ادب کی کہانی میری زبانی - انشائیہ از انجشہ قندیل - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2023-01-11

ادب کی کہانی میری زبانی - انشائیہ از انجشہ قندیل

adab-ki-kahani-meri-zabani

کہتے ہیں کہ زبان پر ادب کا نام آئے اور ذہن میں شاعری نا کھٹکے تو آپ بہت خراب ذوق کے مالک ہیں۔ ایسا میں تو نہیں ،لیکن کچھ اعلیٰ حضرات ( شعراء کرام ) کہہ دیتے ہیں۔ اور پھر عربی ادب کی سب سے پہلی شکل "شاعری" ہی ہے! یہ بھی کانوں نے سنا اور معدے نے ہضم کرلیا۔
زمانہ قدیم یعنی دور جاہلیت میں بڑے بڑے شاعروں کا جنم ہوا اور انہوں نے اپنے سے دو دو انچ بڑے بڑے سرداروں کی شان میں قصیدے لکھ کر ان کی عزت افزائی کی، چاہے خود ان کی عزت کا در در فالودہ بنتا رہا ہو۔ اور تو اور ایک بات جو کہ ذہن اور گردے سے پھسل رہی ہے یہ کہ اتنا ہی نہیں بلکہ! کچھ اعلیٰ قسم کی شاعری کعبہ کی دیوار پر لٹکا دی جاتی تھی ، ادھر تو ہم گھر کی دیوار پر اگر کیل ٹھونک کر کلینڈر لٹکا دیں تو گھر والے ایسے گھورتے ہیں جیسے دیوار پر خندق کھود دی۔۔۔


خیر ! آتے ہیں عہد وسطیٰ کے معزز شاعر اقبال ، غالب ، فیض ، فراز ، حالی ، میر ، ظفر وغیرہ کی طرف! ہائے اقبال صاحب کی شاعری کے کیا ہی کہنے یقین کریں ہماری نانی بھی دیوانی تھیں بالکل ایسے ہی جیسے پان‌ چبانے کی۔ سنیے دن بھر میں اگر ایک دفعہ قصداً نظر مل جاتی تھی تو ہاتھ سے اشارتاً ایسے بلاتی تھیں کہ اگر میں نہیں گئی تو امی کو جائیداد سے بے دخل کر دیں گی، پھر بٹھا کر چشمہ صاف کرتے ہوئے بولتیں:
" چلو ذرا یاد کی ہوئی اقبال صاحب کی تازہ نظم سن لو"
بعض دفعہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ اقبال صاحب نانی کو ہوم ورک دے کر چلے گئے اور حشر میں نانی سے اپنی نظموں کا حساب لیں گے ( حق مغفرت فرمائے دونوں لوگ عزیز ہیں مجھے)۔


اففف اللہ! فیض صاحب جو آج کے نوجوانوں کے گردے کے ترجمان ، بس کیا ہی کہوں آج کل سڑک کنارے خوبصورت ماؤں کے ہینڈسم لال پر غلطی سے پہلی نظر پڑتے پھر جان بوجھ کر دوسری نظر ڈالتے ہوئے ہم فیض صاحب ہی کو بدنام کرتے ہیں کہ " اٹھ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے"
چلیے حالی سے ملیے جن کے مسدس لکھنے پر سر سید صاحب نے کہہ دیا کہ اگر خدا پوچھے کیا لائے تو "مسدس حالی" پیش کروں گا ، اور ایک ہم قسمے اپنا اعمال پیش کرنے کے لئے روح ایسے کانپ رہی جیسے دسمبر میں منالی کا سوچ کر کلیجہ کانپتا ہے۔


مرزا غالب کے بارے میں مجھ خاکسار کی زبان گنگ ہے، بس ان کو سنیے اور سر دھنیے " عجیب آزاد خیال مرد تھا " شراب نا ملنے پر وضو کرتے اور دوران وضو ناک میں شراب کی مہک لگتے ہی شاعری کرنے لگتے کہ " زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر"
اب آپ اور میں عہد وسطیٰ کے تو ہیں نہیں جو اتنی دیر سے وہاں سواری کے انتظار میں کھڑے ہیں، دور جدید کی طرف پیدل بڑھیے جہاں حکومت شاعریہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی اور پھر جون ، حافی ، زریون کے اقتدار قائم ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے ریاست کی تخت نشینی سنبھالی ، پھر کیا تھا حکومت ان بادشاہوں سے اتنی متاثر ہوئی کہ " مجنوں " کا خطاب دے دیا۔


ارے ہاں بتاتی چلوں کہ آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ مجھے نہیں، زریون صاحب کو! جب انہوں نے اسکول سے نکل کر نئے نئے کالج میں داخلہ لیا ، کلاس میں آتے ہی سامنے بینچ پر بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھ کر غلطی کر بیٹھے ، ہوا یہ کہ بے ساختہ ان کی زبان پر شاعری کا نزول ہوگیا اور فوراً بول پڑے!
" کس نے جینز کری ممنوع
پہنو اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔"
پھر کیا تھا دل تھام‌ کر سنیے پرنسپل صاحب نے لال سیاہی لگائی اور یوں انہوں نے جینز جھاڑتے ہوئے کالج کی دنیا سے نکل کر شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔ کہتے ہیں کہ اس گزرے ایام سے اتنے غمزدہ ہوئے کہ آج ان کی حالت ہم تمام واہ واہ کرنے والوں کے سامنے ہے۔۔۔


آئیے خیر مقدم ہے آزادی کی طرف ، پندرہ اگست والی نہیں بلکہ آزاد نظم والی شاعروں کی آزادی کی بات ہو رہی۔ جس میں کچھ شعراء اتنے ملوث ہوگئے کہ خدا خیر کرے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ان کی آزاد نظم ہے یا آزادی کا پرچم جسے جتنی مرضی اوپر اڑا دیا جائے پھر بھی کم ہی ہے۔ اب دیکھیے نا حافی صاحب کو! ان کی ایک نظم کانوں میں اتری:
"ہم ملیں گے تمہیں باغ میں ، گاؤں میں ، دھوپ میں ،چھاؤں میں ، ریت میں ، دشت میں ،شہر میں ، مسجدوں میں ، کلیسوں میں ،مندر میں ، محراب میں ، خواب میں ، آگ میں۔۔۔"
افففف خدایا! آدھا پتہ تو بھول گئی۔ لیکن! یہ نظم پڑھ کر مجھے شدت سے ابن بطوطہ یاد آئے کہ شاید آپ نے اتنا سفر نہیں کیا ہوگا " کتاب الرحلہ " لکھنے کے لیے جتنا حافی صاحب نے محبوبہ سے ملنے کا پتہ لکھ رکھا۔۔۔ خدا معاف کرے ہاں ! مجھے ہی۔۔۔


ہائے! محترم جون ایلیا صاحب " جنہوں نے خود اپنے بارے میں کہا کہ
" میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
میرا بے حد لحاظ کیجئے۔۔۔۔۔۔"
کرتے ہی ہیں لیکن ایک دفعہ تو حد ہی ہو گئی۔ ان کے ایک عزیز دوست ان سے پہلی بار ملاقات کے لیے گئے، جاتے ہی جون صاحب بول پڑے۔۔۔
" مجھ سے ملنے کو آپ آئے ہیں
بیٹھیے بلا کے لاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔‌۔"
پہلے تو یہ عزیز دوست حیران ہوئے کہ اتنے دور سے غلط پتہ پر میں آگیا لیکن پھر تحقیق کی اور اس حادثے کے بعد دوبارہ اپنا رخ انور جون صاحب کی طرف نہیں کیا۔ ہائے انور جی کتنے بھولے تھے آپ۔۔۔
ایک ہمارے نوجوان بھی ایلیاء؎ صاحب سے متاثر ہیں ان کے پاس خود کورس کی کتابیں ہوتی نہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ:
" میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں"
اب ان جیسوں پر قلم‌ بھی خاموش ہے بھلے ہی کی-بورڈ ساتھ دے رہا ہے۔۔۔


خیر ! بہت پڑھ لیے عظیم ہستیوں پر قصیدے ذرا مجھ سے بھی ملیے۔ شاعری ہمارے بھی ذہن پر ایسی سوار تھی کہ کچن سے کمرے تک امی کے ہر حکم پر شاعری سے ہی جواب ملتا تھا۔ ظلم تو تب ہوا کہ مہمان نے ہمارے نازک ہاتھ کی بنی چائے کی تعریف کر دئیے ، بس سننا تھا کہ ادھر جذبات بھڑک اٹھے زبان پھسلی منہ سے ایک شعر چھلانگ لگا کر سامنے کھڑا ہو گیا:
" لمس کی آنچ پہ جذبوں نے ابالی چائے "
۔۔۔۔ ہائے ہائے کیا کہنے میرے! مگر امی تو مہمان کے جاتے ہی مجھ معصوم سے پاگل خانے کا ایڈریس پوچھنے لگیں۔ تو ہم نے مارے خوف کے سو تسبیح استغفار کی پڑھ کر خود پر دم‌ کیا اور معافی مانگی کہ شاعری کے جذبے کو چائے میں نہیں دل ہی میں چھپا کر رکھنا ہے۔۔۔۔۔
اب مجھے اور آپ کو سوچنا چاہیے کہ ہماری نوجوان نسل شاعری کی اہمیت کو لے کر سوشل میڈیا پر اتنی سنجیدہ کیوں؟

***
انجشہ قندیل (اعظم گڑھ، اترپردیش)
ای-میل: usmanishama99[@]gmail.com

Adab ki kahani meri zabani. Light-Essay by: Anjasha Qandeel

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں