اصلاحی ادب کی تخلیق وقت کا اہم تقاضہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-04-29

اصلاحی ادب کی تخلیق وقت کا اہم تقاضہ

اصلاحی ادب کی تخلیق وقت کا اہم تقاضہ
اردو اسکالرس اسوسی ایشن نظام آباد کے اجلاس سے سید مجیب علی اور دیگر شرکاء کا خطاب

ادب کا تعلق ادیب کی ذہنی تربیت اور سماج سے ہوتا ہے ۔ اگر ادیب کی تربیت صالح ماحول میں ہو تو وہ صالح ادب تخلیق کرے گا۔ اگر اس کی تربیت میں کمی رہ گئی تو وہ برا ادب پیش کرے گا۔ اور آج کے اس انسانیت سوز ماحول میں شعرا اور ادیبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صالح ادب پیش کریں ۔ اور سماج کی تعمیر میں اپنا رول ادا کریں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب سید مجیب علی صاحب ڈائرکٹر و کرسپانڈنٹ کریسنٹ گروپ آف اسکولس و نالج پارک انٹرنیشنل نے اردو اکیڈیمی ہال میں منعقدہ اردو اسکالرس اسوسی ایشن کے تیسرے ماہانہ اجلاس سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے شہر نظام آباد میں یونیورسٹی و اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور رہنمائی کے لئے شروع کردہ اس اسوسی ایشن کے قیام اور اس کی قابل ستائیش سرگرمیوں کے لئے بزم کے سرپرستوں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی وڈاکٹر ناظم علی اور دیگر کو مبارک باد پیش کی۔ اور کہا کہ حیدرآباد کے بعد نظام آباد سے ساری دنیا میں اردو کا فروغ ہورہا ہے ۔ انہوں نے بزم کی ترقی کے لئے اپنے ہرممکنہ تعاون کا پیشکش کیا۔ اور مشورہ دیا کہ تحقیقی مقالوں کی پیشکشی کے بعد ان پر علمی مباحث بھی ہوں ۔ قبل ازیں اجلاس کی کاروائی کا آغاز ماہر عروض واحد نظام آبادی کی قراء ت کلام پاک اور نعت شریف سے ہوا۔ محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنا تحقیقی مقالہ’’ الطاف حسین حالی ؔ بہ حیثیت سوانح نگار ‘‘ پیش کیا۔ جس میں انہوں نے حالی کی تین سوانح عمریوں حیات سعدی‘ یادگار غالب اور حیات جاوید کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حالی نے اپنی سوانح عمریوں کے ذریعے مثالی کرداروں کو پیش کیا جن کے کارنامے رہتی دنیا تک لوگوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ سرپرست بزم ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے کیریر گائڈنس لیکچر کے تحت مختلف جامعات میں پی جی‘ایم فل اور پی ایچ ڈی کورسز میں داخلوں کے لئے طلباء کی رہنمائی کی اور کہا کہ طلباء انٹرنس امتحانوں کے اس دور میں ضروری معلومات رکھیں ۔ اس کے لئے یومیہ اخبارات کا مطالعہ کریں ۔ اور پرچہ امتحان کے مطابق اپنی تیاری کریں ۔ انہوں نے فاصلاتی تعلیم اور اسکالر شپ کے مواقع کے بارے میں بھی رہبری کی۔ سرپرست بزم ڈاکٹر محمد ناظم علی نے اپنا مقالہ’’ آل احمد سرور بہ حیثیت نقاد‘‘ پیش کیا اور آل احمد سرور کو ایک دانشور نقاد کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایس ایلیٹ کی طرح سرور نے بھی تنقیدکے موضوع پر کوئی باقاعدہ کتاب نہیں لکھی۔ اور صرف اپنے تنقیدی مضامین کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ان کی تنقیدیں آج بھی طلباء کو ادب شناسی میں رہنمائی کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر معید جاوید اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے بہ حیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک یونیورسٹی بھی کتابوں کے ذخیرے کے بغیر ادھوری ہوتی ہے ۔ اردو ادب میں نئے موضوعات پر مقالہ نگارقلم اٹھائیں ۔ اس کے لئے وسیع تر مطالعہ کریں ۔ انہوں نے تالیوں کی گونج میں حیدرآباد سے اساتذہ اردو کے ذاتی کتب خانوں سے اردو اسکالرس اسوسی ایشن کے لئے اردو کی نادر کتابیں دلانے کا اعلان کیا۔ محترمہ شمیم سلطانہ لیکچر ر اردو ویمنس کالج نے غزل پیش کی۔ محمد عبدالبصیر لیکچر ر اردو اے پی آر جے سی نظام آباد نے اجلاس کی کامیاب نظامت کی۔ اردو اردو اسکالرس اسوسی ایشن کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔ عزیز سہیل کے شکریے پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔ اجلاس میں بودھن‘نظام آباد اور دیگر علاقوں کے طلباء اور اسکالرس نے شرکت کی۔

urdu scholars association nizamabad literary meeting

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں