لکھنؤ میں یوم ولادت حضرت علی کے موقع پر تقاریب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-05-25

لکھنؤ میں یوم ولادت حضرت علی کے موقع پر تقاریب

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے علم حاصل کرنے پر ہمیشہ زوردیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علی واحد ایسے انسان تھے جنہیں کعبہ میں پیدا ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ جسٹس حیدر عباس رضا نے ان خیالات کا اظہار 13؍رجب کے موقع پر شیعہ یتیم خانہ میں کیا۔ وہ جمعہ کو ادارہ وارث کعبہ کی جانب سے ہونے والے جشن مولود حرم میں خطاب کررہے تھے۔ قانری نظمی کی تلاوت قرآن پاک سے محفل کا آغاز ہوا۔ شاعر بلال کاظمی کی نظامت میں دیر رات تک چلی محفل میں بیرونی اور مقامی شاعروں نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ جسٹس حیدر عباس نے کہاکہ حضرت علی نے ہمیشہ لوگوں کو علم حاصل کرنے پر آمادہ کیا کیونکہ علم جہالت کے اندھیرے کو ایسے ختم کرتا ہے جیسے دیمک لکڑی کو۔ حضرت علی کی ولادت کی خودشی میں آج ہرجگہ خوشی منائی جارہی ہے کیونکہ اسلام کیلئے ان کی قربانیوں کو دنیا جانتی ہے۔ ان جیسا بہادر اور سخی تاریخ میں کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ خیبر کو اکھاڑ کر حضرت علی نے اپنی طاقت کا احساس دلایا تو آمسان کے راستوں کے بارے میں بتاکر اپنے علم کا احساس کروایا۔ انہوں نے کہاکہ 1400سال پہلے حضرت علی جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ سب سچ ثابت ہورہی ہیں۔ محفل کی صدارت بھی جسٹس حیدر عباس نے کی۔ مولانا ظہیر افتخاری نے کہاکہ آخری حج سے لوٹتے ہوئے پیغمبر اسلام نے حضرت علی کو ٹم کے میدان میں اپنے ہاتھ پر بلند کرکے یہ اعلان کیا کہ جس کا مولیٰ میں اس کے مولا علی۔ انہوں نے کہاکہ حضرت علی فرماتے تھے کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر آج کے سماج میں یہ بات مان لی جائے اور لوگ اس پر عمل کریں تو سارے جھگڑے ختم ہوجائیں۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسلام کا پرچم سربلند رہے۔ انہوں نے اپنے علم کا جو چراغ روشن کیا اس سے دنیا کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ تقریر کے بعد ملکی وغیر ملکی شاعروں نے امام کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کیا۔ مولانا میثم کاظم جرولی نے محفل کی صدارت کی۔ شاعر دلکش غازی، طارق قمر، شعلہ جونپوری، سلمان تابش، شہریا شاہی سمیت تمام شاعر موجود تھے۔ وہیں گھروں میں نذر کا سلسلہ جاری رہا لنگر تقسیم کئے گئے اور سبیلیں بھی لگائی گئیں۔

--

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں