مصر کی سیاست ڈرامائی موڑ پر - مرسی کی تائید و مخالفت میں ریالیاں - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-07-08

مصر کی سیاست ڈرامائی موڑ پر - مرسی کی تائید و مخالفت میں ریالیاں

مصر میں اسلام پسند اخوان المسلمین نے اپنے لاکھوں حامیوں سے کہاکہ وہ حصول حق کیلئے آخر تک جدوجہد کریں۔ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کی بڑی تعداد مصر کے کئی ٹاونس میں ریالیاں نکالیں۔ نئی حکومت کی تشکیل میں مختلف رکاوٹیں آرہی ہیں۔ وزیراعظم کے انتخابات کیلئے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ مصر کی سیاست ایک کے بعد ایک ڈرامائی رخ اختیار کررہی ہے۔ لبرل لیڈر محمد البردعی کو وزیراعظم کی حیثیت سے منتخب کرنے کے مسئلہ پر نئی قیادت میں الجھن پیدا ہوئی ہے جبکہ سارے مصر میں محمد مرسی کی تائید اور مخالفت میں ریالیاں نکالی گئی ہیں۔ ان ریالیوں کے عبوری صدر عدلی منصور نے کہاکہ محمد البردعی کو ملک کا عبوری وزیراعظم مقرر نہیں کیا گیا ہے اس سلسلے میں ابھی مشاورت جاری ہے۔ البردعی نے 2گھنٹے قبل ان سے ملاقات کی اور ملک کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ نئے وزیراعظم اور وزرائے کے ناموں کا کل اعلان کیا جانا متوقع ہے۔ 41سالہ البردعی کو منتخب کیا جاتا ہے تو فوجی بغاوت کے چند دن بعد مصر میں سیکولر ذہن کی حکومت بنائے جانے کا شارہ ملے گا۔ تاہم مصر کے پہلے منصفانہ طورپر منتخب صدر کو برطرف کردینے پر ہزاروں افراد نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ قاہرہ کے اہم مقامات پر اور مصر کے دیگر شہروں میں بھی تشدد بھڑک اٹھنے کے اندیشے کے طورپر فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ اخوان المسلمین نے صدر مرسی کو زبردستی ہٹادینے کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ اسلام پسندوں نے عہد کیا ہے کہ ناجائز حکومت اپنی طاقت کے بل پر ان کے قائدین کو گرفتار کرتی ہے اور اخوان المسلمین کے میڈیا کے دفاتر کو بند کرتے ہوئے "دہشت زدہ" کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہم اس سے خائف ہونے والے نہیں۔ تحریر اسکوائر اورقاہرہ کے دیگر چوراستوں پر اخوان المسلمین کے مخالفین اور حامیوں نے ریالیاں نکالی ہیں۔ شکوک و شبہات کے دوران جو محمد البردعی کے نئے وزیراعظم مقرر کئے جانے کے بارے میں پیدا ہوگئے ہیں اصلاحات پسند قائدین نے فو ج کی جانب سے محمد مرسی کی برطرفی کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ خانہ جنگی سے بچنے کیلئے ضروری تھا کہ اسلام پسند قائد کو جنہوں نے خود ک "فرعوان "قرار دے لیا تھا اور کئی مسائل پیدا کردئے تھے، برطرف کردیاجاتا۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی نگران کار ادارہ کے سابق سربراہ البردعی عبوری حکومت مصر کے پسندیدہ قائد ہیں۔ ملک کے اولین منتخبہ جمہوری صدر کو ان کے عہدہ سے گذشتہ ہفتہ ملک کی طاقتور فوج نے برطرف کردیا ہے۔ 71 سالہ البردعی فراخ دل اور بائیں بازو کی پارٹیوں اور نوجوانوں کے گروپس کے اہم اتحاد جسے نیشنل سالویشن فرنٹ کہا جاتا ہے رابطہ کار بھی ہیں۔ یہ فرنٹ گذشتہ سال کے اواخر میں تشکیل دیا گیا تھا جب کہ مرسی نے دستوری اعلامیہ ک یذریعہ لا محدود اختیارات خود حاصل کرلئے تھے۔ فوج کی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے محمد البردعی نے کہاکہ یہ توہمیں خانہ جنگی کا خطرہ مول لینا پڑتا یا ماورائے دستور اقدامات کرنے پڑے تاکہ ملک کی یکجہتی اور اتحاد کو یقینی بنایاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ یہ دعوی صرف ایک اعادہ ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے وہ سی این این کو انٹرویو دے رہے تھے۔ نوبل انعام یافتہ محمد البردعی نے کہاکہ یہ ایک دردناک اقدام ہے۔ کوئی بھی ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن بدقسمی سے خود محمد مرسی نے اپنی اہمیت میں کمی پیدا کردی اور چند ماہ قبل خود کو فرعون قرار دیتے ہوئے اپنا جواز ختم کردیا۔ اس کے بعد ہی ہمیں ان کے خلاف جدوجہد کرنا ضروری ہوگیا تھا کیونکہ ان کا یہ اقدام کوئی جمہوری طریقہ کار نہیں تھا۔ دوسرا متبادل خانہ جنگی ہوتی۔ ہم کنویں اور کھائی کے درمیان پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے محمد مرسی کی برطرفی کے طریقہ کار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یقین ہے کہ یہ اقدام بالکل درست تھا ہم مصر کو ناکام ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کوئی بھی مصر کی ناکامی برداشت کرنے تیار نہیں تھا۔ مصر کی حقیقی صورتحال میں یہ اقدام انتہائی ضروری تھا حالانکہ مشکل تھا۔

Egypt On Edge: Protests continue

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں