موازنۂ ادبیات پاک و ہند - مشفق خواجہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-08-11

موازنۂ ادبیات پاک و ہند - مشفق خواجہ

indopak-literature-writers-comparison
ہندوستان اور پاکستان کے ادب کا موازنہ کرتے ہوئے کچھ عجب صورت حال سامنے آتی ہے ۔ مثلاً شاعری نہ وہاں اچھی ہو رہی ہے نہ یہاں۔ یہاں نثری نظم جیسی نحیف و نزار صنف کی پرورش ہو رہی ہے تو وہاں آزاد غزل جیسی مخبوط الحواس چیز پروان چڑھ رہی ہے ۔ وہاں تنقیدکی فصل سارا سال لہلہاتی ہے اور ہر نقاد نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا رکھی ہے۔ یہاں قحط سالی ہے ، اتنے نقاد ہیں نہ اتنی اینٹیں۔۔۔ لے دے کے ایک بھائی محمد علی صدیقی ہیں جو زیادہ تر انگریزی میں لکھتے ہیں ۔ یہ دوسری بات ہے کہ اگر ان کی اردو تحریریں ، انگریزی میں ملا دی جائیں تو یہ شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی تحریر کس زبان میں ہے؟
فکشن میں البتہ دونوں طرف صورتحال ابتر ہے۔ یہاں انتظارحسین ہیں اور وہاں قرۃ العین حیدر۔ دونوں کے قلم بھی زرخیز ہیں اور ذہن بھی۔
تحقیق کی حالت ہندوستان میں قدرے غنیمت ہے ۔ وہاں اسّی یونیورسٹیوں میں اردو شعبے ہیں اور ہر شعبے میں تقریباً اسّی ریسرچ اسکالر ہیں۔ ہر سال پی ایچ ڈی کے لئے سو سے زائد مقالے تیار ہوتے ہیں جن میں کم از کم ایک آدھ ایسا ضرور ہوتا ہے جس میں تحقیق کا حق ادا کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ابھی تحقیق نے اتنی ترقی نہیں کی کہ سو میں سے ایک مقالہ بھی کام کا ہو۔ یہاں ہزار میں ایک بھی کام کا نکل آئے تو غنیمت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک تو پاکستان میں یونیورسٹیاں کم ہیں اور جو ہیں وہاں بھی تحقیق کا شوق اس وقت سے پیدا ہوا ہے جب سے یہ قانون نافذ العمل ہے کہ ہر پی ایچ ڈی استاد کی تنخواہ میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوگا۔

دونوں ملکوں میں ادبی رسالوں کا حال بھی خاصا پتلا ہے ۔ پاکستان میں ڈائجسٹ اور اخباروں کے ادبی صفحے، رسالوں کو کھا گئے ۔ ہندوستان میں ادبی رسالوں کو خریدار نہیں ملتے، صرف اعزازی قارئین ملتے ہیں۔ ڈھنگ کا ایک ہی ماہنامہ یہاں سے نکلتا ہے (افکار، کراچی) ایک ہی وہاں سے (شاعر، بمبئی) باقی سب رسالے مرضی دار ہیں ۔ جب جی چاہا رسالہ شائع کیا، جب جی نہ چاہا نہ کیا۔
تحقیقی و علمی رسالے البتہ ہندوستان میں زیادہ ہیں۔ "غالب نامہ "(دہلی)، "اکادمی "(لکھنو) خدابخش لائبریری جرنل(پٹنہ)، نقدو نظر(علی گڑھ) اور "اردو ادب "(دہلی) ایسے رسالے ہیں جن پر کوئی بھی زبان فخر کر سکتی ہے ۔ اردو سے متعلق علمی ادارے پاکستان میں چند ہی ہیں ۔ ہندوستان میں صرف تیرہ تو صوبائی اردو اکیڈیمیاں ہیں ۔ پھر ترقی اردو بیورو ہے ۔ انجمن ترقی اردو اور ادارۂ ادبیات اردو جیسے قدیم ادارے بھی ہیں ۔ ادبی کتابیں ہندوستان میں زیادہ شائع ہوتی ہیں اور ان کی قیمتیں بھی مناسب ہوتی ہیں ، پاکستانی کتابوں کی قیمتوں کی طرح آسمان سے باتیں نہیں کرتیں۔

کالم نگاری میں پاکستان کا پلہ بھاری ہے۔ وہاں اول تو کالم نگاری کی کوئی اہمیت نہیں ، دوسرے ایسے اخبار بھی نہیں جو صرف کالم نگاری کی وجہ سے چلتے ہوں ۔ پاکستان میں کئی اہل قلم ایسے ہیں جنہوں نے کالم نگاری کو سکہ رائج الوقت بنا دیا ہے ۔ مثلاً :
عطاء الحق قاسمی، عطاء الحق قاسمی۔
ہمارا ادارہ تھا کہ لفظ "مثلاً " کے بعد ہم کم از کم دو کالم نگاروں کے نام لکھیں گے لیکن اس لائق ہمیں ایک ہی نام نظر آیا ، سو اسی کو دو مرتبہ لکھ دیا ۔ قاسمی صاحب بلا شبہ ہمارے ملک کے مقبول ترین کالم نگار ہیں۔ ہم جیسے "عوام " سے لے کر صدر مملکت جیسے خواص تک ان کے قدردان ہیں ۔ صدر مملکت نے اپنی تقریروں میں علامہ اقبال کے بعد جس ادیب کا حوالہ سب سے زیادہ دیا ہے، وہ عطاء الحق قاسمی ہیں ۔ علامہ اقبال تو شاید اپنی شاعری کی وجہ سے آئندہ یاد رکھے جائیں لیکن عطاء الحق قاسمی کے یاد رہ جانے کے لئے صدر مملکت کا حوالہ کافی ہوگا۔

طنز و مزاح کے معاملے میں پاکستان و ہندوستان ، دونوں اپنی جگہ خود کفیل ہیں۔ یہاں نثر میں مشتاق احمد یوسفی ، شفیق الرحمن ، کرنل محمد خان اور محمد خالد اختر جیسے اہل قلم ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی مثال آپ ہے ۔ نظم میں ضمیر جعفری اور دلاور فگار ہیں ۔ جنہوں نے اپنے تخلصوں کی سنجیدگی بلکہ زخم خوردگی کے باوجود طنز یہ و مزاحیہ شاعری کو درجۂ کمال تک پہنچا دیا ہے ۔
ہندوستان میں طنز و مزاح کا چرچا پاکستان سے کہیں زیادہ ہے ۔ ہر سال حیدرآباد دکن میں مزاح کانفرنس ہوتی ہے جس میں سینکڑوں مزاح نگار شرکت کرتے ہیں ۔ ہندوستان کے بعض علمی مذاکرے اور سیمینار بھی اس وقت مزاح کانفرنسوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جب ان میں ایسے پاکستان "دانشور " شریک ہوتے ہیں جن کا ان مذاکروں کے موضوعات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ مثلاً پٹنہ میں مخطوطات پر جو سیمنار ہوا تھا اس میں بعض ایسے پاکستانی محطوطہ شناس شریک ہوئے جنہیں مخطوطہ اور مطبوعہ کا فرق بھی معلوم نہیں تھا اس سے پٹنہ والوں کی مردم شناسی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔

ہندوستان میں طنز و مزاح پر علمی کام بھی بہت ہوا ہے ۔ متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ علی گڑھ میگزین اور "شاہراہ " کے طنز و مزاح نمبر تو ہمارے "نقوش " کے طنز و مزاح نمبر سے پہلے شائع ہوئے تھے ۔ حال ہی میں رسالہ "شگوفہ" (حیدرآباد دکن) نے بھی ایک ضخیم نمبر شائع کیا ہے ۔ کالم نگاری پر فکر تونسوی کی کتاب اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے۔ اس میں کالم نگاری کی تاریخ بھی ہے اور انتخاب بھی ۔ ہندوستان میں طنز و مزاح نگار اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اگر یہ اپنی سیاسی پارٹی بنالیں تو اکثریتی پارٹی ہونے کی وجہ سے اپنی حکومت بھی قائم کر سکتے ہیں ۔ ہندوستان میں اس وقت طنزومزاح لکھنے والوں میں سے جن کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے ان میں سر فہرست فکر تونسوی ، مجتبیٰ حسین اور یوسف ناظم ہیں۔
یوسف ناظم کے نام پر یاد آیا کہ ہم نے انہی کی تازہ کتاب "فی الحال " کے بارے میں کچھ عرض کرنے کے لئے مذکورہ تمہید باندھی تھی جو 'موازنۂ ادبیات پاک و ہند' کی صورت اختیار کر گئی ۔ یہ اندازِ تحریر ہم نے اپنے کرم فرما ڈاکٹر مولانا ابو سلمان شاہجہانپوری سے سیکھا ہے ۔ وہ جب مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت، سیاست یا کسی اور پہلو پر کچھ لکھتے ہیں تو مضمون کا آغاز حضرت آدم کے جنت سے نکالے جانے یا سقراط کے زہر کا پیالہ پینے سے کرتے ہیں اور پھر تاریخ عالم کے تمام اہم واقعات بیان کرنے کے بعد مضمون کے آخری پیراگراف میں مولانا آزاد کی صحافت یا سیاست کا ذکر بھی کر دیتے ہیں ۔ یوسف ناظم کے ساتھ بھی ہم کچھ اسی قسم کا سلوک کر رہے ہیں۔
یوسف ناظم 1944ء سے لکھ رہے ہیں اور 1962ء میں ان کی پہلی کتاب "کیف و کم " شائع ہوئی تھی ۔ لیکن ان کے فن اور شہرت کا دائرہ 1970ء سے وسیع ہونا شروع ہوا ہے ۔ اب تک ان کی ایک درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ صرف شائع ہی نہیں ہوئیں مقبول بھی ہوئی ہیں۔ ان کے "موضوعات سخن " میں خاصا تنوع پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے صرف ادبی موضوعات پر ہی نہیں، زندگی کے عام مسائل پر بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔ ان کے مزاح میں شائستگی ، طنز میں مقصدیت اور انداز تحریر میں وہ شگفتگی پائی جاتی ہے جو قاری کو سچی ادبی مسرت سے ہمکنار کرتی ہے ۔ انہوں نے شخصی خاکے بھی لکھے ہیں جن میں طنز و مزاح سے آلات حرب و ضرب کا نہیں، متعلقہ شخصیت کو سمجھنے سمجھانے کا کام لیا ہے ۔ باقر مہدی کا شخصی خاکہ اس کی بہترین مثال ہے ، جس میں اس قسم کے جملے کثرت سے ملتے ہیں:
"باقر مہدی علم کی اس بلندی پر ہیں جہاں خود علم کے پہنچنے میں ابھی دیر ہے۔ "

یوسف ناظم کی تازہ کتاب " فی الحال " ان مضامین کا مجموعہ ہے جو پچھلے تین برسوں میں لکھے گئے۔ مضامین کے عنوانات اس قسم کے ہیں : تعلیم بالغاں، قینچی، انتظار، داستان ٹکٹوں کی، اخبار کا آخری صفحہ، مہمان خصوصی وغیرہ ۔ اس قسم کے عنوانات پر ہمارے ہاں انشائیے لکھے جاتے ہیں۔ مگر یوسف ناظم نے انشائیے نہیں لکھے ۔ کیونکہ وہ دبستان سرگودھا میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ حالانکہ اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ جس طرح ترقی پسند تحریک والے دونوں ملکوں میں ہیں، اسی طرح دبستان سرگودھا سے وابستہ لوگ بھی دونوں جگہ موجود ہو سکتے ہیں ۔ ہاں اس سے ڈاکٹر سلیم اختر کی مصروفیات بڑھ جائیں گی ۔ جس طرح انہوں نے پاکستان میں دبستان سرگودھا کے خلاف محاذ قائم کر رکھا ہے ، ایسا ہی محاذ انہیں ہندوستان میں قائم کرنا پڑے گا۔

بہرحال یوسف ناظم نے مذکورہ موضوعات پر جو کچھ لکھا ہے اس سے ان کے جوہر ہی نہیں کھلتے، ان موضوعات کی قلعی بھی کھل جاتی ہے ۔ مثلاً انہوں نے تعلیم بالغاں کے اس قسم کے نقصانات گنوائے ہیں۔۔۔ "تعلیم بالغان سے ایک نقصان تو بالغوں کو یہ پہنچے گا کہ وہ کہیں ناخواندہ مہمان نہیں بن سکیں گے ۔۔۔ اگر بالغوں نے واقعی پڑھنا شروع کردیا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ مدرسوں میں ان کے بچوں کو کیا پڑھایا جاتا ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بچوں کے اسکول بھی بند ہو جائیں ۔ "
"داستان ٹکٹوں کی " میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
" ایک زمانہ تھا کہ ہوائی جہاز وقت پر اڑا اور اترا کرتے تھے ۔ جب معلوم ہوا کہ ملک میں کوئی کام بھی وقت پر نہیں ہوتا تو پلین بھی دیر سے اڑنے لگے اور بعض اوقات تو دوردرشن کے اردو پروگراموں کی طرح منسوخ بھی ہونے لگے۔ جب کوئی جہاز اڑتا نہیں تو اس کے مسافروں کو ایک اور ٹکٹ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ ائر پورٹ کے ریستوران میں داخلے اور مفت کھانے کا ٹکٹ ہوتا ہے ۔ اس ٹکٹ کی خوبی یہ ہے کہ ریستوران کا منیجر اس ٹکٹ کو دیکھ کر ہنستا ہے ۔ "
فی الحال یہ مثالیں کافی ہیں ۔ اگر مثالیں دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو پوری کتاب نقل کرنی پڑے گی اور اس طرح پاکستان میں ناجائز طور پر چھپنے والی ہندوستانی کتابوں میں ایک اور کا اضافہ ہو جائے گا۔

(تاریخ اشاعت: 20/نومبر 1986)

ماخوذ از کتاب:
سن تو سہی (مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں)
مرتبین : ڈاکٹر انور سدید ، خواجہ عبدالرحمن طارق

Comparison of indoPak literature and writers. Article: Mushfiq Khwaja

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں