فن کار - افسانہ از زیبا خان - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-06-01

فن کار - افسانہ از زیبا خان

funkaar-short-story-by-zeba-khan

شام ہو چکی تھی بوڑھا فن کار ہاتھ میں برش پکڑے تصویر کے آخری جز میں رنگ بھر رہا تھا۔ اس نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا ، پیشانی پر پسینے کی بوندیں چھلک آئیں.
اندھیرا بڑھ رہا ہے۔۔۔ وہ کچھ بدبدایا۔۔۔ پھر اپنے کام میں لگ گیا۔ جیسے جیسے اندھیرا بڑھ رہا تھا اس کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میں وہ تصویر کو مکمل نہیں کر پائے گا اس نے سوچا۔۔۔ اور تیزی سے ہاتھ چلانے لگا۔ ابھی پچھلے دنوں ہی اس نے موتیابند کا آپریشن کروایا تھا، ڈاکٹر نے اسے منع بھی کیا کہ آنکھوں پر زیادہ زور نہ پڑے اسے آرام کی ضرورت ہے۔ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
کیا کروں ، چھوڑ دوں۔۔صبح اٹھ کر سب سے پہلے یہ پینٹنگ مکمل کروں گا، نہیں نہیں پینٹنگ کو سوکھنے کے لئے بھی تو کچھ وقت چاہیے اور اگر سلیمان صبح جلدی ہی آ گیا تو تصویر کیسے مکمل ہو پائے گی۔۔ مجھے ابھی کرنا چاہیے۔۔
کل کرے سو آج کر، آج کرے سو اب۔۔۔ پل میں پرلے ہوئے گی بہری کرو گے کب۔۔ کبیر جی کا دوہا جو اکثر وہ گنگنایا کرتا تھا، گاتے ہوئے اٹھا اور ماچس تلاش کرنے لگا۔ اس نے چولہے کے پاس دیکھا ماچس وہاں نہیں تھی۔ الماری نما چھوٹے سے طاق کو، جس میں اکثر وہ روپے پیسے رکھ دیا کرتا تھا ٹٹول کر دیکھا ماچس وہاں بھی نہیں تھی۔
کہاں چلی گئی سالی۔۔۔۔اس نے گھر کا کونا کونا ٹٹول لیا ماچس نہیں ملی۔۔ وہ جھنجھلا کر پینٹنگ کی طرف بڑھا اندھیرے میں اس کا پیر دہلیز سے ٹکرایا وہ اوندھے منھ پینٹنگ پر گر پڑا ۔۔۔ پینٹنگ کے گرتے ہی رنگوں کے ڈبے لڑھک کر زمین پر پھیل گئے۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔۔۔


اپنے بچپن سے لے کر جوانی اور بڑھاپے تک کی ساری باتیں اسے یاد آنے لگیں۔ اسے یاد آیا جب وہ سات سال کا تھا اس نے اپنی پہلی پینٹنگ بنائی تھی، حالانکہ اس کے پاس رنگ نہیں تھے ، اس نے اسکول سے پرنسپل کے آفس میں رکھی رنگوں کی ڈبیاں چرائی تھیں۔ جب اماں کو پتہ چلا اس نے اسکول میں چوری کی ہے انہوں نے خوب پٹائی کی تھی ، ڈبیاں چھین کر پھینک دیں۔۔۔ اسے کوٹھری میں بند کر دیا تھا۔
اس کے بعد اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اب کبھی چوری نہیں کرے گا۔ اسے یہ بھی یاد آیا جب اس کی بنائی ہوئی پینٹنگ پر پہلی بار اسے پچاس روپے انعام ملے تھے تب اس وقت اس کی عمر پندرہ برس تھی۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اسکول سے بھاگتا ہوا سیدھا گھر آیا ، آکر ماں سے لپٹ گیا تھا۔ ماں کی ہتھیلی پر وہ روپے رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔
"دیکھ اماں۔۔۔میری پینٹنگ پر مجھے انعام ملا ہے۔ اماں اب میں ایسی ہی سیکڑوں پینٹنگ بناؤں گا۔۔بڑے بڑے میلوں میں ان کی نمائش ہوگی لوگ ہاتھوں ہاتھ خریدیں گے۔۔۔اماں اب تجھے پیسوں کی فکر نہیں کرنی پڑے گی اب تو کسی کے گھر برتن دھونے نہیں جائے گی۔۔۔"


بائی شا کو ہنسی آ گئی۔۔۔
"اماں ہنس رہی ہے تو۔۔۔۔ ایسا میں نہیں کہہ رہا اسکول میں ماسٹر صاحب بھی کہہ رہے تھے۔۔۔"
بائی شا دیر تک اسے گلے لگائے اس کی معصومیت پر آنسو بہاتی رہی‌۔


بندو رحیم پور گاؤں کا جانا مانا کمہار تھا، مٹی کے برتنوں پر نقاشی کرنا اسے وراثت میں ملا تھا۔ اس کے بنائے ہوئے برتنوں کی بازاروں میں دھوم تھی۔ خاص کر دیوالی پر جب رحیم پور کے آس پاس کے علاقوں میں بازار سجتے تو ہر جگہ دکانوں پر بندو کے برتن نظر آتے۔ صراحی کی گردن پر باریک نقاشی کرتے ہوئے بندو خوبصورت بھگوان گنیش اور لچھمی جی کی تصویریں بنا دیتا۔ جن کی بازاروں میں کافی مانگ رہتی۔ کبھی کبھی آرڈر پر بھی اس نے خوبصورت مورتیاں تیار کی تھیں۔ بائی شا جب بھی اس کے ساتھ چاک پر بیٹھتی وہ مسکراتا اور کہتا: بائی شا چاک ذرا آہستہ گھمانا ورنہ صراحی کی گردن ٹوٹ سکتی ہے۔۔۔
جب صراحی کی گردن آپ کے ہاتھوں میں ہو تو ٹوٹنے کا سوال ہی نہیں۔۔
بائی شا اپنی صراحی جیسی گردن، جس پر بندو نے بارہا بوسے لیے تھے ہاتھ رکھ کر ایک نظر بندو کی طرف دیکھتی اور مسکرا کر چاک گھمانے لگتی۔۔۔


پانچ بچوں کو جنم دینے کے بعد بھی بائی شا کا جسم سڈول تھا حالانکہ چہرے پر کچھ جھریاں نظر آنے لگی تھیں۔ پانچ بچوں میں اس کی ایک ہی اولاد شمبھو زندہ رہا باقی چاروں بچے پیدا ہوتے ہی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو کر مر گئے، کوئی بھی ایک سال سے زیادہ نہ جیا۔ شمبھو کی پیدائش پانچویں نمبر پر ہوئی۔ بائی شا کو بالکل بھی امید نہیں تھی کہ یہ جئے گا، پھر بھی بائی شا نے کوئی درگاہ نہ چھوڑی جہاں منت نہ مانی ہو۔
جب شمبھو ایک سال کا ہو گیا بائی شا کی امید جاگی اس نے بندو کے ساتھ جاکر منتوں کی چادر چڑھائی۔ اسی رات شمبھو کو تیز بخار چڑھا۔۔۔ بائی شا گھبرا گئی۔۔ تمام دواؤں گھٹیوں کے بعد شمبھو کا بخار تو اتر گیا لیکن اس کے داہنے ہاتھ نے حرکت کرنا بند کر دیا۔ جیسے جیسے شمبھو بڑا ہوتا رہا اس کا داہنا ہاتھ کمزور ہوتا چلا گیا اور سوکھ کر پتلا ہو گیا۔ بندو شمبھو کو لے کر پریشان رہتا کہ وہ اپنے آبائی پیشے یعنی چاک اور نقاشی کی وراثت کیسے سنبھالے گا۔ ایک ہاتھ سے چاک چلانا اور اس پر سے برتنوں کو اتارنا ممکن نہیں ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ شمبھو کو پڑھائے گا اور اسے بائیں ہاتھ سے نقاشی کرنا سکھائے گا۔


بندو نے شمبھو کو گاؤں کے پرائمری اسکول میں داخل کروا دیا اور گھر پر اسے بائیں ہاتھ میں قلم اور برش پکڑنا سکھانے لگا۔ بائی شا جب شمبھو کو برتنوں پر آڑی ترچھی لکیریں بناتے دیکھتی من ہی من خوش ہوتی۔ لیکن اس کی یہ خوشی زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی۔
دیوالی آنے والی تھی بندو کے پاس برتنوں اور دیوں کا آرڈر تھا اس نے بائی شا کے ساتھ مل کر بہت سارے برتن اور دیے بنائے۔۔۔ انہیں پکانے کے لئے کمرے نما بھٹی میں، جو اس نے گھر کے باہری حصے دو چھپرا میں بنا رکھی تھی، بھر دئیے۔ اس میں بہت سارا ایندھن لکڑی کنڈے وغیرہ لگا کر انہیں سلگا دیا۔ پھر بائی شا اور شمبھو کے ساتھ کوٹھری میں جاکر بندو سو گیا۔ رات کو اچانک موسم خراب ہوا ، پہلے تو کافی دیر ہوائیں چلتی رہیں دھیرے دھیرے ہواؤں نے طوفان کا روپ اختیار کر لیا۔ بندو اٹھ کر باہر آیا طوفان پورے جوش پر تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔۔۔۔بھٹی میں آگ سلگ رہی تھی۔بندو بالٹی بھر بھر کر بھٹی پر ڈالنے لگا۔۔۔


اسی بیچ بھٹی سے اڑ کر ایک چنگاری نے چھپر کو پکڑ لیا۔۔۔چھپر سرسر کر جلنے لگا۔۔۔بائی شا ڈری سہمی شمبھو کو سینے سے چپکائے کھڑی تھی۔ بندو آگ پر قابو پانے کی لگاتار کوشش کر رہا تھا۔ وہ نل سے پانی بھر کر چھپر پر پھینک رہا تھا۔ چھپر میں لگی ہوئی لکڑی جب پوری طرح جل چکی تو ٹوٹ کر جلتا ہوا چھپر بندو کے اوپر ہی گر گیا۔۔۔بائی شا چیخ کر دوڑی۔۔۔ بندو چھپر کے نیچے دبا ہوا تھا اور آگ پورے زور و شور سے جل رہی تھی۔ چیخ پکار سن کر پاس پڑوس کے لوگ دوڑے۔۔۔ جب تک آگ بجھائی گئی بندو اسی فیصد تک جل چکا تھا۔ طوفان دھیرے دھیرے تھم گیا اور اسی کے ساتھ اسی فیصد تک جل چکے بندو کی سانسیں بھی ختم ہو گئیں۔


اب بائی شا کی زندگی میں طوفان نے ہلچل مچانی شروع کر دی، اس کا مٹی کے برتنوں کا کاروبار بند ہو گیا۔ بائی شا محلے کے گھروں میں جاکر جھاڑو برتن کا کام کرنے لگی۔
شمبھو اب پانچ سال کا ہو چکا تھا۔ وہ اسکول جانے کے ساتھ ساتھ گھر میں پڑے ہوئے برشوں کو پانی میں بھگو بھگو کر دیواروں پر الٹی سیدھی تصویریں بنانے کی کوشش کرتا۔ بائی شا کو گھروں میں کام کرنے کے جتنے پیسے ملتے ان سے گھر کی ضروریات اور شمبھو کی فیس ہی ادا ہو پاتی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اسے مصوری کے لئے نیا برش اور رنگ خرید کر نہیں دے سکتی تھی۔


ایک دن شمبھو جب فیس جمع کرنے کے لئے پرنسپل کے آفس میں گیا تو اس نے وہاں رنگ برنگے رنگوں کی ڈبیاں دیکھیں، جسے دیکھ کر اس کے اندر کا فن کار جاگ گیا۔۔۔ یہ ڈبیاں وہ کسی طرح حاصل کرنا چاہتا تھا۔ رات بھر وہ آفس سے ڈبیاں چرانے کا پلان بناتا رہا۔ صبح ہوتے ہی وہ تیار ہوکر وقت سے پہلے اسکول پہنچ گیا۔ آفس کھل چکا تھا ابھی پرنسپل میم نہیں آئیں تھیں۔ جیسے ہی جمعدار صفائی کرکے آفس سے نکلا شمبھو نظر بچا کر آفس کے اندر گیا۔ اس نے میز پر رکھی رنگوں کی چار ڈبیاں اٹھاکر اپنے جیب میں رکھیں اور باہر نکل آیا۔ اب وہ اسکول میں رکنا نہیں چاہتا تھا اس لیے گھر لوٹ آیا۔ بائی شا کام پر جا چکی تھی۔ شمبھو نے ڈبیاں جیب سے نکال کر باہر رکھیں اور آرٹ کی کاپی پر رنگ برنگی تصویریں بنانے لگا۔


خوشی سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ بائی شا جب دوپہر میں گھر لوٹی شمبھو کو رنگوں سے تصویر بناتے دیکھ چونک گئی۔
"شمبھو تمہیں یہ رنگ کہاں سے ملے۔۔۔۔؟"
وہ چوری تو کر سکتا تھا لیکن ماں سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ اس نے بائی شا کو سب سچ بتا دیا۔ بائی شا نے غصے میں آکر اسے خوب پیٹا اور کوٹھری میں بند کر دیا۔ رات کو کھانے کے وقت جب بائی شا نے شمبھو کو باہر نکالا اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ بائی شا نے شمبھو کو سینے سے چپکا لیا اور دیر تک اپنی بے بسی پر روتی رہی۔
اگلے دن بائی شا نے اپنی ناک میں پڑی ہوئی کیل بیچ دی ، وہ شمبھو کے لئے برش اور کلر خرید لائی۔ شمبھو اسکول سے آنے کے بعد دن بھر پینٹنگ بناتا رہتا۔ ایک ہاتھ کی وجہ سے اسے اپنے بہت کاموں میں ماں کی ضرورت پڑتی تھی۔۔۔بائی شا اس کا داہنا ہاتھ تھی۔ دھیرے دھیرے شمبھو کا ہاتھ پینٹنگ بنانے میں صاف ہو رہا تھا۔ اسکول کے پروگراموں میں وہ اپنی بنائی ہوئی پینٹنگ پیش کرتا اسے شاباشی ملتی۔ کبھی کبھار اس کی بنائی ہوئی پینٹنگ پر اسے سو پچاس روپے کا انعام بھی مل جاتا جو اس کی پینٹنگ بنانے کی دلچسپی میں مزید اضافہ کرتا۔


شمبھو جب بائیس سال کا ہوا تب تک اس نے پینٹنگ بنانے کے فن میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ گاؤں کے آس پاس کے علاقوں میں لگنے والی میلا پردرشنیوں میں اس نے اپنی پینٹنگز لگانی شروع کر دیں۔ جس سے شمبھو کو مہینے میں دو چار ہزار روپے ملنے لگے اور گھر کا کھانا خرچہ آرام سے چلنے لگا۔
پڑوس کا سلیمان جو دہلی میں رہتا تھا اس نے شمبھو کی پینٹنگ دیکھیں تو اسے مشورہ دیا کہ وہ دہلی کی جاکر اپنی پینٹگز کی نمائش کرے۔ یہاں گاؤں قصبوں میں اس فن کی اتنی قدر نہیں ہے جتنی دہلی جیسے بڑے شہروں میں ہے۔ شمبھو کو سلیمان کا مشورہ پسند آیا۔


اس نے آٹھ دس نئی پینٹنگز بنائیں اور بائی شا کی اجازت لے کر سلیمان کے ساتھ دہلی چلا گیا۔ دہلی کی نمائشوں میں شمبھو کو اپنی پینٹنگز کے قدردان مل گئے۔ پہلی بار اس کی ایک ایک پینٹنگ ہزاروں روپیوں میں فروخت ہوئیں۔ اب وہ جلد از جلد گھر پہنچ کر بائی شا کو وہ روپے دکھانا چاہتا تھا۔ ٹرین کا ٹکٹ لے کر رات کو ہی وہ گاؤں کے لیے نکل پڑا۔ صبح سات بجے شمبھو گاؤں پہنچ گیا۔ اس نے دروازے پر ہی بائی شا کو آواز دی۔۔۔ جب دیر تک اندر سے کوئی آواز نہیں آئی اس نے دروازے پر ہاتھ لگایا ، اس کے ہاتھ لگاتے ہی دروازہ کھل گیا۔ شمبھو بائی شا کو پکارنے لگا:
"اماں۔۔ اے اماں۔۔۔دیکھ میری پینٹنگز کا کمال۔۔۔"


اس نے جیب سے روپے نکال کر پلنگ پر رکھتے ہوئے کہا۔ لیکن بائی شا کچھ نہیں بولی۔۔۔وہ شرٹ اتارتے ہوئے کوٹھری کی طرف بڑھا سامنے زمین پر بائی شا کی نیم برہنہ خون سے لت پت لاش دیکھ کر شمبھو پاگلوں کی طرح چیخ پڑا:
"اماں۔۔اے اماں۔۔۔کیا ہوا تجھے اماں۔۔۔۔بول۔۔۔کس نے کیا یہ تیرے ساتھ۔۔۔ اماں بول نا۔۔میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔"
بائیں ہاتھ میں شرٹ پھنسی ہوئی تھی اور وہ بائی شا کو جھنجوڑ رہا تھا۔۔ پاس پڑوس کے لوگ شمبھو کی دلخراش چیخیں سن کر دوڑ پڑے۔۔ بائی شا کی لاش کو اس حالت میں دیکھ کر سب حیرت میں پڑ گئے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ کیسے ہو گیا۔۔ کسی کو ادھر آتے ہوئے بھی نہیں دیکھا گیا۔۔۔۔لوگ شمبھو کو دلاسہ دیتے رہے۔۔۔


شمبھو اب گھر میں اکیلا رہ گیا تھا۔۔۔اس نے بہت کوشش کی لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا بائی شا کے ساتھ یہ سب کس نے کیا تھا۔ اکیلے پن کو دور کرنے کے لئے کبھی کبھار وہ پینٹنگ بنانے کی کوشش کرتا لیکن اس کی آنکھوں میں بائی شا کی تصویر آ جاتی ، وہ گھبرا کر برش پھینک دیتا۔۔۔ اس کے بعد اس نے پینٹنگ بنانا بھی چھوڑ دیا۔


کئی برسوں کے بعد آج سلیمان کے بہت کہنے پر اس نے یہ پینٹنگ بنائی تھی وہ بھی ادھوری رہ گئی وہ آنسو پوچھتا ہوا دہلیز سے اٹھا اور جاکر پلنگ پر لیٹ گیا۔ صبح سلیمان کی دستک پر اس کی آنکھ کھلی، سلیمان گاؤں کے پردھان رما شنکر کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
رماشنکر کو یہ پینٹنگ اپنے بیٹے کے پاس لندن کو بھیجنی تھی جو وہاں پر فائن آرٹس کا کورس کر رہا تھا۔ اسی نے سلیمان سے کہہ کر شمبھو سے پینٹنگ بنوائی تھی۔ شمبھو نے دہلیز پر پڑی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افسوس سے کہا: سلیمان یار تیری پینٹنگ مکمل نہیں ہو پائی۔۔۔ رماشنکر نے آگے بڑھ کر زمین پر پڑی پینٹنگ اٹھائی اور پلٹ کر دیکھی۔۔۔ اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔
"ب۔۔ب۔۔بائی شا۔۔۔"

***
زیبا خان (گوپامؤ ہردوئی، اترپردیش)
ای-میل: kzeba1674[@]gmail.com

Funkaar, a short story. by: Zeba Khan

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں