دکن کی خود مختار سلطنتیں - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-06-24

دکن کی خود مختار سلطنتیں

deccan-sovereign-empires

محمد تغلق نے اگرچہ سیاسی مصلحتوں کی بنا پر اپنا پایۂ تخت دہلی سے دولت آباد منتقل کیا تھا، لیکن اسے جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ شہر دہلی کا ہی پایۂ تخت بنا رہنا زیادہ مناسب ہے۔ چنانچہ اس نے پایۂ تخت کی منتقلی کا دوبارہ حکم دیا۔ لیکن سینکڑوں خاندانوں نے ، جو 1327ء میں دکن جا کر بس گئے تھے ، دوبارہ نقل مکانی کو مناسب نہ سمجھا اور وہیں کے ہو رہے۔
محمد تغلق نے دکن کے انتظامی اور سیاسی امور کی دیکھ بھال کے لیے اپنا ایک نمائندہ مقرر کر دیا تھا لیکن ابھی دو دہائی بھی گزرنے نہ پائی تھی کہ امیرانِ صدہ کی شورشوں کی وجہ سے دکن پر سلطنت دہلی کا اقتدار روز بروز کم ہونے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہی امیران صدہ میں سے ایک امیر علاء الدین بہمن شاہ نے 1347ء میں محمد تغلق کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے گلبرگہ میں ایک خود مختار سلطنت کے قیام کا اعلان کر دیا جو "بہمنی سلطنت" کہلائی۔ بعد میں یہ بیدر منتقل ہوگئی۔
علاء الدین بہمن شاہ کو تمام امیران صدہ کی حمایت حاصل تھی۔ اسے نئی سلطنت کا بادشاہ دراصل انہی امیروں نے بنایا تھا۔ یہ لوگ نسلاً ترک تھے اور شمالی ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے لیکن خود کو "دکنی" کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے دلوں میں "شمال دشمنی کے جذبات" پنینے لگے تھے۔ جمیل جالبی نے دکن کی اس نئی صورت حال کا تجزیہ ان الفاظ میں کیا ہے:

اس نئی سلطنت کی بنیاد میں شمال دشمنی کے جذبات شامل تھے۔ شمال دشمنی کے جوش میں انھوں نے سیاسی لائحہ عمل کے طور پر ان تمام عناصر کو ابھارا جو شمال سے مختلف اور خصوصیت کے ساتھ سرزمین دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک موثر نفسیاتی حربے کے طور پر بہمنوں نے دل کھول کر مقامی روایات کی حوصلہ افزائی کی۔ دیسی رسوم و رواج ، میلوں ٹھیلوں اور تہواروں کو ترقی دی۔ باہمی ربط و ضبط ، میل جول اور معاشرت و تہذ یب کو گہرا کر نے کے لیے اس زبان کی سرپرستی کی جسے آج ہم "اردو" کے نام سے موسوم کر تے ہیں۔ 1347ء سے لے کر تقریباً تین سو سال سے زیادہ عرصے تک یہ زبان جو شمالی ہند سے آئی تھی سرزمین دکن کے لسانی و تہذیبی اثرات قبول کرتی ہوئی آزادانہ طور پر نشو و نما پاتی رہی۔ یہی وہ زبان ہے جسے آج ہم "دکنی اردو" کے نام سے پکارتے ہیں اور جس کا ادب اردو زبان کی تاریخ میں ایک ابدی نشان راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
( تاریخ ادب اردو، جلد اول، ص:149-150)۔

بہمنی سلطنت 1347ء سے لے کر 1527ء تک یعنی ایک سو اسی سال تک قائم رہی اور اس میں کل 18 حکمراں گذرے جنہوں نے سلطنت کی توسیع و ترقی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہمنی سلطنت پونے دو سو سال کے عرصے میں دکن کے پورے طول و عرض میں پھیل چکی تھی۔ اس کے علاوہ جنوبی ہند کے بعض دوسرے علاقے بھی اس کے زیر نگیں تھے۔ دھیرے دھیرے بہمنی سلطنت اپنے صوبائی حکام اور فوجی افسروں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے سیاسی استحکام کھونے لگی اور زوال پذیر ہو کر پانچ حصوں میں تقسیم ہو گئی جن کے نام ہیں:
برید شاہی ، عماد شاہی ، نظام شاہی ، عادل شاہی اور قطب شاہی۔
یہ دکن کی خود مختار سلطنتیں تھیں اور دکن کے مختلف علاقوں میں قائم ہوئی تھیں۔ بہمنی سلطنت اگر چہ 1527ء تک قائم رہی لیکن آخری دور میں یہ محض برائے نام حکومت تھی۔ بہمنی سلطنت کے چودھویں کمزور بادشاہ محمود شاہ ( 1482 تا 1518ء) کے عہد میں دکن کے مختلف علاقوں میں مذکورہ پانچ خود مختار سلطنتیں قائم ہو گئیں۔


(الف) برید شاہی سلطنت

سب سے پہلے بیدر میں 1487ء میں برید شاہی سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا بانی امیر قاسم برید تھا جس نے 1487ء سے 1504ء تک حکومت کی۔ اس کے بعد امیر علی برید، علی برید شاہ اول ، ابرہیم برید شاہ ، قاسم برید شاہ ، امیر برید شاہ ، مرزا علی برید شاہ اور علی برید شاہ ( ثانی ) نام کے سات اور بادشاہ گذرے۔ آخری بادشاہ علی برید شاہ ثانی کی حکومت 1619ء تک قائم رہی۔ 1619ء میں بیدر، بیجاپور کے قبضے میں چلا گیا اور ایک سو بتیس سال بعد برید شاہی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔


(ب) عماد شاہی سلطنت

جس سال بیدر میں برید شاہی حکومت قائم ہوئی تھی اسی سال یعنی 1487ء میں برار میں عماد شاہی حکومت کا بھی قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ حکومت بھی بہمنی سلطنت سے آزاد ہو کر قائم ہوئی تھی۔


(ج) نظام شاہی سلطنت

ادھر 1490ء میں احمد نظام شاہ نے بہمنیوں سے علاحدہ ہو کر احمد نگر میں نظام شاہی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ احمد نظام شاہ نے 19 سال (1490 تا 1509ء ) حکومت کی۔ اس کے بعد نظام شاہی سلطنت کے آٹھ اور بادشاہ گذرے، جن کے نام ہیں :
برہان نظام شاہ، حسین نظام شاہ (اول ) ، مرتضی نظام شاہ ( اول )، حسین نظام شاہ ( ثانی ) ، اسمعیل نظام شاہ ،احمد نظام شاہ ، مرتضی نظام شاہ ( ثانی ) اور حسین نظام شاہ ( ثالث )۔ نظام شاہی سلطنت کے آخری بادشاه حسین نظام شاہ (ثالث) کی حکومت 1633ء تک قائم رہی۔ 1633ء میں اس سلطنت کا خاتمہ ہو گیا ، کیوں کہ مغلوں کی فوج نے احمد نگر پر قبضہ کر کے اسے مغلیہ سلطنت میں ضم کر دیا۔ یہ سلطنت 143 سال تک قائم رہی۔


(د) عادل شاہی سلطنت

دکن کی چوتھی خود مختار سلطنت عادل شاہی سلطنت کہلائی، جو 1490ء ہی میں بیجاپور میں قائم ہوئی۔ اس کی بنا یوسف عادل شاہ نے ڈالی جس کی وجہ سے یہ عادل شاہی سلطنت کہلائی۔ اس سلطنت میں کل نو بادشاہ گذرے جن کے نام ہیں :
یوسف عادل شاہ، اسماعیل عادل شاہ ، ملو عادل شاہ ، ابراہیم عادل شاہ ( اول )، علی عادل شاہ ( اول ) ، ابراہیم عادل شاہ ( ثانی )، محمد عادل شاہ، علی عادل شاہ ( ثانی) اور سکندر عادل شاہ۔ آخری بادشاہ سکندر عادل شاہ کی حکومت 1686ء تک قائم رہی۔ 1686ء میں اورنگ زیب کی فوجوں نے بیجا پور پر حملہ کر کے عادل شاہی سلطنت کو شکست دے دی جس کے نتیجے میں اس سلطنت کا بڑا حصہ مغلیہ سلطنت میں شامل ہو گیا۔

(ہ) قطب شاہی سلطنت

دکن کی پانچویں خود مختار اور پائدار سلطنت ، قطب شاہی سلطنت کے نام سے 1512ء میں گول کنڈہ کے مقام پر قایم ہوئی۔ اس کا بانی سلطان قلی قطب شاہ تھا۔ اس نے 30 سال ( 1512 تا 1543ء) حکومت کی۔ اس کے بعد قطب شاہی سلطنت کے سات اور بادشاہ گذرے ، جن کے نام یہ ہیں:
جمشید قطب شاہ ، سبحان قلی قطب شاہ ، ابراہیم قطب شاہ، محد قلی قطب شاہ، محمد قطب شاہ ، عبداللہ قطب شاہ اور ابوالحسن قطب شاہ۔ عادل شاہی سلطنت کے زوال کے ایک سال بعد یعنی 1687ء میں قطب شاہی سلطنت بھی مغلوں سے شکست کھانے کے بعد مغلیہ سلطنت میں ضم ہو گئی۔ یہ سلطنت پونے دو سو سال تک قائم رہی۔ قطب شاہی سلطنت کے پانچویں بادشاہ محمد قلی قطب شاہ (وفات: 1611ء ) نے شہر حیدرآباد (جو ان دنوں ریاست آندھرا پردیش کی راجدھانی ہے) بسایا اور اس کے آباد ربنے کے لیے یہ دعا مانگی:
مرا شہر لوگاں سوں معمور کر
رکھیا جوں توں دریا میں من یا سمیع !
سترھویں صدی کے اواخر تک دکن کی ان پانچوں خود مختار سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا اور ان کی جگہ دکن میں مغلوں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ دکنی سلطنتوں کو زیر کرنے کے لیے مغل حکمراں اورنگ زیب بہ نفس نفیس دکن پہنچا تھا۔ ایک طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے کے بعد، 1707ء میں اورنگ آباد میں اس کا انتقال ہو گیا۔


***
ماخوذ از کتاب: اردو کی لسانی تشکیل
مصنف: مرزا خلیل احمد بیگ۔ (ایجوکیشنل بک ہاؤس، علیگڑھ، چوتھا ایڈیشن: 2016ء)۔

The Sovereign Empires of the Deccan

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں