برصغیر کے جدید لب و لہجے کے ممتاز شاعر رؤف خلش کا انتقال - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-01-03

برصغیر کے جدید لب و لہجے کے ممتاز شاعر رؤف خلش کا انتقال

رؤف خلش ، اِس ویب پورٹل "تعمیرنیوز" کے سرپرست اعلیٰ اور پورٹل کے بانی و اعزازی مدیر مکرم نیاز کے والد ماجد تھے

raoof-khalish

جدید لب و لہجے کے نمائندہ برصغیر کے ممتاز و معروف شاعر جناب سید رؤف خلش ولد سید داؤد (گتہ دار مرحوم) کا 2/جنوری جمعرات کو بعمر 79 سال انتقال ہو گیا۔
نماز جنازہ 3/جنوری کو بعد نماز جمعہ مسجد گلزار (نزد مرکزی انجمن مہدویہ، جدید ملک پیٹ) میں ادا کی جائے گی۔ تدفین مسجد محی الدین النسا بیگم (جدید ملک پیٹ) سے متصل قبرستان میں عمل میں آئے گی۔
مرحوم، پروفیسر غیاث متین مرحوم کے حقیقی برادر نسبتی اور حیدرآباد کے ممتاز شاعر سید یوسف روش، سید محمود سلیم خوش نویس کے برادر کلاں اور شاعر سہیل عظیم اور سید اویس (روزنامہ اعتماد) کے حقیقی تایا تھے۔
پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو فرزندان مکرم نیاز (اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر، محکمہ عمارات و شوارع، حکومت تلنگانہ) اور معظم راز (سروئر، سروے آف انڈیا) اور دو دختران شامل ہیں۔
مزید تفصیلات کے لیے درج ذیل فون نمبرات و ای-میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
فون:
9440059309 / 9553418500
ای-میل:
[email protected]

اجمالی تعارف :
نام : سید رؤف
قلمی نام : رؤف خلشؔ
پیدائش : 4 جنوری 1941 (کرنول، سابقہ متحدہ آندھرا پردیش)
تعلیم : ڈپلوما ان آرکیٹکچر (جواہر لعل نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد)
ویب سائٹ: www.raoofkhalish.com

کتابیں :
(1) "نئی رتوں کا سفر " (شعری مجموعہ) 1979 ء
(2) "صحرا صحرا اجنبی" (شعری مجموعہ) 1988 ء
(3) شاخِ زیتون (شعری مجموعہ) 1998 ء
(4) "شاخسانہ ‘’ (شعری مجموعہ) 2007 ء
(5) "حکایت نقد جاں کی" (مضامین و تبصرے) 2012 ء
(6) تلخیص ابن الوقت" (تنقید و تبصرہ ) 2014 ء

ایوارڈ: "کارنامۂ حیات ایوارڈ" 2015 ء اردو اکیڈیمی تلنگانہ۔

1981 سے 1996 تک سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بہ سلسلہ ملازمت قیام رہا۔

رؤف خلش حیدرآباد کے جدید شعراء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے شاعری کے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نا مے ، بدلتے اسلوب کو ایک نیا پن دیا ہے ۔ جدید شاعری کی خشک ہواؤں اور تازہ جھونکوں میں رؤف خلش نے بھی اپنے احساسات کو روشن رکھا ۔ علامتی اور استعاراتی اظہار نے ان کی غزلوں کی تہ داری اور رمزیت میں اضافہ کیا ہے ۔ انھوں نے مضامین کی جدت اور اظہار کی ندرت کے ساتھ جدید غزل کی تعمیر و تشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ان کی شاعری میں اردو کی شعری روایت کا تسلسل اپنے تمام تر تہذیبی و سماجی تناظر کے ساتھ ان کے انفرادی لہجے میں ڈھلتا ہے ۔ رؤف خلش کی نظمیہ کائنات میں بھی ان کے انفرادی لہجے کی کھنک موجود ہے ۔ ان کاکلام پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ جذبے بولتے ہیں، دھڑکنیں گویا ہوتی ہیں، زخم روشنی دیتے ہیں ۔ منظر سے پس منظر ابھرتے ہیں۔

منتخب اشعار :
ہوا سے لڑنے میں ہم ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں
مگر فضا کو نئی دستکیں سناتے ہیں

زخموں کو پھول کردے ، تنہائیوں کو مرہم
سو قربتوں پہ بھاری ہجرت کا ایک موسم

چھپنے کو شہر ذات بچا تھا مرے لیے
اس شہر میں بھی چاروں طرف آئینے لگے

تیری گفتار خلشؔ اور قرینہ مانگے
بول میٹھے سہی لہجے میں ذرا تلخی ہے

اتنے اُڑے کہ دور اڑا لے گئی ہوا
اتنے جھکے کہ سانس انا کی اکھڑ گئی

اترو خود اپنی ذات کی گہرائی میں خلشؔ
اُبھرے جو اپنے آپ کو پانے کی آرزو

دھنک کے رنگ ، سلگتے بدن ، جواں خوشبو
یہ کیسے خواب میری نیند سے چرائے چاند

نظم “نیا مفہوم”
درد، مروت ، رشتے ناطے
بچپن میں ان لفظوں کے کچھ معنی تھے
جیسے جیسے دن بیتے
ان لفظوں کے معنی بدلے
اب یہ دنیا عمر کی جس منزل میں ہے
لگتا ہے یہ سارے الفاظ
اندھے ہو کر
اپنے آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں

Raoof Khalish passes away at Hyderabad at the age of 79

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں