مصروف عورت - افسانہ از خالدہ حسین - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-08-21

مصروف عورت - افسانہ از خالدہ حسین

masroof-aurat-khalida-hussain

میں ایک مصروف عورت ہوں۔
اب میں آپ سے درخواست کروں گی کہ یہ لفظ (عورت) قوسین میں کردیجئے کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے صر ف ایک مصروف وجود سمجھاجائے ۔ چلئے اصولی طور پر نہیں تو صرف چند لمحوں کے لئے ۔ ضرورتاً، عاریتاً ، صرف اس کہانی کے لئے ۔
تو میں ایک مصروف ہوں۔ یہ مجھے باربار اس لئے نہیں کہنا پڑ رہا کہ خود مجھے اس حقیقت پر کسی قسم کا شک ہے ۔ دراصل کبھی میںنے کہیں تھوڑی سی منطق پڑھ لی تھی۔ چنانچہ اب تک میری ہر بات خود بخود تین بیانات میں تقسیم ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے ذریعے میں کسی بھی قول محال کو نہایت آسانی سے ثابت کرسکتی ہوں ۔ یوں کہ وقتی طور پر آپ اس کے سحر سے اپنے آپ کو آزاد نہیں کرسکتے اس لمحے میں آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی میری بات پر یقین کرنا پڑے گا ۔ گو بعد میں آپ لاکھ مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ دراصل شروع ہی سے مجھے یہ تربیت دی گئی تھی۔ پہلے ایک بات کو ثابت کرو پھر اس کور د کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک میرا وجود ہونے نہ ہونے کی درمیانی سطح میں ٹکا ہے ۔ میرے پیرو مرشد نے کہا تھا کہ جو شے تمہارے لئے چھت ہے کسی اور کے لئے فرش ہوسکتی ہے ۔ تو پھر تم چھت اور فرش ،زمین اور آسمان کی بلندی اور پستی کا تعین کس طرح کرو گے۔ خواب اور بیداری کا فیصلہ کیوں کر ہوگا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اب ہم حالت خواب میں ہیں، مریں گے تو بیدار ہوجائیں گے ۔
بات چھت اور فرش کی ہورہی تھی ، میں نے دو الٹا لٹکنے والوں کے بارے میں بہت غوروخوض کیا ہے۔ چمگادڑ ایسی بے کار ، بے مصرف، کم ترین ہستی اشاروں ہی اشاروں میں ہماری سمتیں سیدکھی کرتی رہتی ہے۔ اور امکانا ت تو ختم ہونے والی شئے نہیں ، دوسرے وہ بتیال کا بھوت ہے کہ کوئی کہانی میں ٹوک دے تو فوراً ہی درخت سے الٹا جا لٹکتا ہے پھر آپ اس کو لاکھ پکڑ پکڑ کے جھولے میں ڈالیں ، قابو نہیں آتا۔
تو میں نے ان دونوں الٹا لٹکنے والوں کے بارے میں بہت تفکر کیا ۔ ان کے نزدیک ان کی الٹی حالت ہی دراصل سیدھی حالت ہے۔ اور یقینا اس حال میں وہ بہترین سوچ سوچتے ہیں۔ بتیال کی تمام کہانیاں اسی الٹی حالت میں اس کے ذہن میں جنم لیتی ہیں، جنہیں سیدھا ہونے پر وہ سناڈالتا ہے مگر اگلی کہانی کے لئے اسے پھر الٹا لٹکنا پڑتا ہے ۔ یہ محض اس کا فریب ہے ، کہ وہ سننے والے کے ٹوکنے پر ناراض ہوکر الٹا جا لٹکتا ہے ۔ دراصل وہ اسی فکر میں ہوتا ہے کہ کہانی تو اختتام پر آئی اب نئی کہانی کہاں سے آئے گی؟ اسے اپنا آپ خالی۔۔۔ بالکل خالی محسوس ہوتا ہے اور ایک تخلیقی وقفے کے لئے وہ کوئی ایسی انہونی بات کہانی میں ڈالتا ہے کہ سننے والا بے چارہ بول اٹھتا ہے اور وہ موقع غنیمت پاکر اگلی کہانی کی فکر میں درخت سے الٹا جا لٹکتا ہے ۔
دراصل بے حدمصروف ہستیوں کے لئے کام کے درمیانی وقفے سب سے زیادہ گمبھیر ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے تخلیق کاروں کے یہاں آپ کو ریاضت کے ایسے دور نظر آئیں گے ۔ ایک مفروضہ ثابت کرتے ہی انہیں جب یہ احساس آن لیتا ہے کہ اب اس کے امکانات ختم ہوئے تو وہ نئے امکانات کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ اس تلاش سے پلٹ نہیں پاتے اور بے انتہا مصروف ہوجاتے ہیں۔ اپنی اصلی فطری حالت میں مصروف تو میں ایک مصروف وجود ہوں ، مجھے بے حد ضروری کام کرنا ہیں ۔ ان کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ختم ہونے میں نہ آئے گی ۔ ایک بار میں نے ان کی فہرست بنانے کی کوشش بھی کی تھی مگر پھر مجھ پر اس کوشش کے عبث ہونے کی حقیقت کھل گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر لمحے میں ایک نیا وجود ہوچکے ہوتے ہیں۔ ایک سے دوسرے تک عمر ایک لمحے بڑھ چکی ہوتی ہے اور بہت سے خلیوں کی توڑ پھوڑ ہمارے جسم کے اندر اور بہت سے تجربات کی ترسیم ہمارے باطن میں ہو چکنے پر ہم وہی نہیں رہتے جو پہلے تھے اور اسی لئے ہر لمحہ ہمارے لئے ایک نیا وجود ہے ۔ ہر وقت ہماری نوعیت بدلتی رہتی ہے ۔
گھبرائیے نہیں، میں نے کوئی غلط بات ثابت نہیں کی ۔ اگر آپ کو کچھ شبہ ہے تو فی الحال ملتوی کیجئے ، میں تو محض یہ بتارہی تھی کہ مصروف آدمی کی مصروفیات کی فہرست مرتب کرنا بالکل ممکن نہیں ہے ۔ اسی لئے میں نے یہ طریق کار اپنایا کہ جو کام بھی سامنے آئے اس کو نمٹاتے چلے جاؤ ۔ یہی وجہ ہے کہ اب میرے کام خود بخود نہایت آسانی سے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بلکہ سب لوگ میری اس کارکردگی پر حیران رہ جاتے ہیں ۔ گو میرا اصول تو یہی ہے کہ ہر کام بغیر کسی ترتیب کے بنا سوچے سمجھے نمٹاتے چلے جاؤ۔ مگر اس کے لئے بھی ایک حربہ مجھے بہر حال اختیار کرنا ہی پڑتا ہے ۔ کیونکہ قدم قدم پر مجھے اپنی ذات کے حوالے بدلنے پڑتے ہیں ۔
میرے گھر میں ایک خاموش تاریک کمرہ ہے ۔ اس کی دیواروں میں نیچے سے اوپر تک طاق بنے ہیں۔ اور ان سب میں وہ چہرے دھرے ہیں جنہیں میں ایک ایک کر کے پہنتی ہوں۔ دن کے مختلف حصوں میں اپنے کام نمٹاتی چلی جاتی ہوں۔ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ۔ ہر کام کے لئے مجھے مناسب پر سونا، استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ بس میں ایک کے بعد ایک پر سونا پہن کر تمام کام کرتی چلی جاتی ہوں۔ کسی فلم کے فاسٹ موشن کی طرح۔ آپ پوچھیں گے آخر ان کاموں کے نمٹانے میں ایسی عجلت کیوں؟
تو اب میں اپنے اصل مسئلہ کی طرف آچکی ہوں۔ دراصل میں انتہائی عجلت میں ہوں۔آج سے نہیں،ازل سے۔۔ پہلی سانس سے میں بہت عجلت میں ہوں اس کام کی خاطر جو دراصل مجھے کرنا ہے ۔ اسی لئے مجھے ہر کام عجلت میں کرنا پڑتا ہے ۔ آپ پوچھیں گے کہ پہلے تم وہ ضروری کام کیوں نہیں کرتیں۔ دیکھا آپ نے کیسی غیر منطقی بات کی۔ دراصل وہ کام تو میرا اصل وجود نمٹائے گا جس کے لئے فی الحال میرے پاس کوئی پرسونا موجود نہیں۔ یہ تو وہی واحد کام ہے جس کے لئے کسی پر سونا کی نہیں خود پورے وجود کی ضرورت ہے۔ اسی ل ئے اس کے راستے میں حائل ہونے والے ان تمام چھوٹے موٹے کاموں کو اتنی تیزی سے نمٹاتی ہوں۔ یہ تو دراصل جنگل کے کود رو جھاڑ ہیں جنہیں صاف کر کے مجھے اس کام تک پہنچنا ہے۔ وہ جو اس جنگل کے آخری سرے پر ہے ۔ کہیں زمین آسمان کی ملتی لکیر کے آس پاس ۔
ایک تو میں بے حد بھلکڑ واقع ہوئی ہوں ۔ اکثر چیزیں رکھ کے بھول جاتی ہوں ، ایک وقت تھا جب میں اپنے یادرکھنے کی عادت سے عاجز تھی ۔ ہر بات ، ہر لمحہ، ہر دم ذہن میں زندہ رہنا۔ ایک مسلسل شور جو میرے گرد آندھی کی طرح چلتا رہتا ۔ آوازوں کا ہجوم جو دن رات، ایک بھنبھناہٹ کی طرح کانوں میں سناتا، نیند میں بھی بیداری کا عالم رہتا۔ میں تو گیا کسی لائبریری کا کٹیا لاگ تھی کہ ہر بات، ہر سانحہ، ہر لمحہ، نمبروار ، فہرست وار محفوظ تھا۔ کسی کو بھی کسی وقت طلب کرلیجئے، اور وقت کا یوں اپنی ذات میں محفوظ رہ جاتا ابھی بہت خطرے کی بات ہے اس کی ہیبت سے جو کوئی بھی دوچار ہوتا ہے ۔ اس سے گزرا ہوا آنے والا اور موجود زمانہ سب ایک ہوجاتے ہیں انسان فیصلہ نہیں کرپاتا کہ وہ کہاں ہے ۔ اور اس کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور کارکردگی کو تو کسی صورت متاثر نہ ہونا چاہئے ۔
تب میں پر سونا کے استعمال سے واقف نہ تھی ، یہی وجہ ہے کہ میرا کوئی بھی کام وقت پر اور صحیح نہ ہوتا تھا کیونہ ہر کام کے دوران مجھے کچھ اور کرنا چاہئے تھا۔ چنانچہ میں دوسرے کام کی جانب لپکتی مگر آدھا کر چکنے کے بعد پتہ چلتا کہ ضروری کام تو پڑا ہی رہ گیا۔ تمام دن ایک سے دوسرے ، دوسرے سے پہلے کام کی طرف لپکتے گزرتا۔
برسوں پہلے نفسیات کے استاد ہمیں ذہنی امراض کے ہسپتال لے گئے تھے۔ وہاں پر چاروں طرف سے بند کوٹھڑی میں ایک عورت چکر لگارہی تھی ۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ تیزی سے چلتی ، ایک سے دوسری، دوسری سے پہلی دیوار تک ۔ ہم نے یہ منظر لوہے کی سلاخوں والی کھڑکی سے دیکھا تھا ۔ وہ عورت تمام وقت اسی طرح چکر کاٹتی تھی جب تک کہ نڈھال ہوکر گر نہ جاتی۔ وہ پندرہ سال سے اس کوٹھڑی میں مقید تھی ۔
مگر میں نے بر وقت پر سونا دریافت کیا۔ اب میرا دن مختلف حصوں میں بٹ گیا تھا اور وقت تیزی سے گزرتا۔ کام تیزی سے سمٹتے، یہاں تک کہ رات آن پہنچتی۔ رات جو الٹا لٹکنے والوں کے لئے دن ہے ۔ اور اس رات کے لئے میرے پاس ابھی تک کوئی پرسونا تیار نہ تھا۔ نیند سے پہلے کے ان چند لمحوں میں، مَیں اپنی کوٹھری کے طاقتوںکو الٹ پلٹ کرتی، اپنا ننگا چہرہ چھپانے کے لئے مجھے کچھ بھی نہ ملتا ۔ اس ننگے چہرے کا کوئی حوالہ میرے پاس موجود نہ تھا ۔ بجز اس ایک کام کے، وہ ازلی و ابدی کام جس کی خاطر میں یہ راستے میں آنے والے تمام چھوٹے موٹے کاموں کا جنگل کاٹتی چلی آتی ہوں ۔ مگریہ جنگل عجب ہے کہ رات تک صاف کرکے سوؤ تو صبح پھر ایک نیا، اس سے دگنا گھنا سامنے تیار کھڑا ہوتا ہے ۔
اب میں ایک حالت میں دوسری کو فراموش کردینے کی ماہر ہوچکی تھی اور یہی میری سب سے بڑی مصروفیت تھی ۔ حالتوں کی تبدیلی، ایک سے دوسری میں منتقل ہونا اور پہلی کو فراموش ذہن سے یکسر مٹا دینا۔ شروع شروع میں بھلا دینے کی صلاحیت اور اس کی کامیابی پر میں حیران رہ گئی ۔ میرے سر میں ابلتا لاوا یکدم پر سکون اور ٹھنڈا ہوگیا ۔ کانوں میں سنسناتی بھنبھناہٹ مدھم پڑ گئی ۔ ہاتھوں، پاؤں، بازوؤں اور گردن میں عجلت کی کیفیت ، اس کی تھکن، سانس کی تیزی سینے کی دھم دھم سب ختم ہوگئی۔ پھر بھول کی ایک نرم چادر میرے گرد ل پٹتی چلی گئی ۔ دلی کے گالوں ایسی چادر جس نے مجھے بے وزن کردیا۔
بیگم صاحبہ، بس ذرا سا سوچ لیجئے کہ خوف محض ایک لفظ ہے۔ یہی وہ لفظ تھے جو ڈاکٹر نے مجھے میز پر لٹانے کے بعد کہے تھے ۔
بھول کی جادونگری میں وہ میرا پہلا قدم تھا ۔ رفتہ رفتہ ہر شے مجھ سے دور سرکنے لگی چیزوں ، نام، لوگ، کبھی مجھے اپنے کانوں پر شک ہونے لگتا ۔ اب مدتوں مدتوں کوئی ایسی آواز نہ آتی جو مجھے چونکا سکتی ۔ نہ ہی میرے قدم زمین کی سختی سے مس ہوتے ۔ وہ میرے رفیق خدشے، خوف، مشلشل، تشویش، وہ سب کیا ہوئے؟
میرے طاقوں میں سے رفتہ رفتہ وہ چہرے غائب ہونے لگے اور وہاں دھول جمنے لگی ۔ اپنے خالی طاق دیکھ کر مجھے خیال آیا ۔ تو کیا وہ وقت آن پہنچا؟ کیا میں نے واقعی اس جنگل کو پار کرلیا، اور اب بالاخردہ میرے سامنے ہوگا ۔ وہ کام جو دراصل مجھے کرنا تھا۔
اب صبح ہونے پر وہ جنگل دگنا گھنا ہوکر سامنے کھڑا نہ ہوتا۔
قدرت ا پنے منصوبے کی تکمیل کے لئے خود بخود راستے پیدا کرتی ہے ، اب کے ڈاکٹر مجھ پر جھکا کہہ رہا تھا ۔ اس میں انسان کو خود ذرا سی بھی کوشش نہیں کرنی پڑتی ۔ گاہ بزور می کشد! اس نے آسیبی ہنسی کے ساتھ کہا۔
بس اب دو لمبے گہرے سانس۔
اچانک سامنے کھڑی میں سوچ کا پورا تھال چمکتا میرے جانب جھکنے لگا ، اور ایک طویل وقفہ سامنے پھیلا تھا۔

ماخوذ از کتاب:
مصروف عورت (افسانوی مجموعہ)
مصنفہ : خالدہ حسین
ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور۔ (سن اشاعت: 1989)

Masroof Aurat. Short Story: Khalida Hussain

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں