شرعی عدالتوں میں مداخلت کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-02-26

شرعی عدالتوں میں مداخلت کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار

supreme-court-india
سپریم کورٹ نے آج ایک کیس پرفیصلہ صادرکرتے ہوئے کہاکہ علماء کی جانب سے جاری کیے جانے والے فتووں میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ایڈوکیٹ وشوولوچن مدن کی درخواست پرعدالت عظمی نے کہاکہ بعض ایسے سیاسی اورمذہبی امورہیں،جس میں عدالت کومداخلت کااختیارنہیں ہے۔درخواست گذارنے شرعی عدالتوں پراعتراض کرتے ہوئے چیلنج کیاتھاکہ یہ عدالتیں ملک میں متبادل نظام عدالت کارول اداکررہی ہیں،جوکہ دستورکے مغائرہے۔آل انڈیامسلم پرنسل لابورڈنے وضاحت کی کہ فتوی عوام کے لیے لازمی حیثیت نہیں رکھتا،وہ ضرف مفتیان کرام کی ایک رائے ہوتی ہے۔مفتیوں کوفتوے نافذکرنے کااختیارحاصل نہیں ہے۔مسلم پرسنل لابورڈکی پیروی کرتے ہوئے سینئرایڈوکیٹ راجورام چندرن نے کہاکہ اگرکسی فردپراس کی مرضی کے بغیرفتوی نافذ کیاجاتاہے تووہ عدالت سے رجوع ہوسکتاہے۔دستورمیں مسلمانوں کودئیے گئے بنیادی حقوق کوچیلنج نہیں کیاجاسکتا۔سپریم کورٹ نے درخواست گذارپربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ آپ بڑے دانشمندبننے کی کوشش نہ کریں،ضروری نہیں کہ ہرفتوی نامعقول ہوں،بعض فتوے قوم کی مفادات میں دئیے گئے ہیں،جوفراست اورذہانت پرمبنی ہیں۔تمام فتووں کے بارے میںیکساں رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔عدالت نے یہ مثال پیش کی کہ ہندوستان ایساملک ہے جہاں لوگوں کایہ عقیدہ ہے کہ گنگاجل سے تمام بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں،یہ عقیدہ کاتعلق ہے،اس میں عدالت کاکیارول ہوسکتاہے۔اس طرح سے سپریم کورٹ نے شرعی عدالتوں میں مداخلت کرنے سے انکارکیا۔عدالت عظمی نے کہاکہ فتوے قبول کرنے یانہ کرنے کااختیارلوگوں کوحاصل ہے اوردارالقضاء اوردارالافتاء جیسے ادارے چلانایہ مذہبی مسئلہ ہے۔کورٹ اسی صورت میں مداخلت کرسکتی ہیں۔جب کہ فتووں کے نتیجہ میں شہریوں کے حقوق پامال ہوں۔مسلم علماء کی جانب سے جاری کیے فتوے عوام پرمسلط نہیں کیے جاسکتے۔فتووں کی بنیادپراگرکسی کی ہراسانی کی جاتی ہے توپھرعدالتوں کواختیارہے کہ وہ پھرشہریوں کی حفاظت کرے۔جسٹس کے سی پرسادپرمشتمل بنچ نے درخواست گذارکی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ جب کوئی پجاری دسہرہ کی تاریخ طے کرتاہے تواسے کرنے دیجیے،لیکن وہ پجاری کسی مخصوص دن تہوارمنانے کی سختی کرتاہے توپھرعدالت اس میں مداخلت کرے گی۔اگرعلماء اورپنڈتوں کے جاری کردہ فتوے سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے توپھراس صورت میں مداخلت لازمی ہوجائے گی،بصورت دیگرعدالتوں کومذہبی امورمیں دخل دینے سے بازہناچاہیے۔عدالت نے وضاحت کی کہ بعض فتوے عوام کی فلاح وبہبودکے لیے جاری کیے گئے ہیں،جوعوام کے لیے مفیدہوتے ہیں۔درخواست گذارنے ایک لڑکی کاحوالہ دیتے ہوئے کیس دائرکیاتھاکہ عصمت ریزی کی شکارلڑکی کومذہبی فتوی کے تحت اس کے شوہرسے علیحدگی اختیارکرتے ہوئے سسرے کے ساتھ ازدواجی تعلقات اختیارکرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔عدالت نے درخواست گذارپربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ بہت زیادہ دانشمندبننے کی کوشش نہ کریں۔عدالت نے استفسارکیاکہ تمام فتوے نامعقول ہوتے ہیں۔اگردومسلمان آپس میں مصالحت کرتے ہیں تواس میں عدالت کیسے مداخلت کرے گی۔فتوی ایک طرح سے مصالحت کی ہی ایک شکل ہوتی ہے،ثالثی اورمصالحت کادروازہ ہمیشہ کھلارہناچاہیے۔عدالتوں میں بھی اس بات کی گنجائش رہنی چاہیے کہ ایک ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے فریقین اپنے تنازعات کی یکسوئی عدالتوں میں کریں۔اس وقت ملک بھرکے تقریبا60اضلاع میں دارالقضاء اوردارالافتاء قائم ہیں۔مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنایہ موقف پیش کیاکہ عام انتخابات کوملحوط رکھتے ہوئے عدالت اس موقف پرمحتاط ردعمل کااظہارکرے۔جب تک شہریوں کے بنیادی حقوق کوخطرہ لاحق نہ ہو،اس وقت تک حکومت مسلم پرسنل لابورڈمیں مداخلت نہیں کرے گی۔

All fatwas not irrational, some wise & for general good: Supreme Court

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں