اب سیاست میں دال جوتیوں میں بٹے گی ۔۔ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-10-27

اب سیاست میں دال جوتیوں میں بٹے گی ۔۔

politics-on-pulses
اہل ہند کے مسائل ساری دنیا سے نرالے ہیں۔سیاست ہو یا حکومت، ان کی کوئی کل سیدھی نہیں۔نہ کل تھی نہ آج ہے ۔۔اناج کا مسلئہ ہو یا سماج کا۔۔ سب کچھ یا تو نا اہل لوگوں کے ہاتھ ہے یا پھر بد عنوان عمال اور عملہ کے۔ اور جو حضرات کچھ عنوان کے حامل ہیں، وہ یا تو لب بستہ ہیں یا پھر دل برداشتہ۔ ان میں دونوں قسم کے سیاسی و سماجی رہنما پیش پیش ہیں۔ ایک وہ جو مختلف سیاسی جماعتوں میں حاشیے پر رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو زندگی کو زیر و زبرکر بیٹھے ہیں، اپنی بھی اور اپنوں اورپرایوں کی بھی ۔پھر وہ چاہے کشمیر کے ہوں یا یوپی بہار کے، یا مہارشٹر و گجرات کے ۔عوام ہے کہ کسی دور میں روٹی روٹی کو ترستی تھی۔ لیکن اچھے دنوں کی خواہش میں یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ اب دال اور روٹی دونوں کو ترستی ہے۔۔بلکہ دال دال کو ترس رہی ہے۔ پتہ نہیں اس میں اتنا کالا کہاں سے آ گیا۔بی جے پی دال میں تڑکا لگانے چلی تھی۔۔ اب دال نہیں گلنے کی۔۔کیا ارہر اور کیا تور۔کیا سیاہ اور کیا سفید ۔۔ کیا ثابت اور کیا دھلی دھلائی۔لیکن اب یہ سب اچھے دنوں کے انتظار میں ذخیرہ اندوزوں کے زمین دوز تہہ خانوں میں بند کر دی گئی ہیں۔۔ بلکل ایسے ہی جیسے معصوم بے گناہ مسلمانوں کو جھوٹے معاملات میں پھنسا کر قید خانوں میں بند کردیا گیا ہے۔اور زعفرانی دنگائی دندناتے پھر رہے ہیں گائے کو لے کر۔۔اکثر ہندو اہل فکر و دانش گوشت کو گوشت کہہ رہے ہیں اور جانور کو جانور۔دنگائی ہیں کہ کبھی راجہ جی کی تصویر سینے سےلگائے۔تو کبھی سینے میں دبائے دندناتے ہیں ۔۔سب کا حال بی جے پی حکومت میں یکساں ہے۔۔ کسی ایک طبقہ کا کیا ذکر ۔۔کیا جین اور کیا بدھسٹ، کیا دلت اور کیا مہاجن، کیا سود خور اور کیا آدم خور ہر کوئی مسلمانوں کے ساتھ مل جانے کی حکومت کو دھمکی دے رہا ہے۔عجب طرفہ تماشہ ہے۔اور مسلمان بے چارہ اتنے حصوں میں بٹ گیا ہے کہ اس کے حصے میں کچھ بچتا ہی نہیں۔

الغرض، بی جے پی ہو یا کانگریس، سماجوادی ہو یا راشٹر وادی، آدرش وادی ہوں یہ برہمن وادی، آتنک وادی ہوں یا ماؤ وادی، سب کے سب مسلمانوں کے کہیں نہ کہیں محتاج نظر آتے ہیں۔ لیکن مسلمان خود اتحاد کا محتاج بن بیٹھا ہے۔۔تمام سیاسی جماعتیں آپس میں لاکھ دشمنی رکھتی ہوں لیکن مسلمانوں کی مخالفت میں پس پردہ سب متحد ہیں۔ اور اس میں نام نہاد مسلم جماعتیں بھی شامل ہیں۔اور سیاست دان بھی۔۔ پھر چاہے وہ مفتی ہوں یا شیخ۔ شاہوں کے نوازے ہوں یا خود مختار۔ اکبر ہوں یا اضغر۔ علمی ہو یا غیر علمی۔۔مسلمانوں کے علاوہ غربا کا حال اور بھی برا ہوا جاتا ہے۔جاگیردارانہ نظام نے کسان کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی لیکن اسے اتنا بے بس و مجبور نہیں کیا گیا تھا کہ اسکی نسلیں خود کشی کرتی ۔یوں بھی جمہوریت میں غریبی کو مذہب قراردے دیا گیا ہے۔اور سرمایہ داری بھگوان کے درجہ پر فائز کردی گئی ہے ۔۔ یہاں ہر ایک طاقت ور چیز قابل پرستش قرار دی جاتی ہے۔۔عزت و احترام اور خوف کے تحت پرستش کا عمل شروع ہوتا ہے پھر پتھر ہو یا مٹی، انسان ہو یا شیطان کسی کو بھگوان بنتے دیر نہیں لگتی۔۔بلآخر یہ عارضی بھگوان شیطان کو پیارے ہوجاتے ہیں۔اس ملک میں سیاسی ہو یا اعتقادی، فلمی ہو یا قلمی، امیر ہو یا فقیر، گرو ہو یا بابا، مذکر ہو یا مونث بلکہ درمیانی کے لئے بھی بھگوان بننا بہت آسان ہے۔ غریبوں کے اپنے اعتقادی مسائل ہیں۔۔لیکن واقعات گواہ ہیں کہ 'انسانی بھوک' کسی چیز میں فرق نہیں کرتی۔ جانور ہو یا انسان اور گوشت ہو یا چمڑی۔ پھر وہ چاہے "گائے ماں" کی ہو یا "رادھے ماں" کی۔پردۂ رنگیں پر بے شمار روزن کھلتے ہیں ۔۔جھانکنا ممکن نہ سہی، ایک ناقدانہ نظر ہی سہی۔چاہے جو بھی روزن ہو ۔۔جو بھی چینل ہو۔ ہر ایک روزن میں سچائی برہنہ کر دی جا تی ہے۔ یہ اور بات کہ سچا ئی کو برہنہ کرنے کی شدید چاہ میں پردے بھی عریاں کردیے جاتے ہیں۔ آگ کو آگ ثابت کرنے کی ضد میں فی الحقیقت آگ لگا دی جا تی ہے۔ دلوں میں۔ جذبات میں۔ گھروں میں۔۔ اعتبار اور اعتقاد میں۔۔

خیر سے ہند میں اکثریت و اقلیت کا عقدہ بہ آسانی کیا جاسکتاہے کہ یہاں عوام کی اکثریت کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی نہیں سوائے مذہب غربت کے ۔جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔البتہ غربت و دولت، مجبوری و بے بسی ، آسائیشوں اور عیاشیوں کے پیمانے مختلف ہونگے۔۔یہاں غربت ایک مذہب بن گیا ہے اور غریب بے حال ہورہا ہے۔۔متوسط طبقے کا حال ان سے بھی برا ہےکہ، یہ سر پھرا طبقہ مادی ہو یا روحانی، تنزلی کے خوف اور ترقی کی چاہ کے درمیان پس کر رہ جاتا ہے ۔۔شرفا، ادبا، اہل علم و قلم اور اہل فکر و دانش کی اکثریت اسی طبقے میں پا ئی جاتی ہے۔ انہیں میں ایسے بھی ہیں جو مذہب سیاست کو نہیں مانتے اور نہ کسی سیاسی بھگوان کو۔۔وقت آنے پر اپنے اعزازات و انعامات مع سود، تحریر و تقریر کی صورت لوٹا دیتے ہیں۔ چہ جائیکہ انہیں پھر راجہ کے دربار سے پیار بھری دھمکی موصول ہو یا دھمکی بھرا پیار۔دنیا میں یہی وہ متوسط طبقہ ہے جو دراصل، تہذیب و تمدن اورمعیشت کے پہیوں کو چلاتا ہے۔اور حکومتیں بھی انہیں سے بنتی اور بگڑتی ہیں ۔۔اور انہیں کے ذریعے عوام کو سبز باغ بھی دکھایا جاتا ہے ۔ راجہ جی اور انکے مصاحبوں نے بھی سبز باغ دکھائے تھے۔جو دلوں کے زخم ہرے کر گئے۔ جستہ جستہ اب اہل فکر' فکر مند ہورہے ہیں۔۔ جو بے فکرے تھے وہ بھی اب فقرے کسنے لگے ہیں۔جو شکم سیر تھے وہ سوا سیر ہورہے ہیں۔ سب منہ بنا بنا کر یہی تاثر دے رہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں۔۔یہ منہ اور مسور کی دال ۔ لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ کس منہ سے اور کسے کہہ رہے ہیں۔۔ راجہ جی کو یا ان کے مصاحب کو۔یا انکے اتالیق کو۔۔مودی راجہ کو تخت پر جلوہ افروز ہوتے دیکھ ایک عرصہ ہوگیا ہے۔ خالی کرسی دال اور گوشت کی طرح منہ چڑاتی ہے۔دائیں بازو ہوں یا بائیں بازویا بے بازو، شہ زور ہوں یا بے زور۔۔ سب کرسی کو للچا ئی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ جیسے شاہاکاری آجکل دال کی طرف دیکھتے ہیں۔۔لوگ کہتے ہیں لاکھوں ٹن دال کی ذخیرہ اندوزی "بلیک منی" کے شوشہ سے کہیں زیادہ رسوا کن ثابت ہوگی۔ لیکن سنا ہے رسوائی مقدر ہونا ضروری ہے، پھر چاہے مقامی ہو یا عالمی۔۔راجہ جی کا کیا ہے۔عالمی سفر میں ہی پانچ سال کاٹنے کا تہیہ کر بیٹھے ہیں۔۔تھکے تھکے سے نظر آتے ہیں ۔۔کوئی راجہ جی سے پوچھے کہ ۔ عمر گزرے گی اب تھکان میں کیا۔۔اب عوام آسمان کی سمت دیکھ دیکھ کر پوچھتی ہے کہ ۔ یہی اک شخص تھا جہان میں کیا!۔۔بے چاری عوام ۔ اب وہ بھی ذو معنی سوچتی ہے اور ذو معنی بولتی بھی ہے۔عالمی معیشت میں زوال نے کڑی پتلی کر دی ہے اور یہاں سیاست دان ہیں کہ غریب عوام کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔۔انکی دال نہ گلی تو گوشت کو سڑنے چھوڑ دیا ہے۔۔ اب کیا دال گلے گی اور کیا گوشت۔اکثر دال خوروں کی عقل ٹھکانے آئے گی اور گوشت خور بھی عقل کے ناخن لیں گے۔۔راجہ اور اسکے مصاحب تو ویسے بھی اس نعمت بے بہا سے مبرا ہیں۔دال اور گوشت سے نہیں۔ عقل سے۔اب نہ ہی حکومت کی دال گلے گی اور نہ ہی کہیں گوشت گلے گا۔۔ وہ دن دور نہیں جب جعلی جمہوری میں دال جوتیوں میں بٹے گی ۔۔اب کیا کیا جائے کہ دال اور گوشت کو گلنے کے لئے آگ ضروری ہوتی ہے۔اور یہ آگ دونوں طرف برابر لگتی نہیں۔۔ اکثریکطرفہ ہی لگائی جا تی ہے۔۔

مسلمان اگر ٹھان لے تو ایک ماہ گوشت کھائے بغیر رہ سکتا ہے۔۔بلکہ ایک ماہ آرام سے وہ صرف سحری و افطار پر گزر بسر کرسکتا ہے۔کرتا آیا ہے ۔۔ ایک ماہ بہت ہے ۔متعصب سیاست کی چمڑی ادھیڑنے کے لئے۔ سرمایہ داروں اور زعفرانی دنگائیوں کے ہوش بھی ٹھکانے آجائیں گے۔۔لیکن مسلمان کا کیا ہے۔ سوچتا بہت ہے کرتا کچھ نہیں۔صرف سوچنے کو ہی عبادت سمجھتا ہے۔پتہ نہیں اس سوچ کی عبادت کا خالق حقیقی کے پاس کتنا اجر ہوگا۔بہر حال کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوگا۔یہ اسی سوچی بے سمجھی عبادت کا ماحاصل ہے کہ ہند و پاک میں اکثر مساجد صرف مقام عبادت تک محدود کر دی گئیں ہیں۔عموما ٢٤ گھنٹے میں مشکل سے اوسطا ٢-٣ گھنٹے مساجد کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ الکتاب کے کچھ حصوں کو تو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جاتا ہے اور دیگر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔الکتاب خود اسکی ممانعت کرتی ہے۔۔ سجدوں کی اہمیت کے ساتھ علم و قلم کی اہمیت بھی واضح کرتی ہے۔۔ بلکہ کتاب عشق کا آغاز ہی علم و قلم سے کرتی ہے۔علم بغیر ایمان کے زہر ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ ایمان بغیر علم کے نقصان دہ نہیں ہوتا لیکن فرد کی ذات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ علم کے بغیر ایمان کی روشنی محدود ہوتی ہے۔۔ فرد یا گروہ تک سمٹ کر رہ جا تی ہے۔اس سے دنیا ایمان کے نور سے نہیں جگمگا سکتی۔علم ایمان کے نور میں بے پناہ وسعت کا با عث بنتا ہے۔۔مسلمان کتاب عشق کھولتا کہاں ہے۔عشق حقیقی کو کوئی فسانہ سمجھ رکھا ہے۔عبادتوں کو ایک راز نہاں اور علوم کو شجر ممنوعہ۔۔دیکھتا نہیں ہے کہ جمہوریت میں انسانیت اصل بنیادی حق سے محروم کردی گئی ہے۔۔ایمان جو ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہے۔اور اسی ایک بنیادی حق سے وہ محروم ہے۔ اور دیگر سارے بنیادی حقوق کے لئے عالم میں ایک حشر بپا ہے۔آزادی کو کہیں پیدائیشی تو کہیں بنیادی حق قرار دے دیا گیا ہے۔ بجا ہے۔لیکن یہ آزادی تو جسم و جان اور ذہن و افکار و قلم تک محدود ہے۔روح بھی تو پیدائیشی ہے۔اور جو آزادی چاہتی ہے۔جہل اورظلم کی گرفت سے آزادی۔ لیکن اس ظلم و نا انصافی پر انسانیت بھی خاموش ہے اور مسلمانیت بھی۔۔ یہ نا انصافی ایمان بلا علم کی وجہ سے پنپ رہی ہے۔آج مسلمان کی عبادت عمومی طورپر بھلے ایمان کے نور سے جگمگا تی ہو لیکن علم کے نور سے مبرا ہے۔۔دین میں علم کو مضر و نافع علم میں تقسیم کیا گیا ہے نا کہ دینی اور عصری علوم میں ۔۔ دین حق تو نظام کائینات کے تمام علوم کا عکاس ہے۔۔ اس لئے عبادت گاہیں خاصکر مساجد جامعات و کلیات بھی کیوں نہیں ہوسکتی۔۔ اس گرانی کے دور میں جدید علوم کے مراکز کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مساجد کی ۔۔بلکہ مساجد تمام کی تمام علمی مراکز میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔۔ مساجد میں مسلمانوں کے پنج وقتیہ قیام کا حساب لگا کر فی مربع اوسط نکالنے پر پتہ چلے گا کہ، موجودہ مسلمان قدرت کی نعمتوں کے استعمال میں عقل کا کتنا استعمال کررہا ہے۔۔نعمتوں کا کتنا اسراف کرتا ہے۔ دین حق میں تو ویسے بھی ہر قسم کا اسراف گناہ ہے۔کہتے ہیں ہند و پاک میں کسی بھی ادارے کے پاس اتنی ملکیت اراضی نہیں ہوگی جتنی وقف بورڈ کے پاس ہے۔۔قوم وملت کی ملکیت بے مصرف ہوگئی ہے، بلکہ بد عنوانی، توہم پرستی، اجارہ داری ، ہٹ دھرمی، کٹ حجتی ، غیر فعال ٹرسٹ شپ اور غیر ضروری مسلکی مباحث کی نذر ہوگئی ہے۔۔اب کیا کیا جائے۔۔مادیت پرستی، مسابقت اور جہالت کے اس دور میں ہر ایک مسجد میں ایک جامعہ نہیں تو کم از کم کلیہ کا قیام ضرور ہونا چاہیے۔ اس کارخانۂ حیات کو وقت مقررہ تک توازن کے ساتھ چلانے کے لئے مسلمانوں کی شمولیت اور حصہ داری کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مسلمانوں کی عبادتوں اور دعاوں کی ۔۔آخرت فی الحقیقت دنیا سے ہی وابستہ ہے۔ اور دنیا آخرت سے۔اکثر دینی مدارس اور مساجد ایکدوسرے سے وابستہ و پیوستہ ہیں اور اہل علم و دانش کی ایک کثیر کھیپ پیدا کرنے پر قادر بھی ہیں ۔ ماشااللہ جو شرک و کفر، ایمان و ایقان، عقاید و قرائین پر بے لاگ تبصرہ کرسکتی ہے اور ہر ایک مسئلہ کا حل بھی پیش کرسکتی ہے۔۔ لیکن مذہب غربت کو چیلنج نہیں کرسکتی ۔اور اس کا کوئی حل پیش نہیں کرسکتی ۔۔

القصہ مختصر سیاسی دال کا ہے۔۔جو اب واقعی مختصر ہوا چاہتا ہے کہ راجہ کو گدی راس نہیں آرہی ہے۔ایسا عوام کہہ رہی ہے۔۔ کانٹوں بھرا تخت چین سے بیٹھنے کہاں دیتا ہے۔۔ پتہ ہی نہیں چلتا یہ کس کے بچھائے ہوئے ہیں۔۔قدرت کا کیا ہے۔۔ کب ریشم کو کانٹوں میں تبدیل کردے۔ شیفتہ فرمایا کرتے ۔۔ توبہ ہے۔سیاست میں لوہے کے چنے چبانے کے لئے دانت بھی تو ہونے چاہیے نا۔اور اگر ڈھلتی اور ناتواں عمر ہے تو پھر ہزار توبہ ۔۔ سائینسی عروج کے اس دور میں بازار سے خرید کر دانت لگوا بھی لیں تو ہضم کرنے لائق معدہ کہاں سے لائیں گے۔ فرماتے، اب مغرب اتنا بھی ترقی یافتہ نہیں ہوا کہ ایک جسم میں جہاں شاطر دماغ ہو وہاں درد مند دل کی کامیاب پیوند کاری کر سکے۔۔یا ایک اچھی اور نیک زبان کی کامیاب پیوند کاری ایسے جسم میں کی جائے جس کا معدہ حریص ہو، یا دل بے ایمان ہو۔۔پیوند کاری صرف اعضا تک محدود ہوسکتی ہے جذبات و احساسات کی کب ممکن ہوئی ہے۔۔اعضا کی پیوند کاری جمہوری سیاست و حکومت میں بھی کی جا رہی ہے۔سڑتے گلتے جسم میں کس کس اعضاء کی پیوند کاری ممکن ہو سکتی ہے۔اکثر سیاست دانوں کا خون آلودہ ہو چکا ہے۔۔مصفا خون کا نعم البدل کہاں ہوگا ۔نا بینا آنکھوں کی پیوند کاری سے نظروں کا نور تو شاید واپس آجائے لیکن شرم و حیا کا نور کہاں سے لایا جائے۔بے ایمان دل میں ایمانداری کہاں سے آئیگی ۔۔دست و بازو کی پیوند کاری سے طاقت تو بحال ہو سکتی ہے لیکن جانبازی کا جذبہ کہاں ممکن ہے۔خیر اب کیا دال اور کیا گوشت۔ سیاست دانوں نے عوام کے کھانوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ بلکہ ان کے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ چھوڑا۔کیا کھاتے پیتے اور کیا پیتے کھاتے لوگ، سب کا برا حال کردیا۔سیاست میں اب دال جوتیوں میں ہی بٹے گی۔۔

***
Zubair Hasan Shaikh (Mumbai).
zubair.ezeesoft[@]gmail.com

Politics in terms of pulses. Article: Zubair H Shaikh

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں