دولت عثمانیہ کے سقوط کے اسباب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-08-06

دولت عثمانیہ کے سقوط کے اسباب

ماخوذ : سلطنت عثمانیہ (ترکوں کی مفصل سیاسی تمدنی اور تہذیبی تاریخ)۔
تصنیف: ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی۔ اردو ترجمہ: علامہ محمد ظفر اقبال کلیار۔ ناشر: ضیا القرآن پبلیکیشنز، لاہور (پاکستان)۔

آٹھویں بحث : دولت عثمانیہ کے سقوط کے اسباب
تمہید:
دولت عثمانیہ کے سقوط کے اسباب کئی ہیں، ان تمام اسباب کا جامع سبب اللہ تعالیٰ کے قانون کی حاکمیت سے دوری اختیار کرنا ہے جس کی وجہ سے افراد اور قوم کو ذلت و رسوائی کی گہرائی میں اترنا پڑا اور دین و دنیا کی ناکامی ان کا مقدر بن گئی۔ شریعت سے دوری کے اثرات پوری زندگی پر پڑتے ہیں، اور دینی معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی زندگی کا کوئی پہلو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین سے انحراف کرتی ہے تو لوگوں کو فتنوں اور آزمائشوں کا مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ فتنے ان کی زندگی کے تمام امور کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
" پس ڈرنا چاہئے انہیں جو خلاف ورزی کرتے ہیں، رسول کریم ﷺ کے فرمان کی کہ انہیں کوئی مصیبت نہ پہنچے یا انہیں دردناک عذاب نہ آلے۔"

دولت عثمانیہ کے آخری سلاطین اللہ تعالیٰ کی شریعت سے دور ہوئے تو امت مسلمہ پر اس کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ۔ آخری دور کے سلاطین مادیت پرستی اور جہالت کی زندگی میں بری طرح گرفتار تھے جس کی وجہ سے ان پر حیرت ،اضطراب، خوف اور بزدلی کی فضا چھائی ہوتی تھی ، وہ بری طرح نصرانیوں سے ڈرنے لگے تھے اور ان کے سامنے عزت، وقار اور رعب و دبدبہ کی زبان میں بات نہیں کرسکتے تھے ۔ ان کی آواز دب گئی تھی اور گناہوں کی وجہ سے دشمنان اسلام کے سامنے کسی معرکہ میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کرنے کی ان میں ہمت نہیں رہی تھی ، زندگی ان پر بوجھ بن چکی تھی۔
"اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے تو اس کے لئے زندگی( کا جامہ) تنگ کردیاجائے گا۔"(سورہ طہ،124)

دولت عثمانیہ کے آخری مراحل میں اسلامی معاشرے بے وقوفی احساس ذات کے فقدان اور روحانی کمزوری کا شکار ہوگئے تھے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کردیا تھا اور نتیجہ انہیں اس مصیبت سے دوچار کردیا گیا جس مصیبت سے بنی اسرائیل کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ترک کی وجہ سے دوچار کیاگیا تھا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ۔
"لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا، بنی اسرائیل سے داؤد کی زبان پر اور عیسی پسر مریم کی زبان پر یہ بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے، نہیں منع کیا کرتے تھے ایک دوسرے کو اس برائی سے جو وہ کرتے تھے بہت برا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔"
(سورہ مائدہ)

ہر وہ قوم جو اللہ تعالیٰ کے قوانین کی تعظیم نہیں کرتی اور اس کے امر ونہی کونافذ نہیں کرتی بنی اسرائیل کی طرح اپنی عزت اور اپنا وقار کھودیتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بخدا یا تو تم نیکی کا حکم دو گے ، برائی سے منع کرو گے اور ظالم کے ہاتھ پکڑلوگے، اسے حق و انصاف کی طرف زبردستی لوٹادوگے اور عدل کا جبراً پابند کرو گے ورنہ تمہارے دلوں کو بھی اللہ تعالیٰ آپس میں ٹکرادے گا اور تم پر بھی ایسی پھٹکار ڈالے گا جیسے پہلے ان لوگوں پر ڈالی گئی۔"
(ابو داؤد،کتاب الملاحم،باب الامر بالمعروف رقم الحدیث:4670)

بلا شبہ دولت عثمانیہ میں سنت خدا وندی پوری ہوئی جب دلوں میں اطاعت و انقیاد کی جگہ تمرد اور سرکشی نے لے لی تو یہ مملکت دشمن کی سازشوں کا شکار بن کر رہ گئی اور اس کا سارا رعب و جلال قصہ پارینہ بن کر رہ گیا۔

" یہ اس لئے کہ اللہ نہیں بدلنے والا کسی نعمت کو جس کا انعام اس نے فرمایا ہو کسی قوم پر یہاں تک کہ بدل ڈالیں وہی اپنے اآپ کو۔"
(سورہ انفال،53)

جس طرح وہ قومیں جو بے دین حاکموں کے سامنے سر تسلیم خم کرلیتی ہیں، ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں حتی کہ ان لوگوں سے اپنے ہم مذہب بھائیوں کے خلاف مدد طلب کرتی ہیں جو اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ، بالکل اسی طرح دولت عثمانیہ کے آخری سلاطین کا شریعت خداوندی سے انحراف اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کردینے والی مسلم قوم کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے پہلو تہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے درمیان اختلافات رونما ہوئے ، لوگوں کو ہلاکت، دولت کے چھن جانے، عزتوں کے پامال ہونے جیسے امور کا سامنا کرنا پڑا ۔ وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے باہمی معاملات میں الہٰی احکام سے رہنمائی حاصل کرنا چھوڑ دی تھی، ان کے درمیان جنگ و جدل اور فتنہ و فساد شروع ہوگیا تھا اور انہیں مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا، باہمی سر پٹول جو دراصل شریعت سے انحراف کا نتیجہ تھی ، ان کے زوال کے بعدبھی جاری رہی اور روس، انگلستان، بلغاریہ اور سربیا وغیرہ کے غیر مسلم ان پر چھا گئے ۔ انہوں نے ان کے باہمی اختلافات سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ سلاطین نصرت خداوندی سے محروم ہوگئے ، امت مسلمہ عزت ووقار کھو بیٹھی اور ان کے دلوں پر دشمن کا خوف و ہراس چھا گیا جو کبھی غالب اور صاحب تمکنت تھے، مصائب و آلام کا شکار بن گئے ، کئی علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کافروں کے زیر نگیں بن گئے ۔

اللہ تعالیٰ کے دینی حقائق سے مستنبط یہ سنتیں ہیں اور تاریخ کا یہ مسلم قاعدہ ہے کہ جب اللہ کو ماننے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو ان پرمسلط کردیتا ہے جو عرفان ذات سے محروم ہوتی ہے ۔ مسلمان جو معرفت الٰہی رکھنے کے دعویدار تھے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نصرانیوں کو مسلط کردیا ۔
وہ گناہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کسی ملک کو تباہ کرتا ہے اور قوموں کو عذاب سے دوچار کرتا ہے دو قسم کے ہوتے ہیں ۔

(1)
رسولوں سے دشمنی اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو قبول کرنے سے انکار۔
(2)
مال و دولت پر فخر کرنا، دنیاوی جاہ و حشمت پر فریفتہ ہوکر حق کا انکار کرنا، لوگوں کو حقیر سمجھنا، کمزوروں پر ظلم کرنا، طاقتوروں سے خوف کھانا، فضول خرچی کرنا، فسق و فجور میں حد سے گزر جانا، مال و دولت پر اترانا، یہ تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرنا ہے ، یہ دوسری قسم کا گناہ تھا جس کے مرتکب دولت عثمانیہ کے آخری سلاطین اور امرا ہوئے۔
(دولۃ الموحدین،علی محمد صلابی،ص170)

دولت عثمانیہ اپنے ابتدائی عرصہ میں ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ تعالیٰ کے قانون پرعمل پیرا رہتی تھی ، اپنے دعوتی اور جہادی سر گرمیوں میں اہل السنت کے طریقہ کار کا پورا پورا التزام کرتی اور غلبہ و اقتدار کی شروط اور اسباب کو برائے کار لاتی جیسا کہ قرآن کریم میں اور نبی کریم ﷺ کی حدیث شریف میں مذکور ہے ، لیکن اپنے آخری دور میں اقتدار کی شروط سے اس نے انحراف کرلیا ۔ مادی اور روحانی اسباب سے دور ہو گئی، رب قدوس فرماتا ہے:

"وعدہ فرمایا ہے اللہ تاعلیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور نیک عمل کئے کہ وہ ضرور خلیفہ بنائے گا، انہیں زمین میں جس طرح اس نے خلیفہ بنایا ان کو جو ان سے پہلے تھے اور مستحکم کردے گا ، ان کے لئے ان کے دین کو جیسے اس نے پسند فرمایا ہے، ان کے لئے اور وہ ضرور بدل دے گا، انہیں ان کی حالت خوف کو امن سے، وہ میری عبادت کرتے ہیں، کسی کو میرا شریک نہیں بناتے اور جس نے ناشکری کی اس کے بعد تو وہی لوگ نافرمان ہیں اور صحیح صحیح ادا کیا کرو نماز اور دیا کرو زکوۃ اور اطاعت کرو رسول پاک ﷺ کی تاکہ تم پر رحم کیاجائے ۔"
(سورہ نور)

مزید اسباب کی تفصیل درج ذیل مضامین کے تحت:
  • عقیدہ ولاء برات سے رو گردانی
  • عبادت کے مفہوم کا محدود ہو جانا
  • شرک و بدعت اور دوسری خرافات کی اشاعت
  • بدعات اور لغویات کا عام ہونا
  • لغویات کا عام ہونا
  • منحرف صوفیا
  • منحرف جماعتوں کی سرگرمیاں
  • قیادت ربانی کا فقدان
  • خلاصہ جات کی تیاری
  • شروح ، حواشی اور نوٹس
  • تعلیمی اسناد
  • علمی منصب کا وراثت بن جانا
  • اجتہاد کے دروازے کو کھولنے سے انکار
  • مملکت میں ظلم و ستم کا عام ہو جانا
  • عیش کوشی اور خواہشات میں انہماک
  • اختلافات اور فرقہ بندی


Collapse of the Ottoman Empire.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں