بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا - مکرم نیاز کے ساتھ ایک دوپہر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2017-02-01

بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا - مکرم نیاز کے ساتھ ایک دوپہر

Allama Aijaz Farrukh
پروردگارِ عالم رزاق متین ہے۔ غیب سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اور اپنے بندوں پر نعمتوں کا نزول فرماتا ہے۔ اس بات پر میرا ایمان اور یقین تو تھا ہی، مگر مجھ جیسے عاصئ پُر معاصی پر اس کا فضل و کرم دیکھیے کہ کل میں نے عزیزی مکرم نیاز سلّمہ کو ٹیلیفون کیا کہ میں شام کو کچھ دیر کے لیے ان سے ملنے آیا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کچھ تامل کے ساتھ کہا: "میری خوش بختی ہوگی، آپ کے قدم رنجہ ہونے سے میرے گھر کی روشنیاں بڑھ جائیں گی۔ لیکن جو اگر ناگوارِ خاطر نہ ہوتو بجائے آج شام کے کل دوپہر تشریف لائیں۔ ورنہ تو ہر دم دروازہ کھلا ہے، گھر کا بھی اور دل کا بھی۔"
آپ تو جانتے ہیں کہ یہ جادو کا پٹارہ جسے آج کل کے لڑکے کمپیوٹر کہتے ہیں اور ساری دنیا کو ہتھیلی میں لئے لئے پھرتے ہیں۔ مجھے تو یہ نئی پود ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ کمبختوں نے میرا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر چہ کہ میں اپنے جہل سے مطلع تھا۔ اپنی علمی ناداری کا میں مؑعترف ہوں ۔ میری تہی دامنی کو مجھ سے بہتر کون جانے ہے، پھر بھی میرے نام کے آگے "علامہ" کا لفظ مجھے اچھا لگتا ہے۔ اور سچ پوچھیے تو راگ راگنیوں کے سارے سُر پھیکے۔ بس یہ سُر میرے کانوں میں رس گھولے ہے۔ ایک حکیم نے بڑا ہی پُر حکمت جملہ کہا تھا کہ آدمی اپنی زبان سے پہچانا جاتا ہے، اسے قابو میں رکھو۔ سچ کہا تھا۔ سواری اور زبان قابو میں رہے تو زیب دے جائے ہیں، لیکن یہ نامراد زبان بتیس سپاہیوں کے کٹھرے میں اسیر لیکن پہرہ توڑ کر نکل پڑتی ہے اور بے محابہ و بے مقنع خوب خوب چلتی ہے۔ سو میں بھی اپنی چرب زبانی سے خوب خوب جلوہ آرائیاں فرماتا رہا۔ لیکن آگ لگے اس انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کو، ادھر جھوٹ سچ سے رنگ محفل جما نہیں کہ اس نئی نسل نے مٹی پلید کی۔ جھٹ سے مٹھی بھر کے کمپیوٹر پر حقیقتِ حال دکھلا کر کہہ دیا: "حضرت! ہوش کے ناخن لیجیے اور یہ غلط سلط سب اپنے پاس رکھیے۔ وہ دن گئے کہ آپ اپنے طرہ و دستارِ فضیلت سے اپنا رعب جمایا کرتے تھے۔ بالشت بھر کے لڑکوں نے میری ساری قلعی کھول دی کہ
بھرم کھل جائے ظالم! تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طرہ ہائے پیچ و خم کےپیچ و خم نکلے
میرے اندر خطرے کی گھنٹی بجی کہ جو یہ حال رہا تو اب مولوی، مولانا، عالم، علامہ، مفتی، مجتہد، کسی کی خیر نہیں۔ عمامہ، عبا، قبا تو خیر خطرے میں ہیں ہی، لگتا ہے جامع مسجد دہلی کے امام کی بھی خیر نہیں۔ وہ تو اپنے آپ کو اب بھی "شاہی امام" کے رتبے پر پاتے ہیں اور خود کو خلد آشیانی شہنشاہِ معظم حضرت شہاب الدین محمد شاہ جہاں سے کم نہیں سمجھتے۔ اچھے اچھوں کا یہ حال تو "علامہ" تیرا کیا حال؟۔ میں نے سوچا کہ جب سارا شہر دیوانہ ہوا ہو تو اب اپنی فرزانگی تو رسوا سرِ بازار کرے گی، کیوں نہ میں بھی کمپیوٹر خرید لوں۔ یہ بھی اڑتی اڑتی سنی کہ یہ جادو کا پٹارہ بے چہرگی کو چہرہ دیتا ہے اور چہروں کی کتاب کھول رکھی ہے، اسے کمبخت فیس بُک کہتے ہیں اور خوب خوب آپس میں گپ لڑاتے ہیں۔ اور وہ کوئی اور چیز بھی ہے جو لگائی بجھائی کی ماہر ہے، اسے یہ نئی پود "ٹوئٹر" کہتی ہے۔ سارے ڈاک خانے مفلوج ہوئے، اب نہ ڈاکیے کا انتظار ہے اور نہ آنکھیں دروازے کے طاق پہ رکھی رہتی ہیں کہ جانے کب ساجن کی چٹھی آئے اور ڈاکیے سے کچھ پڑھوا کر اور اور پھر باقی چٹھی اس کے ہاتھ سے چھین کر یہ کہہ دے: "بس! ڈاک بابو رہنے دو۔ باقی میں خود سمجھ لوں گی۔" کہہ کر خط دل کے قریب اڑس کر شرماتی ہوئی اندر کو بھاگ جائے اور ڈاکیہ برہن کی جلن پر دو بوند اوس کی نمی کو اپنی آنکھوں میں محسوس کرتا ہوا سب کچھ اپنے اندر چھپائے ہوئے چل پڑے۔ وہ تو خط کا مضمون بھانپ لیتا تھا لفافہ دیکھ کر۔
اب تو برقی ڈاک ہے۔ یہ بات بھی نہیں رہی کہ میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ملکہ صبا کا تخت چشم زدن میں خدمتِ حضرتِ سلیمان میں آ پہنچا۔ خود میں نے کئی بار اپنی تقریروں میں اس کا خوب خوب نقشہ کھینچا۔ میں اپنی رعنائی خیال پر بہت نازاں تھا مگر ان ناس پیٹوں نے یوں بٹن دبا کر دکھلا دیا کہ نامہ بری تو یوں چٹکی میں ہے، کہاں ہزاروں کوس کا فاصلہ اور کہاں ایک لمحہ۔ میں تو کہوں قیامت قریب ہے۔ مگر اب کون سنتا ہے "فغانِ درویش"۔
پٹارہ تو میں خرید لایا، مگر کیفیت یہ ہوئی کہ: " زبانِ یارِ من ترکی، و من ترکی نمی دانم"۔ یہ پٹارہ ٹھہرا فرنگی۔ گٹ پٹیا میں اردو کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر۔ آخر کو مجھے یہ ترکیب مجھے عزیز از جان ڈاکٹر وصی الله بختیاری، نورِ چشمی یحیی خان سلّمہ نے سجھائی کہ برخوردار مکرم نیاز طولعمرہ اس پٹارے کے تمام تارپود سے واقف ہیں، وہ آپ کی مشکل کشائی کر سکتے ہیں۔ بارے میں نے پتہ دریافت کیا، گلی پوچھی۔ آپ تصور فرمائیں، میں 74 برس کا بوڑھا۔ بقول حضرت خمار بارہ بنکوی:
پیہم طوافِ کوچۂ جاناں کے دن گئے
پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی
ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے
دامانِ یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

لیکن کیا کرتا، حالت تو یوں تھی کہ:
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی
قدم قدم اٹھاتا تھا اور اپنے حالِ زار کے مطابق شعر پڑھتا تھا:
آکے سجدہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد
بارے بعد ہزار آبلہ پائی، پہنچا منزلِ مقصود پر۔ کیفیت تو یہ تھی کہ:
آبلے پاؤں کے تکتے ہیں بڑی حسرت سے
جب کبھی نام مرا اہلِ جنوں پوچھتے ہیں

کس کس سے کہتا کہ "بات گھر کی ہے، وہ بازار میں کیوں پوچھتے ہیں" دروازے پر دستک دی تو آواز آئی "کون؟"
ہزار اضمحلال کے ساتھ میں نے کہا:" فقیرِ بے نوا۔ اعجاز فرخ عفی عنہ۔"
برخوردار سعادت اطوار، نورِ چشم مکرم نیاز سلّمہ خود برآمد ہوئے۔ چہرہ روشن روشن، علم دوستی، ادب نوازی، پیشانی پر بطورِ ورثہ لکھی ہوئی۔ وضعداری، خوش اخلاقی آشکار، میزبانی، تواضع، مسافر نوازی، اخلاق، شائستگی ہویدا، دل نے کہا
بڑا جی خوش ہوا ہم نشیں کل جوش سے مل کر
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں

میرا ہاتھ تھام کے اندر لے گئے، پھر فوراً ہی پانی لے آئے۔ ایک گھونٹ پانی گلے سے اترا ہی تھا کے تری کلیجہ تھنڈا کر گئی۔ پانی کی آبرو تو پیاس سے ہے، پیاس نہ ہو تو پانی کیا؟ ۔ لیکن مکرم نیاز نے جس محبت سے پانی پیش کیا، پی کر لگا اس میں دو بوند کوثرسے نے معطر کر رکھا ہے۔ پانی نے پیاس کو مات دے دی۔
احوال پرسی کے بعد مکرم نے کہا: "دو نوالے ما حضر ملاحظہ فرما لیجیے" میں نے کہا، گھر سے کھا کر چلا ہوں، بھوک بالکل نہیں ہے"۔ مکرم نے میری آنکھوں میں غور سے دیکھا، شاید وہاں ابھی بچپن کی بھوک کے سائے دکھائی دے گئے۔ پھر کہا: "چلیے تو، تھوڑا سا چکھ لیجیے۔ میری بیوی نے آپ کے آنے کی اطلاع پا کر خود بنایا ہے، صبح سے لگی رہی، اسے دکھ ہوگا، آپ تو یوں بھی اپنی بہو کے ہاتھ کا پکا ہوا کھاتے ہیں، یہ بھی تو آپ کی بہو ہے۔" پھر دست شوئی خود کروائی۔
ابھی پچھلے دنوں میں نے ہِل فورٹ میں معظم جاہ کے دسترخوان کا تذکرہ لکھا تھا، میں ٹھہرا زبان کا چٹورہ۔ خدا آباد رکھے میرے چاہنے والے یوں بھی میرے بہت ناز اٹھاتے ہیں۔ ڈاکٹر زینت ساجدہ کے گھر کا دیسی مرغ اور وہ بھی یہ کہہ کر مجھے کھلایا کرتی تھیں کہ "لو، یہ اور تھوڑا مرغ لے لو۔ یہ بھی تمہاری طرح ایک ٹانگ پر کھڑا رہتا تھا" ۔ نسیمہ تراب الحسن کے گھر شکم پور اور کباب۔ ابراہیم مسقطی کے گھر کا مرگ، بھنا گوشت، حلیم۔ محبوب عالم خان کے چاپس، لگن کا گوشت۔ نواب شاہ عالم خان صاحب کے گھر کی مُزبی، مرغِ مسلّم، مچھلی کے کباب، توتک اور گلِ فردوس۔ زاہد علی خان کے طعام خانے میں پتھر کا گوشت اور کریلے،لیکن اُن کے پاس پکوان اونچی دوکان کا ہوا کرتا تھا۔ رحمت یوسف زئی کے ہاں شملہ مرچ قیمہ، یخنی پلاؤ، غرض کہاں تک ذکر کروں، لیکن مکرم نیاز کے گھر کا کھانا اور اہتمام مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔
ملائی کباب، سیخ کباب، کوفتہ، بھنے ہوئے قیمے کے خستہ گولے، مٹھی کے کباب، پسی ہوئی سرخ مرچ ،اور سیب کے سرکے کی آمیزش سے بنے مرغ کباب، قورمہ، ہری مرچوں کا چٹخارے دار سالن، ترشی ہوئی لچھے دار پیاز، تازہ پودینہ اور تراشیدہ ہری مرچ ایسی کہ زمرد پر آب آ جائے۔ ایک اور سلاد میں باریک کھیرے کے قتلے، رُڑکی کی مولی، زعفرانی گاجر، بنگلوری ٹماٹر کی ایسی تراش اور ایسی تزئین کہ کھلے ہوئے سرخ گلاب کا گمان ہو۔ پراٹھے، نان نازک، لہسن اور دہی کی خوش ذائقہ چٹنی اور بریانی! بریانی تو کئی اقسام کی ہوتی ہے۔ خام بریانی، یخنی بریانی، مرغ بریانی، دم بریانی، موتی بریانی، کوفتہ بریانی، ماہی بریانی، دلہن بریانی، لیکن مکرم کے گھر بریانی کھا کر تو مجھے آغا حیدر حسن یاد آئے کہ بریانی تو جیسی یہاں الٹے پاؤں سے پکائے میں لذت آئے ویسی تو کسی اور کے سیدھے ہاتھ میں نہ پاوے۔ اتنی خوش ذائقہ بریانی تو مدتوں پہلے شاید کبھی کھائی ہو۔ کوئی پون انچ لمبا امرتسری مہکتا ہوا چاول جو خوشبو سے اپنے نسب کا پتا دیوے۔ گوشت اتنا لذیذ اور ملائم کہ پہلے ہی نوالے میں اندازہ لگا کہ کمبخت انھی جوان ہوا ہی تھا، لیکن آزارِ عشق میں مبتلا ہونے سے پہلے ذبح ہو گیا۔ تب ہی تو بوٹی بوٹی کھڑی جوانی کی گواہی دیوے ہے۔ زعفران، لونگ اور سیاہ زیرے کی مہک، اصفہان، زنجبار اور اسپین کی مہک ساتھ لائی تھی، سو مشامِ جان کو معطر کر گئی۔
نواب مسلم جنگ نے آصفِ سادس کی دعوت کی۔ ملک بھر سے ماہر طباخ بلوائے گئے۔ مہینوں تیاری ہوئی۔ 1400 أنواع و اقسام کے طعام تیار کئے گئے۔ آصفِ سادس تشریف لائے، کھانے کی میز پر مسلم جنگ نے دست بستہ دریافت کیا "حضور کیا پیش کروں؟" آصفِ سادس مسکرائے اور فرمایا "چاکنہ"۔ چاکنہ موجود نہیں تھا۔
مکرم نے مجھے میٹھا پیش کیا۔ مجھے پس و پیش تھا کہ میں شکر سے پرہیز کرتا ہوں۔ انسان بھی کتنا بد بخت ہے، جسے شرع شریف نے منع کیا، اس سے تورکتا نہیں ، لیکن ڈاکٹر کے حرام کو چھوتا تک نہیں۔ میرے پس و پیش کو دیکھ کر مکرم نے کہا،" میٹھے تو تین ہیں، لیکن آپ کم از کم یہ ایک ملاحظہ فرما لیں، مجھے یقین ہے آپ اسے فراموش نہیں کر پائیں گے، اور جو پسندِ خاطر ہوا تو میں آپ کے ساتھ بندھوا کر نذر کردوں۔" حلوہ تازہ بھی تھا، گرم بھی۔ میں نے ایک چمچہ بھر دہن میں رکھا تھا کہ زعفران و مغزیات میں گوندھا ہوا، اصلی گھی میں بھونا ہوا، گرم گرم میٹھا تھا۔ اور حلوہ بھی کاہے کا؟ آپ نے سنا ہو،نہ سُنا ہو کھا یا ہو نہ کھایا ہو، پپیتے کا حلوہ۔ نہ ہوئے میر محبوب علی خان جو ہوتے تو منصب، جاگیر،تام جھام۔ہاتھی،چترزرسب کچھ عطا کرتے، میں تو صرف اتنا کہہ کے رہ گیا:
"میرا رب رزاق متین ہے، اپنے خوانِ کرم سے اپنے بندوں کو عطا کرنے والے.! اگر اس صاحبِ خانہ کا رزق آسمانوں میں ہے تو اسے زمینوں پر نازل فرما دے۔ جو زمینوں کے اندر ہے تو اسے باہر نکال دے، جو دور ہے تو اسے قریب کر دے، جو قریب ہے تو اسے ہاتھوں میں پہنچا دے اور جو ہاتھوں میں ہے تو اس میں برکت عطا فرما۔
فنجان میں ٹوئننگ کی چائے کے بعد مکرم نے کہا، "آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟" میں نے کہا، ہاں! اور اپنے آنے کی غرض و غایت بتلائی کہ یہ جادوئی پٹارہ جو مجھ سے نہیں سنبھل پا رہا ہے، اس طلسم کدے کا راستہ اور حرفِ خفی مجھے سمجھا دو۔ میں رات بھر کھل جا سم سم کی گردان کر کے تھک گیا۔ مگر یہ نہ مانے ہے۔
مکرم نے کہا، وہ تو خیر میں بتلا دوں گا، مگر آپ...!! آپ تو شپفرز کی روشنائی والے قلم سے لکھتے ہیں، آپ تو جدید قلم بھی نہیں استعمال کرتے۔ آپ کو تو کاغذ چاہیے، صاف، سفید، بے داغ، پھر آپ خود کو کیسے بدل پائیں گے؟ مجھے حیرت ہے آپ بھی.!!
میں کیا کہتا، صرف نظریں جھکا کر اتنا کہا:
مآلِ عزتِ ساداتِ عشق دیکھ کے ہم
بدل گئے تو بدلتے پہ اتنی حیرت کیا؟

Allama Aijaz Farruq's writeup on a meeting with Mukarram Niyaz

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں