یہ مسائلِ تلفظ - رضا علی عابدی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-03-06

یہ مسائلِ تلفظ - رضا علی عابدی

pronunciation
درج ذیل مضمون بی-بی-سی اردو کے معروف براڈکاسٹر جناب رضا علی عابدی کی کتاب "اخبار کی راتیں" سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کے چند مضامین مصنف محترم کی اجازت سے تعمیر نیوز پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
مضمون-1 : ترجمے کے رموز - رضا علی عابدی
مضمون-2 : یہ مسائلِ تلفظ - رضا علی عابدی
مضمون-3 : زبان کا فن - رضا علی عابدی
ہمارے دوست ادریس صدیقی نے اس نام سے ایک کتابچہ لکھا تھا۔ یہ بات پرانی ہوئی، پتہ چلا کہ ادریس صدیقی گزر گئے اور ساتھ ہی ان کا کتابچہ بھی۔ صدیقی صاحب کا تعلق بھی ریڈیو سے تھا اور ریڈیو سے وابستہ لوگوں کو حلق میں آنے والے بلغم کے بعد جو چیز سب سے زیادہ ستاتی ہے وہ ہے لفظوں کی ادائیگی اور ان کا تلفظ۔
لکھنے والوں کو بچوں سے غرض ہوتی ہے ۔ ان کا سارا زور املا پر ہوتا ہے ۔ اپنی تحریر کو ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر سنانے والوں کا املا غلط ہو تو دنیا کو خبر بھی نہیں ہوتی ۔ مطالبہ کو اگر متالبہ لکھ لاتے ہیں تو کسی کو کیا معلوم۔ البتہ ان کی دشواری یہ ہے کہ "م" کے اوپر پیش لگایا جائے یا زبر۔ اس لفظ کو مُطالبہ پڑھا جائے یا مَطالبہ؟

اردو لکھائی میں زیر و زبر پیش لگانے کا رواج نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ تشدید کبھی کبھار لگ جاتی ہے۔ ساکن کیا ہوتا ہے، سو میں سے دو آدمی جانتے ہوں تو بہت ہے ۔ لہٰذا اردو سیکھنے والوں کی کانوں کے راستے جو تربیت ہوتی ہے، اسی کی بنا پر وہ تلفظ ادا کرتے ہیں۔
اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ عوام کو صحیح املا اور ہجّے سکھانے کی ذمہ داری اخباروں ، رسالوں اور کتابوں پر عائد ہوتی ہے اور انہیں صحیح تلفظ سکھانے کا فرض ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ دوسروں کو سکھانے اور تربیت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنی تربیت خود کریں مگر بقول مشتاق احمد یوسفی: اس کھکیڑ میں کون پڑے۔

اس گفتگو کے بعد پہلا سوال یہ اٹھے گا کہ تربیت کیسے کی جائے ۔ غلطیوں سے کیوں کر بچا جائے؟ اس کا جواب آسان ہے ۔ اپنی ترییت کرنے والا دو کام کرے۔ اول یہ کہ سادہ، سہل اور آسان زبان لکھے۔ گفتگو کی زبان سب سے زیادہ سلیس ہوتی ہے ، وہی لکھے ۔ اجنبی لفظوں پر مشق نہ فرمائے ۔ جس لفظ سے کان آشنا نہ ہوں ان سے بچ کر رہے ۔ غلطی کا امکان خود بخود کم ہوجائے گا ۔
دوسرے یہ کہ کلاسیکی شاعری پڑھے ۔ اساتذہ کا کلام پڑھے ۔ یہ کام نثر پڑھنے سے بھی ہو سکتا ہے لیکن لفظ اپنے کھانچے میں کیوں بیٹھتا ہے ، یہ گر شاعری بہتر طور پر سمجھا سکتی ہے ۔ ہمارے اساتذہ اس بارے میں بڑا اہتمام کرتے تھے۔
میر انیس کے مرثیوں سے لے کر جوش صاحب کی یادوں کی برات تک بے شمار تحریریں ہیں جنہیں کچھ لوگ سرسری پڑھتے ہیں، لیکن اگر تربیت کے خٰیال سے توجہ کے ساتھ پڑھا جائے تو تحریر کے بڑے بھید کھلتے ہیں۔

ہمارے ایک ساتھی کو لفظ "معتدبہ" لکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہ ان ہزاروں الفاظ میں ایک ہے جس سے کان آشنا نہیں ۔ اس سے مراد ہے: بہت سا، زیادہ، خاصا۔
اس کا تلفظ دو الفاظ کی طرح ہوتا ہے۔ مُعتَد الگ اور بَہ جدا۔ مگر ہمارے ساتھی اسے ایک ہی سانس میں ادا کر دیتے تھے: "موتادِبَہ"
ایک بار کام کے دوران ایک ساتھی نے مجھ سے کسی لفظ کا تلفظ پوچھا۔ میں نے کہا کہ معاف کیجئے ، جو لفظ میں بولتا ہی نہیں اس کا تلفظ بھی مجھے نہیں آتا۔

اس معاملے میں ہندی لکھائی کمال کی ہے ۔ اس میں زیر زبر پیش کی طرح ماترائیں لگانا لازمی ہے جو لفظ جس طرح لکھا گیا ساری دنیا اسے اسی طرح پڑھے گی۔ ہندی فلموں میں کبھی غور کیجئے، جس لفظ کو ہم اہل اردو "غَلطِی" (غَل۔طی) پڑھتے ہیں۔ ہندی والے بالکل صحیح یعنی"غَلَطِی" ادا کرتے ہیں۔
اردو میں کچھ بزرگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی تحریرمیں زبر زیر پیش ضرور لگاتے تھے ۔ ان میں ایک بڑا نام جوش ملیح آبادی کا ہے ۔ ان کی خواہش تھی کہ اردو بولنے والے بچے بچے کا تلفظ صحیح ہو مگر پھر یہی کہنا پڑتا ہے کہ کسی کو کیا پڑی ہے۔ اب تو کیا اخبار اور کیا ریڈیو جہاں کچھ سمجھ میں نہیں آتا جھٹ انگریزی لفظ رکھ دیتے ہیں مثلا یہ کہ :
" یہ کام چار ورکنگ ڈیز میں مکمل ہو جائے گا۔"
اب سننے یا پڑھنے والا یا تو صبر کا گھونٹ پی کر چپ سادھ لے یا ایک بڑے سے تختے پر لکھے کہ خدا کے لیے اردو بولو اور وہ تختہ لے کر اس اخبار یا ریڈیو کے دفتر کے سامنے کھڑا ہو جائے اور پولیس والوں کی گھُرکیاں سنے۔

اردو کا ایک مسئلہ پیدائشی ہے ۔ یہ غریب زبان عربی اور فارسی کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ عربی میں اَدارہ ہے تو فارسی میں اِداراہ ۔ میرا عقیدہ ہے کہ اردو میں عربی لفظ براہ راست نہیں بلکہ فارسی کے راستے آئے یعنی پہلے انہیں ایرانیوں نے اختیار کیا وہاں سے وہ شکلیں بدلتے ہوئے ہمارے برصغیر پہنچے ، الفاظ کی وہی شکلیں مانوس ہیں اور ہمارے نزدیک درست ہیں ۔
ہوتا یہ ہے کہ لفظ جب لغت اور کتاب سے نکل کر عوام کے بیچ آتا ہے تو اسے طرح طرح سے برتا جاتا ہے ۔ لوگ جیسے مناسب سمجھتے ہیں ، اسی طرح ادا کرنے لگتے ہیں اور اگر ان کے تلفظ کو غلط کہا جائے تو وہی غلط تلفظ رواج پاتے پاتے مستند ہو جاتا ہے جسے ذرا ثقیل زبان میں غلط العام کہاجاتا ہے ۔

ہمارے بڑے کہہ گئے ہیں کہ اصل لفظ چاہے عربی کا ہو یا فارسی کا ، اردو میں آ کر اس نے جو شکل اختیار کرلی وہی درست ہے ۔ اردو میں آکر نہ صرف تلفظ بلکہ معنی اور مطلب تک بدل جاتے ہیں اور کیوں نہ بدلیں ۔ اردو کوئی ہزار سال پرانی زبان تو ہے نہیں ۔ یہ تو ابھی بڑی ہو رہی ہے اور نئی شکل نکال رہی ہے ۔ رفتہ رفتہ پختہ شباہت اختیار کر لے گی اور اہل زبان اِغوا کو اَغوا اور وَرثہ کو وِرثہ کہنے لگیں گے اور یہی مستند ٹھہرے گا۔ یہ معاملہ ایک اردو ہی کے ساتھ نہیں ، تمام بڑی زبانوں کے الفاظ وقت اور مقام کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ امریکہ اور انگلستان والے دونوں انگلش بولتے ہیں مگر امریکی انگلش جدا ہے اور برطانیہ کی انگلش جدا۔

عالمِ عرب میں بوتل کو شیشہ کہتے ہیں۔ اہل دکن بھی عربی کے زیر اثر بوتل کی بجائے شیشہ ہی کہتے ہیں ۔ ہم بھی کسی زمانے میں بڑی بوتل کو شیشہ اور چھوٹی کو شیشی کہتے ہوں گے ۔ ہمارے شاعر بھی شیشہ و ساغر کی بات کیا کرتے تھے ۔ اب لفظ شیشہ تو نکل گیا، شیشی رہ گیا ۔ جسے ہم شیشہ کہتے ہیں ، عالم عرب اسے کچھ اور کہتا ہوگا۔

یہ عمل رکنے والا نہیں لیکن جو فکر کا لمحہ ہے ، وہ بھی یہی ہے کہ جس لمحہ آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کیا لفظوں کو وقت، حالات ، مقام اور عوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجائے؟ کیا ان کا حلیہ اس حد تک بگڑ جانے دیا جائے کہ انہیں پہچاننا مشکل ہو جائے ۔
یہ اندیشے، ذمہ داری کا احساس بڑھاتے ہیں ۔ کہیں نہ کہیں ، کچھ نہ کچھ ایسا ہونا چاہئے کہ ایک ایک لفظ کی ادائیگی ہی نہیں ، پوری زبان کی دیکھ بھال ہو ، اور اسے سنبھال کر اور سنوار کر رکھا جائے ۔ ہر زبان احترام کی مستحق ہے ۔ اس کی شکل نہ بگڑنے پائے اور اس کا حلیہ کہیں مسخ نہ ہو جائے۔ یہ بات غور بھی مانگتی ہے اور توجہ بھی۔

یہاں سو ڈیڑھ سو ایسے لفظ اکٹھے کئے گئے ہیں جن کے صحیح تلفظ کے بارے میں کبھی کبھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ کچھ لفظ ایسے ہیں کہ بعض لوگ باقاعدگی سے غلط انداز میں ادا کرتے ہیں ۔ ان الفاظ میں ق اور خ کی غلط ادائیگی شامل نہیں ، کوئی خدا کو کھُدا اور قرآن کو کُران کہے تو اسے صرف یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ ذرا سی محنت کر کے صحیح آواز نکالنے کی مشق کرے ۔ جب لتا منگیشکر اپنا شین قاف بالکل صاف ادا کرسکتی ہیں تو اردو سے وابستہ لوگ کیوں نہیں کر سکتے ۔

تلفظ کے سلسلے میں ایک بڑا مسئلہ اجنبی لفظوں یا لوگوں یا مقامات کے نام کا ہے ۔ امریکی یا یورپین نام کیونکر لکھے جائیں اور کیسے ادا کئے جائیں۔ بعض لوگ ایسے لفظ اردو رسم الخط میں لکھتے ہیں مگر ان کی ادائیگی میں غلطی ہو سکتی ہے ۔ انگریزی حروف میں لکھیں تو بھول چوک کا امکان ہے ۔ ہمارے ایک ساتھی جنہیں ہندی حروف کی واقفیت ہے۔ ایسے اجنبی لفظ ہندی میں لکھ لاتے ہیں ( ظاہر ہے اپنی ذاتی سہولت کے لئے) اسے غلط پڑھنے کا خطرہ کم ہے۔ فرانسیسی نام Cardin کا صحیح تلفظ کارواں ہے ۔ آپ اسے کیسے لکھیں اور کیونکر ادا کریں گے؟
پاکستان کے ایک خبر نامے میں ایک خاتون نے ghost اسکول کو "گھو-سَٹ" اسکول پڑھا۔
Grand Prix کو گراں پری کی بجائے گرینڈ پرکس پڑھا جو نہایت معیوب ہے مگر ریڈیو اور ٹیلی ویژن والوں کو خود اپنی تربیت کرنی چاہئے ، ورنہ بعض نشرگاہیں "گھو-سٹ" نشرگاہیں کہلائی جائیں گی۔

میں نے جو لفظ یہاں چنے ہیں ان میں زیادہ تر عربی اور فارسی الفاظ ہیں۔ ان کا تلفظ سمجھانے کے لئے میں نے زیر زبر پیش کا استعمال کم سے کم کیا ہے اور انہیں توڑ توڑکر لکھا ہے ۔ کہیں کہیں اردو تلفظ انگریزی حروف میں لکھنا آسان محسوس ہوا ۔ یقین ہے یہ حروف سبھی کی دسترس میں ہوں گے۔
آخر میں دوبارہ کہوں گا کہ الفاظ کی اصل شکل اساتذہ کے کلام میں ظاہر ہوتی ہے اور وہی حقیقی سند ہے۔ مثلاً
مے سے غَرضَ نشاط ہے کس روسیاہ کو
یا
مَرضَ بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یا
کیا خوب سودا نَقَد ہے۔

نوٹ :
مضمون نگار، بی بی سی اردو (لندن) کے معروف براڈکاسٹر رہے ہیں۔
***
فیس بک : Raza Ali Abidi
رضا علی عابدی

The codes of pronunciation. Article: Raza Ali Abidi

1 تبصرہ:

  1. A must read for those who boast they are urdUdān bit niether pronounce properly nor write.om top of it there's cut & paste culture on social media!

    جواب دیںحذف کریں