فاصلاتی نظام تعلیم کی اہمیت و افادیت - پروفیسر محمد احسن - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-10-26

فاصلاتی نظام تعلیم کی اہمیت و افادیت - پروفیسر محمد احسن

distance-education-system-importance-and-benefits

تعلیم ہمیں نہ صرف روزگار اور ذریعۂ معاش مہیا کرتی ہے بلکہ ہماری شخصیت کو بھی سنوارتی اور نکھارتی ہے۔ یہ ہمارے کردار کے خدوخال طے کرتی ہے اور ہمیں مہذب اور با اخلاق بناتی ہے۔ ہماری فکر میں وسعت پیدا کرتی ہے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتی ہے۔ خود اعتمادی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ ہمارے اندر استقلال پیدا کرتی ہے اور ضبط نفس کی تلقین کرتی ہے۔ یہ ہمارے اندر قائدانہ صلاحیت پیدا کرتی ہے اور کامیابیوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔


تعلیم جمہوریت کا سنگ بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت اس دور میں پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور ہمارے پاس اس میدان میں آگے بڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی آبادی کو صرف رسمی نظام تعلیم (Campus Education System) کے ذریعے تعلیم یافتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیےگزشتہ کئی دہائیوں سے تمام طبقوں تک تعلیم کو پہنچانے کے لیے رسمی تعلیم کے ساتھ فاصلاتی نظام تعلیم کا سہارا لیا جا رہا ہے کیوں کہ یہ واحد نظام تعلیم ہے جو نہ صرف آج کے Challanges کو قبول کرتا ہے بلکہ کفایتی بھی ہے اور مابعد صنعتی جدید دور کے نو آموزگار (Neo-Learners ) کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔


فاصلاتی نظام تعلیم کی وسعت:

فاصلاتی نظام تعلیم کم خرچ میں نہ صرف شرح خواندگی کی توسیع کرتی ہے بلکہ اس میں ایسے مواقع بھی موجود ہیں جو ٹیکنالوجی کی ترقی کے موجودہ دور میں اہمیت رکھتے ہیں۔ آج کل والدین سوچتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر ان کے بچے زیادہ کما سکتے ہیں اور بہتر معیار زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔
ہندوستان میں نیشنل لیٹریسی مشن (NLM) کے نتیجے میں شرح خواندگی میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو لکھنا پڑھنا بخوبی آ جائے اور وہ اپنی تعلیم کی کمی کو پورا کر لیں۔ بہت سے افراد ایسے ہیں جو بنیادی مہارتوں میں بہتری چاہتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے اندر مختلف ہنر پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ کاروباری مارکیٹ میں استحکام حاصل کرنے کے بعد وہ اپنا تعلیمی معیار مزید بلند کریں۔ جب کہ رسمی تعلیم کے دروازے ان کے لیے تقریباً بند ہوتے ہیں۔ روایتی اسکولوں کے نظام، آج کی تعلیم کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ مقابلے کے رجحان کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی اجارہ داری لامحدود ہو گئی ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیم ایک باقاعدہ جاری رہنے والا عمل نہیں ہو سکتا۔
اس کا متبادل صرف فاصلاتی تعلیم ہی فراہم کرتی ہے۔ البتہ سرجری میں مہارت، خطرناک ادویات اور مشینری وغیرہ کو استعمال کرنے کی اہلیت کو فاصلاتی تعلیم کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں ایسا ہونا مشکل ہے۔ لیکن اب ترقی پذیر ممالک میں بھی ملٹی میڈیا سسٹم پر بنی تعلیمی ٹکنالوجی کے ذریعے ان دشواریوں کو کم سے کم کیا جا رہا ہے۔ البتہ دوسری مہارتوں مثلاً ڈرائنگ، ٹائپنگ، ڈیزائننگ وغیرہ فاصلاتی تعلیم میں سیکھا جا سکتا ہے۔


فاصلاتی تعلیم کے فوائد:

1۔ فاصلاتی تعلیم ، طلبا کے لیے آسان Entry Level فراہم کرتی ہے۔ طلبا اس میں آسانی سے داخلہ لے سکتے ہیں اور اپنی رفتار سے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
2۔ فاصلاتی تعلیم میں فاصلہ رکاوٹ نہیں بنتا۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع ابلاغ کی آمد نے پوری دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا ہے۔
3۔ اس میں تعلیم کے حصول کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
4۔ فاصلاتی تعلیم میں روایتی کمرۂ جماعت نہیں ہوتے جن میں روزانہ طلبا کا حاضرہونا ضروری ہو۔
5۔ اس نظام کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ دن کے وقت اپنا کام جاری رکھیں اور شام کو کسی کورس میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کریں۔
6۔ فاصلاتی تعلیم میں طالب علم اپنی رفتار کے مطابق جماعت کے دباؤ سے آزاد ہو کر اپنا کام کر سکتا ہے۔ مزید اس میں اس بات کی آزادی ہوتی ہے کہ طے شدہ مدت میں اگر کورس مکمل نہ ہو سکے تو اسی فیس میں طالب علم اس کو مستقبل میں مکمل کر سکتا ہے۔
7۔ فاصلاتی تعلیم بہت سے تعلیمی پروگراموں کے لیے مناسب ہے۔ مثلاً مختلف پیشہ ورانہ تربیتی کورسز اور دیگر مضامین اس میں بخوبی پڑھائے جا سکتے ہیں۔
8۔ لچکیلا پن اس کی اہم خصوصیتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کا نصابی کام کسی بھی سطح پر کیا جا سکتا ہے۔
9۔ یہ طریقۂ تعلیم مختلف طریقوں اور تکنیکوں کے استعال کے لحاظ سے لچکدار ہے تاکہ انفرادی طلبا کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
10۔ فاصلاتی تعلیم رسمی تعلیم کی بہ نسبت بہت زیادہ آسان ہے، اس کے ذریعے ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے اور یہ ایسے حالات میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جب افرادی قوت (Manpower) کی کمی ہو جاتی ہے۔


اکتوبر 1998 تک دنیا کے ایک تہائی ممالک میں 1117 تعلیمی ادارے فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت مختلف کورسیز پڑھا رہے تھے، جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ٹیبل میں دی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو ملین سے زائد افراد اس نظام تعلیم سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ صرف دولت مشترکہ ممالک میں تقریباً دو سو تعلیمی ادارے اس نظام کے تحت چل رہے ہیں۔


دنیا کے مختلف علاقوں میں فاصلاتی نظامِ تعلیم
نمبر شمارعلاقہممالکاداروں کی تعداد
1افریقہ31159
2ایشیا19109
3آسٹریلیا پیسیفک596
4یوروپ25412
5مشرق وسطی33
6شمالی امریکا3278
7کیریبین57
8لاطینی امریکا1253

آج کل عوام میں بڑھتی ہوئی آگاہی کی وجہ سے تمام سطحوں پر تعلیم کا مطالبہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں بڑھ رہا ہے اور کوئی شخص عوام کے تعلیم کے قانونی حق سے انکار نہیں کر سکتا۔ اس طرح فاصلاتی تعلیم ہی وہ نظام ہے جو اس کا سامنا کر سکتا ہے۔ اس نظام کا بڑا مقصد بڑے پیمانے پر لوگوں کو تعلیم دینا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کو جو دیہاتی علاقوں میں رہتے ہیں اور ان کو تعلیم کے مواقع نہیں ملے ہیں یا وہ اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔
فاصلاتی نظام تعلیم کی خاص بات تعلیمی اخراجات میں کمی ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی مسائل کا سستا حل ہے، بلکہ بعض صورتوں میں حیرت انگیز طور پر موثر بھی ہے۔ اس کا انتظامی ڈھانچہ روایتی نظام تعلیم سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم کے تحت طالب علم ادارے کے پروگرام پر سختی سے عمل کرنے کا پابند نہیں ہوتا۔ اوپن لرننگ سسٹم میں تدریسی مواد بہت معیاری اور سائنٹفک ڈھنگ سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ اساتذہ کی کمی کا احساس کم سے کم ہو۔


ان دنوں کچھ یونیورسٹیاں طلبا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ صرف مشاورت (Counseling) کا انتظام کر رہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ذاتی رابطے کے پروگرام بھی منظم کر رہی ہیں تاکہ فاصلاتی تعلیم کے طلبا کو طبع شدہ مواد کے ساتھ دوسری اہم چیزیں بھی فراہم کی جا سکیں۔ اس طرح کے رابطے کے پروگراموں کو براہ راست سیشن (Face to face session) یا ذاتی ملاقات پروگرام (PCPs) (Personal concat programmes) بھی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے پروگرام طلبا کو یہ مواقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ ذاتی طور پر رابطہ قائم کر سکیں اور اپنے کورس سے متعلق انفرادی مسائل کو حل کرسکیں۔


براہ راست سیشن اور PCPs کے علاوہ اوپن نظام میں ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ فاصلاتی تعلیم میں ورکشاپ بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
(کچھ یونیورسٹیوں مثلاً اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نے Distance mode B.Ed & M.Ed جیسے کورسز کے لیے ورکشاپ کو لازمی قرار دیا ہے۔)
جو طلبا ان ورکشاپس میں شریک نہیں ہوتے انھیں ان کورسز میں فیل قرار دیا جاتا ہے۔ ورکشاپوں کے ذریعہ طلبا کو یہ مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ امتحانات سے قبل متعلقہ کورس کو اچھی طرح سمجھ لیں ۔ ورکشاپ کے دوران طلبا کو جدید ٹیکنالوجی مثلاً ریڈیو، ٹیلی ویژن، سلائڈ پروجیکٹر اور ہیڈ پروجکٹر، فلم اسکرپٹ کے ذریعہ بھی پڑھایا جاتا ہے۔ ورکشاپس کے دوران طلبا کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ آپس میں مل کر اہم مشترکہ مسائل حل کریں۔ فاصلاتی نظام تعلیم کی وسعت کی بہت سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ساری دنیا میں اس کا دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے۔ ان میں سے چند اہم وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:


1- تکنیکی ترقی:

فاصلاتی تعلیم کی وسعت کی ایک وجہ تکنیکی ترقی ہے بلکہ ذرائع ابلاغ کی ترقی کو فاصلاتی تعلیم کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ابتدائی دور میں اس کی ترقی ڈاک کے ذریعے ممکن ہوئی۔ انیسویں صدی میں ڈاک نے جو ترقی کی، اس کی بدولت اساتذہ اور طلبا کے درمیان خط و کتابت کے ذریعے رابطہ ممکن ہو سکا۔ ابتدائی دور میں یہ عمل صرف مدارس کی کتب تک محدود تھا۔
انسانی تاریخ کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انسان اپنی تدریسی کتب کے علاوہ دوسری کتب کے ذریعے بھی علم حاصل کرتا رہا ہے لیکن انیسویں صدی میں شائع شدہ مواد کو استاد اور شاگرد کے درمیان رابطے کے طور پر استعمال کیا گیا اور موجودہ دور میں اشاعتی نظام ہی سب سے جامع سمجھا جاتا ہے۔
بیسویں صدی میں ذرائع ابلاغ میں ایک انقلاب برپا ہوا اور ریڈیو، ٹیلی ویژن ، آڈیو ویڈیو کیسٹ اور کمپیوٹر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے لگے۔ اس طرح فاصلاتی تعلیم کی افادیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ذرائع ابلاغ فاصلاتی تعلیم کے ضروری اجزا ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ تکنیکی ترقی کی بدولت جو سہولیات حاصل ہوئیں ان کو بروئے کار لا کر فاصلاتی تعلیم آج اس منزل تک پہنچی ہے۔ یہ تکنیکی سہولیات نہ ہوتیں تو شاید آج فاصلاتی تعلیم کی شہرت اور مقبولیت میں اس قدر اضافہ نہیں ہوتا۔


2- تعلیم کی مانگ میں اضافہ:

اس وقت ساری دنیا میں تعلیم کی زبردست مانگ ہے۔ جہاں ایک طرف تعلیم کی مانگ میں اضافہ ہوا وہیں دوسری طرف سہولیات کم پڑ رہی ہیں۔ نتیجتاً زیادہ تر ممالک میں فاصلاتی تعلیم کا نظام رائج کیا گیا ہے تاکہ تعلیم کی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔
دنیا کی آبادی خصوصاً ترقی پذیر ممالک کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونا لازمی ہے اور کئی ممالک کو ان وجوہات کے سبب اپنے تعلیمی نظام کے نظم و نسق میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے سبب وہ اپنے تعلیمی مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا کے ممالک میں آبادی میں کثیر اضافہ ہوا ہے۔


3- روایت تعلیم کے کثیر اخراجات:

فاصلاتی تعلیم کی وسعت کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ عام روایتی تعلیم میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سہولیات کا فقدان ہے اور اس کے اخراجات بھی زیادہ ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے بہت سے ممالک اخراجات میں کمی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائیوں میں تعلیمی اخراجات ملکی بجٹ اور قومی پیداوار سے تجاوز کر رہے تھے۔


4- تعلیم میں نئے تصورات کا خل:

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار میں ترقی ہوتی چلی گئی اور نئے نئے تصورات ابھرنے لگے۔ اس میں جمہوریت کا ایک عنصر بھی شامل ہونا شروع ہو گیا۔ اس عنصر نے تعلیم کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کو بڑی تیزی سے وسعت بخشی۔ فاصلاتی تعلیم درحقیقت جمہوری معاشروں کا آپس میں گھل مل جانا بھی ہے۔ اس کی ترقی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ زیادہ لوگوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
دوسری طرف اسکولوں کا رسمی نظام پوری طرح سے تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اس میں اساتذہ کو موثر انداز میں استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ فاصلاتی تعلیم کی ترقی میں ایک بڑا عنصر عوام میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی خواہش اور بہتر نظام کی ضرورت ہے۔ دور حاضر میں لوگ اس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں اور اس میں نت نئے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے اواخر میں ہی لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ اکیسویں صدی عوامی تعلیم کی صدی ہوگی اور تعلیم کے میدان میں جس قوم کی پہنچ جتنی ہوگی اتنی ہی وہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکے گی۔


5- فاصلاتی تعلیم کی اہمیت:

فاصلاتی تعلیم کی ترقی اور وسعت میں سب سے اہم اور بڑا عنصر اس کے فوائد ہیں، جو عام تعلیمی نظام میں نہیں ملتے۔ اس وقت ساری دنیا میں فاصلاتی نظام تعلیم کو ایک علاحدہ تعلیمی نظام کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا ہے۔ فاصلاتی تعلیم میں عام تعلیمی طریقوں کی جگہ جدید طریقوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ فاصلاتی نظام تعلیم میں اسکولوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک معلم ایک وقت میں ایک سے زیادہ طالب علموں کو سکھا سکتا ہے جو کہ عام طور پر اسکولوں میں ممکن نہیں ہوتا۔ فاصلاتی تعلیم کا ایک اہم فائدہ حصول معاش ہے۔ فاصلاتی تعلیم ان لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے جو رسمی نظام تعلیم کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔


فاصلاتی تعلیم کی ایک اہم خوبی اس کا تدریسی مواد ہے جسے "خود تدریسی مواد" Self instructional Material - SIM کہا جاتا ہے۔ رسمی تعلیم کے برعکس فاصلاتی تعلیم کا نصاب مکمل طور پر منصوبہ بند ہوتا ہے۔ جب کہ رسمی تعلیم کے نصاب کے کچھ حصے ہی منصوبہ بند ہوتے ہیں اور اس کے کچھ حصے غیر منصوبہ بند آموزش (Unplanned Learning) کے زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔
فاصلاتی نظام تعلیم میں اساتذہ کی کمی کو طبع شدہ مواد میں Mediated Communication کے ذریعہ پورا کیا جاتا ہے۔ مزید برآں طبع شدہ مواد میں سبق کے خاتمے پر اپنی صلاحیت کی جانچ کے لیے سوالات اور ان کے جوابات شامل کیے جاتے ہیں تاکہ اساتذہ کی کمی کو بڑی حد تک پورا کیا جا سکے۔


فاصلاتی نظام تعلیم کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک وقت میں مختلف شعبوں میں تعلیم دے سکتا ہے۔ فاصلاتی تعلیم مختلف شعبوں میں مختلف طریقوں سے اور مختلف عمر کے لوگوں کو تعلیم بہم پہنچاتی ہے۔ فاصلاتی تعلیم مختلف شعبوں میں جغرافیائی رکاوٹوں کے باوجود تعلیم کو فروغ اور وسعت دے سکتی ہے۔ فاصلاتی تعلیم کی خودمختاری کو بھی ایک فائدہ گردانا جا سکتا ہے۔ اس نظام کے تحت طالب علم کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا تعلیمی پروگرام مرتب کر سکے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر فرائض بھی پورے کر سکے۔ اس طرح فاصلاتی نظام تعلیم سیکھنے والوں کو آسانی فراہم کرتا ہے۔ اس کی بدولت وقت اور پیسے کی بچت ہوتی ہے اور طلبا سفر سے بھی جاتے ہیں۔


***
ماخوذ از کتاب: اردو کا فاصلاتی نظام تعلیم (مضامین)
مصنف: ڈاکٹر ضیاء الرحمن صدیقی۔ ناشر: انیس امروہوی، تخلیق کار پبلشرز، دہلی (سن اشاعت: 2013ء)

The importance and benefits of Distance Education System.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں