پٹنہ بم دھماکوں کا سچ - خوب پردہ ہے ۔۔۔ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-11-06

پٹنہ بم دھماکوں کا سچ - خوب پردہ ہے ۔۔۔

patna blasts
پٹنہ بم دھماکوں کا سچ: خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

پٹنہ دھماکہ کےبعدتفتیش کے نام پر جوکچھ ہوایاہورہاہے اس میں نیا کچھ بھی نہیں ہے ہاں مسلم نوجوانوںکی گرفتاریوںکا سلسلہ لوگوںکوسمجھ میں نہیں آرہا ہےیعنی یہ معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

مظفرنگر میں گجرات فسادات کی تاریخ کا دہرایاجانا،اس پر راہل گاندھی کا یہ بیان کہ وہاں کے کچھ نوجوان انتقامی جذبہ کے تحت پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رابطے میں ہیںپھرپٹنہ میں نریندرمودی کی ہنکارریلی میںسلسلہ واربم دھماکےاورانڈین مجاہدین کے نام پرمسلم نوجوان کی گرفتاریوںکاسلسلہ،اسے محض اتفاق نہیں کہاجاسکتابلکہ ان کڑیوںکوایک دوسرے سے مربوط کرنے کے بعدایک خطرناک تصویرابھررہی ہے جس سے یہ واضح ہورہاہے کہ ہندستان میں لاشوںپر سیاست کی روایت جڑپکڑتی جارہی ہے اورعام انتخابات کے قریب ترہونےکی وجہ سے اس میں شدت سی آگئی ہے۔مفادپرستی کی سیاست میں انسانی رواداری حرام ٹھہری لہذا اہل سیاست سے ترحم کی توقع بے معنی۔ حالاں کہ آئی بی نےراہل گاندھی کے بیان کی تردید کردی تھی لیکن جس طرح پٹنہ بم دھماکوںکومظفرنگرفسادات سے جوڑدیاگیا اس سے راہل گاندھی کے بیان کی تصدیق ہورہی ہے اورآئی بی کی تردیداب اہل انصاف ہی بتائیں گے کہ دونوںمیں سچا کون ہے؟
پٹنہ بم دھماکوںکی اطلاع کے بعدمیرے دل ودماغ ان گنت سوالات کے حصارمیں اس طرح جکڑگئے اورپتہ نہیں کیوںکئی دن گزرنے کے بعدبھی اس کی پکڑابھی بھی ڈھیلی ہوتی نظرنہیں آرہی ہے۔ اس کے کچھ لازمی اسباب بھی ہیں جن کو ان سطورمیں سوالات کی شکل میں پیش کروںگا اورہندستان کے انصاف پسند عوام سے جواب طلب ۔
بہارمیں لالورابڑی کے زوال اقتدار کے بعد جے ڈی یو۔بی جے پی نے جب اقتدارکی زمام سنبھالی تویہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک سا چل رہاتھانہ کہیں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ،نہ ہی کوئی حادثہ اورنہ ہی قومی یکجہتی کوزک پہنچانے والے عناصربے لگام ہورہےتھے۔بہارکی تصویرعالمی سطح پر نہ صرف بدل رہی تھی بلکہ یہاں کے ترقیاتی کاموںکاتذکرہ سرحدوںکے حصارکوبھی توڑنے میں کامیاب ہوگیا تھالیکن نریندرمودی کی فرقہ پرستانہ کارگزاریوںکے سبب جے ڈی یونے جیسے ہی بی جے پی سے اپنا رشتہ توڑا ایسا لگاکہ بہارکی پرامن فضاکوکسی کی نظر لگ گئی۔گیا بم دھماکہ، مڈڈے میل میںزہرڈالنے کا سلسلہ، نوادہفساد اورپھرہنکارریلی میں سلسلہ واربم دھماکے ۔سب کچھ یک دم سے بدل گیا اوریہ عوام کی سمجھ سے پرے ہے اوران کے ذہنوں میںان گنت سوالات ابھررہے ہیں ؎
اگرمجھے بھولنے کی بیماری نہیں ہے تویادآرہا ہے کہ جب نتیش کمار نے مودی کے نام پر بی جےپی سے رشتہ منقطع کیاتھا اس وقت نریندرمودی نے کہاتھاکہ نتیش کمارکوچین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ان واقعات کے بعدنتیش کمار کنتی چین کی نیند سورہے ہوںگےیہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہنکار ریلی میں دھماکہ کے بعدجب نریندرمودی نے یہ کہاکہ کچھ لوگوںنے میرے نام کی سپاری لے رکھی ہے توفوراً میرے ذہن میں عشرت جہاں اوراس کے ساتھ مارے جانے والوںلوگوںکی تصویرابھر آئی کیوںکہ اس پر الزام تھاکہ وہ لوگ مودی کو قتل کرنےکے ارادے سے آئے تھے لیکن تفتیش میں معلوم ہواکہ مودی نے اپنی سیکورٹی میں اضافہ اورسیاسی مفادکیلئے ان لوگوںکی بلی چڑھادی تھی۔پٹنہ میں نریندرمودی کی ریلی میں سلسلہ واربم دھماکہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے اوراگرغیرجانبدارانہ طورپر اس کے جواب تلاش کرلئے جائیںتوپردۂ زنگاری کے پیچھے کے معشوق تک رسائی آسان ہوجائے گی۔مودی کی ریلی سے قبل والی یعنی 26/اکتوبرکی رات جب ہم دفتر سے نکل کر گاندھی میدان پہنچے تواس وقت گھڑی تقریباً 45:1 بجارہی تھی۔گاندھی میدان جانے والی تمام شاہراہوںکوبانس بلوںسے گھیر دیاگیاتھا جب ہم گاندھی میدان پولیس اسٹیشن کے قریب پہنچے تووہاں میری گاڑی کوباقرگنج جانے سےروک دیاگیا وہاں نصف درجن کے قریب پولیس اہلکاراوراسی تعدادمیں بی جے پی کارکنان موجودتھے ۔ گاڑی پر 'پریس 'لکھاہونے کے بعدبھی ہمیں زبانی طورپر آگے جانے کی اجازت طلب کرنی پڑی بلکہ گزارش کرنی پڑی ،بی جے پی کےرکنان پھرتیارنظر نہیں آرہےتھے لیکن ایک پولیس اہلکار نے بانس کو ہٹانے اورراستہ دینے کا حکم دیا پھرہماری گاڑی آگے بڑھ سکی۔اس وقت گاندھی میدان روشنی میں نہارہا تھا اورریلی میں آنے والوںکے استقبال میں دلہن کی طرح سج دھج کر تیارتھا ۔ میدان میں کچھ ملازم کام کرتے بھی نظرآئے۔
25/اکتوبرکواسی گاندھی میدان میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی 'جن آکروش' ریلی تھی جبکہ 26/ اکتوبرکو صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کی آمدکے پیش نظر راجدھانی کو سیکورٹی کے حصارمیں جکڑدیاگیاتھا اور27/اکتوبرکونریندرمودی کی ہنکارریلی۔ ظاہرہے کہ انتظامیہ مسلسل تین دنوں سے راجدھانی کی سیکورٹی کے انتظامات میں پوری طرح مصروف تھی اوریہاں کے چپے چپے پر انتظامیہ کی نظرتھی۔پھرنریندرمودی کی ریلی کی نزاکت کے پیش نظرانتظامیہ نے سیکورٹی نظام کومزیدچست درست کیا۔ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر این سرون اورایس ایس پی منومہاراج کے مطابق ہنکارریلی میں آنے والے عوام کی سیکورٹی ،گاڑیوںکی پارکنگ وچیکنگ کیلئے اورہرنوعیت کے ممکنہ صورت حال سے نپٹنے کیلئے پوری پختہ تیاریاں کی گئیں تھیں۔ضلع انتظامیہ کی تیاریاں کس قدرپختہ تھیں اس کا انداز ہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ راجدھانی کے 140/ مقامات پر کثیرتعداد میں پولیس عملہ کو تعینات کیاگیاتھا۔ جدیدٹکنا لوجی سے لیس دوطاقت ورکلوز سرکٹ کیمرے کے علاوہ پچاس دیگرکیمرے نصب کئے گئے تھے۔ گاندھی میدان پرنظررکھنے کیلئے آس پاس کی 16/ اونچی عمارتوںپر پولیس کا پہرہ بٹھایاگیا تھا،15/ مقامات پر ویڈویوگرافی کے انتظامات کئے گئےتھے ، 10/ جگہوںپر کنٹرول روم قائم کئے گئے تھے،19/ مقامات پرمیڈیکل کیمپ لگایاگیاتھا جبکہ 140/ مقامات پر 575/ جوان اور150/ داروغے تعینات کئے گئے تھے۔ٹریفک نظام کی نگرانی ،گاڑیوںکی چیکنگ اورپارکنگ کیلئے الگ سے 326/ جوانوںکو لگایاگیاتھا۔
یہ انتظامات بی جے پی کے اس الزام کی تردیدکرنے کیلئے کافی ہیں کہ انتظامیہ نے سیکورٹی کے ناقص انتظامات کئے تھے پھربھی خود بی جے پی نے بھی ایک پرائیوٹ سیکوریٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کررکھی تھی جس کے اہلکاروں نے پورے علاقے کواپنے حصارمیں لے رکھا تھا، ان کی اجازت کے بغیرکوئی پرندہ بھی پرنہیں مارسکتاتھالیکن اس قدرسخت سیکورٹی انتظامات کے باوجود گاندھی میدان میں درجن بھر بم کےنصب کرنے کی بات ایک ادنیٰ سمجھ رکھنے شخص کی سمجھ سے بھی پرے ہے۔
سوال یہ پیداہوتاہےکہ آخرانڈین مجاہدین کے مبینہ کارکنان کو یہ موقع کیوںکرمل گیاکہ وہ نہ صرف گاندھی میدان میں داخل ہونے میں کامیاب رہے بلکہ وہاں بم بھی نصب کردیا۔ظاہرسی بات ہے کہ درجن بھر بم نصب کرنے میں انہیں گھنٹہ بھر تو وقت لگاہی ہوگا۔لیکن اس پر نہ سیکورٹی عملہ کی نظرپڑی، نہ بی جے پی کارکنان کی اورنہ کلوزسرکٹ کمرے کی پکڑے میں آسکا۔لہذا اگرکوئی یہ کہتاہے کہ ؎
'کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں
توکیاغلط ہے؟لیکن دھماکہ کے بعدفوراً بعد ہمارے تیز طرار پولیس افسران نہ صرف یہ سراغ لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیںکہ یہ انڈین مجاہدین کی کارستانی ہے بلکہ اس میں ملوث افرادکوگرفتاربھی کرلیتے ہیں۔
دھماکہ کے کچھ دیربعد جب میں گاندھی میدان پہنچاتو وہاں کا ماحول دیکھ کرکسی بھی نوعیت سے یہ نہیں لگ رہا تھاکہ وہاں کچھ دیر قبل سلسلہ وار بم بلاسٹ ہوئے ہیں اوراس میں کئی جانیں چلی گئی ہیں۔راستے میں جلوس کی شکل میں ناچ گانوںکی مستی میںبی جے پی کارکنان گاندھی میدان کی جانب رواں دواں تھے ہاں کچھ لو گ گاندھی میدان سے گول گھر کی جانب آرہے تھے لیکن نہ تو ان کی چال مضطربانہ تھی اورنہ ہی ان کے چہرے پر پریشانی کے آثارتھے ۔میرے ایک ساتھی نےپوچھا کہ یہ لوگ کہاں جارہے ہیں تو میں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ آس پاس میں کہیں کھانے کا انتظام ہے شایدکھانے جارہے ہوںگےجبکہ آج سے ٹھیک سال بھر قبل اسی گاندھی میدان سے تھوڑے فاصلے پر واقع گنگا گھاٹ پر چھٹھ تہوارکے موقع پر پل ٹوٹنے کی افواہ اڑی اوردیکھتے ہی دیکھتے زمین پر کئی لاشیں نظرآنے لگیںلیکن گاندھی میدان میں پے بہ پے بم دھماکے ہونے کے باوجودوہ کون سی طاقت تھی جس نے بھگڈرنہیں مچنے دیا۔بم دھماکہ کے بعد نریندرمودی گاندھی میدان پہنچتے ہیں اورپوری طمانیت کے ساتھ بھاشن دیتےہیں اورعوام مکمل اطمینان کے ساتھ سماعت کرتے ہیں ۔کیاان واقعات سے واضح نہیں ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندتھا مگربراہوجانبداری وعصبیت کا کہ تفتیشی ایجنسیاں ہربارکی طرح اس واقعہ کے بعدبھی انڈین مجاہدین کے نام پر آنکھ مچولی کا کھیل شروع کردیا۔پٹنہ دھماکہ کےبعدتفتیش کے نام پر جوکچھ ہوایاہورہاہے اس میں نیا کچھ بھی نہیں ہے ہاں مسلم نوجوانوںکی گرفتاریوںکا سلسلہ لوگوںکوسمجھ میں نہیں آرہا ہےیعنی یہ معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔
اگراس جانب جلد توجہ نہیں دی گئی توہندستان کے شیرازے کو منتشرہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ہندستان کے سیکولرعوام اورقیادت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخرملک کی سالمیت کا دشمن کون ہے اورایک مخصوص کمیونٹی کانام بدنام کرکے فرقہ پرستی کازہرگھولنے کا کھیل کون کھیل رہاہے۔

***
sabirrahbar10[@]gmail.com
موبائل : 9470738111
صابر رہبر

The reality of Patna blasts? Article: Sabir Rahbar

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں