مولانا ظفیرالدین کا انقلابی کارنامہ - علما کے لیے مشعل راہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-05-30

مولانا ظفیرالدین کا انقلابی کارنامہ - علما کے لیے مشعل راہ

مولانا ظفیر الدین نئی دہلی کے اوکھلا میں واقع مسجد نوح میں نماز مغرب ادا کرنے کے لئے روانہ ہورہے تھے۔ وہ دیگر علماء کی طرح قمیص اور شلوار زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان کا لباس اور شخصیت اور بظاہر عمومی نوعیت کی نظر آرہی تھی، لیکن ان کا جذبہ بالکل منفرد اور آتش چنار کی طرح تھا۔ مولانا ظفیرالدین دیگر علماء سے بالکل منفرد ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے لکچرر ہیں اور ایم فل کے طلبہ کو عربی زبان اور عرب تہذیب پر لکچر دیتے ہیں، لیکن ان کا جوش و خروش، جنون، حوصلے اور عزائم بالکل قابل رشک ہیں۔ انہوں نے دہلی میں ایسا منفرد ادارہ قائم کیا ہے، جہاں مولانا ظفیر الدین مسجد کے قریب واقع دعوتی مرکز میں ایسے بچوں کو عربی زبان سکھارہے ہیں، جس کے نتیجہ میں غریب بچوں کو روزگار کے بے شمار مواقع فراہم ہورہے ہیں۔ دینی مدارس سے فارغ التحصیل کم عمر بچوں میں ایک نئی زندگی کی امید پیدا کرنا اوران میں انقلاب پیدا کرنا مولانا ظفیر الدین کے عزائم ہیں۔ وہ بالکل کم تعلیم یافتہ بچوں کو عربی اور انگریزی میں مہارت پیدا کرتے ہوئے انہیں بڑی بڑی کمپنیوں میں روزگار فراہم کرنے کی کامیاب کوشش کررہے ہیں۔ بیک وقت دو زبانوں میں عبور حاصل کرتے ہوئے بچوں میں دونوں زبانوں میں ترجمہ کے فن کی مفت تدریس اس ادارہ میں دی جارہی ہے، جس کے سربراہ مولانا ظفیر الدین ہیں۔ خلیج اور عرب ممالک کے بیشمار سیاح دہلی کے بڑے بڑے اسپتالوں میں علاج کیلئے آرہے ہیں، اس کے لئے عربی اور انگریزی کے مترجمین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ دینی مدارس کے جو بچے مولانا ظفیر الدین کے انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کیلئے روزگار فراہم کرنے کے بھی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ کیلئے اقل ترین تعلیمی قابلیت عالم ہونا ضروری ہے۔ اترپردیش، دیوبند، سہارنپور، مراد آباد اور لکھنؤ سے خاص طورپر دینی مدارس سے فارغ طلباء کو اس انسٹی ٹیوٹ میں مفت تربیت دی جارہی ہے۔ مولانا ظفیر الدین کی عمر صرف 29 سال ہے۔ وہ 3بچوں کے باپ ہیں۔ ان کی اہلیہ عالیہ ظفر کیمسٹری کی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے بھی تعلیم و تدریس کے لئے اپنی زندگی وقف کردی ہے۔ ایک انٹرویو میں مولانا ظفیر الدین کہتے ہیں کہ دینی مدارس کے بچوں کو روزگار کے قابل بنانا نہایت ضروری ہے، انہیں روزگار کون دے گا، وہ زندگی کیسے گذاریں گے۔ ان کے انسٹی ٹیوٹ میں جب طالب علم 2سال کا ڈپلوما کورس حاصل کرلیتے ہیں تو طلباء کو روزگار حاصل کرنا بالکل آسان ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ اس قدر ترجمہ کے ماہر ہوجاتے ہیں کہ بڑی کمپنیاں خود اس ادارے سے رجوع کررہی ہیں۔ انتہائی کم وقت میں مولانا ظفیر الدین کا انسٹی ٹیوٹ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے، حتی کہ ان کے عظیم الشان کارنامہ پر انگریزی کے مؤقر روزنامہ ٹائمز آف انڈیا میں تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ کورس کی تکمیل پر طلباء کو روزگار فراہم کرنے کے انتظامات انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ہی کئے جاتے تھے، میکس، فورٹیز اور اپولو جیسے اسپتالوں سے انسٹی ٹیوٹ کا ربط ضبط ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء، جنوبی افریقہ، برطانیہ اور امریکہ میں بھی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان ممالک میں ان کیلئے روزگار کے بے شمار مواقع ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ سے فارغ التحصیل محمد عتیق نے بتایاکہ ان کے استاذ محترم مولانا ظفیر الدین ہی کی سرپرستی اور کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج میں زندگی میں کامیابی کی منزلیں طئے کررہا ہوں۔ مسلم معاشرہ کو ایسے ہی رہنماؤٍں کی اشد ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں