گردان نکالے اور تین سال لازماً مصلی سنائے۔

12- حفظ کی بہترین عمر آٹھ سے دس سال ہے اور اس سے بڑی عمر میں بچے میں بغاوت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ اس سے چھوٹی عمر میں یاد کرنے کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد حفظ کی بہترین عمر سترہ سال کی ہے جو کہ شعور کی عمر ہے۔

13- حفظ کے ادارے میں ایک کلاس بڑی عمر کے بچوں کے حفظ کے لیے ضرور رکھیں۔

14- حفظ کے ادارے میں ایک کلاس ان بڑوں کے لیے ضرور رکھیں جو اپنا بھولا ہوا حفظ ریوائز کرنا چاہتے ہوں۔

15- ہر بچہ حفظ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے کروانا چاہیے لہذا تیسویں پارے کا حفظ کسی بھی بچے کے لیے بطور ٹیسٹ مقرر کرنا چاہیے کہ وہ حفظ کر سکتا ہے یا نہیں۔

16- ادارے میں مار کٹائی کی بالکل اجازت نہ ہو لیکن بچوں کو مار پڑنے کا ڈر ہو تو اس میں حرج نہیں ہے بلکہ ایسے ڈر اور خوف میں ان کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔

17- حفظ کے لیے بچوں میں ترغیب اور تشویق کا نظام قائم کیا جائے مثلا انہیں حفظ کرنے کے فضائل کی احادیث سنائی جائیں۔ انہیں اچھا سبق، سبقی یا منزل سنانے پر چھوٹا موٹا انعام دے دیا جائے۔

18- حفظ کی ایک کلاس میں بیس سے زیادہ بچے نہ ہوں۔

***
اسسٹنٹ پروفیسر، کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور
mzubair[@]ciitlahore.edu.pk
فیس بک : Hm Zubair
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

Hifz-e-Quran course and organizations, some useful ideas. Article: Dr. Hafiz Md. Zubair

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں