تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-07-08

تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

اکیسویں صدی میں جدید ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبہ میں داخل ہوگئی ہے۔ اور ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے کام کو بہتر بنانے میں لازمی تصور کیا جارہا ہے۔ادھر کچھ عرصے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت بڑا انقلاب آیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کبھی کبھی کوئی نادر واقعہ ہوتو اسے بریکنگ نیوز کہا جاتا تھا۔آج ٹیلی ویژن کے نیوز چینلوں پر ہر تھوڑی دیر میں ہمیں دنیا کے کسی حصے سے بریکنگ نیوز کی اطلاع ملتی ہے۔ ہر دن کوئی نہ کوئی نئی ایجاد اور نئے طور طریقے ہماری زندگی میں شامل ہورہے ہیں۔ الیکٹرانک کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔ اور جیب میں رکھے جانے والے ایک چھوٹے سے آئی فون میں ہمیں انفارمیشن کے حصول سے متعلق ہر سہولت دستیاب ہے۔ جیسے فون سے بات کرنا ویڈیو کالنگ،انٹرنیٹ براؤزنگ،فیس بک چیاٹنگ،ای میل کی سہوت اور بہت کچھ۔آج کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثرات نے زندگی کو تیز رفتار بنادیا ہے۔ وہیں تعلیم کے شعبے میں بھی ٹیکنالوجی کا اثر محسوس کیا جارہا ہے۔ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے اساتذہ اسکول ،کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر پیشہ تدریس کو اثر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔اور تعلیمی ادارے بھی اپنے انتظامی امور میں ٹیکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے اپنے انتظامیہ کو بہتر اور فعال بنا سکتے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ ٹیکنالوجی کس طریقے سے ہماری موجودہ تعلیم کا حصہ بن رہی ہے۔

تعلیم کے معنی جاننے کے ہیں کہ جو بات ہمیں نہیں معلوم اسے جاننے کا نام تعلیم ہے۔ علمی اصطلاح میں ایک انسان کو اس دنیا میں بہتر زندگی گذارنے کے لئے یا بطور پیشہ کوئی شعبہ اختیار کرنے کے لئے جن باتوں کا جاننا ضروری ہے۔ اسے تعلیم کہتے ہیں۔تعلیم صرف کتابی نہیں ہوتی۔ بلکہ زندگی میں آنے والا ہر دن اور اس دن ہونے والے کسی واقعہ سے سبق حاصل کرنا تعلیم کا ہی حصہ ہے۔ اچھی تعلیم وہی ہے جس میں فرد کی ہر لحاظ سے ترقی ہو۔ تعلیم کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی سنورتی ہے۔اور وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تعلیم روشنی ہے۔ اور جہالت اندھیرا ہے۔ ایک جاہل انسان کبھی کبھی اپنی جہالت سے دنیا والوں کو نقصان بھی پہونچا سکتا ہے۔ اس لئے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواندگی کو عام کرے۔ یہی وجہہ ہے کہ ہندوستان میں حکومت نے ہر بچے کے لئے لازمی تعلیم قانون بنایا ہے۔ اور بچہ مزدوری کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ ہندوستان میں رویتی10+2+3کا نظام تعلیم رائج ہے۔ آج تعلیم کے حصول کے ذرائع میں اسکول کالج یونیورسٹی،اساتذہ اور کتابوں کے علاوہ الیکٹرانک ذرائع جیسے ای کلاس روم ،اسمارٹ کلاس ،اوور ہیڈ پروجیکٹر،کمپیوٹر سی ڈیز ،ٹیابلیٹ کمپیوٹر ،لیپ ٹاپ وغیرہ شامل ہیں۔ جن کی مدد سے عصر حاضر کا استاد اپنے نئے زمانے کی تعلیم کو بہتر بنا سکتا ہے۔

اساتذہ کے لئے لازمی ہے کہ وہ دوران تدریس تدریسی آلات جیسے بلیک بورڈ ،چا ک پیس،کتاب، نقشہ جات، تصاویر اور دیگر ماڈلس کا استعمال کریں تاکہ اپنے سبق کو دلچسپ اور معلوماتی بنایا جاسکے۔ اسکول کی سطح پر جب کہ بچہ نو آموز ہوتا ہے۔ اور اسے دنیا کی بہت سی باتوں سے واقفیت نہیں ہوتی۔ وہاں ان تدریسی وسائل کا استعمال لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کل بعض مدارس پرائمری سطح پر کمرہ جماعت کو عصری ٹیکنالوجی سے لیس کر رہے ہیں۔ اور ہر کمرہ جماعت کو پروجیکٹر سے آراستہ کرتے ہوئے لیاپ ٹاپ اور تعلیمی سی ڈیز کی مدد سے اپنے سبق کو بہتر انداز میں پڑھا رہے ہیں۔ اس طرح کی کلاس کو اسمارٹ کلاس کا نام دیا جارہا ہے۔ بعض تعلیمی ادارے ماہرین کمپیوٹر اور گرافکس و اینیمیشن کی مدد کے ساتھ کتابوں کے روایتی سائینسی سماجی علوم اور ریاضی و زبان کے اسباق کو معیاری بنارہے ہیں۔ ایسا ہی ایک ادارہ ہے جو educompکے نام سے کام کر رہا ہے۔ جس کی تعارفی کلاسیس انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں۔ educomp ادارے کے لوگ کسی تعلیمی ادارے سے معاہدہ کرتے ہیں۔ اور ان کے نصاب یا خود ادارے کے نصاب کی مکمل کلاسیس کے اسباق انٹر نیٹ اور خصوصی پاس ورڈ کے ذریعے دستیاب کراتے ہیں۔ اور اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ کیسے اسمارٹ کلاس میں پڑھائیں۔ جو تعلیمی ادارے اس طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں ان کے بچوں میں اور روایتی کتاب کاپی قلم سے سیکھنے والے تعلیمی اداروں کے طلبا کے معیار تعلیم میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ تعلیم ایک مسلسل عمل ہے۔ اور اس میں والدین اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ طلباء کو معیاری تعلیم دینے کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھیں۔اسکولی سطح پر طلبا کو خصوصی انٹرنیٹ پروگرام کے ذریعے تعلیم کے علاوہ کسی موضوع پر پہلے سے دستیاب سی ڈی کا پروگرام دکھاتے ہوئے بھی تعلیم دی جارہی ہے۔ آج کل کتابوں کی دکانوں میں چھوٹے بچوں کے لئے نظموں کے سی ڈی،انگریزی بول چال سیکھنے کی سی ڈی ،وائیلڈ لائف سی ڈی وغیرہ دستیاب ہیں۔ ایسے والدین جو گھر میں کمپیوٹر یا سی ڈی پلیر رکھتے ہیں۔ وہ اس طر ح کی معلوماتی سی ڈی حاصل کرتے ہوئے گھر پر بھی بچوں کو ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ تو ان دنوں معلومات کی فراہمی کا سب سے اہم اور ایک طرح سے آسان ذریعہ ہوگیا ہے۔
Google سرچ انجن کا دعوی ہے کہ اس کے ہاں سب کچھ ملتا ہے۔ کسی لفظ کے معنی معلوم کرنا ہو،کسی اور زبان میں اس کا ترجمہ کرنا ہو،کسی موضوع پر تفصیلی معلوماتی مضمون درکا ر ہو ،کسی موضوع کی تصویر درکار ہو یا کسی موضوع پر ویڈیو چاہئے بس گوگل کی سہولتوں ترجمہ،تصاویر،ویکی پیڈیا یا یوٹیوب پر جائیے آپ کی پسند کی ہر چیز اور ہر موضوع کی معلومات دستیاب ہیں۔ اس کے لئے سرچ انجن میں درست الفاظ ٹائپ کرنے ہونگے۔ گذشہ 11نومبر کو مولانا ابوالکلام آزادکے یوم پیدائیش پر ملک بھر میں قومی یوم تعلیم تقاریب منائی گئیں ۔ ہمارا ارادہ ہوا کہ کیوں نہ انٹر نیٹ سے مولانا آزاد کی آواز میں ان کی تقریر تلاش کی جائے چنانچہ یو ٹیوب پر سرچ کرنے پر مولانا آواز کی آواز میں 1947ء میں کی گئی ان کی تقریر ڈاؤن لوڈ کی گئی او ر فون کی مدد سے اسے ریکارڈ کرکے ذریعے مائیک اسے نئی نسل کے طلبا کو سنایا گیا۔ اس طرح ٹیکنالوجی کا یہ فائدہ ہوا کہ مولانا آزاد کے گذر جانے کے بعد بھی ان کی آواز ان کے بعد آنے والی نسلیں سن پائی ہیں۔اس طرح والدین اور اساتذہ اگر طلبا پر نگرانی رکھیں اور ان کے لئے تعلیمی ویب سائٹس تک رسائی کو ممکن بنائیں تو بچے چھٹی کے اوقات میں انٹر نیٹ سے بہتر طور پر استفادہ کر سکتے ہیں۔ جن طلبا کو کمپیوٹر پر ٹائپنگ آتی ہو وہ کوئی سبق ٹائپ بھی کر سکتے ہیں۔ بعض مدارس اپنے طلباء کو اس طرح کا ہوم ورک دے رہے ہیں اور ای میل کے ذریعے ہوم ورک کی جانچ ہورہی ہے۔ بعض طلباء کو ڈرائینگ میں دلچسپی ہوتی ہے۔ ان طلباء کو پینٹنگ اور ڈرائینگ میں ماہر بنانے کے لئے کمپیوٹر کے ورڈ آرٹ سافٹ ویر سے مدد لی جا سکتی ہے۔ اس طر ح اسکول کی سطح پر educomp، کی اسمارٹ کلاس،لیپ ٹاپ،سی ڈی اور انٹر نیٹ کی مدد سے جدید ٹیکینالوجی کی مدد سے تعلیم کو بہتر ،معلوماتی اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔

ایک معیاری اسکول سے فارغ جب ایک طالب علم کالج کی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو کالج کے انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کالج کو تدریسی وسائل کے طور پر عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھے۔ چنانچے کالج کا ہر کمرہ جماعت ای کلاس روم ہو جہاں اساتذہ کے لئے پروجیکٹر کے استعمال کی سہولت ہو ۔ اور طلبا بھی اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔ کالج کا طالب علم عنفوان شباب کی عمر کے دور سے گذر رہا ہوتا ہے۔ اور آج کل طالب علم انٹر نیٹ،ٹیلی ویژن اور سیل فون کے اچھے برے اثرات کے ساتھ کالج کے ماحول میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ایسے میں طالب علم کی صلاحیتوں کو مثبت افکار کی جانب موڑنا ایک ماہر تعلیم استاد کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ چنانچہ کالج کے کلاس روم میں بھی روایتی کتاب :بلیک بورڈ اور چاک پیس و نقشہ جات کے علاوہ ایک ماہر استاد اپنے لیاپ ٹاپ اور پروجیکٹر کی مدد سے طلباء کو اپنے سبق کو بہتر طور پر سمجھا سکتا ہے۔ اس کے لئے استاد کو کمپیوٹر کا ماہر ہونا ہوگا۔اور وہ پاور پوائینٹ سہولت کی مدد سے مختلف معلوماتی سلائیڈز کی مدد سے اپنے سبق کو بہتر دلچسپ اور عصر حاضر کے تقاضوں سے متعلق ہم آہنگ کر سکتا ہے۔ سائینس کے مضامین ہو کہ کوئی اور مضمون جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے بہتر طور پر سمجھایا جا سکتا ہے۔ ای کلاس کے لئے اسباق کی تیاری ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ اسے گھر بیٹھے تیار کرنا سب کے بس کی بات نہیں۔ اور اگر ایک معیاری سبق تیار ہوتو قومی سطح پر اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ریاستی سطح کے انٹر میڈیٹ و ڈگری کے بورڈ اور NCERT,SCERT کی جانب سے ماہر اساتذہ کو طلب کیا جارہا ہے۔ اور انہیں تمام سہولتوں سے لیس کمپیوٹر لیاب فراہم کیا جارہا ہے اور انہیں معاوضہ دے کر تعلیمی اسباق تیار کئے جارہے ہیں۔ ان اسباق کے ڈی وی ڈیز تعلیمی اداروں کو مہیا کرائے جارہے ہیں۔ اور ان کی مدد سے تعلیم کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جارہا ہے۔ کالج کی سطح پر لائیبریری کو بھی عصر حاضر کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ اگرلائبریری میں مختلف موضوعات کے سی ڈی ہوں اور کوئی طالب علم لائیبریری میں بیٹھ کر کمپیوٹر کی مدد سے وہ سی ڈی دیکھ سکتا ہو تو اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ آج کل کالج کی لائبریری کے ایک ہال میں ایک بڑا مانیٹر لگایا جارہا ہے۔ اور اگر کسی دن کوئی مضمون کا لیکچرر غیر حاضر ہو تو لائیبریری کا انچارج طلباء کے لئے اس مضمون سے متعلق سی ڈی لگاتا ہے اور ساری کلاس ایک لیکچرر کی غیر موجودگی کے باجود وقت پر ایک اہم لیکچر سے مستفید ہوسکتی ہے۔ آج کل کالج کے طلبا ء کے لئے حکومتی سطح پر چلائے جانے والے خصوصی ٹیلی ویژن چینلوں پر بھی معلوماتی پروگرام نشر کئے جارہے ہیں۔ آندھرا پردیش میں MANA TVکے نام سے سرکاری چینل چل رہا ہے۔ جس پر ہر تین ماہ کے مختلف پروگرام کا ٹاٹم ٹیبل دیا جاتا ہے۔ اور کالج میں ایک لیکچرر کو اس کا انچارج بنایا جاتا ہے۔ جو وقت مقررہ پر طلبا کو کمرہ جماعت میں جمع کرتا ہے۔ اور مخصوص ڈش انٹینا سے نشر ہونے والے پروگرام کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ ان پروگراموں میں کچھ براہ راست پروگرام بھی ہوتے ہیں اور طلبا کو فون ان کی سہولت دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ اپنے شک وشبہ کا اظہار کر سکیں۔اکثر پروگرام ایسے ماہر اساتذہ پیش کرتے ہیں جن کے طریقہ تدریس میں شک و شبہ کی گنجائیش کم ہوتی ہے اور طالب علم کو سیر حاصل معلومات ہوتی ہیں۔ قومی سطح پر دوردرشن اور دیگر خانگی ٹیلی ویژن چینل بھی طلباء کے لئے پروگرام پیش کر رہے ہیں جن سے طلبا استفادہ کرسکتے ہیں۔سوشیل میڈیا جیسے فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ کو بھی فروغ تعلیم کے لئے استعمال کیا جا سکتاہے۔ بہت سے طالب علم فیس بک کے دیوانے ہیں۔ اگر کوئی تعلیمی ادارہ یا استاد اپنا ایک فیس بک گروپ رکھے اور اس میں اپنے طلبااور ماہرین تعلیم کو ممبر بنائے اور معلومات اور اہم اعلانات کا تبادلہ ہو تو اس سے طلبا کی تعلیمی ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔ گراج گورنمنٹ کالج نظام آباد کے شعبہ اردو نے بھی اس طرح کا ایک گروپ "شمع فروزاں " کے نام سے بنایا ہے۔ اس گروپ میں کالج کے طلبا کے علاوہ یونیورسٹی اور کالج کے ماہر اساتذہ ،ماہرین تعلیم ،شعرا،ادیب اورکیریر گائیڈنس کے ماہرین شامل ہیں جو اپنی قیمتی معلو مات اور افکار سے طلبا کو مستفید کرتے ہیں اور گروپ انچارج طلبا کو اہم اعلانات سے واقف کراتے ہیں۔ اس طرح تعلیم کے فروغ میں سوشیل میڈیا کا بہتر استعمال ہوسکتا ہے۔ اور طلبا کی صلاحیتوں کو منفی رجحانات کے بجائے مثبت رجحانات کی جانب موڑا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کی بڑھتی مقبولیت اور اس کی عام آدمی تک رسائی سے بہت سی سہولتیں عام ہوگئی ہیں۔ اور آج آن لائن خدمات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تعلیمی ادارے بھی آن لائن درخواستیں وصول کر رہے ہیں۔ اور طلباء کو مختلف مسابقتی امتحانات کے ہال ٹکٹ بھی آن لائین فراہم کر رہے ہیں۔ اسی آن لائن سہولت کو تدریس میں بھی استعمال کیاجارہا ہے۔ اور آؤٹ سورسنگ خدمات کے ذریعے طلباء کو خانگی ٹیوشن فراہم کیا جارہا ہے۔ ہندوستان کے کسی ایک مقام پر رہنے والا ایک قابل استاد دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود اپنے شاگرد کو ایک تیز رفتار کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنیکشن کی بدولت آن لائن ٹیوشن پڑھا سکتاہے اور یہ سہولت ان دنوں مقبول بھی ہورہی ہے۔ آج کل ایسے رائٹنگ پیاڈ بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے اسکرین پر قلم کی طرح لکھا بھی جاتا ہے۔ اس طرح آؤٹ سورسنگ اور آن لائن کی بدولت ہر طرح کی تعلیم گھر بیٹھے ممکن ہوگئی ہے۔ اور اس کے ذریعے دولت کمانے کے مواقع بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ کالج کی سطح پر طلبا اس قسم کی سہولت سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ کالج میں چونکہ طے شدہ نصاب ہی پڑھناہوتا ہے اس لئے طلبا کو ذیادہ کتابوں کی ضرورت نہیں پڑھتی اگر ضرورت ہو بھی تو ای کتابوں کی مدد سے یا انٹرنیشنل لائیبریری سے بہ ذریعے انٹر نیٹ دنیا کے کسی بھی کتب خانے کی لائبیریر ی سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ کالج کے طلبا کو مسابقتی امتحانوں کی تیاری میں بھی انٹرنیٹ سے مدد ملتی ہے۔ اور سابقہ امتحانوں کے پرچے اور امتحان کی تیاری کا مواد نیٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اور تدریس کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ کالج کے اساتذہ کو کمپیوٹر کی مہارت کا حامل ہونا ضروری ہے ۔ اور وہ ایک ایسا لیا پ ٹاپ بھی ساتھ رکھے جس میں نیٹ کی سہولت ہو۔ آج کل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبا کی سہولت کے لئے wifiانٹر نیٹ سہولت دی جارہی ہے طلبا اور اساتذہ اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

کالج کے بعد ایک طالب علم کے لئے حصو ل علم کا ایک بڑا موقع یونیورسٹی کی تعلیم ہوتی ہے جہاں پوسٹ گرائیجویشن کے بعد ریسرچ کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔ چنانچہ یونیورسٹیوں کا نگران ادارہ یوجی سی اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں سے ایسے قابل سائینسدان اور ماہر تعلیم تیار ہوں جو ملک اور دنیا کو ان کے مسائل سے نجات دلانے کے لائق بنیں۔ اس لئے یوجی سی یونیورسٹیوں کی ترقی کے لئے لاکھوں روپے کا بجٹ منظور کر رہی ہے اور تعلیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے ہر قسم کے وسائل مہیا کر ا رہی ہے۔ یونیورسٹی میں کلاس روم تدریس کم ہی ہوتی ہے اور طالب علم کو انفرادی طور پر حصول علم کے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔ اور یونیورسٹی طالب علم کے لئے علم کا خزانہ لائیبریری ہوتی ہے۔ چنانچہ لائیبریری میں کتابوں کے علاوہ ای کتابیں اور کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی مدد سے دنیا بھر سے لائیبریریوں سے استفادے کی سہولت دستیاب کرائی جاتی ہے۔ حیدرآباد میں یونیورسٹی آف حیدرآباد کی اندرا گاندھی لائیبریری جنوبی ہند میں اس طرح کی سہولت کے لئے مشہور لائبریری ہے۔ یونیورسٹی کے پروفیسر کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاور پوائینٹ کے ذریعے تدریس کا ماہر ہو۔ چنانچہ وہ ایسے اسباق تیار کرتا رہے اور انہیں مختلف سمیناروں اور سمپوزیموں میں پیش کرتا رہے۔ طلبا اگر اس طرح کے لیکچر میں شرکت کریں تو انہیں استفادے کا موقع ملتا ہے۔ اندراگاندھی اوپن یونیورسٹی،امبیڈکر اوپن یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا جانب سے ٹیلی ویژن پر تعلیمی پروگرام نشر ہورہے ہیں۔ جن سے طلبا مستفید ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلباء بھی انٹر نیٹ کے ذریعے اپنی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اردو زبان بھی آج انٹر نیٹ سے کافی ہم آہنگ ہورہی ہے۔ اور اردو ان پیج کے علاوہ اردو یونیکوڈ سافٹ ویر کی مدد سے کمپیوٹر میں باآسانی تحریر کی جاسکتا ہے۔ www.mbilalm.com پر اردو یونیکوڈ کی-بورڈ سافٹ ویر دستیاب ہے۔ اس سافٹ ویر کی مدد سے ایم ایس آفس کے تمام پروگراموں میں اردو میں کام کیا جاسکتا ہے۔ اور فیس بک پر اردو میں تحریر کیا جاستا ہے۔ اس سافٹ ویر کی مدد سے اردو میں ای کتابوں کا خزانہ بڑھ رہا ہے اور ان پیج سے یونیکوڈ اور یونیکوڈ سے ان پیج اور پی ڈی ایف کنورٹر سافٹ ویر کی مدد سے اردو کمپوزنگ کی دنیا میں انقلاب آیا ہے۔ اور دور جدید میں اردو کتابت کا کام تیز رفتار اور آسان ہوگیا ہے۔ یونیکوڈ سے اردو ای میل بھی روانہ کیا جاسکتا ہے۔ ان پیج کی تحریر کو پی ڈی ایف کنورٹر کی مدد سے آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح اردو زبان بھی کمپیوٹر سے بہت حد تک ہم آہنگ ہوئی ہے۔ NCPUL فروغ اردو کا قومی ادارہ ہے جس کے تعلیمی پروگراموں سے اردو اور کمپیوٹر کو سکھایا جارہا ہے۔ابھی کچھ دن قبل مرکزی وزیر کپل سبل نے اعلان کیا کہ اردو کو انٹرنیٹ کے سرچ انجن گوگل کا حصہ بنایا جائے گا۔اس سے اردو سرچ میں آسانی ہوگی۔ اور دنیا بھر میں اردو کے حوالے سے جو کچھ بھی کام ہورہا ہے اس تک لوگوں کی رسائی ہوگی۔

ایک طرف جہاں تعلیمی معیار کو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے وہیں انتظامی امور کے لئے بھی تعلیمی ادارے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اسکول کی سطح پر ایسا سافٹ ویراستعمال کیا جارہا ہے۔ جس کی مدد سے طالب علم کے داخلے سے لے کر اس کے اسکول چھوڑنے تک تمام ریکارڈ ایک داخلہ نمبر کے ساتھ محفوظ کیا جارہا ہے۔ اور طالب علم کی ترقی اور پیشرفت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ گروپ ایس ایم ایس کے ذریعے ٹیچر بچوں کا ہوم ورک والدین کے فون پر مسیج کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح اہم اعلانات بھی ایس ایم ایس کئے جارہے ہیں۔ طلباکے پروگریس کارڈ اور امتحانی پرچے اور ماڈل پیپر وغیرہ بھی کمپیوٹر کی مدد سے تیار کئے جارہے ہیں۔ ہائی اسکول اور کالج کی سطح پراس قسم کے سافٹ ویر استعمال ہورہے ہیں اور بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور بورڈ بچوں کے نشانات کے میمو اور تعلیمی اسنادات کمپیوٹر کی مدد سے تیار کر رہے ہیں۔ طلباء کے لئے آن لائین داخلوں کی کونسلنگ ہورہی ہے۔ فیس کا ادخال کور بینکنگ کے ذریعے ہورہا ہے۔ اور طلبا کے ہال ٹکٹ اور او ایم آر بار کوڈ شیٹ بھی کمپیوٹر کی مدد سے تیار کئے جارہے ہیں۔ اور امتحانات کے بعد نتائج کا اعلان اور مزید کا روائی بھی کمپیوٹر اور آن لائن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہورہی ہے۔ بعض تعلیمی ادارے اپنے اسٹاف میں وقت کی پابندی اور ڈسپلن لانے کے لئے پنچ کارڈ سسٹم شروع کئے ہیں۔ جس میں ملازمین کی دفتر میں آمد اور روانگی کا ٹائم محفوظ ہوجاتا ہے۔ پرنسپل اور ہیڈ ماسٹر سی سی کیمروں کی مدد سے اسکول اور کالج کے انتظامی امور پر نظر رکھ رہے ہیں اور پبلک ایڈریس سسٹم اور اجتماعی فون کی مدد سے رابطہ رکھ رہے ہیں ۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں انتظامی امور میں بھی ٹیکنالوجی اہم رول ادا کر رہی ہے۔ زیراکس مشین،فیاکس مشین ،اسکانر،اور دیگر آلات بھی تعلیمی اداروں میں کام کی رفتار اور معیار میں فرق پیدا کر رہے ہیں۔

تعلیمی ادارے ہوں یا زندگی کا کوئی اور شعبہ ہو آج کل ٹیکنالوجی کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کے منفی اثرات اور حدود بھی ہیں۔ سب سے پہلی بات کے ہندوستان جیسے غریب اور ترقی پذیر ملک میں جہاں کا عام آدمی روٹی کپڑے اور مکان کے لئے پریشان ہے۔ اسے ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہے۔ ٹیکنالوجی مہنگی ہے۔ اور مہنگی ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کرنا تعلیمی اداروں اور عام آدمی دونوں کے لئے مشکل ہے۔ ٹیکنالوجی کے مناسب استعمال کے لئے ماہر افراد کی بھی کمی ہے۔ اور کمپیوٹر ہو کہ پروجیکٹر سب کے چلانے کے لئے برقی کی ضرورت ہے۔ اور ہندوستان میں موسم گرماکے بعدسے کافی عرصے تک ملک کے ہر چھوٹے پڑے شہر اور گاؤں دیہات میں برقی کٹوتی کی جارہی ہے جس کی بنا وسائل رکھنے کے باجود ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن نہیں ہو پارہا ہے۔ اگر کوئی جنریٹر استعمال کرتا ہے تو اس کے اخراجات اور بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت کے اعتبار سے بھی ٹیکنالوجی کے نقصانات ہیں۔ مسلسل کمپیوٹر کے استعمال سے بینائی متاثر ہورہی ہے۔ کمر کے درد کی عام شکایت ہے بچے کھیل کود کے بجائے ویڈیو گیمس کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اور بچوں پر نظر نہ رکھی جائے تو وہ انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے فحش ویب سائیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے اپنے اخلاق اور صحت کو بگاڑ رہے ہیں۔ ایسے میں تعلیم کے میدان میں ٹیکنالوجی کا استعمال ایک بڑے طبقے کے لئے ایک خواب ہی ہے۔ ملک میں صرف دو تا دس فیصد طبقہ ہی ٹیکنالوجی کے ثمرات سے استفادہ کر رہا ہے۔ ابھی اس کے عام ہونے میں مناسب سرکاری پالیسی اور اس پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے۔ حکومت نے تمام طلبا کو کم قیمت کمپیوٹر آکاش دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے لئے مرکزی وزیر کپل سبل نے اعلان بھی کیا اور اقدامات بھی لیکن ابھی آکاش کمپوٹر ملک کے عام طالب علم کی پہونچ سے دور ہی ہے۔ مجموعی طور پر تعلیم کے فروغ میں ٹیکنالوجی اہم رول ادا کر رہی ہے لیکن روایتی طریقہ تعلیم بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے دونوں میں توازن کی برقراری وقت کا اہم تقاضہ ہے۔

***
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گرراج گورنمنٹ کالج نظام آباد
موبائل : 00919247191548
ڈاکٹر اسلم فاروقی

The use of modern technology in educational institutions. Article by: Dr.Aslam Farooqi (Nizamabad)

2 تبصرے: