اقتدار پر قابض ہونے کے لئے فرقہ پرست طاقتوں کی آخری جنگ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-04-29

اقتدار پر قابض ہونے کے لئے فرقہ پرست طاقتوں کی آخری جنگ

اقتدار پر قابض ہونے کے لئے فرقہ پرست طاقتوں کی آخری جنگ۔ ترقی کا موضوع ترک کرکے اشتعال انگیزی پر آمادہ ۔ مولانا فضل الرحیم مجددی
یہ انتخابات کوئی ریاستی اسمبلی یا علاقائی الیکشن نہیں ہیں جس میں مقامی مفادات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے بلکہ یہ سولہویں لوک سبھا کا انتخابات ہے جو قومی حیثیت کے حامل موضوع پر لڑے جاتے ہیں اور اس کے اثرات بھی قومی سطح پر مرتب ہوتے ہیں یہ بات مسلمانو ں کو اپنی رائے دہندگی کا استعمال کرتے ہوئے یاد رکھنی چاہئے ۔ یہ بات مولانا فضل الرحیم مجددی نے کل رات اور آج صبح یہاں کی مختلف میٹنگوں اوراجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ اس میں فیصلہ قومی سطح پر کیا جاتا ہے اس لئے اگر کسی علاقائی پارٹی پر اپنی توجہ مرکوز کی جائے گی تو یہ ہماری بہت بڑی نادانی ہوگی۔جو لوگ علاقائی جماعتوں کی حمایت کی بات کر رہے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ جماعتیں کسی نہ کسی سطح پرفرقہ پرست پارٹیوں کے لئے فضا ہموار اور ان کے عزائم کی تکمیل کا سبب بنتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بارہا اس کا نظارہ ہوچکا ہے۔
انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ سماج وای پارٹی نے پارلیمنٹ میں انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل کی مخالفت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرکز کو اپنے قدم کھینچنے پڑے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر علاقائی جماعتوں نے اس بل پر کانگریس کی مخالفت کی۔یہ وہ جماعتیں ہیں جو اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں اور ان کی کامیابی میں مسلمانوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ لیکن جب مسلمانوں کے تحفظ سے متعلق کوئی بل کا معاملہ پیش آتا ہے تو یہ پارٹیاں مخالفت پر اتر آتی ہیں۔اگر یہ بل پاس ہوگیا ہوتا تو سچر کمیٹی کی ایک اہم سفارش نافذ ہوجاتی اور مسلمانوں کو پورے ملک میں تحفظ حاصل ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنج سالہ منصوبہ کے دوران مسلمانوں کے لئے سو(100) اسکول کھولنے کی بات کہی گئی ہے جس میں صرف 54 اترپردیش میں ہے۔لیکن دو سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے اکھلیش حکومت نے اس ضمن میں کوقدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی کوئی تجویز بھیجی۔ اسے صرف زمین مہیا کرنا ہے باقی سارا فنڈ مرکزی حکوت مہیا کرے گی۔ اس طرح کی پارٹیاں اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے مرکزی حکومت کو بلیک میل کرتی ہیں لیکن مسلمانوں سے متعلق اسکیم کو نانافذ نہیں کرتیں۔
مولانا نے کہا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات پر بہت باتیں کی جاتی ہیں کہ مرکزی حکومت نے کوئی قدم اٹھایا۔ کیا نفاذ کی ذمہ اری صرف مرکزی حکومت کی ہے ریاستی حکومت کی نہیں۔ مرکزی حکومت صرف اسکیم بناتی ہے اور اس پر عمل کے لئے ریاستی حکومت کو فنڈ بھیجتی ہے لیکن یہاں ریاستی حکومتیں اس پر عمل نہیں کرتیں اور ساراپیسہ واپس آجاتا ہے یا ریاستی حکومت کسی دوسرے مد میں صرف کردیتی ہیں۔
مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ فرقہ پرست پارٹی برسراقتدار آنے کے لئے آخری جنگ لڑرہی ہے اس لئے اس نے اپنی تمام طاقت جھونک دی ہے اور مسلسل اپنا لہجہ، موقف، ماڈل اور اپنی حکمت عملی تبدیل کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پارٹی پہلے بدعنوانی کا واویلا مچایا جب اس سے بات نہ بنی تو گجرات کی ترقی کا نام نہاد ماڈل پیش کیا لیکن جب اس کی ہوا نکل گئی تو اب یہ پارٹی اشتعال انگیز تقریر اور ذاتی حملے پر اتر آئی ۔
انہوں نے کہا کہ گجرات کی ترقی ماڈل میں عوام کی ترقی نہیں بلکہ کارپوریٹ اور صنتی گھرانے کی ترقی کی ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کھربوں روپے کی زمین صنتعی گھرانے کو کوڑیوں کے بھاؤ میں د ی گئی او ر ایسے قرض دے گئے جس کی ادائیگی پانچ چھ سال کے بعد سے شروع ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر گجرات کی ترقی ہوتی تو وہاں ڈراپ آؤٹ ریٹ اور غذائیت کی کمی اور شہری علاقوں میں 43فیصد مسلمان بھکمری کا شکار نہ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ اس الیکشن ہماری آپ کی اور تمام سیکولر لوگوں کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ بی جے پی قیادت والی قومی جموری اتحاد (این ڈی اے) برسراقتدار نہ آئے۔ یاد رکھئے بڑے پہلوان کا مقابلہ کوئی چھوٹا پہلوان نہیں کرتا بلکہ اسے شکست دینے کے لئے اس سے بڑا پہلوان کو لانا پڑتا ہے۔بڑا پہلوان صرف کانگریس ہے اور وہی بی جے پی کا مقابلہ کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کا مقصد اپنے امیدوار کھڑا کرکے بی جے پی کی راہ ہموار کرنا ہوتاہے۔ گجرات اس کی مثال ہے۔
انہوں نے کہاکہ میں کسی پارٹی کا رکن نہیں ہوں اور نہ ہی سیاست سے میری وابستگی ہے لیکن ہندوستانی شہری ہونے کی حیثیت سے آپ کی طرح میری بھی کچھ ذمہ داری ہے۔یہی ذمہ داری مجھے خانقاہ سے یہاں کھینچ لائی ہے۔ کیوں کہ جمہوریت کو بچاناہماری بھی ذمہ اری ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں جمہوریت اور سیکولرازم کی بقاکو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور سیکولرازم باقی رہے گا تو ہم اپنے حقوق جمہوری طرز اختیار کرکے حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پارٹی کو منتخب کرنے سے گریز کرنا چاہئے جس کے پاس مسلمانوں کو دینے کے لئے کچھ نہ ہوں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اور حکومت کے پاس دو فہرستیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو دینے کے لئے ہوتی ہے اور دوسری فہرست وہ ہوتی جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی لیکن اس وہ تمام چیزیں ہوتی ہیں جو مسلمانوں سے چھیننا ہے۔ اس لئے ہمیں ایسی پارٹی کو اقتدار میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے جو ہمیں کچھ دے سکے چھین نہ سکے۔
انہوں نے کہاکہ اگر یو پی اے تین اقتدار میں آگئی تو کم از کم ہم بارہواں منصوبہ میں مسلمانوں کے لئے جو جو اسکمیں شامل کی گئی ہیں وہ اس پر عمل درآمد کرواسکتے ہیں اور مسلم طلبہ کے لئے اسکالر شپ کی تعداد جو اس وقت 81 لاکھ سالانہ ہے اسے تین کروڑ سالانہ تک لے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاد رکھئے کسی قوم کی ترقی کا دارمدار اس کا تعلیم یافتہ ہونا ہے اور یوپی اے حکومت نے اس ضمن میں بہت قدم اٹھائے ہیں ۔ اس لئے ہم آپ لوگوں سے توسط سے پورے ملک کے مسلمانوں کے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ اس تعلیمی اور معاشی ترقی کی کڑی کو مت توڑ یے۔ ایسی حکومت کو اقتدارمیں مت لائیے جو ان اسکیموں میں روکاوٹ ڈالے۔

--

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں