کانچ کے رشتے ٹوٹ نہ جائیں کہیں - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-06-03

کانچ کے رشتے ٹوٹ نہ جائیں کہیں

kaanch-ke-rishtey

انسان پیکر نسیان ہے، عجلت پسند اور جلد باز ،اس کے افکار تغیرپذیر ہوتے رہتے ہیں، اس کی ذہنی حالت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی ، زاویہ نگاہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگ باہم شیر و شکر رہتے ہیں بالکل یک جان دوقالب، مگر زمانے کی فسوں کاری ان کو جانی دشمن بنادیتی ہے ۔ حدیث میں ہے
احبب حبیبک ھوناً ما
عسی ان یکون بغیضک یوماًما
وابغض بغیضک ھوناً ما
عسی ان یکون حبیبک یوماًما


آمدم برسر مطلب وہ یہ کہ کوئی انسان کامل نہیں ہوتا، اگر آپ کسی کو چاہتے ہیں تو اس کو اس کی خامیوں سمیت قبول کریں، اس کو فرشتہ یامعصوم ہر گز نہ سمجھیں کہ وہ غلطی نہیں کرسکتا ۔ میاں بیوی کہ جن کے درمیان سوائے محبت ومؤدت اور ایثاروقربانی کے کچھ نہیں ہوتا،ان کے بارے میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگربیوی اپنے شوہر میں یا شوہر اپنی بیوی میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اس کو زیادہ مائنڈ نہ کرے ،ا س لیے کہ اس سے رشتے تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کی اچھائیوں پر نظر رکھیں۔


اس سلسلے کی دوسری اہم چیز یہ ہے کہ بات کا بتنگڑ نہ بنائیں ،حرفیت پسندی یاظاہر پرستی کے بجائے جذبات کی سچائی پیش نظر رکھیں ۔ اسلام میں جذبات (Emotions) ، احساسات (Feelings) ، اور نیتوں (Intentions) ہی کی اہمیت ہے حدیث:’’انما الاعمال بالنیات‘‘ یعنی عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ علماء نے اس حدیث کو دین کی اساس قرار دیا ہے ،نیز اللہ نے خود کوحرف شناس یا لفظ داں کہنے کے بجائے علیم بذات الصدور کہاہے، نیز قربانی کے سلسلے میں اللہ نے کہا:’’ لن ینال اللہ لحومھا ولادماء ھا ولکن ینالہ التقوی منکم‘‘ یعنی اللہ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت یا خون نہیں پہونچتا بلکہ تمہارے دل کی کیفیت (تقوی) پہونچتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات اور حدیث جہاں اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ اسلام میں معانی کو مبانی پر فوقیت حاصل ہے وہیں وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ اسلام میں اصل مطلوب یہی دلی کیفیت ہے ۔ ایمان سراسر اسی دلی کیفیت کا نام ہے، حرفیت پسندی اسلام میں بالکل نہیں ہے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتاہے جوکسی چٹیل میدان میں اپنی سواری کے ساتھ ہوتا ہے پھر اچانک اس کی سواری غائب ہوجاتی ہے اوراس کی سواری پرہی اس کے خوردونوش کاسارا سامان رہتا ہے، تلاش بسیار کے بعد بھی اس کو وہ سواری نہیں ملتی اوروہ اس سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے اورموت کو اپنا مقدر سمجھ کر ایک درخت کے نیچے آکر سوجاتاہے ،اس دوران اس کی سواری سامان خوردنوش سمیت اس کے پاس کھڑی ہوجاتی ہے تووہ اس کی لگام پکڑ کر مارے خوشی سے کہتا ہے ’’اللھم أنت عبدی وأنا ربک‘‘ (صحیح مسلم:2747)یعنی اے اللہ تومیرا بندہ ہے اورمیں تیرا رب ہوں۔ خوشی کے عالم میں اس نے جملے کو الٹ دیا ہے یعنی اللہ کوبندہ اورخود کورب کہا ہے مگراللہ اس سے ناراض نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ محض میرے بندے کے الفاظ ہیں ،جذبات اس کے برعکس ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دولوگ آپس میں کسی بھی قسم کا رشتہ رکھتے ہوں الفاظ کے دام میں کبھی نہ پھنسیں اس لیے کہ
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے؟
جس کی نگاہ گوہرپرہوتی ہے وہ کبھی صدف کی بناوٹ اوراس کے نقش وعکس کے پیچھے خود کوہلکان نہیں کرتاہے ۔

تیسری چیز یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہ کریں اس لیے کہ عجلت شیطان کی طرف سے ہے، ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نے اپنے باغ کے رکھوالے سے کہا کہ باغ سے میٹھے میٹھے پھل توڑ لاؤ، چنانچہ خادم نے کچھ پھل توڑ ے اوراس کو مالک کے سامنے پیش کردیا،مالک نے نے پھل چکھا توبہت غصہ ہوا اور خادم کوبلاکر خوب ڈانٹ ڈپٹ کی ،مگر جب خادم نے جواباً عرض کیا کہ سرکار آپ نے مجھے باغ کی رکھوالی کاکام سونپا تھا جس کومیں نے پوری ایمانداری سے اداکیا مگر پھل کے ذائقوں کے بارے میں مجھے کچھ نہیں پتہ اس لیے کہ میں نے آج تک باغ کا کوئی پھل نہیں چکھالہٰذا مجھے نہیں معلوم کہ کس درخت کا پھل میٹھاہے اور کس کاکڑوا یاکسیلا؟یہ سن کر مالک روپڑا۔

چوتھی چیز یہ ہے کہ دل کے پیالے کو محبت سے اس قدر لبریز کردیں کہ اس میں نفرت کے لیے جگہ ہی نہ باقی بچے :
ان کا جوکام ہے وہ اہل سیاست جانیں
میراپیغام محبت ہے جہاں تک پہونچے
دل ایک ایسا ظرف ہے جوخالی نہیں رہناچاہتا،کسی انیس اورمحبوب کوچاہتاہے ،ابوالبشر آدم علیہ السلام نے جنت کی ساری نعمتوں کی موجودگی میں بھی حوا کی کمی محسوس کی
ہے محبت حیات کی لذت
ورنہ کچھ لذت حیات نہیں
کیااجازت ہے ایک بات کہوں
وہ ،مگر،خیر! کوئی بات نہیں

پانچویں چیز یہ ہے کہ غلط فہمیوں سے دوررہیں ،حسن ظن سے کام لیں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے باربار لوگوں کے ساتھ اچھا گمان کرنے کی تاکید فرمائی ہے اوربدگمانی سے روکا ہے اورا س کو ’’سب سے بڑاجھوٹ‘‘اور’’گناہ‘‘ قراردیاہے۔ دراصل رشتوں کاآئینہ غلط فہمیوں کے چھوٹے سے پتھر سے بھی پاش پاش ہوجاتاہے اورپھروہ اپنے بکھرے وجود کوکبھی متحد نہیں کرپاتا اور کانچ کے یہ ٹکڑے سمیٹنے والی انگلیوں کوہزار زخم دے جاتے ہیں۔ محبت ساحل پربنے ہوئے گھروندے کی طرح ہوتی ہے کب کونسی غلط فہمی کی موج اٹھے ،کب رشتوں کے سمندر میں بدگمانی کا مدوجزر پیدا ہو اور اس گھروندے کو بہالے جائے کچھ نہیں کہاجاسکتا:
قریب آؤ تو شاید ہمیں سمجھ پاؤ
یہ دوریاں تو غلط فہمیاں بڑھاتی ہیں۔ غلط فہمیاں عام طور پر دو وجہوں سے پیدا ہوتی ہیں
(1) مفہوم لم یقصد،یعنی جوہمارامقصد ہوتاہے اسے ٹھیک سے سمجھا نہیں جاتا
(2) مقصود لم یفھم یعنی جوسمجھا جاتا ہے وہ حقیقت میں ہمارا مقصد نہیں ہوتا۔


چھٹویں چیز انانیت اور تکبرہے، میری مراد اس سے ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان خودشناس نہ ہواوراس کو عرفانِ نفس نہ حاصل ہو بلکہ میں خود شناسی اورعرفان نفسی کو ہر شخص کے لیے ضروری سمجھتا ہوں۔ یہاں انانیت سے مراد یہ ہے کہ آپ خود کو دوسرے سے ممتاز سمجھیں حالانکہ پیغمبر اسلام نے کہاہے کہ جوتم اپنے لیے پسند کرووہی اپنے دوست کے لیے بھی پسند کرو۔ اسی طرح تکبر سے مراد یہاں وہی ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے یعنی ’’بطرالحق وغمط الناس‘‘ حق کونہ ماننااورلوگوں کو حقیر سمجھنا۔ توضروری ہے کہ رشتوں میں ،میں اور تو کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ہم تک پہونچا جائے اور "من توشدی تو من شدی" کانمونہ پیش کیاجائے۔
کسی دانشور کاقول ہے کہ سامنے کی چیز دووجہوں سے چھوٹی نظر آتی ہے یاتودور سے دیکھنے کی بنا پر یاغرور سے:
انا کا معاملہ درپیش تھا ورنہ حقیقت میں
مجھے اس کی، اسے میرے کمی محسوس ہوتی ہے۔


ساتویں چیزیہ ہے کہ آپ اپنے دوست پر بھروسہ کریں، بالفاظ دیگر قابل اعتماد شخص ہی کودوست بنائیں ،ایسے دوست کہ جن پرآپ کوبھروسہ ہوکہ وہ آپ پر بھروسہ کرتے ہیں ایسے لوگ کمیاب بلکہ نایاب ہیں:
ڈھونڈھو گے ہمیں برسوں برسوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم


آٹھویں چیزیہ ہے کہ احسان نہ جتلائیں، اس لیے کہ دوستی اورمحبت میں اصل ایثار وقربانی ہے ۔قرآن نے دوستوں کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ اپنے آپ پر اپنے دوستوں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ سخت ٖضرورت محسوس کرتے ہوں۔ اس چیز کی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ کا محبوب یادوست آپ کی پریشانی کوجانے اورآپ کے احسانات کاشمار رکھے۔ بلکہ آپ اپنی پریشانیوں کواپنے دوست سے چھپائیں اوراس کو خوش رکھنے کی کوشش کریں ۔ چارلی چپلن کاقول ہے:’’مجھے بارش اس لیے بے حد پسند ہے کہ اس میں میرے آنسو کوئی نہیں پہچان سکتا‘‘۔


نویں چیز یہ ہے کہ آپ اگر اپنے دوست کوکوئی بات سمجھائیں تو حکمت وموعظت کے ساتھ جیساکہ قرآن نے اس کا حکم دیاہے۔اس کی غلطیوں کے لیے عذر تلاش کریں اوراگر وہ کوئی عذر پیش کرے تو اس کو قبول کریں اس لیے کہ اچھے لوگ ہی عذر پیش کرتے ہیںجیساکہ عربی مقولہ ہے’’والعذر عند کرام الناس مقبول‘‘ ہرمعاملہ میں صبروضبط اورعفو ودرگزر سے کام لیں۔


دسویں چیز یہ ہے کہ فرینڈ شپ میں بدشگونی کے بجائے نیک فال لیں اور یہ چیز شرعاً جائز بلکہ مستحسن ہے مثلاً نبی ﷺ جب کسی کا نام سہل سنتے تو اس سے نیک فال لیتے اورکہتے کہ ان شاء اللہ ہمارامعاملہ آسان ہوگا اور کام میں سہولیت پیدا ہوگی۔یا جیسے آپ کے دوست کانام کاشف ہوتوآپ یہ سمجھیں کہ اب میری پریشانیاں دورہوجائیں گی۔ سعد نام سے نیک بختی کاشگون لیں۔


سب آخری اور اہم بات یہ کہ محبت محض اللہ کی خاطر ہوکسی دنیاوی مفاد کے پیش نظر نہ ہو،ورنہ جب وہ دوستی پائیدار نہیں ہوگی، مفاد ختم دوستی ختم۔


***
کاشف شکیل (ممبئی)

Email: mohammadkashif558[@]gmail.com

Don't let sensitive relationships get broken. - Essay: Kashif Shakeel

1 تبصرہ:

  1. ماشاءاللہ اللہ رب العزت آپ کو مزید علم وعمل سے نوازے آمین۔

    جواب دیںحذف کریں