اردو زبان و شاعری کی مقبولیت میں عام فہم زبان کا اہم کردار - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-11-20

اردو زبان و شاعری کی مقبولیت میں عام فہم زبان کا اہم کردار

Zauq-Seminar-by-Anjuman-taraqqi-urdu-delhi
اردوزبان وشاعری کی مقبولیت میں ہمیشہ عام فہم زبان کااہم رول رہاہے اوراس سلسلے میں استادذوق نے سب سے پہلے پہل کی اورشاعری کوسہل بنایا۔استادذوق اپنے شاگردوں کی بے انیہاعقیدت واحترام کی بدولت غالب ومومن سے آگے جگہ نہیں بناپائے۔آج کے دور میں میڈیا جورول اداکررہاہے اس زمانہ میں وہی رول شاگردادکرتے تھے اوراپنے استادکی شہرت،بلند مقام وترقی کااہم ذریعہ بنتے تھے۔ان خیالات کااظہارانجمن ترقی اردوہندکے سابق جنرل سکریٹری ڈاکٹرخلیق انجم نے استادذوق کے یوم پیدائش کے موقع پرانجمن ترقی اردو دہلی شاخ کے زیراہتمام غالب انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے منعقد کی گئی ایک ادبی تقریب میں صدارتی کلمات اداکرتے ہوئے کیا۔'یوم ذوق' کے نام سے منعقد ہونے والی اس ادبی تقریب میں ڈاکٹر خلیق انجم نے مزید کہاکہ ذوق کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ سماج کے ہرطبقے میں اسے بڑی دلچسپی سے پڑھاجاتاہے۔اس موقع پرانہوں نے مزارذوق کی بازیابی کے لیے کی جانے والی طویل جدوجہد،عدالتی کارروائی اوراس سلسلے میں پیداہونے والے تنازع کابھی ذکرکیااورکہاکہ ذوق نہ ہوتے تواردوزبان کو وہ عروج ومرتبہ اور مقبولیت حاصل نہ ہوتی جوآج تک ہے۔جلسے کی ابتدامیں انجمن ترقی اردو دہلی کے جنرل سکریٹری شاہدماہلی نیاستقبالیہ کلمات اداکیے۔اس موقع پرپروفیسرشمیم حنفی نے کہاکہ ذوق وغالب نے اپنے خیالات کی بلندی کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا۔انہوں نے بتایاکہ ذوق نے اپنے شاگردوں کی اتنی بڑی تعداد چھوڑی جنہوں نے اردوزبان وادب کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرڈاکٹر رضاحیدر نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے کہاکہ بعض نقادوں نے ذوق کوکسی بھی طرح سے غالب سے کم نہیں سمجھا بلکہ اکثروبیشترنقادوں نے ذوق کو غالب پرترجیح دی۔انہوں نے قصائدذوق کا تذکرہ کرتے ہوئے معروف قانون داں جسٹس سرسلیمان کابھی ذکرکیا،جنہوں نے1924میں قصائدذوق کا مجموعہ شائع کیاتھا۔اس موقع پر معروف شاعر متین امروہوی نے منظونذرانہ عقیدت پیش کیا۔اس سے قبل آج صبح پہاڑ گنج کی چیونٹی بستی میں واقع مزارذوق پرگل افشانی اورفاتحہ خوانی بھی کی گئی۔بعدازاں ایوان غالب میں ذوق کی زمین پرمصرعے'لائی حیات آئے'قضالے چلی چلے'اورستم کوہم کرم سمجھے جفاکوہم وفاسمجھے'پرطرحی مشاعرہ کاانعقاد کیاگیا۔مشاعرے کی صدارت دہلی کے بزرگ واستادشاعر وقارمانوی نے اورنظامت ڈاکٹرظفرمرادآبادی نے کی،جبکہ متین امروہوی،نسیم نیازی،شہبازندیم ضیائی،شمس رمزی،اقبال فردوسی،بھٹناگرشاداب اور شاہدماہلی نے اپناکلام پیش کیا۔اس موقع پر پروفیسر شریف حسین قاسمی،ڈاکٹرخالدعلوی،جاویدرحمانی،اقبال مسعودفاروقی،محسن شمسی اورانجمن ترقی اردودہلی شاخ کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹرادریس احمد کے علاوہ ادبا،شعرااورمختلف علوم وفنون کے افرادسمیت بڑی تعداد میں اہل علم موجودتھے۔

Zauq Seminar by Anjuman taraqqi urdu delhi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں