اردو کے اولین افسانے اور ان کے پیش رو - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-09-27

اردو کے اولین افسانے اور ان کے پیش رو

urdu-afsana
عام طور پر یونان سر زمین عرب ایشیائے کوچک اور ہندوستان کو زمانہ قدیم سے قصے کہانیوں کا سر چشمہ کہا گیا ہے ۔ ماہرین نے یہ بھی مانا ہے کہ عہد قبل مسیح سے کہانیاں اور قصے ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرتے رہے ہیں۔ مختلف خطوں کے جغرافیائی حالات اور تہذیب کے اثر سے قصوں میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کے بنیادی محرک یا MOTIF میں بہت کم تصرف ہوا ۔ مثلاً عقل و دانش یا اخلاق او رسیاست کی تعلیم یا عزت نفس کی حفاظت وغیرہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعدبھی یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ قصے کہانیوں کی اختراع میں ہندوستانی ذہن اور تخیل نسبتاً زیادہ زرخیز ، تیز اور متحرک رہا ہے ۔ اور قصہ گوئی یا قصہ نگاری کی روایت میں یہاں ایک تسلسل بھی ملتا ہے ۔ موٹے طور پر ان قصوں کو دو حصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے ۔ اولاً طویل قصہ در قصہ ایسی داستانیں یا رزمیے جن میں فوق الفطری مخلوق دیو، پری ، جن جادوگر اور شعبدے باز اہم کرداروں میں نظر آتے ہیں ، دوئم حکایت نما، ایسے مختصر اور اکہرے قصے جن میں روز مرہ کی انسانی زندگی ، انسانی کردار یا پھر انسانوں جیسی سوچ ، جذبات اور رویے رکھنے والے حیوانی کردار امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مغرب میں فکشن کی اقسام اور ان کی پہچان کچھ الگ ہے ۔ موخر الذکر مختصر قصوں میں پنچ تنتر ،جاتک، کلیلہ و دمنہ اور سنگھاسن ہیتی جیسی کہانیاں ہمیشہ سے مقبول عام رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ بالواسطہ یعنی فارسی سے آئی ہیں۔ پھر یہ بھی سچ ہے کہ آواگوان کے عقیدہ کی وجہ سے انسان اور حیوان ایک دوسرے کے جون میں آتے جاتے رہتے ہیں اس لئے ان گنت قصوں میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان رابطہ INTERACTION بھی خوب رہتا ہے ۔ مغرب کے اکثر قصوں میں حیوان حیوان بنے رہتے ہیں، جب کہ ہماری کہانیوں کے حیوانی کردار زیرک، سمجھدار اور انسانی حسن و قبح سے متصف ہوتے ہیں ۔ لیکن رزمیہ قصوں مثلاً رامائن کے کردار اپنی جسمانی ساخت اور سیرت میں انسان اور حیوان کا مرکب بھی ہوتے ہیں۔
الغرض ہماری افسانوی دنیا کا یہی وہ ماحول تھا جب انیسویں صدی میں ہم مغربی فکشن کے نمونوں سے آشنا ہونا شروع ہوئے ۔ اور بتدریج مغربی تعلیم، زبان اور تہذیب کے اثر سے ہمارے افسانوی ادب میں نئے حقیقت پسندانہ اور نئی تکنیک کے قصے نہ صرف لکھے جانے لگے بلکہ تیزی سے مقبولیت بھی حاصل کرنے لگے ۔

یہ سوال تو اہم لیکن اس وقت اس پر گفتگو کا موقع نہیں کہ گزشتہ دیڑھ سو سال کے عرصہ میں ہمارے یہاں مغربی ناول اور فکشن کی دوسری اصناف کے مقابلہ میں مختصر افسانہ کو غیر معمولی مقبولیت کیوں حاصل رہی؟ اور اس کی فنی تعمیر میں تنوع اور تکمیل کے اتنے پہلو کیونکر پیدا ہوئے؟
کچھ عرصے پہلے یہ بحث گرم رہی کہ ارود میں پہلا مختصر افسانہ کب اور کس نے لکھا؟ ظاہر ہے کہ جب بحث شروع ہوئی تو اس میں حصہ لی نے والوں کے ذہن میں افسانہ یا مختصر افسانہ کا ایک تصور ضرور موجود ہوگا ۔ یعنی فکشن کی ایک ایسی صنف جو قدیم یا متداول قصے کہانیوں یا حکایتوں سے الگ اپنی ایک پہچان رکھتی ہے ۔ جس کا فن مغرب سے لیا گیا ہے ۔ ماہنامہ"افسانہ" لاہور نے اپریل1933ء کے شمارہ میں ( یہ ماہنامہ آسکر وائلڈ، چیخوف، ترگنیف اور جیمس جوائس جیسے مغربی ادیبوں کے افسانوں کے مستند ترجمے شائع کرتا تھا، افسانہ کی تعریف کے ذیل میں کہا گیا ہے۔۔۔
" وہ مختصر ڈرامائی قصہ جو واحد و معین اثر پیدا کرے۔۔۔ وحدت تاثیر کو ڈرامائی تاثیر پر سبقت حاصل ہے۔۔۔۔ جس میں ایک ہی مرکزی کردار ایک ہی ممتاز واقعہ ایک ہی نازک موقع SITUATION ایک ہی ماحول اور ایک ہی جذبہ سے بحث ہونی چاہئے۔"
ص 37۔

یہ تعریف کسی طرح جامع تو نہیں ۔ لیکن اس میں ایک الگ اور آزاد صنف کی حیثیت سے افسانہ کی کچھ امتیازی صفات کا احاطہ ضرور کیا گیا ہے ۔ تو آئیے اس کی روشنی میں پہلے افسانہ کی بحث کا خلاصہ کرلیں ۔
1۔ ہندی ماہنامہ "ساریکا" بمبئی کے اگست 1976ء کے شمارہ میں ڈاکٹر صادق نے سرسید احمد خاں کے مضمون 'گزرا ہوا زمانہ' کو اردو کا پہلا افسانہ قرار دیا تھا۔ بعد میں نومبر1976ء میں یہی کہانی انہوں نے اسی نوٹ کے ساتھ 'آج کل' میں شائع کرائی ۔ کچھ سنجیدہ قارئین نے 'ساریکا' اور ہماری زبان وغیرہ میں اس پر یہ اعتراض کئے کہ یہ افسانہ کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔ یہ ایک مقصد خاص کے تحت لکھا گیا ۔ آدھا مضمون آدھی کہانی جیسا ہے ۔ اصلاحی رنگ غالب ہے۔ خود سرسید نے اسے افسانہ سمجھ کر نہیں لکھا ۔ یہ تحریر یا مضمون 31 مارچ 1873ء کے "تہذیب الاخلاق" میں شائع ہوا تھا۔ حقیقت میں اس مضمون میں تمثیل، انشائیہ اور افسانہ تینوں کے عناصر موجود ہیں۔

2۔ پاکستان میں ڈاکٹر مسعود رضا خاکی اور ڈاکٹر انوار احمد کے افسانہ کے ارتقا پر، پی ایچ ڈی کے لئے لکھے دو مقالے شائع ہوئے ۔ ان دونوں حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ اردو کا پہلا افسانہ راشد الخیری نے لکھا جو "مخزن " میں "نصیر اور خدیجہ" کے عنوان سے دسمبر1903 ء کے شمارہ میں شائع ہوا ۔ انوار احمد لکھتے ہیں۔
"زمانی اعتبار سے یہ افسانہ راشد الخیری کو اپنے معاصر افسانہ نگاروں (پریم چند سجاد حیدر یلدرم) پر فوقیت دیتا ہے ۔"
ص43، اردو افسانہ تحقیق و تنقید

3۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے اپنے مقالے "اردو کا پہلا افسانہ نگار ایک تعارف" (مطبوعہ فنون لاہور، سالنامہ1991ء) میں اردو کے پہلے مطبوعہ افسانہ کو لے کر تاریخی اور فنی زاویہ نظر سے خاصی بحث کی ہے ۔ یہی مضمون کچھ اختصار کے ساتھ 7جنوری1994ء کے روزنامہ"ہاٹ لائن" لاہور میں شائع ہوا ۔ انہوں نے بھی راشد الخیری کے مذکورہ افسانہ کو اردو کا پہلا طبع زاد افسانہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ افسانہ مصنف کے مجموعہ "مسلی ہوئی پتیاں" میں 1937ء میں "بڑی بہن کا خط" کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔
مرزا حامد بیگ سرسید کے مضمون "گزرا ہوا زمانہ" کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
"یہ تحریر اپنے آغاز میں یقیناً افسانہ کہلانے کی مستحق ہے اور بنت کے حوالے سے اس تحریر میں شعور کی رو کا استعمال بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اس تحریر کا وسط اور اختتامیہ اسے واضح طور پر ایک اصلاحی مضمون بنا دیتا ہے ۔ آغاز تمثیلی رنگ لئے ہوئے ہے ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی کے ظاہر ہوتے ہی سرسید احمد خاں کی اصلاح پسندی اس افسانوی آغاز کو اصلاحی مضمون کی طرف کھینچ لے جاتی ہے جب کہ تحریر کا خاتمہ تو ہے ہی اصلاحی مضمون کا۔۔۔ اس میں زیادہ سے زیادہ تمثیل یا حکایت کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ گزرا ہوا زمانہ ، ان کی واحد تحریر ہے جو افسانہ بنتے بنتے رہ گئی۔
ص127-128، فنون

یہاں ڈاکٹر حامد بیگ کے کئی نکات پر گفتگو ہو سکتی ہے ۔ مثلاً یہ کہ اس تحریر کا شعور کی رو کی جدید ٹیکنک سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ پھر یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر افسانہ یا افسانہ نما تحریر میں دوسرے اجزائے فنی موجود ہیں تو کیا محض اصلاحی زاویہ نظر کی وجہ سے وہ افسانہ تسلیم نہیں کیا جائے گا؟ اگر اسے مان لیا جائے تو پریم چند ، سلطان حیدر جوش اور راشد الخیری سے عہد حاضر تک کے بے شمار افسانہ نگاروں کی تحریریں بھی افسانہ کے دائرہ سے خارج سمجھی جائیں گی ۔ البتہ اس تحریر یعنی 'گزرا ہوا زمانہ' کے آخر میں سرسید نے ڈھائی سطروں میں پیارے ہم وطنوں کو جو نصیحت کی ہے وہ افسانے کے تاثر کو مجروح ضرور کرتی ہے ۔

مرزا حامد بیگ روزنامہ ہاٹ لائن (7جنوری 1994ء) میں لکھتے ہیں۔
( یہ تحریر فنون والے مضمون سے ہی ماخوذ لگتی ہے)
"تاریخی اعتبار سے اردو میں طبع زاد افسانے کا آغاز درج ذیل طریق پر ہوا ۔
1۔ افسانہ نصیر اور خدیجہ از راشد الخیری (مطبوعہ مخزن لاہور، دسمبر1903ء)
2۔ افسانہ دوست کا خط ، از سجاد حیدر یلدرم ( مطبوعہ مخزن لاہور، دسمبر1906ء)
3۔ افسانہ "افسانہ غربت و وطن" از سجاد حیدر یلدرم (مطبوعہ اردوئے معلّی، علیگڑھ اکتوبر1906ء)
4۔ افسانہ نابینا بیوی، از سلطان حیدر جوش(مطبوعہ مخزن لاہور، دسمبر1907ء)
5۔ افسانہ عشق دنیا اور حب وطن، از پریم چند (مطبوعہ زمانہ کانپور اپریل1908ء)

بظاہر اردو کے طبع زاد افسانوں کی یہ ترتیب تاریخی ہے ۔ لیکن خدا جانے کیوں ترتیب میں مرزا حامد بیگ نے یلدرم کے اکتوبر1906ء میں شائع ہونے والے افسانہ کو دسمبر1906ء میں شائع ہونے والے افسانہ پر موخر کر دیا ہے ۔

4۔ مظہر امام نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ کتاب نما ستمبر1992ء میں ایک ذیلی عنوان اردو کا پہلا افسانہ نگار میں پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم کے مقابلہ میں علی محمود کی اولیت پر زور دیا ہے ۔ لکھتے ہیں۔
"پریم چند سے پہلے اور یلدرم کے آس پاس1904ء میں مخزن لاہور کے جنوری اور اپریل کے شماروں میں بالترتیب علی محمود کے دو افسانے "چھاؤں" اور "ایک پرانی دیوار" شائع ہوئے۔ چھاؤں میں افسانویت کم اور انشائیہ کے لوازم زیادہ ہیں لیکن ایک پرانی دیوار میں افسانویت پوری طرح نمایاں ہے۔
ص18

مظہر امام کاخیال صحیح ہے ۔ ایک پرانی دیوار میں افسانہ کے بیشتر عناصر موجود ہیں ۔ مجموعی تاثر بھی تیکھا ہے ۔ فضا آفرینی بھی خوب ہے ۔ کہانی کا خاص کردار جو راوی ہے اس پرانی دیوار کے حوالے سے اپنے لڑکپن کی کہانی بیان کرتا ہے لیکن آخر میں دیوار بھی راوی کو ایک نصیحت کرتی ہے ۔ کہ بیٹا! ہم کو جب اس جگہ پر کھڑا نہ پاؤ اور اس کے عوض میں میرا ڈھیر ہوتو نادانوں کی طرح سے ہم پر ہوکر گزر نہ جانا۔ میں تو نہ رہوں گی لیکن عبرت کو چھوڑے جاتی ہوں اس سے بے رخی نہ کرنا۔"
ص37

دراصل کوئی ربع صدی قبل راقم الحروف نے بہار کے دوادیبوں علی محمود اور سید محمد علی شکیل کے چند افسانوں کی نشان دہی کی تھی۔ افسوس ہے کہ ان خلاق ادیبوں کی صرف چند کہانیاں ہی ملتی ہیں ۔ بیسویں صدی کے پہلے دہے کے بعد شاید انہوں نے لکھنا ترک کردیا۔
اس سے پہلے کہ ہم افسانہ کے سفر کے حوالے سے آگے بڑھیں یہاں چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے ۔

ناول ہو، افسانہ ہو، نظم جدید ہو یا نثر ، ونظم کی دوسری اصناف جو انگریزی زبان و ادب کے اثر سے انیسویں صدی میں اردو میں متعارف ہوئیں ان کا صنفی ارتقا اس شکل میں ہر گز ہوا جو انگریزی میں تھا۔ ہمارے ادب کی روایات ہماری تہذیب کے عوامل اور ہمارے عصری تقاضے تواتر کے ساتھ ان کی صورت گری پر اثر انداز ہوتے رہے۔ ہماری تصویر پرستی(آدرش واد) ہمارے اخلاقی نظریات ، صوفی سنتوں کی تعلیمات ، نظام قدرت سے وابستگی اور اس کی جانب رویہ جو مغرب سے مختلف تھا، مذہبی حسیت ، معاشرہ کی ذات پات میں تقسیم اور آویزش ہمارا اساطیری سرمایہ اور سب سے بڑھ کر قصہ گڑھنے اور کہانی کہنے کی مخصوص مہارت۔ یہ سب ہمارے افسانوی ادب کی تشکیل اور اس کے روپ رنگ پر اثر انداز ہوتے رہے۔ اس کی نشان دہی نذیر احمد، رتن ناتھ سر شار اور پریم چند سے لے کر انتظار حسین اور صلاح الدین پرویز تک کی تخلیقات میں کی جاسکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے کہ جس نے انتظار حسین کو بدھ دھرم کی جاتک کتھاؤں کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور کیا۔
" یہ جاتک کتھا کوئی لمبی کتھا نہیں ہے۔ مہاتما بدھ لمبی کہانی کے قائل نہیں تھے ۔ ان کا آرٹ افسانے کا آرٹ ہے۔ اور اب مجھے پچھتاوا ہورہا ہے کہ میں اردو کے نقادوں نیز افسانہ نگاروں کے بہکائے میں آکر مارا گیا اور ایک زمانہ تک موپساںِ کو مختصر افسانہ نگاروں کا بے تاج بادشاہ سمجھتا رہا۔
شب خون مئی1996ء

(انتظار حسین نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ "کچھوے" "پتے" اور "واپس" جیسی کہانیوں پر بودھ جاتکوں کی بھرپور گرفت موجود ہے۔)
دوسری بات یہ ہے کہ مختصر افسانہ کا فارم مغرب میں متعارف ضرور ہوا لیکن یہ کوئی قدیم کلاسیکی صنف نہیں ہے ۔ صنعتی انقلاب کی روشنی مغرب کے معاشرہ میں جیسے جیسے پھیلنا شروع ہوئی ادب میں حقیقت پسندی کے رجحانات بھی پنپنے لگے ۔ اس کے ساتھ جمہوری فکر بھی طلوع ہوئی ۔ متوسط اور نئے محنت کش طبقہ کی زندگی اور ان کے مسائل بھی ادب میں اپنی جگہ مانگنے لگے ۔ پریس کی آزادی کے ساتھ رسائل اور اخبارات نکلنا شروع ہوئے تو ان کا پیٹ بھرنے کے لئے اور قارئین کی دلچسپی اور ذوق ادب کی تسکین کی خاطر مختصر کہانیاں لکھی جانے لگیں ۔ ایسی کہانیاں جن کی واقفیت زندگی سے تراشی ہوئی ایک قاش لگتی تھی۔ اور اس صحافتی صنف کو جب کچھ بڑے اور تخلیقی ذہانت رکھنے والے ادیبوں نے ہاتھ لگایا تو اس کی تراش میں زیادہ صناعی، مہارت اور تاثیر پیدا ہوگئی۔

مغربی نقاد اس کا سہرا امریکی ادیب ایڈگر ایلن پو کے سر باندھتے ہیں کہ سب سے پہلے اس نے مختصر افسانہ کا ادبی اور فنی روپ نکھارا اور اس کی ایک تعریف بھی متعین کی ۔ لیکن دوسرے ناقدین اس حقیقت پسندانہ افسانوی صنف کی اختراع کو روسی ادیب نکولائی گوگول سے منسوب کرتے ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ دونوں ایک ہی سال یعنی1809ء میں پیدا ہوئے ۔ اگرچہ پوگوگول سے تین سال قبل دنیا سے رخصت ہوگیا۔ روسی ادب میں افسانہ کو فروغ دینے میں گو گول، گورکی، ٹالسٹائی ، ترگنیف اور چیخوف نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ گور کا یہ قول مشہور ہے ( جسے کچھ لوگ دوستووسکی سے بھی منسوب کرتے ہیں)

"We all spring from Gogol's overcoat"
ہم سب گوگول کے اوور کوٹ سے جمے ہیں۔

پو کی کہانیاں فنی تراش اور تکمیل کا نمونہ ہیں ۔ لیکن چونکہ اس کی زندگی کا بڑا حصہ مفلوج حالت میں گزرا اور عام انسانی زندگی سے اس کا رابطہ کم رہا اس لئے اس کی ان گنت کہانیوں میں اسراری، جاسوسی اور خوف انگیزی Horror کے عناصر بھی ملتے ہیں جب کہ گوگول کی کہانیوں سے روسنی ادب میں سماجی حقیقت نگاری کی عظیم روایت کی تعمیر ہوئی ۔
میں ادب میں اولیت وغیرہ کا زیادہ قائل نہیں ہوں لیکن آئیے ایک نظر دیکھیں کہ ادب میں افسانہ کے فارم کو رواج دینے میں امریکہ اور روس کہاں کھڑے ہیں؟

1957ء میں Wallace & Mary Stagner کی ایک کتاب Great American Short Storiesنیویارک سے شائع ہوئی ۔ اس کے پیش لفظ میں کہا گیا:

"A century and a quarter ago on January 14, 1832 E.A Poe published in the 'Philadelphia Saturday Courier' The Story 'Melzengersteen' in which he utllized for the first time the technique of the "Single effect" up on which the modern short story has been built." P-3

ظاہر ہے کہ یہ بیان عالمی سطح پر مختصر افسانہ کی صنف کے آغاز اور نشوونما کے سلسلے میں ایک اہم دعوے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن کہانی میں یہی وحدت تاثر جو جدید مختصر افسانہ کی شناخت بنی، گوگول کے اسی عہد کے افسانوں میں بھی نظر آتی ہے ۔ روسی ادب کے مورخوں نے لکھا ہے کہ1930ء سے1936ء تک گوگول کے افسانوں کے تین مجموعے شائع ہوئے ۔
1۔ Evenings on a farm near Dikanka
2۔ "Mirgorad" Ukrainian stories
3۔ Petersberg Stories

ان مجموعوں میں The Overcoat جیسی شاہکار کہانی کے علاوہ The Nose, The portrait, Carriage اور A Madam's Diary جیسی اعلی اور حقیقت پسندانہ کہانیاں شامل ہیں۔ یہ افسانے عینیت پسندی اور روناوی فکر و احساس سے عاری سماجی حقیقت نگاری کا ایک نیا تصور پیش کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر افسانے تاثر کی وحدت کے آئینہ دار ہیں۔ انیسویں صدی کے وسطی عہد میں فرانس میں اور پھر انگلستان میں بھی مختصر افسانے کی روایت پروان چڑھی۔ لیکن اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں کہ ہمارا موضوع "اردو زبان میں مختصر افسانے کے ابتدائی نمونے" ہے۔

اس سلسلہ میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ امریکہ ہو، روس ہو، فرانس ہو ، حقیقت پسندانہ اور اعلی معیار کے افسانوں کی تخلیق سے پہلے ایک عبوری دور بھی گزرا ہے ۔ جب داستانی طرز کے قصے پڑھنے والے قارئین کی دلچسپی اور توجہ ایسے لٹریچر کی طرف مبذول ہوئی جس میں عام انسان یا فرد کی زندگی کے واقعات کا بیان تھا۔ نموپذیر صنعتی معاشرہ میں اس عام انسان کا بدلتا کردار، اس کے عزائم، جدو جہد، کشمکش اور بدلتے سماجی رشتے مرکزی حیثیت اختیار کررہے تھے ۔ اس صورتحال کی ترجمانی کے لئے سوانح عمریاں، خاکے، سفر نامے ، روزنامچے، خطوط اور انشائیے کثرت سے لکھے جارہے تھے اور مقبول ہورہے تھے ۔ اخبارات و رسائل میں ان کو خاص جگہ دی جاتی تھی ۔ اس لئے کہ اس آئینہ میں ایک عام انسان کے خوابوں، خواہشوں الجھنوں اور اس کو پیش آنے والے حالات و حوادث کی بڑی بے لاگ تصویریں دکھائی دیتی تھیں۔ اسی کے ساتھ ایسے قصے بھی لکھے جارہے تھے جن میں خیالی دنیا کے بجائے گردوپیش کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کا گہرا رنگ نمایاں تھا۔

اردو میں بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں اور خصوصاً 1835ء میں پریس کی آزادی کے ساتھ جو اخبارات و رسائل شائع ہونا شروع ہوئے اور جو کتابیں طبع ہوئیں ان میں مذکورہ بالا موضوعات اور عصر زندگی کے حالات کا احاطہ کرنے والی تحریریں زیادہ تھیں۔ قصے کہانیوں میں بھی حقیقت پسندی کا رنگ گہرا ہورہا تھا ۔ یہ سلسلہ1857ء کے بعد بھی جاری رہا۔ یہی وہ ماحول تھا جس کے زیر ا ثر اس عہد کے قلم کاروں کو ناول اور افسانہ لکھنے کی تحریک اور ترغیب ہوئی اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ۔
1836ء سے دلی میں اردو کے اخبارات شائع ہونے لگے ۔ دہلی اردو اخبار۔ سراج الاخبار، اور سید الاخبار سب اسی زمانے میں نکلے۔ دہلی اردو اخبار کے مدیر مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولانا محمد باقر تھے ۔ اخبار میں ملک کے مختلف علاقوں اور بیرون ملک سے ملنے والی خبریں شائع ہوتی تھیں۔ جرائم کی خبروں کو کہانیوں کے دلچسپ انداز میں اور نمایاں طور پر دیاجاتاتھا ۔15اگست1841ء کے اخبار میں قمار بازی کے جرم میں مرزا غالب کی گرفتاری کی خبر بھی تفصیل سے شائع ہوئی۔ ان خبروں سے سماجی اور انسانی وقوعوں میں قارئین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ایسی دلچسپی جو ناول اور افسانہ کی مقبولیت کا سبب ہوئی۔ یہاں نمونے کے طور پر یکشنبہ 12اگست1840ء کے دہلی اردو اخبار کی صرف ایک خبر پیش کر رہا ہوں۔

کلکتہ
"وہاں کے اخبار سے واضح ہوتا ہے کہ مسٹرس مینی نام ایک بی بی قوم انگریز مع اپنی بیٹی کے کہ عمر اوس کی قریب پندرہ یا سولہ برس کے ہے، قریب جنرل اسپتال کے رہتی تھی۔ عرصہ ڈیڑھ مہینے کا ہو ا کہ ایک روز شام کے وقت مس مینی بیٹی مسٹرس مذکور کی تنہا طرف انسین اسپتال کے کسی اپنی دوست کے پاس جاتی تھی، یہ ہنوز تھوڑی دور ہی گئی تھی کہ ایک خدمت گار معہ ایک پالکی کے آیا اور اس سے کہا کہ تمہاری ماں تمہیں جلدی بلاتی ہیں اور تمہارے واسطے یہ پالکی بھیجی ہے۔ مس مذکورہ اوس پر سوار ہوئی ، بے خبر اس بات سے کہ پالکی کدھر لے جاتے ہیں، جب تک ایک مقام پر جہاں کہ کوئی آتا جاتا نہ تھا انہوں نے پالکی رکھ دی اور یہاں سے اوے پالکی پر سے اتار کے ایک گاڑی پر سوار کیا اور گاڑی ہانک دی ، اور جب یہ چلانے لگی تو ایک انگریز ولنز نامی اور دو چار ہندوستانیوں نے اوس کا گلا گھوٹ کے چلانے سے باز رکھا ۔ الغرض مس مذکور کو ایک زمیندار کے یہاں لے گئے جو کہ بہت دولت مند اور مسلمان ہے اور مقام سیال راہ میں رہتا ہے اور ایک مہینے تک اسے وہاں رکھا ، آخر کار حال کھل گیا اور معلوم ہوا کہ بباعث فتنہ انگیزی بی بی گماشتہ اسپتال کے جو کہ مسٹرس مذکور کی ہمسایہ تھی یہ حال واقع ہوا ہے اور دو خط بھی اسی مضمون اور سازش کے نکلے ۔ ایک تو صاف یہی لکھا ہوا تھا کہ آج مس معلومہ فلانی جگہ جاوے گی اگر تم سے ہوسکے تو راہ میں سے لے جاؤ۔"
ص190 ، دہلی اردو اخبار مطبوعہ شعبہ اردو دہلی، یونیورسٹی1972ء

ایک انگریز دوشیزہ کا سر شام نکلنا۔ ایک انگریز اور کچھ ہندوستانی غنڈوں کا پیچھا کرکے اسے اغوا کرنا، اسے ایک امیر مسلمان زمیندار کے گھر لے جانا۔ وہاں اس کا ایک ماہ تک رہنا۔ آخر میں راز فاش ہونا اور اس جرم میں اسپتال کی ایک خاتون کا رکن کا ملوث ہونا۔ خبر میں ان سارے واقعات کی ترتیب میں تحیر خیزی کی کیفیت ہے ۔ ایک کلائمکس بھی بنتی ہے۔ الغرض اس طرح کی بے شمار کہانیاں اس عہد کے اخبارات میں شائع ہو رہی تھیں۔

یہی حال سفرناموں، خود نوشتوں ، مکاتیب اور دوسری ایسی تحریروں کا ہے جن میں سماجی اور انسانی رشتوں کی صورت حال کو دلچسپ پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ یوسف خاں کمبل پوش کا سفر نامہ " عجائبات فرنگ" معمولی وقفہ سے دوبار شائع ہوا ۔ شرر کے دلگداز میں مختلف لوگوں کے لکھے ہوئے سفر نامے اکثر شائع ہوتے تھے چند اس طرح ہیں۔
1۔ اٹلی کی مختصر سیر، جلد6نمبر4 1898ء
2۔ سوئٹزر لینڈ، جلد6نمبر5 1898ء
3۔ سیر ایران، اکتوبر1904ء
4۔ روما کے تماشے، اکتوبر1904ء
5۔ چند دن ترکوں میں، نومبر1904ء
6۔ دو ہفتے سیاحت میں، مارچ1905ء

انیسویں صدی کے آغا ز میں انگریزی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں شائع ہونے والی ایسی تحریریں حقیقت پسند افسانوں کی پیش رو کہلائیں۔ اب ان کی تفصیل کے بجائے میں چند ایسے افسانوں یا افسانہ نما تحریروں کی نشان دہی کی کوشش کروں گا جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے ابتدا میں شائع ہورہی تھیں۔
ان تحریروں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1۔ دوسری زبانوں سے ترجمے۔
2 تمثیلی افسانے
3۔ مختصر قصے
4۔ مختصر افسانے (یا جدید افسانہ سے قریب تر افسانے)

یہاں یہ عرض کردوں کہ اگر آج کے دور میں لکھے ہوئے تجریدی اور علامتی افسانوں کو افسانہ کا نام دیاجاسکتا ہے تو ایسی مختصر تمثیلی کہانیوں کو بھی مختصر افسانہ کا نام دینا غلط نہیں ہوگا جن میں ہم عصرزندگی کے مسائل کو حقیقت پسندانہ اور عقلی نقطہ نظر سے پیش کیا گیا ہواور جن میں افسانہ کی ٹیکنک کا شائبہ بھی موجود ہو ۔ اسی طرح اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ترجمہ تو ترجمہ ہے خواہ آزاد ہو یا لفظی ۔ لیکن اگر کوئی ادیب کسی غیر ملکی افسانوی تخلیق سے متاثرinspireہوکر یا اس کے مرکزی خیالMolifکو اخذ کرکے اسے ایک نیا تخلیقی قالب دیتا ہے تو اسے ترجمہ کے بجائے طبع زاد تحریر کے ذیل میں ہی رکھنا چاہئے ۔ ہمارے شعرائے متقدمین اور متوسطین نے فارسی کے بے شمار اشعار کے خیال یا مضامی کو اردو کے تخلیقی روپ میں ڈھال دیا۔(اگر یہ روایت صحیح ہے تو دلی کے شاہ گلشن نے دلی کو مشورہ ہی یہ دیا تھا) اس لئے یہ غیر منطقی بات ہوگی اگر ابتدائی دور کے افسانوں یا انشائیوں میں اس عمل کی کڑی گرفت کی جائے ۔ دنیا کی تمام زبانوں میں اسی لین دین سے تنوع اور تمول پیدا ہوا ہے ۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ترجمے بھی تخلیق کی طرح موثر اور خوبصور ت ہوتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال محمد حسین آزاد کی نیرنگ خیال ہے ۔ ڈاکٹر صادق کی تحقیق کے مطابق اس کے تمام تمثیلی قصے جانسن ااین اور دوسرے ادیبوں کی تحریروں کے ترجمے ہیں۔
گارسال دتاسی نے5دسمبر1864ء کے خطبہ میں لکھا ہے کہ یورپین مصنفین بھی اردو میں افسانے لکھ رہے ہیں اس نے ایک افسانے داستان جمیلہ خاتون کا ذکرتفصیل سے کیا ہے اور لکھا ہے کہ اگرچہ مصنف نے نام ظاہر نہیں کیا لیکن یہ مسٹر ایم۔ کیمبسن صوبہ شمال مغرب کے ڈائریکٹر تعلیمات کی تصنیف ہے ۔ اس میں کا شغر کے ایک نوجوان نوشہ کے عشق کا بیان ہے جو شیراز کی امیر زادی جمیلہ سے محبت کرتا ہے بقول دتاسی اس قصے کا مقصد نوجوانوں میں نیکی اور فرض شناسی کا شوق پیدا کرنا ہے ۔

جہاں تک ترجموں کا تعلق ہے ، ماہنامہ دلگداز، لکھنو اودھ اخبار۔۔ لکھنو بیسویں صدی لاہور معارف اور خاتون علی گڑھ زمانہ کانپور، رکن ریویو حیدرآباداور مخزن لاہور میں کثرت سے شائع ہوتے رہے ۔ معارف میں صرف سجاد حیدر یلدرم ہی نہیں ترکی زبان سے عزیزالرحمن عزیز اور مولوی عبدالعلی کے ترجمے بھی شائع ہوئے ۔ پندرہ روزہ بیسویں صدی کے ہر شمارے میں مختصر افسانے اور قسط وار ناول شائع ہوتے رہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اصل مصنف یا مترجم کا نام شاذو نادر ہی دیاجاتا تھا۔ فکشن کے بارے میں بعض سنجیدہ مضامین بھی اس کی زینت ہوتے تھے۔ مثلا15مئی1901ء کے شمارہ میں کونٹ ٹالسٹائی پر ایک مضمون مع تصویروں کے شائع ہوا ہے ۔ جس میں اس کے فن کا موازنہ زولا اور ابسن کے قصوں سے کیا گیا ہے۔ یہ زمانہ ایسا تھا کہ اشرافیہ میں قصے کہانی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اس لئے دکن رویو کے اڈیٹر ظفر علی خان جنوری1904ء کے اداریہ میں لکھتے ہیں۔
"ناول اور افسانے جن کو ہمارے ملک کے لکھے پڑھوں کے طبقہ اعلیٰ میں اس قدر برا سمجھاجاتا ہے فی نفسہہ ایسے قابل مذمت نہیں ہوتے بلکہ اگر انصاف سے دیکھاجائے تو تہذیب نفس اور تعلیم اخلاق کا سب سے زیادہ پسند ۔۔۔ ذریعہ ہے۔"
گارساں دتاسی نے اپنے خطبات میں ایسے ان گنت قصوں کا ذکر کیا ہے بلکہ ان کی فہرست دی ہے جو1854ء سے پہلے اردو میں شائع ہوئے ۔ان میں گولڈ اسمتھ ، ڈیفواور ینین مصنف Pilgrims progress کا ذکر بھی ہے۔ مناسب ہوگا کہ میں ترجموں سے صرف نظر کروں۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ جس پر سنجیدگی سے تحقیق کی ضرورت ہے ۔ مغربی افسانوں کے علاوہ اس دور میں بنکم چندر چٹر جی اور ٹیگور کے افسانوں کے ترجمے بھی اردو میں شائع ہورہے تھے جو فنی اعتبار سے زیادہ ترشے ہوئے تھے ۔ اردو افسانہ پر ان کا اثر بھی تھا۔

اسی لئے پریم چند نے لکھا ہے کہ انہیں افسانہ لکھنے کی تحریک ٹیگور کے مختصر افسانے پڑھ کر ہوئی ۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ بھی مناسب ہوگا کہ پنجاب اور بنگال میں سر گرم مسیحی مشنریاں اردو میں کثرت سے ایسے قصے شائع کررہی تھیں جو عام انسانوں کی زندگی اور ان کے دکھ درد سے تعلق رکھتے تھے جو روز مرہ کی زبان میں تھے ۔ اور جن کا مقصد مسیحی عقائد کی تبلیغ تھا ۔ راقم الحروف نے ڈاکٹر یوسف مسیح خاں مرحوم، جنہوں نے عصمت چغتائی پر ڈاکٹریٹ کیاتھاکہ امداد سے ایسے متعدد افسانے جمع کوئے ہیں۔ تاہم ان کہانیوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔

گارسال دتاسی نے1854ء کے خطبہ میں دھرم سنگھ اور سورج پور کی کہانیوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کا ترجمہ فارسی میں بھی ہوچکا ہے ۔ یہ طبع زاد اور حقیقت پسندانہ کہانیاں ہیں۔ میرے پیش نظر اس کا مئی1898ء کا نولکشور کا اڈیشن ہے ۔ اس کے مصف چرنی لال ہیں جو ڈائرکٹر آف پبلک انسٹرکشن کے سر رشتہ دار تھے ۔ قیاس غالب ہے کہ وہ انگریزی ضرور جانتے ہوں گے ۔ اور انگریزی کے حقیقت پسندانہ افسانے ان کی نظر سے گزرے ہوں گے ۔
یہ کتابچہ ڈھائی تین صفحات کے مختصر افسانوں پر مشتمل ہے ۔ ان کا باہمی تعلق صرف اتنا ہے کہ ان کے ہیرو کا نام دھرم سنگھ ہے یعنی اس کا کردار مشترک ہے ۔ اور وہ اپنے نام کی رعایت سے دھرم نیکی اور ایمانداری میں یقین رکھتا ہے۔ لیکن ان تینوں کہانیوں کے واقعات الگ الگ ہیں اور وہ اپنے آپ میں مکمل ہیں۔ پہلی کہانی کچھ اس طرح ہے۔
پھول پور گاؤں کا ٹھاکر بڑا مفسد اور ظالم ہے ۔ اس کے ظلم سے تنگ آکر رعیت دوسرے گاؤں میں جابستی ہے ۔ اس سے ملحق ٹھاکر دھرم سنگھ کا گاؤں ہنس پور ہے دونوں کی حدیں ملتی ہیں لیکن حدیں مٹ چکی ہیں صرف پیپل کا ایک پرانا پیڑ ہے جس کی سیدھ میں ایک طرف پھول پور ہے اور دوسری جانب سو ہنس پور۔ اسی سرحد ے ملا دھرم سنگھ کا کھیت ہے ۔ تنازعہ کھیت کی مینڈھ ھپر ہوتا ہے۔ سوہن اہیر جب اس کھیت میں جتائی کرنے جاتا ہے، پھول پور کے لوگوں نے دیکھا تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی بولے۔"
"جو پھر کبھی تو یہ کھیت جوتنے آوے گا تو مارے لٹھوں کے تیرے ہاتھ پاؤں نرم کردیئے جائیں گے ۔ اب تو م وہن اہیر چلایا اور چلیو چلیو پکارتا ہوا بھاگا۔" چوپال میں پٹواری شوبرن داس بھی بیٹھا تھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ کاغذات میں کچھ ہیرا پھیری کرکے ٹھاکر سے بدلا لیاجائے کچھ لوگوں نے طیش میں آکر لٹھ بازی کا مشورہ بھی دیا ۔ لیکن دھرم داس تیار نہ ہوا ۔ اس نے مقدمہ دائر کردیااور آخر میں کامیاب ہوا۔

دوسری کہانی میں دھرم داس اپنی لڑکیوں کی شادی کے لئے ساہوکار سے قرضہ لے کر اس جال میں پھنس جاتا ہے ۔ زمین گروی رکھ دیتا ہے۔ کچھ سال بڑی مصیبتوں میں گزارتا ہے ۔ لیکن دوستوں کے مشورے کے باوجود وہ جعلسازی نہیں کرتا۔ آخر زمین چھڑا لیتا ہے ۔
تیسری کہانی میں دھرم سنگھ گاؤں کے ایک پٹی دار کی موت کے بعد اس کے یتیم بچے بلونت کو نہ صرف پالتا ہے بلکہ تعلیم بھی دلواتا ہے اور دوسرے پٹی دار وں کی نیت خراب ہونے کے باوجود اس یتیم کے حصہ کی رقم کو ساہو کار کے پاس جمع کرتا رہتا ہے ۔ بلونت سنگھ جوان ہوکر اس کا احسان مانتا ہے اور ہمیشہ اسے اپنا مربی سمجھتا ہے ۔
تینوں کہانیوں میں دھرم سنگھ کی نیک نفسی ایمان داری اور صلح جوئی کے اوصاف کو ابھارا گیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ فوق الفطرت کرداروں، دیوؤں، پریوں، اور طلسمات کے قصوں کے زمانہ میں گاؤں کی روز مرہ کی زندگی کے واقعات کو ان کہانیوں کا موضوع بنایا گیا ۔ انسانی کرداروں کے عمل اور ان کے باہمی رشتوں سے کہانی کا تانا بانا بنا گیا۔
نیکی اور بدی کی یہ کشمکش اس عہد کی تمثیلیوں میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ خط تقدیر ، تو خیر کریم الدین کا ایک طویل تمثیلی قصہ ہے ۔ اس دور میں چھوٹے تمثیلی افسانے بھی کثرت سے لکھے گئے ۔ دتاسی 4دسمبر1865ء کے خطبہ میں لکھتا ہے ۔
"الہ آباد کے اخبار امین الاخبا رکے مدیر نے جن کا نام عزیز الدین خان ہے پلگرمس پراگرس کے طرز پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "جواہر اصل" رکھا ہے۔
دتاسی کو کچھ غلط فہمی ہوئی ۔ اس کتاب کا نام جواہر اصل نہیں بلکہ جوہر عقل تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کے مصنف کا تعلق الہ آباد سے نہیں بلکہ پنجاب سے تھا۔ ان کا اصل نام منشی عزیز الدین تھا۔ اس تمثیل کی کہانی زیادہ مربوط ہے ۔ اس کے کردار صدق، کذب، شیطان اور دیگر تمثیلی ضرور ہیں لیکن اس کے واقعات اس عہد کی معاشرتی زندگی اور اس کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہی ں ۔ خصوصاً توہم پرستی اور مکروفریب سے کرشمے دکھا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے والوں کی قلعی کھولی گئی ہے ۔
عبدالحلیم شرر نے دلگداز میں ایسے ان گنت تمثیلی افسانے شائع کئے جن میں اس عہد کی حسیت، عقلیت اور مسائل کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔
مثلا اپریل1887ء کے شماروں میں ایک تمثیل ہے ۔
"زمانے کا تھیٹر" جو سات صفحات پر مشتمل ہے ۔ لکھتے ہیں باغ خیال کی گل چینی میں مشغول تھے یکایک ایک تھیٹر کا عالم نظر آیا۔ ایک قدرتی سامان نے متحیر کردیا۔ دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ زمانہ اسٹیج منیجر ہے اور گزشتہ سچے سچے واقعات دکھائے جاتے ہیں۔ گھنٹی بجی اور پردہ اٹھا لق و دق بیابان اور خودروجنگل نظر کے سامنے آگئے۔"
تمثیل میں بربریت کے دور سے انیسویں صدی تک انسانی تہذیب کے ارتقا کے مراحل دکھائے گئے ہیں اسی طرح محمد حسین آزاد کے رنگ میں باغ آرزو مئی1887 کامیابی جولائی1887ء اور عمر رفتہ، فروری1889 جیسے تمثیلی افسانے شائع ہوئے۔ آخر الذکر میں عصری معنویت کے ساتھ افسانویت کے عناصر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

شرر نے دلگداز میں انیسویں صدی کی نویں دہائی میں کچھ رومانی اور حقیقت پسندانہ افسانے بھی شائع کئے ۔ ان میں درج ذیل افسانوں کی نقول میرے پاس محفوظ ہیں۔
1۔ جاہلیت کا شجاعانہ عشق جولائی1889ء
2۔ اے بسا آرزو کے خاکہ شدہ ، مصنف سید محمد علی شکیل جنوری1889ء
3۔ مسافران عدم۔ مصنف سید محمد علی شکیل اکتوبر1888ء

پہلا افسانہ عرب کی تاریخ سے ماخوذ ہے اور بے حد موثر ہے ۔ دوسرا اذیت ناک یادوں اور محرومیوں سے بھرا ہوا ایک رومانی قصہ ہے لیکن ماحول حقیقت پسندانہ ہے۔ اس خیال کو کہ انسان بے شمار حسرتیں دل میں لے کر اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے چند واقعاتی تصویروں کے ذریعہ دکھایا گیا ہے ۔
بعض دوسرے رسائل مثلاً معارف اور خاتون(علی گڑھ) مخزن اور زمانہ وغیرہ میں بھی ایسے ہی افسانے شائع ہورہے تھے۔ ان میں سے کچھ انگریزی یا دوسری زبانوں سے ماخوذ نظر آتے ہیں اور کچھ طبع زاد بھی ہیں۔
فروری1906ء کے خاتون میں آبرو بیگم احمد ابراہیم کی ایک کہانی "پھول اور اس کی وفاداری" شائع ہوئی ۔ یہ بھی تاریخی کہانی ہے لیکن مختصر افسانہ کے اوصاف و عناصر کی حامل ہے ۔ فیض الحسن بی۔ اے کا ایک دلکش افسانہ "اسکیمادوشیزہ کی داستان"دسمبر1903ء کے مخزن میں شائع ہوا۔ علی محمود (بانکی پور) کا افسانہ"ایک پرانی دیوار" مخزن اپریل1904ء میں ص34تاص37شائع ہوا۔ خاتون کے ستمبر1904ء کے شمارہ میں محبت کی پتلی کے عنوان سے ایک با وفا بیوی کی دلچسپ کہانی بیان کی گئی ہے ۔ ایڈیٹر نے ایک طویل نوٹ میں لکھا ہے کہ مذکورہ کہانی انہیں فضل الحسن صاحب بی۔ اے کے توسل سے ملی۔ کہانی کے آخر میں اشارہ ہے کہ ارونگ سے ماخوذ ہے ۔
میں یہاں پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم کے ابتدائی افسانوں کے تفصیلی ذکر سے گریز کر رہا ہوں ۔ کہ ان کے بارے میں خاصہ تحقیقی مواد سامنے آ چکا ہے۔ پریم چند کا ایک طویل افسانہ"روٹھی رانی" جو اپریل تا اگست1907ء کے زمانہ میں شائع ہوا تھا اور جس میں صرف یہ حوالہ تھا کہ ہندی سے ماخوذ ہے۔ اس کے بارے میں بھی اب ثابت ہوچکا ہے کہ وہ من شی دیوی پرشاد کا ہندی قصہ تھا یہ"روٹھی رانی"اسی کا ترجمہ تھا۔ لیکن سجاد حیدر یلدرم کے ترکی تراجم کے علاوہ طبع زاد افسانے بھی بہت ہیں جیسے حضرت دل کی سوانح عمری ، حکایہ لیلیٰ مجنوں "اگر میں صحرا نشیں ہوتا"وغیرہ۔جو1906ء اور1907ء میں مخزن لاہور میں شائع ہوئے ۔ تاہم ان کی بیٹی قرۃ العین حیدر صاحبہ کے اس خیال سے مجھے اتفاق ہے( کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق) "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کو اردو کا پہلا افسانہ قرا ر دیا جائے ۔

یہ تخلیق اگست1900ء میں معارف میں ص35تا ص43شائع ہوئی تھی ۔ اس کے آغاز یا آخر میں کہیں اس کے ترجمہ یا ماخوذ ہونے کا حوالہ نہیں کہانی میں جو ماحول اور واقعات ہیں اور جو طر ز بیان ہے وہ بھی یہ گواہی دیتا ہے کہ تخلیق طبع زاد ہے۔ یہ اس طرح شروع ہوتی ہے ۔
" ایک دن میں دلی کے چاندنی چوک میں سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک فقیر پر پڑی جو بڑے موثر طریقہ سے اپنی حالت زار لوگوں سے بیان کرتا جارہا تھا ۔ دو تین منٹ کے وقفہ کے بعد یہ درد سے بھری ہوئی اسپیچ انہیں الفاظ اور اسی پیرایہ میں دہرادی جاتی تھی۔"
فقیر بار بار کہتا ہے کہ میں غریب الوطن ہوں ۔ بے سہارا ہوں۔ میرا کوئی ہمدرد نہیں ۔ کوئی دوست نہیں۔ یہ سن کر مصنف اپنی تنہائی اور اپنی حالت کا موازنہ اس فقیر سے کرتا ہے ۔ نہایت شگفتہ اور دلنشیں انداز سے وہ کہانی میں اپنے دوستوں کی بیگانہ وشی کا شکوہ کرتا ہے اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تخلیق بہ درجہ کمال تاثر کی وحدت رکھتی ہے جو جدید افسانہ کی اولیں شرط ہے ۔ صرف یہی نہیں یہ افسانہ کی دوسری شرائط اختصار ماحول آفرینی واقعہ کا ارتکاز، عروج اور ایک موثر نقطہ پر خاتمہ کو بھی پوری کرتی ہے اگر اس تخلیق کا گہرائی سے تجزیہ کیاجائے تو اندازہ ہوگا کہ مصنف کی ابتدائی تحریر ہونے کے باوجود اس میں فنی مہارت اور پختگی کے اوصاف موجود ہیں۔ اس لئے فنی تکمیل اور تاریخی تقدم ہردو لحاظ سے یہ ڈاکٹر مرزاحامد بیگ اور دوسرے ناقدین کے اس دعوے کو غلط ٹھہراتی ہے کہ راشد الخیری کی تحریر"نصیر اور خدیجہ"(مطبوعہ مخزن1903ء) یا سجاد حیدر یلدرم کی تحریر"دوست کا خط" (مطبوعہ مخزن1906ء) کو اردو کا اولین افسانہ قرار دیاجائے ۔ یوں راقم الحروف کی دانست میں ادب میں اس طرح کی اولیت کے سہرے باندھنے پر اصرار زیادہ اہم اور نتیجہ خیز نہیں ہوتا اس لئے کہ تلاش تحقیق کا سلسلہ جاری ہے ۔ سال دو سال بعد کوئی محقق زیادہ بہتر اور قدیم تر تخلیقات کی کھوج میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔
بلا شبہ اردو افسانہ ہمارے نثری ادب میں فن تکنیک اور فکرونظر کے اعتبار سے ایک ترقی یافتہ اور ترجیحی طور پر ایک پسندیدہ صنف کا درجہ رکھتا ہے ۔ مغربی افسانہ کے رجحانات سے استفادہ کے باوجود، اس کی ایک علیحدہ شناخت ہے اس لئے کہ ہماری روایات کا خون بھی اس کی شریانوں میں دوڑتا ہے لیکن افسوس کہ ہندو پاک میں تحقیقی اور تنقیدی زاویہ نظر سے افسانہ کے ارتقائی سفر کا اور اس کے ماخذوں کا کوئی معتبر اور گہرا (Profound) مطالعہ اب تک سامنے نہیں آسکا۔

ماخوذ از جریدہ:
ماہنامہ "چہار سو" ، جلد:12 ، شمارہ: جنوری/فروری 2004 (گوپی چند نارنگ نمبر)

Research regarding first Urdu short story.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں