ملک الشعرا اوج یعقوبی - کچھ ملاقاتیں - از ڈاکٹر رؤف خیر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-10-28

ملک الشعرا اوج یعقوبی - کچھ ملاقاتیں - از ڈاکٹر رؤف خیر

auj-yaqubi
اوج یعقوبی (پ: 10/مارچ 1913 ، وفات: 3/اگست 1983ء)
حیدرآباد کے نامور اور مقبول شاعر تھے۔ کانگریسی حکومت کے آخری دور میں (سابقہ متحدہ) آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ ٹی۔انجیا نے ان کی شاعرانہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دیوڑھی خورشید جاہ میں منعقدہ مشاعرہ میں انہیں "ملک الشعرا" کے خطاب سے نوازا تھا۔
منفرد اسلوب اور خاص لہجے کے شاعر اوج یعقوبی نے تقریباً تمام اصناف سخن مثلاً حمد ، نعت ، منقبت ، مرثیہ ، سلام ، مثنوی ، قصیدہ ، آزاد نظم ، قطع ، رباعی اور غزل میں طبع آزمائی کی تھی مگر اپنی شاعری میں تجارتی انداز کی تشہیر کی وجہ سے قابل تلامذہ ان سے کترایا کرتے تھے۔ اوج یعقوبی نے لکھا ہے:
رخ ہواؤں کا بدلتے نہیں لگتی کچھ دیر
ڈوب جاتے ہیں سفینے کبھی ساحل کے قریب

میں یہ چاہتا ہوں کہ زندگی کا نہ مول تول ہوا کرے
مری آرزو ہے کہ کوئی سر بھی رہینِ منت در نہ ہو
چمنِ حیات کی ہر روش پہ ہیں تازہ خون کی سرخیاں
متلاشیانِ سحر کہیں، یہی ابتدائے سحر نہ ہو

ڈاکٹر رؤف خیر نے اپنی کتاب "خطِ خیر" کے اپنے مضمون میں اوج یعقوبی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کچھ شعری مجموعوں پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ ڈاکٹر رؤف خیر کا یہی مضمون ادب ذوق قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
دکنی محاورہ ہے کہ الله شکر خورے کو شکر کھلاتا ہے۔ کچھ لوگوں کے حق میں شکر مضر ہوتی ہے اور جو چیز ان کے مزاج کو بنتی ہی نہیں انہیں اس سے دور رکھنے میں ہی اللہ کی مصحلت ہوتی ہے مگر بندہ ازل کا ناشکرا اور حریص واقع ہوا ہے۔ اس چیز کا طالب ہوتا ہے جو اس کے لئے بنائی ہی نہیں گئی۔
یہی حال اوج لعقوبی صاحب کے ملک الشراء ہونے کا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس دور جمہوریت میں "ملک الشعراء" ایک مذاق سے کم نہیں۔ کچھ شاعروں نے اس دکھ میں اور پینا شروع کر دیا کہ تعلیم ، قابلیت اور شہرت میں وہ اوج پر ہونے کے باوجود ملک الشعراء نہ بن سکے۔ کچھ شعرائے کرام اس غم میں ماتم کناں تھے کہ شاعری ان کو وراثت میں ملی ہے اور ملک الشعرا ہونا ان کا پیدائشی حق تھا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔

کسی مشاعرے میں بھی ایک شاعر کا کلام جب چل جاتا ہے تو دوسرے شاعر سے برداشت نہیں ہوتا۔ یہ معاشی آسائشیں تھیں اور صرف شاعری کی بنیاد پر حاصل ہوئی تھیں۔ یہ بھلا کیا دیکھی جاتیں۔
دراصل اللہ تعالی تو کسی بہانے نوازنا چاہتا ہے۔ اوج صاحب کا ستاره اوج پر آ گیا۔ اس غم میں کئی شہاب ثاقب ٹوٹ گئے۔ اللہ اپنے بندے کی کسی ادا سے خوش ہو جاتا ہے تو اس پر رحمتوں کے در کھول دیتا ہے۔ کبھی بھی آزمائش کے لئے بھی دیتا ہے۔ جس کو دیتا ہے اس کی آزمائش اور جن کو نہیں ملا ان کی آزمائش بھی مقصود ہوتی ہے۔ بقول ڈاکٹر حسینی شاہد ، دکن کے یہ ممتاز شاعر اوج یعقوبی صاحب شعر کا کارخانہ چلاتے تھے۔ جنہیں اس کارخانے کا مال چاہیے تھا وہ تو اس سے استفادہ کیا کرتے ہی تھے البتہ جنہیں بعد میں یہ معلوم ہوا کہ یہاں مال تھوک کے بھاؤ بنتا اور بکتا ہے، وہ اپنی ذاتی گھریلو صنعت پر اکتفا کر کے اپنی عزت رکھ لینا چاہتے تھے۔ اوج صاحب سے ہمارا ملنا بچھڑنا کچھ اسی نوعیت کا تھا۔ ہمیں اپنی خود گوئی کی لاج رکھی تھی۔ اس لئے ہمارا اور اوج صاحب کا ساتھ بہت تھوڑے دنوں کا تھا۔

میٹرک کے بعد کی چھٹیاں ہم نے آصفیہ کتب خانے میں گزاریں۔ وہاں شعر و ادب کے ساتھ ساتھ زبان و بیان اور اصلاح فن سے متعلق کئی کتابیں مطالعے میں آئیں۔ خاص طور پر ظفر اقبال ، سراج الدین ظفر، جوش، فیض ، احمد ندیم قاسمی ، بانی ، شکیب جلالی، قتیل شفائی وغیرہ کے ساتھ ساتھ نیاز فتح پوری کی انتقادیات ، مالہ و ماعلیہ، نگار کی فائلیں ، مرقع سخن اور سیماب کی اصلاحیں وغیرہ وغیرہ بھی نظر سے گزریں۔ کچھ کچھ زبان و بیان کا شعور آیا۔ اسی کے سہارے چل نکلے۔

اوج صاحب سے ملاقاتیں تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایرانی گلی والے مکان سے وہ مختلف مکانات بدلتے رہے البتہ وہ جب ہفتہ وار "رابطہ" نکلنے لگے تو اپنے پرچے کیلئے وہ ہم سے مختلف کتابوں پر تبصرے کرواتے اور تبصرہ کرنے کے بعد کتاہیں مبصر کا حق ہوتی تھیں۔ یوں ہمیں تبصرہ کرنے کا چسکا لگ گیا۔

اوج صاحب کے ملک الشعراء ہونے کا ٹھاٹ دیکھنے کا اتفاق ہمیں نہیں ہوا کہ ہماری مصروفیات اور اوج صاحب کی مصروفیات میں کوئی تال میل نہیں تھا۔ ہم اس زمانے میں عدالت میں سٹینو تھے۔
اوج صاحب شہزادوں اور بے نواؤں دونوں کی خد مت کیا کرتے تھے۔ کسی زمانے میں وہ دربار دربار میں فانی و صدق جائسی وغیرہ کی طرح رات کو جاگتے اور دن
کو سویا کرتے تھے۔ اوج صاحب سلام و مرثیہ کہہ لیا کرتے تھے۔ (اور کہتے تھے میاں پیٹ کی خاطر سب کچھ کہنا پڑتا ہے)۔

اوج صاحب کے مصرعوں پر پلنے والے اوج صاحب کا نام بڑی بے تکلفی سے لیتے ہوئے:
اوج آتا تھا۔ اوج جاتا تھا۔ اوج ہمارے ساتھ مشاعرے پڑھا کرتا تھا۔۔۔
کہتے ہیں تو ہمیں بڑی حیرت ہوتی ہے۔ بلکہ ایک صاحب کو تو ہم نے اوج صاحب کے مقابلے میں ان کی حیثیت و اوقات کا احساس بھی کروا دیا۔
اور صاحب کا پہلا مجموعہ "گرفت نظر" ان کا شناس نامہ ہے۔ کراؤن سائز اور معمولی کاغذ پر معمولی انداز میں چھپنے کے باوجود ان کی کامیاب تخلیقات پر مبنی ہے۔ اوج صاحب نے کہا تھا:
فکر ہوتی رہی تقسیم نظر بٹتی رہی
آج وہ وقت ہے کچھ بھی نہ رہا میرے لئے

دیوان کے بروقت نہ چھپنے کا سبب ان کی وہی "کار خانہ داری" تھی۔ چنانچہ انہوں نے خود کہا تھا:
مجھے قسمت سے دور قحط خود گوئی ملا ورنہ
مرا دیوان بھی اے اوج کب کا چھپ گیا ہوتا

حیدرآباد میں دو شاعر ایسے گزرے ہیں جو شعر کہنے کے ساتھ ساتھ شعر سنانے کا اپنا منفرد اور متاثر کن انداز رکھتے تھے۔ دونوں تحت اللفظ سناتے تھے اور مشاعرے لوٹ لیا کرتے تھے۔ ایک تھے جناب اوج یعقوبی اور دوسرے جتاب شاذ تمکنت۔
اساتذہ کی زمینوں میں بھی اوج صاحب نے خوب شعر نکالے تھے جیسے:
مرد خدا کو اوج غم آب و دانہ کیا
جینا ہی ہے تو پھر نفس و آشیانہ کیا

آپ زلفوں کو سنواریں کہ پریشاں رکھیں
ہونے والے تو بہرحال پریشاں ہوں گے

صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین جب حیدرآباد تشریف لائے تھے تو اوج صاحب نے ان کے لئے ایک تہنیتی غزل کہی تھی، بڑی مشکل زمین میں بڑے خوب صورت شعر تھے۔ اس کے دو شعر پیش ہیں:
جس بزم میں صہبا ہو نہ ساقی ہو نہ خم ہو
رندوں کو وہاں پھر بھی تسلی ہے کہ تم ہو
کچھ قافلے والوں کے بھی ہوتے ہیں فرائض
جب راہنما مصلحت وقت میں گم ہو

طرحی ہو کہ غیر طرحی اشعار، اوج صاحب اپنی انفرادیت اور اپنی پہچان برقرار رکھتے تھے۔
ہمیں احساس تھا بس ہم بڑے ہیں
نہ جانے کب سے وہ بازو کھڑے ہیں

آپ کیا جلوہ گر ہو گئے
گل پسینے میں تر ہو گئے

حسرت قرب بھی ہے خواہش دیدار بھی ہے
ایسا لگتا ہے مرا پیارا زمینی ہے ابھی

کھلے دشمن کا استقبال بھی منظور ہے لیکن
خدا محفوظ رکھے دوست کے ذہنی تعصب سے

اوج صاحب زندگی کی اعلی قدروں کے ترجمان تھے وہ کہا کرتے تھے:
"مجھے پیروں تک جھک کر روٹی اٹھانا نہیں آتا"۔
انہوں نے قلم سے روٹی پیدا ضرور کی مگر قلم کو بھی گندگی میں گرنے نہیں دیا۔
کتنا ہی پست کیوں نہ ہو معیار زندگی
کردار کے لحاظ سے انساں نہ پست ہو

"غنچہ لب بستہ" اور "اوج عرش" ان کے کمزور مجموعے ہیں۔
غنچہ لب بستہ تو "آج وہ وقت ہے کچھ بھی نہ بچا میرے لئے" کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
نعت منقبت، سلام اور مرثیہ پر مشتمل " اوج عرش" میں نور عقیدت سے زیادہ شکم کی آگ کار فرما ہے۔ یہی شکم کی آگ انھیں اورنگ آباد تک لے گئی، جب لوٹے تو آگ مٹی میں تبدیل ہو چکی تھی۔

اسی مٹی سے تمہاری تشکیل ہوئی تھی، اسی میں تمہیں جانا ہے اور پھر کل اسی مٹی سے تم اٹھائے جاؤ گے:
لوگ کیا یاد کریں گے ہمیں کیا تھے ہم لوگ
پڑھ لیا کرتے تھے احباب کے ماتھے ہم لوگ

***
ماخوذ از کتاب:
خطِ خیر (تنقیدی مضامین از رؤف خیر) (اشاعت: 1997، حیدرآباد)۔
ناشر: خیری پبلی کیشنز، گولکنڈہ، حیدرآباد

Auj Yaqubi, the eminent poet of Hyderabad Deccan.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں