جانور کی حفاظت کے نام پر انسان کے مسائل سے غفلت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-03-17

جانور کی حفاظت کے نام پر انسان کے مسائل سے غفلت

maulana-nadeem-ansari
جذبات بھی عجیب چیز ہوتے ہیں، جب ان کا غلبہ ہو تو انسان صحیح غلط اور اچھا برا کچھ بھی سمجھ پانے سے قاصر رہتا ہے۔ واقعی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا اور راہِ راست پر قائم رہنا اعلا بات ہے، لیکن کیا کیجیے آج اس طرح کی باتیں تحریروں میں پڑھنے اور تقریروں میں سننے کو تو مل جاتی ہیں، لیکن عملاً ان کی تعبیر دیکھنے کے لیےآنکھیں ترس جاتی ہیں۔
گذشتہ ایام میں انتخابات کے موقع پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے حوالے سے مسلمان اور سیکولر ذہنوں کو جس بات کا سب سے زیادہ خدشہ رہا وہ یہی تھا کہ اس فرقہ پرست جماعت کے اقتدار میں آجانے کے بعد ملک کا امن و سکون غارت ہو جائے گا اور ملک کو مزید بدحالی کا سامناکرنا پڑے گا، لیکن ہمارے بعض نام نہاد’’ مفکرین‘‘ یہی راگ الاپتے رہے کہ یہ ملک ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، جس میں کسی بھی فرقہ پرست جماعت کے بر سر اقتدار آجانے سے آن کی آن میں کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ خیر اب تو ان کی آنکھوں نے بھی دیکھ لیا اور سب جان گئے کہ مناسب وقت میں مناسب تدابیر نہ کرنے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بننے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہمیں اس وقت ان کے کیے پر محض عار دلانا مقصود نہیں لیکن ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضرور چاہیں گے کہ اس وقت ملک کی اکثریت برسراقتدار جماعت سے نالاں ہے اور ملک کی سالمیت کے خواہاں حضرت آپ کی توجہ اسی جانب مبذول کرانا چاہتے تھے۔ یہ تماشۂ جمہوریت کہیے یا اور کچھ کہ باوجود ہزار خامیوں کے عوام ایک ایسی حکومت کے زیر سایہ زندگی گذارنے پر مجبور ہے، جس سے اسے کسی بھلائی کی امید نہیں۔ایسے میں اب کسی کو اچھے دنوں کی تمنا نہیں رہی اس لیے کے برے دنوں کا ملک پر اس طرح سایہ ہے کہ تمام تمنائیں کافور ہو کر رہ گئی ہیں۔ کاش کہ صحیح وقت پر بصیرت کے ساتھ ان حالات کا اندازہ کرکے مناسب اقدام کیا جاتا۔
ملک بھر میں مہاراشٹر ریاست خصوصیت سے اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں بعضوں کے منہ سے نوالا چھین لیا گیا ہے تو بعض غریبوں کے پیٹ پر لات مار دی گئی ہے۔ حیرت تو اس پر ہے کہ اس غیر قانونی عمل کو قانون کا نام دیا جارہا ہے۔اسلام میں اصلاً گائے کی قربانی بالکل جائز ہے، لیکن مسلمانوں نے اپنے وطنی بھائیوں کی خاطر ہمیشہ اس کا متبادل تلاش کرکے اوراس کی جنس کے دیگر جانوروں کو ذبح کرنے پر اکتفا کیا تاکہ ملک کی سالمیت برقرار رہ سکے۔ اس کے باوجود بنا سوچے سمجھے مہاراشٹر میں گؤ کشی کے نئے قانون کو منظوری دے دی گئی ہے، جس کے مطابق ریاست میں گائے کے علاوہ گائے کی نسل یعنی بیل اور بچھڑے ذبح کرنے پر بھی اب پابندی عائد کر دی گئی ہے ، جس کی خلاف ورزی کرنے والے کو ۵؍سال تک کی قید اور ۱۰؍ہزاررروپئے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے ۔اس قانون کے مطابق یہاں کوئی بھی بیل ذبح نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کا گوشت فروخت کرسکتا ہے۔
ظاہر ہے اس یک طرفہ فیصلے پر رد عمل ظاہر ہونا ہی تھا اور ہوا۔اس فیصلے سے مہاراشٹرمیں بیل کے گوشت کی تجارت کرنے والوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ اینیمل اینڈ میٹ کمیٹی کے صدر راجندر جھینڈے کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کا یہ فیصلہ بہت سوں کو بے روزگار کردے گا۔ لیکن ہماری شومیِ اعمال کہ حکومت کو کسی کے روزی روزگار کی کہاں پڑی ہے، اس کی نظر میں تو ووٹ بینک حاصل کرنا ہی سب کچھ ہے۔ انھیں یہ فکر نہیں کہ گؤ کشی قانون سے ایک کروڑ پچیس لاکھ بے روزگاروں کا کیا ہوگا؟ اس وقت ہمارے ملک کا واقعی کوئی بڑا مسئلہ ہے تو وہ صرف غریبی کو دور رنا اور امن و امان قائم رکھنا ہے، لیکن اس وقت یہ دونوں ہی مسئلے حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہیں۔ کبھی تو یوں گمان ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ ہے۔
اطلاع کے مطابق مہاراشٹر بھرمیں تقریباًساڑھے تین لاکھ گائے اور بیل فی الحال موجود ہیں ۔ ہر جانور کو روزآنہ ۲۰؍کلو چارہ درکار ہوتا ہے ۔ اس طرح سے ہر ماہ تقریباً ۲۵؍لاکھ ٹن چارے کی ضرورت ہوگی ۔غور کیجیے کہ آج کی مادی دنیا میں انسان پر اپنے سگے رشتے داروں کا بوجھ اٹھانا گراں گزرتا ہے اور وہ ان کے بڑھاپے سے نجات پانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اپناتے ہیں، ایسی دنیا میں وہ جانور جو اپنے مالک کے کسی کام بھی نہیں آسکتے ان کی کیا درگت بنے گی؟غریب کسانوں کو اس قانون سے سخت دھچکا لگا ہے، حکومت کو اگر یہ قانون جاری ہی رکھنا ہے تو ان کسانوں کے حق میں بھی یہ قانون بنانا چاہیے کہ جو انسان اپنا بوڑھا بیل بیچنا چاہے ہم اسے مناب قیمت دینے کو تیار ہیں۔ حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ مسئلہ کسی مذہبِ خاص کا نہیں پوری عوام کاہے۔اس قانون کا اثر جس طرح مسلمانوں پر پڑے گا وہیں بڑی تعداد میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں گے،جس سے ریاست و ملک کی ترقی میں بھی رخنا پڑے گا۔ایک بات اور کہ جس مقدار میں خوراک ان جانوروں کے گوشت کے ذریعے پوری ہوتی تھی، اتنی ہی مقدار میں دیگر اشیائے خوردنی کا انتظام بھی حکومت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوگا۔
ان سب باتوں کے بعد بھی حکومت کے اس فیصلہ کو سماج کے ساتھ ناانصافی کے مترادف قرار نہ دیا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ اس بات پر ذرا سا غور ضرور کیجیے کہ ایسے قانون بنانا بہت مشکل کام نہیں ہوتا، لیکن ان قوانین کے دور رس نتائج کا خیال کرتے ہوئے مناسب ترین فیصلے لینا اصل کام ہوتا ہے۔ خدارا اب تو ہوش کے ناخن لیجیے کہ انسان جب اپنے ی جیسے انسان کو قانون سازی کے مقام پر فائز کرتا ہے تو ایسی ہی کرشمہ سازیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔افسوس کہ آج ہماری حکومت کو جانوروں کی حفاظت کی تو فکر ہے لیکن انسانیت کے مسائل کی نہیں!

***
مولانا ندیم احمد انصاری
(ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا)
alfalahislamicfoundation[@]gmail.com
مولانا ندیم احمد انصاری

Issues of mankind neglected in the name of Animal protection. Article: Nadim Ahmed Ansari

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں