اسلام کا قانون صحافت - تعارف کتاب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-09-28

اسلام کا قانون صحافت - تعارف کتاب

journalism-islamic-laws
رسائل و اخبارات چلتے پھرتے مدارس ہوتے ہیں۔ یہ عمارتوں کی حدود و اربعہ سے آزاد ہوتے ہیں اور کسی علاقہ کی قید سے بالاتر ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے عوام تہذیب سے واقف ہوتے ہیں۔ تعلیم و تربیت، اصلاح و تبلیغ زیادہ تر انہی سے ہوتی ہے۔ اسی صحافت سے خواص کی فکریں منظم ہوتی ہیں۔ اسی صحافت سے بگڑی ہوئی زبانیں سدھرتی ہیں۔ اسی سے فاصلے سکڑ جاتے ہیں، دور دراز کی اقوام ایک دوسرے کے قریب تر آ جاتی ہیں۔ اسی صحافت سے تاریخی واقعات و حوادث محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اسی صحافت سے تاریخ مرتب ہوتی ہے۔ اسی صحافت سے پست ہمت قوموں میں بلند فکری پیدا ہوتی ہے۔ اب تو اس میدان میں الیکٹرانک میڈیا نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔

قرآن حکیم دنیا کے علوم کا سرچشمہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی سنت ایک ایسا بحر ذخار ہے جس نے اپنے جلو میں بےکراں علوم سموئے ہوئے ہیں۔ ان میں صحافت کا قانون بھی اپنی گہرائی اور وسعت کے ساتھ موجود ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے تربیت یافتہ خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ نے اسلام کے پرچم کو صحرائے عرب سے نکل کر اس عہد کے متمدن ترین خطوں پر لہرایا۔ تعلیماتِ اسلام نے دنیا کے مزاج کو بدل دیا۔ ابلاغ کے ذریعے سوچنے سمجھنے کے انداز بدلے اور انسانی ذہن کو نئے افکار ملے۔ آج بھی عرب کے صحراؤں میں ، غرناطہ کے سبزہ زاروں میں اور نیل کی وادیوں میں اس کا عکس ملتا ہے۔

مجھے اسلام کے تصور صحافت پر کام کا خیال اس وقت آیا جب پہلی دفعہ راولپنڈی کے معروف صحافی سید اکرام الحق جاوید سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اسلامی صحافت کی تحریک شروع کی ہے۔ بعد ازاں لاہور میں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے ریسرچ سیل میں ایک معروف محقق حافظ سعد اللہ نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اسلام کے قانون صحافت پر کام کروں۔ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے اب یہ کام مکمل ہو گیا ہے۔ چونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کام ہے اس لیے اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

*** (اقباسات بشکریہ : ابتدائیہ ، از قلم مصنف کتاب لیاقت علی خان نیازی)

اسی کتاب کے دیباچہ کے تحت روزنامہ 'نوائے وقت' کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی رقم طراز ہیں:
تاریخ انسانی کے اوراق کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت شمس و قمر کی طرح روشن ہو کر سامنے آتی ہے کہ ابلاغ و صحافت کے موجد و بانی بہ امرللہ تعالیٰ انبیا و رسل علیہم السلام تھے۔ وہ صحافت ربانی کے ذریعے سب سے سچی، مصدق و موفق خبروں کے حامل و مبلغ ٹھہرے۔ انہوں نے نسل انسانی کو مکارم اخلاق کی تعلیم دی۔ انہیں ذہنی و معاشرتی لحاظ سے مہذب و متمدن بنایا اور زیست کے صحیح ترین منہج پر گامزن کیا۔
۔۔۔ ابلاغ وہ قوت متحرکہ ہے جس سے دنیا کے مختلف معاشروں میں مختلف ادوار میں سیاسی، مذہبی ، ثقافتی، علمی ، تہذیبی اور تمدنی انقلاب رونما ہوئے ہیں۔ اس لیے ابلاغ و صحافت کی اہمیت و ضرورت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے۔ اور زمانہ کے ساتھ ساتھ ابلاغ و صحافت کے طریقے اور مناہج بھی ترقی پذیر رہے ہیں۔

قرآن کریم نے صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل جلیلہ سے آنے والی نسلوں کو جن میں سے کچھ افراد نے پیشہ ابلاغ و صحافت اختیار کرنا تھا، ایک ضابطہ اخلاق اور اصول مسلم دئیے۔ مشکل ضابطہ اخلاق سرمدی نے یہ پیغام دیا:
"جب تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں تمہیں ندامت اٹھانی پڑے۔"

زیرنظر کتاب "اسلام کا قانون صحافت" ایک ایسی تصنیف ہے جس میں اسلامی صحافت کی تعریف، تصور، اصول ، خد و خال، ضابطہ اخلاق، عہد نبوی کی صحافت، ذرائع ابلاغ خلافت راشدہ میں، آزادئ رائے و ابلاغ اور دور حاضر کے تمام مرئی ذرائع ابلاغ کا نہایت عالمانہ طریقے سے ذکر ہے۔ اور میری نظر میں ڈاکٹر نیازی صاحب نے اپنی کتاب کی ترتیب و تزئین کرتے وقت مجتہدانہ مساعی کی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ذرائع ابلاغ کی تباہ کن روش معاشرہ کے لیے گوناگوں اخلاقی، معاشرتی، نفسیاتی اور عائلی مسائل پیدا کر رہی ہے۔ فکری سطح پر انتشار و افتراق اور جذبات کی سطح پر ہیجان بڑھ رہا ہے۔ اعلیٰ اقدار ملیا میٹ ہو رہی ہیں۔ تحمل، عفو ، درگزر اور اخوت و محبت معاشرے میں عنقا ہو رہے ہیں۔ نفسا نفسی بڑھ چکی ہے اور مختلف بھیانک نتائج پیدا کر رہی ہے۔
جب اپنے ہاں کے ذرائع ابلاغ سے وابستہ ذمہ دار افراد میں سے کسی کے ساتھ اس صورتحال کا ذکر ہوتا ہے تو عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ : "صحافت کے اسلامی ضابطہ اخلاق کے مطابق نمونہ کا کوئی اخبار یا رسالہ تو دکھائیے۔"
عالمی سطح پر بھی ہمیں یہی مشکل درپیش ہے۔ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا کہ:
"کون سا ملک صحیح اسلامی معاشرہ کا نمونہ ہے؟"
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمونہ موجود نہ ہو تو اپنے مقصد اور نصب العین کا ذکر اذکار بھی ترک کر دیا جائے۔
ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی یہ کاوش بھی ان کے اس جذبہ کی ترجمان ہے۔ ابلاغ کاروں اور اہل فکر کو یہ بتانا تو چاہیے کہ اسلام کا تصور صحافت کیا ہے؟ اور موجودہ دور میں اس تصور کو عملاً کس طرح رائج کیا جا سکتا ہے؟ میرے نزدیک یہ کتاب ایک مستحسن کوشش ہے۔

پروفیسر عبدالجبار شاکر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آج کی صحافت جس شدت سے ہمارے ذہنوں اور رویوں پر اثرانداز ہو رہی ہے اس سے معاشرے کو ایک ثقافتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس ثقافتی یلغار کے اثرات عقائد، تہذیب اور تمدن سب پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہماری نئی نسلیں خصوصیت سے اپنے دینی ورثے اور ثقافتی سرمائے سے محروم ہو رہی ہیں۔ یہ ثقافتی مفلسی اپنے دامن میں بہت سی بربادیوں کا پیغام رکھتی ہے۔ اسلام کے قانون صحافت کے نفاذ سے اس ثقافتی یلغار کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر نیازی کی یہ تصنیف بہت اہمیت کی حامل ہے۔
اسلام کا قانون صحافت کیا ہے؟ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ بلاشبہ فاضل مصنف نے اس کی تاریخ کو کتاب و سنت کے حوالوں سے مزین کیا ہے اور بہت سے قیمتی نکات ہمارے سامنے لائے ہیں۔ مگر اس موضوع پر ہمیں بہت سے اجتہادات سے کام لینا ہوگا جس میں تصویر کی اشاعت کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ تصویر ایک درجے میں خبر کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر جس بےتکان اور بےلگام انداز میں ہماری صحافت کا گھوڑا بگٹٹ دوڑا چلا جا رہا ہے یہ مسلسل ثقافتی حادثات کو جنم دے رہا ہے۔ ہم نے صحافتی شوق میں عورت کی تذلیل کے جو سامان پرنٹ میڈیا میں بالعموم اور سمعی و بصری معاونات میں بالخصوص فراہم کیے ہیں، اس سے ملی سطح پر ہم ایک نقصان عظیم سے دوچار ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب لائق مبارکباد ہیں کہ ان کی یہ تصنیف جہاں ایک علمی اور تحقیقی ضرورت کو پورا کرے گی وہیں جدید صحافت کے مضر اثرات کا بھی تدارک پیش کرتی ہے۔

***
نام کتاب: اسلام کا قانون صحافت
مصنف: ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی
ناشر: رانا سلطان محمود (معراج دین پرنٹرز، لاہور۔ پاکستان)
سن اشاعت: 1995
تعداد صفحات: 271
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 7.5 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک: (بشکریہ: kitabosunnat.com)

Islam-Ka-Qanoon-e-Sahafat.pdf

اسلام کا قانون صحافت :: فہرست
1ابتدائیہ13
2دیباچہ : جناب مجید نظامی ، چیف ایڈیٹر نوائے وقت17
3تاثرات21
4باب:1 - صحافت کی تعریف29
5باب:2 - اسلام میں صحافت کا تصور39
6باب:3 - قرآن حکیم اورصحافت کے اصول62
7آزادی تحریر وتقریر62
8ظلم کےخلاف احتجاج کاحق64
9فتنہ پروازی سے احتراز67
10جھوٹی فواہ نہ پھیلانا67
11تحفظ ابرو کاحق69
12فحاشی سےگریز69
13بخی زندگی کےتحفظ کاحق71
14صحافی تحقیقات کریں73
15مذہبی دل آزاری سےتحفظ75
16آزادی اجتماع کاحق75
17صحافت کےذریعے کسی کو دل آزاری نہ کی جائے76
18خوداحتسابی76
19فحاشی کی روک تھام77
20باب:4 - اسلامی صحافت کے خدوخال ضابطہ اخلاق79
21تعمیر ملت79
22امربالمعروف79
23نہی عن المنکر80
24سچائی85
25فکر کی حریت86
26فرد کی حریت86
27زرد صحافت کی گنجائش نہیں87
28فحاشی اوربےحیائی کی روک تھام87
29کمرشل ذہنیت کاتصورنہیں88
30فتنہ پروازی سےگریز88
31احتساب88
32ملحدانہ نظریات کاازالہ89
33اسلام کےخلاف پراپیگنڈہ89
34کردارسازی90
35تبلیغ91
36اتحاد بین المسلمین91
37اللہ کےہاں جواب دہی کاتصور94
38قومی یکجتہی اوراتحاد94
39خلوص اورصداقت94
40صحیح خبرکو نہ چھپایاجائے102
41باب:5 - حضور اکرمﷺ کے دور مبارک میں صحافت104
42تبلیغ اورابلاغ کامفہوم105
43حضورکےتبلیغی خطوط اوررسائل107
44خواتین میں تبلیغ107
45حضور کےمبارک عہد میں آزادی رائے110
46اسلام سےقبل صحافت بطور ذریعہ ابلاغ111
47شعروشاعری112
48میلےاوربازار112
49خطبےاوروصیتیں112
50معلقات112
51تجارتی سفر113
52حضوراکرم کادورمبارک113
53نبی اکرمﷺ کےدورمبارکہ میں ذرائع ابلاغ113
54قرآن حکیم بطور پہلی مرتب اورمدون کتاب114
55کھجور کی شاخیں سفید پتلے اوراونٹوں کےشانے کی چوڑی ہڈیاں114
56بطورذرائع ابلاغ114
57ابلاغ کاکام بذریعہ حفاظ114
58ابلاغ بذریعہ کتابت115
59ابلاغ بذریعہ شاعری115
60دعوت وتبلیغ115
61رسل ورسائل115
62ابلاغ بذریعہ تجارت116
63ابلاغ بذریعہ مسجد116
64تبلیغ بذریعہ ازواج مطہرات116
65فن خطابت بطورذریعہ ابلاغ117
66خطبہ الوداع میں ابلاغ کاحکم117
67فنون لطیفہ پر اثرات117
68باب:6 - خلافتِ راشدہ کے دور میں آزادی رائے اور ابلاغ125
69خلفائے راشدین کے دور میں صحافت126
70حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خطبہ خلافت اور صحافت کے اصول126
71حضرت عمرؓ اور صحافت کے اصول126
72حضرت عثمانؓ اور صحافت126
73حضرت علیؓ اور علوم و فنون کا فروغ127
74تنقید بذریعہ شورائی نظام127
75باب:7 - الیکٹرانک میڈیا129
76اخبارات و رسائل پر اثر130
77ریڈیو131
78ٹیلیویژن132
79فلم133
80وی سی آر133
81برقی صحافت کے دیگر ذرائع135
82باب:8 - فحاشی کی روک تھام کے لیے قوانین141
83فحاشی کیا ہے؟141
84فحش اور حیا سوز مواد کی اشاعت142
85فروخت اور تقسیم142
86باب:9 - قانون ہتکِ عزت154
87قذف کی تعریف155
88ازالہ حیثیت عرفی158
89شاعری، ڈرامہ اور دیگر ذرائع ابلاغ167
90مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کی کارروائیاں167
91عدالتی کارروائی167
92راز کا افشا (ڈیفنس کے بارے قوانین)168
93دفتری معاملات168
94معافی طلب کرنا168
95توہینِ عدالت کا قانون170
96باب:10 - سماجی برائیاں اور ہماری صحافت171
97صحافت کا کردار171
98اسلامی صحافت کی ضرورت171
99سماجی برائیاں172
100باب:11 - پاکستانی معاشرے پر ثقافتی یلغار اور تعلیماتِ رسولﷺ کی روشنی میں اس کا حل176
101علم نفسیات کی روشنی میں176
102فرائڈ کا نظریہ177
103لبیڈو [LIBIDO]178
104فتنہ آواز، فتنہ خوشبو ، فتنہ عریانی178
105مذہب کی روشنی میں حل178
106تعلیمات رسولؐ کی روشنی میں ثقافتی یلغار کا حل179
107باب:12 - قیام پاکستان میں فکری اداروں ، دینی ادب اور دینی صحافت کا کردار182
108باب:13 - تجاویز195
109جنسی جرائم کی تشہیر اور ذرائع ابلاغ عامہ197
110فحش اشتہارات پر پابندی197
111سینما سے باہر اور دیگر مقامات پر فلموں کے اشتہار بورڈ198
112سرکاری تقریبات میں ثقافتی شو198
113حیا سوز فلمیں198
114معیاری معلوماتی فلم کی نمائش198
115مادہ پرست ذہنیت کو تبدیل کرنے کی صورت198
116طرز معاشرت میں تبدیلی199
117کفایت شعاری اور ذرائع ابلاغ عامہ200
118معاشرتی اصلاح اور ذرائع ابلاغ عامہ200
119ذرائع ابلاغ عامہ کا قابل اصلاح کردار201
120انسدادِ رشوت اور ذرائع ابلاغ عامہ201
121تجاویز کا خلاصہ206
122ضلعی اہل قلم فنڈ کی ضرورت207
123ضمیمہ جات208
124الف: تصویر کشی (شرعی لحاظ سے)208
125ب: الجواب المفید فی حکم التصویر217
126ج: فحاشی کی روک تھام کے لیے سید اکرام الحق جاوید کی تجاویز234

Islamic Laws of Journalism. Urdu book by: Dr. Liaqat Ali Khan Niyazi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں