جدید قلمکار بننے کے آسان طریقے - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-03-05

جدید قلمکار بننے کے آسان طریقے

modern-writer
آجکل بہت ہی محتاط رہ کے وقت کی پابندی کر رہا ہوں ورنہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب صبح ہوئی اور رات گزر گئی۔
زندگی میں آپ کو کبھی نہ کبھی ایسا کرنا ہی پڑتا ہے ورنہ آپ کوئی بھی مثبت کام نہیں کر سکتے۔ خیر میں بتا رہا تھا کہ وقت کی پابندی کیسے کی جاتی ہے، پہلے تو آپ اپنے کام کی حد بندی کر دیں کہ آپ اس کیلئے کتنے مخلص اور ایماندار ہیں پھر اس کام میں پوری جانفشانی سے لگ جائیں۔ کامیابی وقت سے پہلے قدم بوس ہوگی یہ ہمارا مجرب وعدہ ہے۔ آپ کامیاب قلمکار کیسے بنیں ؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان ہے جتنا دوسرے کے حصے کا حلوہ چالاکی سے خود ہضم کرنا۔

آپ کو سب سے پہلے تو یہ جاننا ہوگا کہ ہر شعبے کے مقبول ترین دانشور کون ہیں؟
مثلاً اگر آپ کی سائنس بات کر رہے ہیں تو سائنسی انکشاف کرنے سے قبل اپنی تحریر میں کچھ چنندہ نامور سائنسدانوں کا اضافہ کیجیے اور اپنی بات کو معتبر بنا لیجئے جن میں الفریڈ نوبل، نيوٹن، آئنس ٹائن، جان ہاپکنس، عبد الکلام (اگر پڑوسی ملک سے ہیں تو "ابوالفاخر جے اے" سے کام چلائیے) ، عبد القادر خان (اگر ہندی ہیں تو "اے قیو خان" سے کام چلا لیجئے) جیسے نام شامل ہوں۔ اگر ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کی بات چل رہی ہے تو جیمس واٹ کا ذکر ہی سند کی حیثیت رکھتا ہے، اس سے زیادہ قدیم ماہرین کو بھول کر بھی ذکر مت کیجیے گا، کیونکہ عام قاری نہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ہی انہیں تسلیم کرتے ہیں اسلئے آپ کی بات معتبر نہیں بن سکتی۔

اگر آپ کی شاعری رو بہ تنزّل ہے تو شاعری کی ٹوٹی ٹانگ کو کسی استاد سے تصحیح کرانے کی قطعی ضرورت نہیں، بلکہ اسے حسبِ موضوع اور کلمات کسی بھی نامور شاعر کی طرف منسوب کر کے نشر کر دیجئے، اگر شاعری نخچیر و خواہش، ولی و تصوف، بادہ خواری و توبہ پر مشتمل ہے، تو غالب کا لاحقہ لگا دیں۔ تصوف قوم و ملت، شاہین و باز ،خودی بیخودی جیسے کلمات پر مشتمل ہے تو علامہ اقبال کا نام جوڑ دیں۔ انقلاب، شباب و شراب کا ذکر ہے تو جوش ملیح آبادی کافی ہیں۔ گھن گرج، جوش و خروش، قوم و بد عنوان سیاست داں کے خلاف شاعری کا منہ موڑنے کیلئے فیض احمد فیض و حبیب جالب مفید ہونگے۔ رومانی شاعری کیلئے فراز، ساگر، محسن، قیس، پروین شاکر وغیرہ کا اضافہ سودمند ہوگا۔

آجکل اقوال زریں اور حکمت و دانائی کی باتیں لکھنے پڑھنے كا بھی ٹرینڈ چل پڑا ہے جس کیلئے آپ كو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنی تخلیق میں پروسنے کیلئے قارئین کا لحاظ کرنا اشد ضروری ہے, اگر قارئین کالج یا یونیورسٹی کے ہیں تو خلیل جبران، کیٹس، نیتشے، شیکسپیئر، بیکن، مارٹن لوتھر اور سگمنڈ فرائیڈ وغیرہ کافی ہونگے۔
کالجیز میں بھی ایک خاص بات کا خیال رکھنا چاہیئے اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں خطاب ہو تو سر سید احمد خاں، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مہاتما گاندھی اور محمد علی جوہر، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جواہر لعل نہرو اور لینن، بنارس ہندو یونیورسٹی میں پنڈت دین دیال اپادھیائے وغیرہ کا ذکر لازمی ہے۔
اسی طرح مدارس میں بھی بانیانِ مدرسہ کی عظمت کے بت چھوٹے بڑے حجم میں موجود ہیں اگر کسی مسلکی ادارے میں جائیں تو "قاعدہ برعکس" کا استعمال نہ کرنا بہت بڑی بھول ہوگی۔
اگر قارئین عربی داں طبقہ ہے تو البیرونی، احمد ابن شاكر، الجزری، ابن خلدون، ابن بطوطہ، عقاد، طحہ اور آزاد وغیرہ کو ذکر کر دیں۔

بڑے بڑے مقالے میزائل کی رفتار سے تیار کرنے کے بھی کچھ مفید گُر ہیں جس کیلئے نامور قلمکاروں کی کتابوں یا تحریروں کو سرسری نظر سے پڑھ لیں اور ان کے پیرا گراف کو کمالِ مہارت اور سلیقے سے لفظوں کی ہیر پھیر کر کے ترتیب دے لیں۔
بس جناب، صدی کی "بہترین ریڈی میڈ تحریر" حاضر ہے۔
لیکن یاد رہے "فرید زکریا" کی طرح بھول کر بھی پیرایہ جوں کا توں استعمال نہ کریں، ورنہ کمبختے سافٹ ویئر سے گرفت و مواخذہ ہو سکتا ہے۔

ان مؤلفات اور تحریروں کو جلی حروف کے ساتھ آپ سوشل میڈیا کی دنیا میں اپنے نام کے ساتھ "بڑے فخر" سے پیش کر سکتے ہیں اور بیشمار لائکس، کومینٹس، شیئرنگس، میسجیز، مبارکبادیاں، بدھائیاں اور نیک تمنائیں وصول کر "مفکرینِ جدید" کے صفِ اول میں شامل ہو سکتے ہیں۔

بلندیوں پہ پہنچنا کوئی کمال نہیں
بلندیوں پہ ٹھہرنا کمال ہوتا ہے

اس کامیابی اور حصولیابی پر مغرور ہونے کی چنداں ضرورت نہیں بلکہ نہایت عاجزی و فروتنی کے ساتھ سوشل میڈیا پر ملاقات کرتے اور داد و تحسین وصولتے رہیں نیز تہجد گزار کی طرح نالہائے شب کے مثل ہر وقت اپنے مداحین کو جواب، جواب الجواب اور شکریہ ادا کرتے رہیں۔
اگر میری طرح آپ کے بھی "پبلشر" سے خصوصی مراسم و تعلقات ہیں تو اپنی کاوش کو "جملہ حقوق بحق مؤلف و ناشر" لکھ کے بھی نشر کر سکتے ہیں۔

محمد عابد رفیق سدھارتھ نگر (اترپردیش) سے تعلق رکھتے ہیں، جامعہ سلفیہ بنارس سے عالمیت و فضیلت کی تکمیل کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم-اے (عربی) اور جامعہ دہلی سے اڈوانس ڈپلومہ حاصل کیا اور ان دنوں دہلی کے میڈیکل ٹورزم شعبہ میں مترجم و منتظم طبی دؤلی کے عہدہ پر فائز ہیں۔

***
R 289/1, SirSyed Road, Joga Bai Extension, Jamia Nagar, New Delhi -110025
Email: abidkhandeshi[@]gmail.com
Facebook : Abid Rafique
عابد رفیق

The tactics of a modern writer. Article: Abid Rafique

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں