آن لائن اردو صحافت ۔ عصری اقدار اور تقاضے - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-01-10

آن لائن اردو صحافت ۔ عصری اقدار اور تقاضے

online-journalism
ڈیجیٹل جرنلزم یعنی آن لائن صحافت موجودہ دور میں اردو زبان کے لیے بھی کوئی نئی بات نہیں رہی ہے ۔ مشہور زمانہ بی۔بی۔سی کی ویب سائٹ ، وائس آف امریکہ ، جرمنی سے ڈوئچے ویلے ، صدائے روس ، مشرق وسطیٰ سے العربیہ اور پڑوسی ملک پاکستان سے جنگ ، ڈان کے علاوہ سینکڑوں قومی و علاقائی اخبارات کی اردو ویب سائٹس عرصہ دراز سے انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کے تقریباً تمام اہم اردو اخبارات اپنے پرنٹ ایڈیشن کے ساتھ ویب ایڈیشن بھی جاری کرتے ہیں جن میں منصف ، سیاست ، راشٹریہ سہارا ، انقلاب ، اعتماد ، اردو ٹائمز ، صحافت ، ہندوستان اکسپریس ، اخبار مشرق ، اودھ نامہ ، ہمارا سماج ، عزیز الہند کے علاوہ دیگر بہت سے علاقائی اخبارات شامل ہیں۔ مگر یہ صورتحال تھوڑی تشویشناک ہے کہ جدید عصری تقاضوں کے مطابق ہندوستان سے شائع ہونے والے اردو اخبار معدودے چند ہی ہیں۔
عصری آن لائن صحافت کی یوں تو ڈھیر ساری خصوصیات گنائی جا سکتی ہیں مگر سب سے بڑی خصوصیت مطلوبہ مواد کی فوری تلاش میں سہولت کی عام دستیابی ہے ۔
گلوبل ولیج یا گوگل ایج کے دور کا صارف آج کسی نشریاتی ادارے یا اخباری ایجنسی کا قیدی نہیں رہا ہے ۔ وہ براہ راست انٹرنیٹ کے کسی سرچ انجن کے سہارے مطلوبہ مواد اپنے مطالعے یا اضافۂ معلومات کی خاطر حاصل کر لیتا ہے چاہے وہ داعش جیسی انتہا پسند تنظیم سے متعلق مواد ہو، یا مسلم دنیا کی کشمکش کی صورتحال یا برصغیر کی سیاست و سماجیات کے اتار چڑھاؤ کے مسائل ہوں یا کھیل و تفریح کی دنیا کی خبریں ہوں۔ دنیا کا کوئی موضوع ایسا نہیں جسے کی۔بورڈ یا موبائل کے ذریعے چند الفاظ کو لکھ کر اس سے متعلق تازہ ترین خبر یا معلومات حاصل نہ کی جا سکیں۔

بین الاقوامی زبانوں کی کمپیوٹر میں شناخت کے واحد نظام کے طور پر ہرچند کہ "یونیکوڈ" کا اجرا 1996 میں ہو گیا تھا مگر اردو زبان کی شمولیت اس نظام میں 1999 میں ہوئی اور ونڈوز۔2000 وہ پہلا آپریٹنگ نظام تھا جس میں باقاعدہ اردو کی بھی سپورٹ رکھی گئی تھی۔ ان 14 سالوں کے دوران انٹرنیٹ پر تلاش کے قابل تحریری اردو زبان نے جو ترقی کی ہے وہ آج ہم سب کے سامنے واضح ہے کہ سرچ انجنز اردو رسم الخط میں کی گئی تلاش کے بہتر نتائج پیش کرتے ہیں۔ بطور مثال اگر کسی سرچ انجن میں "زاہد علی خان سیاست" کے الفاظ تلاش کیے جائیں تو نتائج کے صفحہ پر سیاست کی ویب سائٹ کے روابط سب سے اوپر نمودار ہوتے ہیں اسی طرح "مجلس اتحاد المسلمین اعتماد" کے الفاظ کی تلاش پر روزنامہ اعتماد کے مختلف صفحات کے لنکس ہمیں دستیاب ہوں گے ۔

آن لائن جرنلزم کی خصوصیت یہی ہے کہ متعلقہ مواد کی فوری تلاش کی سہولت نے جہاں آسانی بہم پہنچائی ہے وہیں تحقیق و تفتیش کی ذمہ داری بھی صحافیوں پر عائد کی ہے ۔ ہمارے سامنے کسی موضوع سے متعلق لامتناہی مواد موجود ہے اور اس میں سے سچائی کو ڈھونڈ نکالنا ہے تاکہ درست معلومات کی رسائی قارئین یا ناظرین تک ہو سکے بصورت دیگر کاہلی ، لاپروائی یا حد سے زیادہ جذباتیت عوام میں صحافت کے معیار اور اعتماد کو کھونے کا سبب بنے گی۔
روایتی صحافت کے مقابلے میں آن لائن جرنلزم نے زبان کا مسئلہ بھی بڑی حد تک ختم کر دیا ہے ۔ گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے دیگر زبانوں یا معاشروں کے اصل مواد تک پہنچتے ہوئے کسی موضوع کے حقائق کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ یعنی کسی خبر کی سرخی کے انگریزی الفاظ کا متعلقہ زبان میں ترجمہ اور پھر اس ترجمے کی سرچ انجن تلاش کے ذریعے اس معاشرے یا ملک کی متعلقہ خبروں کا گوگل ترجمہ ہی کے توسط سے مفہوم حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

اگر صحافت صحت مند جمہوریت کا چوتھا ستون ہے تو سب سے پہلے خود اسے ایک محتسب کی ضرورت لاحق ہے ۔ کیونکہ انصاف یہ نہیں کہ کوئی خود کو احتساب سے مستثنیٰ کر کے دوسروں کی جانچ پڑتال کو اپنا حق باور کرے ۔ یہی سبب ہے کہ گذشتہ زمانے کے برعکس آج کے انٹرنیٹ دور میں تحقیقاتی صحافت کو زیادہ معتبر اور اہمیت و افادیت کے قابل باور کیا جا رہا ہے ۔ آن لائن صحافت پر عبور رکھنے والا ایک صحافی متعلقہ دستاویزات کی چھان بین کرتے ہوئے ممکنہ غلطیوں اور مفروضوں کا پتا چلاتے ہوئے درست نتیجے کے زیادہ قریب پہنچ سکتا ہے ۔

لیکن جہاں تک اردو کی تحقیقاتی صحافت کا سوال ہے ، یہ امر باعث تشویش ہے کہ دیگر زبانوں کے بالمقامل معیار و تحقیق کے بجائے جذباتیت و اشتعال انگیزی پر زور دیا جا رہا ہے ۔ اس کی ایک حالیہ مثال روضہ نبوی کے مقام کی تبدیلی کے حوالے سے دو برطانوی اخبارات کی آن لائن رپورٹ کو بغیر تحقیق کے ، ایک مخصوص نقطہ نظر سے شائع کرنا اور عوام کے جذبات کو بھڑکانا تھا۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی اصل حقائق کی جڑ تک پہنچے بغیر اس مسئلہ کو بھرپور طریقے سے اچھالا گیا۔ بعد کے واقعات اور خود ہمارے ملک میں موجود سعودی سفارتخانے کی وضاحت نے اصل منظر نامہ سے عوام کو آگاہ کیا کہ اس افواہ کی حقیقتاً کوئی بنیاد نہیں تھی۔ حالانکہ اگر کوئی اردو صحافی تھوڑی سی محنت کرتا اور اس موضوع پر عربی اخبارات کے مضامین اور تجزیوں کا سرسری ترجمہ ہی دیکھ لیتا تو اس پر حقیقی صورتحال یقیناً روشن ہو جانی تھی۔

دوسری مثال داعش کے معاملے میں روزنامہ’’ قاصد‘‘ دہلی کے مدیر اشہر ہاشمی نے اپنے ایک اداریہ میں پیش کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : "پورا عالمی میڈیا اس وقت عالم اسلام کی جو تصویر پیش کررہا ہے وہ اصل سے بعید، پیچیدہ اور گمراہ کن ہے ۔ ہم بڑے شوق سے یہ تمام خبریں چھاپتے ہیں یہ جانے بغیر کہ اصل واقعہ کیا ہے ۔ صرف ایک مثال سامنے رکھیں۔ غزہ میں حماس کے خلاف جس وقت اسرائیلی وحشت اور درندگی کا بازار گرم تھا اسی وقت عراق اور شام میں داعش بھی شریک کلمہ مسلمانوں پر ویسی ہی بربریت کا مظاہرہ کررہی تھی جیسی بربریت کا مظاہرہ غزہ میں تھا۔ لیکن عالمی پریس غزہ کو اچھال رہا تھا ۔عراق کی صورتحال کی پردہ پوشی کررہا تھا۔ ریکارڈ ہمارے سامنے ہے کوئی بھی اردو اخبار اٹھا کر دیکھ لیں۔ غزہ کی خبریں ان کے احتجاج، رد عمل، بیان بازی سے اخبارات بھرے پڑے ہیں۔ 25 سال جنگ سے تباہ حال عراق میں بچی کھچی امید پر بھی پانی پھیرنے والی ایک زیادہ سفاک اور تباہی خیز مہلک طاقت داعش کے خلاف نہ کسی رنج کا اظہار ہوا نہ احتجاج کا۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خبروں کے انتخاب اور ترسیل اور اشاعت میں توازن لانے کی کوشش کے ساتھ اس کا لحاظ رکھا جائے کہ اردو پریس مغرب کے پروپیگنڈہ میں شریک نہ ہو۔"

آن لائن جرنلزم نے بلاشبہ اشاعتی ذرائع ابلاغ کے بالمقابل چند نئے اقدار کو عروج پر پہنچایا ہے ۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ اخبار کی زندگی ایک روزہ ہوتی ہے مگر آج کی آن لائن صحافت نے اس تصور کو یکسر ختم کر دیا ہے ۔ جس کا ایک فائدہ جہاں تحقیقاتی صحافیوں کو موضوعاتی تحقیق کے حوالے سے گذشتہ ایام کے مواد تک بآسانی رسائی کے ذریعے حاصل ہوا ہے تو زبان و ادب کی درستگی کے ہمہ جہتی مواقع نے بھی عام قاری یا ناظر کو مستفید کیا ہے ۔
خبر یا مضمون کی کسی بھی وقت تدوین یا رد و بدل و اضافہ آن لائن صحافت کی خصوصیات میں شامل ہے ۔ جبکہ اردو صحافت کے حوالے سے عموماً یہ شکایت عام ہے کہ پروف ریڈنگ کی غلطیاں اور لسانی اصول و ضوابط سے صرف نظر کیا جاتا ہے ۔ اشاعتی ذرائع ابلاغ میں شاید یہ خامی قابل نظرانداز ہو کہ گذشتہ دن کے اخبار کو نہ کوئی پوچھتا ہے اور نہ ہی وہ محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ مگر یہی بات آن لائن صحافت کے اصول و اقدار کے حوالے سے درست نہیں کہلائی جا سکتی۔ کیونکہ آن لائن اخبار صرف ایک دن کے لیے نشر نہیں ہوتا بلکہ عین دوسرے دن سے تاریخ و تحقیق کا قابل دسترس حصہ بھی بن جاتا ہے ۔ اور سرچ انجن قاری کو اس کی تلاش پر صرف وہی بتائیں گے جو اخبار کی ویب سائٹ پر محفوظ ہو۔ غلط املا یا صرف و نحو کی خامیوں کے سبب ایک تو درست مواد متلاشی کی دسترس تک پہنچ نہ پائے گا ، دوسرے ایک غلط زبان انٹرنیٹ سرچنگ کے ڈیٹا بیس میں فروغ پاتی جائے گی۔ اور بہت ممکن ہے مستقبل کا اردو صحافی انہی سرچ انجنز کے نتائج کے حوالے سے عام قاری یا ناظر کو یہ باور کرائے کہ لفظ عوام "جمع مذکر" نہیں بلکہ "واحد مونث" ہے ۔ درست لفظ "برافروختہ" نہیں "بروفراختہ" ہے کیونکہ گوگل سرچ کے ذریعے لفظ "بروفراختہ" بھی کئی اردو خبروں اور مضامین میں مل جاتا ہے ۔
لہذا یہ ذمہ داری بھی آن لائن صحافت سے وابستہ افراد اور اداروں کی ہے کہ وہ درست زبان کی حفاظت اور انٹرنیٹ پر اس کے فروغ کی خاطر خامی کی نشاندہی پر تدوین کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے زبان کے تئیں اپنی ذمہ داری کا فرض نبھائیں۔

ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہے ۔ اس مقولہ نے آن لائن جرنلزم کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے ۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اشاعتی ذرائع ابلاغ پر نشریاتی ذرائع ابلاغ کی ایک لحاظ سے برتری تصویر اور آیڈیو ویڈیو کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے ۔ سوشل میڈیا پر موقع کی مناسبت سے تصویر یا ویڈیو کی فوری اشاعت نے کس قسم کے انقلابات لائے ہیں یہ تقریباً ہر عام آدمی جانتا ہے ۔ مگر اس سہولت کے منفی استعمال نے آن لائن جرنلزم کی شہرت کو نقصان ہی پہنچایا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ مغربی مقالہ نگار اسٹیفن وارڈ نے آن لائن جرنلزم کی اخلاقیات و اقدار کے حوالے سے تحریر کردہ مضمون میں ڈیجیٹل تصاویر کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے کہا ہے کہ "بآسانی تصاویر کھینچنے ، آن لائن نشر کرنے اور پھر اس میں ہیرا پھیری کرنے کے بڑھتے واقعات نے فوٹو جرنلزم کے ان روایتی اصول و اقدار پر سنگین ضرب لگائی ہے جو غیر ڈیجیٹل دور میں تصاویر یا ویڈیو کی نشر و اشاعت کے لیے مدون کیے گئے تھے ۔"
ایسے واقعات آن لائن اردو صحافت میں بھی دیکھے جا رہے ہیں جس کے سدباب کی جانب انفرادی ، اجتماعی اور ادارہ جاتی سطح پر توجہ دی جانی چاہیے ۔

موجودہ دور میں آن لائن صحافت کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا باور کیا جاتا ہے جس میں فیس بک ، ٹوئٹر ، گوگل پلس ، پن انٹرسٹ ، لنکڈ ان ، ٹمبلر ، انسٹاگرام ، فلکر وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ اشاعتی ذرائع ابلاغ پر آن لائن صحافت کی واضح برتری "بریکنگ نیوز" کے حوالے سے مانی جاتی ہے ۔ لہذا ان تمام میں مقبول ترین سوشل میڈیا کا مقام "ٹوئٹر" نے حاصل کیا ہے ۔ اس نے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم مثلاً فیس بک اور گوگل پلس کے مقابلے میں جتنی تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ درحقیقت ٹوئٹر ایک ایسا پلاٹ فارم ہے جس کے ذریعے کوئی بھی صحافی یہ جان سکتا ہے کہ کسی بھی لمحے دنیا میں کب کہاں اور کیسے کیا ہو رہا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ انگریزی اور دیگر غیرملکی زبانوں کے اخبارات کے صفحہ اول کے پرنٹ ایڈیشن کی سرخیاں ٹوئٹر ہی کی بریکنگ نیوز کے سہارے طے ہوتی ہیں۔ ہندوستانی میڈیا (انگریزی اور ہندی) کی نامور ہستیاں ، سیاست داں ، صحافی ، سماجی جہدکار اور فلمی شخصیات وغیرہ ٹوئٹر پر جہاں فعال نظر آتی ہیں وہیں عوامی ذہن سازی کا ہنر بھی ان کی ٹوئٹس سے نمایاں نظر آتا ہے ۔ گو کہ ٹوئٹر پر آج سے ڈھائی برس قبل دائیں سے بائیں لکھی جانے والی چار زبانوں (اردو ، عربی ، فارسی اور عبرانی) کی سہولت فراہم کی گئی تھی مگر اس کے باوجود ہندوستانی اردو صحافت سوشل میڈیا کے اس اہم ترین پلیٹ فارم پر کم ہی نظر آتی ہے ۔ اردو میں ٹوئٹ کرنے والے ہندوستانی اردو صحافیوں کی تعداد شاید 20 سے بھی کم ہوگی۔ جبکہ پڑوسی ملک پاکستان سے یہی تعداد بلامبالغہ 100 سے اوپر ہے ۔
ہندوستانی اردو صحافیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ رومن اردو یا انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو رسم الخط میں بھی ٹوئٹ کرنے کے رجحان کو فروغ دیں۔ یا کم از کم اردو کے مقامی یا علاقائی اخبارات کی اہم سرخیوں کو ہی ٹوئٹ کر کے اپنی زبان کو سوشل میڈیا پر عوامی طاقت کا منبع بنایا جا سکتا ہے ۔

برقی و مواصلاتی تکنالوجی کی تیزرفتار ترقی کے باعث آج دنیا ایک مختصر سے گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ اب دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہونے والا واقعہ یا سانحہ لمحہ بھر میں دنیا کے کونے کونے میں ہر زبان میں پہنچ جاتا ہے ۔ آن لائن صحافت نے ابلاغی و مواصلاتی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ حاصل کیا ہے ۔ اردو زبان کے صحافیوں کو بھی اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ آگے آ کر جہاں اپنی زبان اور تہذیب کی بقا و ترقی میں حصہ لینا چاہیے وہیں اپنی خداداد لیاقت و صلاحیتوں کی بین الاقوامی شناخت کے مواقع سے بھی وہ فیضیاب ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ قارئین و ناظرین بھی جو کسی سبب اپنے ملک و معاشرے سے دور ہیں کسی غیر زبان کے بجائے اپنی ہی اردو زبان کے ذریعے اپنے وطن اور ہم وطنوں سے رابطے میں رہنے کی سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

(20/ستمبر 2014 کو شعبہ اردو گری راج گورنمنٹ کالج نظام آباد [تلنگانہ] کے ایک روزہ قومی سمینار بعنوان "اردو ادب تہذیبی قدریں، ماضی حال اور مستقبل" میں یہ مقالہ پیش کیا گیا۔)

***
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
16-8-544, New Malakpet, Hyderabad-500024.
taemeernews[@]gmail.com

syed mukarram niyaz
Syed Mukarram Niyaz
سید مکرم نیاز

Online urdu journalism - contemporary values & demands

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں