شام میں خانہ جنگی کے خاتمے پر جی-8 ممالک کا اتفاق - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-06-19

شام میں خانہ جنگی کے خاتمے پر جی-8 ممالک کا اتفاق

شمالی آئرلینڈ میں جاری G8 سربراہ کانفرنس میں روس اور باقی 7ممالک شام میں خانہ جنگی کے خاتمہ سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیے پر متفق ہوگئے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق آج اس دوروزہ کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا، اس میں اس بارے میں اتفاق رائے ہوگیا ہے کہ شام میں جلد ازجلد ایک ایسی عبوری حکومت قائم ہونی چاہئے جسے جملہ اختیارات حاصل ہوں۔ اعلامیے کی دستاویز میں شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔ اسی دوران کانفرنس کے شرکاء کے قریبی سفارتی حلقوں نے یہ بھی بتایاکہ شامی تنازعے کے خاتمہ کیلئے مجوزہ بین الاقوامی امن کانفرنس بڑی طاقتوں کے مابین اختلافات کے باعث اگست کے مہینے سے پہلے ممکن نہیں ہوسکے گی۔ شمالی آئر لینڈ میں دنیا کے 8 طاقتور ممالک G8 کے سربراہی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ شام کے بحران پر جنیوا میں ہونے والی کانفرنس کا انعقاد جلد سے جلد ہونا چاہئے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہاکہ سربراہی جلاس میں بنیادی احتلافات کو ختم کرلیا گیا ہے تاہم اس اجلاس میں جنیوا کانفرنس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ اور روس کے صدور نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شام کے معاملے پر دونوں ممالک کے موقف متضاد ہیں۔ تاہم انہوں نے اس سلسلے میں جنیوا میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کیلئے کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔ صدر بارک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹین نے بتایاکہ وہ نیوکلیر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے نیوکلیر میٹریل کے حصول و تضیع کے ایک نئے معاہدہ پر دستخط کرنے والے ہیں کہ 1992ء کے معاہدہ کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ اوباما اور پوٹین نے G8 اجلاس کے دوران وقت فارغ کرتے ہوئے پرائیوٹ ملاقات کے دوران سکیورٹی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ نیوکلیر ہتھیاروں کے تحفظ، کنٹرول اور حساب کتاب رکھنے کیلئے مشترکہ اقدامات سے اتفاق کیا۔ اوباما نے پوٹین کے ساتھ بات چیت کے بعد کہاکہ یہ قدم تعمیری اور باہمی تعقلات کی ایک مثال ہوگا جو ہمیں سرد جنگ ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ نیشنل سکیورٹی کونسل ترجمان بین راڈس نے بتایاکہ روس اس معاہدہ میں توسیع نہ کرنے کے موقف پر اٹل تھا۔ معاہدہ نن۔لوگر سے موسم ہے جسے سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد سابق ڈیموکریٹک سینٹر سیام نلن اور رپبلکن سنیٹر رچرڈ لوگر نے مرتب کیا تھا۔ راڈس نے بتایاکہ بعض حوالوں سے روسی تشویش کی بنیادیں بھی مضبوط ہیں کیونکہ روس میں اس کے (جوہری اسلحہ) حصول سے متعلق انتہائی حارجانہ رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ نن نے کل نئے معاہدہ کی ستائش کرتے ہوئے بتایاکہ پرانے معاہدہ میں کیمیائی و جراثیمی ہتھیاروں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ نئے معاہدہ کے مسودے میں اس سے متعلق معاہدہ کے بعض حصے حذف کردئیے گئے ہیں۔ ایسے سنگین مسائل پر ہمیں معاہدہ کے دائرہ سے نکل کر بھی مشترکہ کوششیں کرنی چاہئے۔

G-8 leaders call for peace talks to end Syria's civil war

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں