لوک پال بل راجیہ سبھا میں منظور - ایوان میں جامع مباحث - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-12-18

لوک پال بل راجیہ سبھا میں منظور - ایوان میں جامع مباحث

lokpal-bill
ملک میں بدعنوانی پر قدغن لگانے کیلئے راجیہ سبھا نے گذشتہ دو برسوں سے زیر التواء تاریخی لوک پال بل بالآخر آج صوفی ووٹوں سے پاس کردیا۔ ایوان میں لوک پال بل ایک بار پھر سے بحث کیلئے پیش کرتے ہوئے وزیر قانون کپل سبل نے اسے تاریخی موقع قرار دیا اور پورے ایوان سے سیاسی تفریق سے بالاتر ہوکر اس قانون کو پاس کرنے کی اپیل کی۔ قبل ازیں ایوان نے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی ترامیم نامنظور کردی۔ پارٹی نے پی پی پی ماڈل پروجیکٹوں کو لوک پال دائرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ترمیمی تجویز پیش کی تھی جس پر ووٹ ڈالے گئے اور ایوان نے اسے 19 کے مقابلے 151 ووٹوں سے خارج کردیا۔ تقریباً6گھنٹے تک چلنے والی بحث کے بعد اس بل کو چند سرکاری ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا گیا۔ بجث شروع ہونے سے پہلے سماج وادی پارٹی نے اسے ملک کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے ایوان سے بائیکاٹ کیا۔ لوک سبھا نے اس بل کو دسمبر 2011 میں پاس کیا تھا لیکن اسے راجیہ سبھا سے سلیکٹ کمیٹی میں بھیج دیا گیا تھا۔ سلیکٹ کمیٹی کی تقریباً تمام سفارشات کو شامل کرتے ہوئے اس میں حکومت نے چند ترامیم کئے ہیں۔ ان ترامیم کے ساتھ راجیہ سبھا میں منظور کردہ بل کو اب پھر سے لوک سبھا میں بھیجا جائے گا۔ وزیر قانون کپل سبل نے بحث کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یہ بل ایوان کی مجموعی خواہش اور اتفاق رائے سے منظور کیا جارہا ہے۔ اس بل کے پاس ہونے سے ملک کی سوا کروڑ آبادی کو فائدہ حاصل ہوگا لیکن صرف اس قانون سے ہی بدعنوانی پوری طرح ختم نہیں ہوگی لیکن اس سے بدعنوانی پوری طرح ختم نہیں ہوگی لیکن اس سے بدعنوانی پر قدغن لگانے میں مدد ضرور ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کے بعد سماج میں نا برابری میں اضافہ ہوا ہے لیکن جب تک اس فرق کودور نہیں کیا جائے گا تب تک ہم بدعنوانی کے خلاف پوری لڑائی نہیں لڑپائیں گے۔ مسٹر سبل نے کہاکہ مرکز نے کافی مضبوط قانون بنایا ہے اور اب ریاستوں کو بھی ایک سال کے اندر لوک آیوکت کی تشکیل کرنی ہوگی۔ مرکزی حکومت بل کے خاکہ پر ریاستوں کو کوئی ہدایت نہیں دے رہی لیکن یہ ریاستوں میں حکومت چلانے والی پارٹیوں کیلئے امتحان ہے کہ وہ کتنی جلدی مضبوط لوک آیوکت کی تشکیل کرتی ہیں۔ انہوں نے چند اراکین کے لوک پال کی تشکیل میں ججوں کو ترجیح دئیے جانے سے متعلق اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ لوک پال کو قانونی پیچیدگیوں سے متعلق امور کا نپٹارا کرنا ہوگا جس لئے قانون کی سمجھ ضروری ہے۔ اس لئے ججوں سے زیادہ قانون کا علم کون رکھتا ہوگا۔ لیکن مفادات کے ٹکراؤ کے پیش نظر لیڈروں کو ہم لوک پال میں شامل نہیں کررہے ہیں۔ مسٹر سبل نے لوک پال میں اقلیتی فرقہ کے ایک رکن کی موجودگی کے بارے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہاکہ لوک پال ایک خود مختار باڈی ہے اور اس کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انہوں نے واضح کیاکہ اس بل کے تحت بدعنوانی کے معاملہ میں ملزم پر چھاپہ مارنے کی پیشگی اطلاع نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اور بھی قانون بنائے ہیں اور کچھ قوانین میں ترامیم بھی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چند ترمیمی بل لوک سبھا میں تو کچھ راجیہ سبھا میں زیر التواء ہیں اور وہ اپیل کرتے ہیں کہ ان بلوں کو بھی جلد پاس کیا جائے۔ لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس پاسوان اور راشٹریہ جنتادل کے رام کرپال یادو کے وزیراعظم کو لوک پال کے دائرے سے باہر رکھنے کی صلاح کو مسترد کرتے ہوئے کپل سبل نے کہاکہ ایوان، اصل اپوزیشن پارٹی اور دائیں بازو کے اتفاق رائے سے وزیراعظم کے عہدہ کو بھی لوک پال کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔

Rajya Sabha passes Lokpal Bill

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں