رضائی - مزاحیہ افسانہ - شوکت تھانوی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-06-08

رضائی - مزاحیہ افسانہ - شوکت تھانوی

razaai-shaukat-thanvi

جاڑے کا سفر۔ سائیں سائیں کرنے والی رات میں شائیں شائیں کرنے والی ٹرین میں شریک سفر بھی کون؟زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام۔۔ ۔ مگر نہیں ٹھہرئے تو سہی نام کا بھلا ہم کو کیا پتہ؟ نام تو نام صورت تک دیکھی نہیں تھی۔ البتہ اتنا معلوم تھا کہ حسین ہے اور بے حد حسین۔ اس کی دلفریبی کی قسم بغیر دیکھئے ہوئے اسی طرح کھاسکتے تھے۔ جس طرح بغیر خدا کو دیکھے ہوئے، سچی تو سچی جھوٹی قسمیں بھی جب جی چاہے کھاسکتے ہیں۔ ارغوانی رضائی جس پر کامدانی کے ستارے بکھرے ہوئے تھے، اس پیکر ناز کے حسن کو چھپا چھپا کر چمکارہی تھی۔ یہ رضائی لکھنو کی بنی ہوئی تھی اس لئے کہ رضائی میں کامدانی بنانے کا سلیقہ اور سلیقہ سے زیادہ فرصت بھلا کسی شہر کو کہاں نصیب؟ کامنی گوٹ میں سلمیٰ ستارے کا وہ کام دیکھنے والوں کی نظروں کو جھپکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قسمت ہو تو ایسی کہ مقابل والی سیٹ پر ہم کو بھی نہایت کشادہ جگہ مل گئی۔ صرف ایک مسافر کونے میں سکڑا ہوا بیٹھا تھا جس کے پاس اوڑھنے کو کچھ نہ تھا دھوتی کا پینچ کھول کرپیروں پر ڈال لیا تھا تاکہ دل کو یہ سمجھا سکے کہ ہم بھی کچھ اوڑھے ہوئے ہیں۔ اس شخص کو بیٹھنا ہی چاہئے تھا۔ اس لئے کہ اگر لیٹ جاتا تو واقعی سردی لگ جاتی۔ سردی تو خیر اب بھی لگ رہی ہو گی مگر جتنی لگنا چاہئے اتنی نہ لگ رہی ہو گی۔ بہر حال اس شخص کے متعلق غور کرنے کی فرصت ہی کسے تھی۔ ہولڈال کو کھول کر سیٹ پر اپنا قبضہ جمالیا اور غور کرنے لگے کہ آج کس کا منہ دیکھ کر اٹھے تھے۔
ذرا غور تو کیجئے ایک حسین عورت تن تنہا اور پھر لمبا سفر۔ لمبے سفر کا اندازہ سونے کے انداز سے ہو رہا تھا۔ کیسی بے فکری کی نیند تھی۔ واقعی جوانی سورہی تھی۔ سچ مچ حسن حفاظت کر رہا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ اس وقت کہیں سے ایک ستار مل جائے اور خواب ناز سے متعلق جتنی ٹھمریاں، دادرے یا غزلوں کے اشعار ہم کو یاد ہیں سب گاکر رکھ دیں۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ روح گنگنا رہی ہے اور ہم جھوم رہے ہیں۔ یا ہم جھوم رہے ہیں اور ہم ہی گنگنا رہے ہیں یا روح جھوم رہی ہے اور ہم گنگنا رہے ہیں۔ بہرحال جھومنا اور گنگنانا تو بالکل یقینی تھا۔ البتہ تقسیم کار کا صحیح اندازہ اس وقت آسانی سے نہیں ہو سکتا تھا۔ ہم نے اسی عالم جذب و شکر میں اپنے ہولڈال کوبہت قرینہ سے سیٹ پر لگا دیا۔ قرینہ سے مطلب یہ کہ ریشمی سوزنی جو پہلے سب سے نیچے رکھی ہوئی تھی تاکہ سفر میں خراب نہ ہو، سب سے اوپر بچھادی تاکہ جب وہ اپنی دلفریب رضائی کا ایک گوشہ اٹھا کر اپنے ہو شربا مکھڑے کو بے نقاب کریں تو بستر کی کم حیثیتی سے ہمارے متعلق کوئی ایسی رائے قائم نہ کریں کہ ہم کو اس رائے کے تبدیل کرانے میں خواہ مخواہ کچھ وقت صرف کرنا پڑے۔ پھولدار تکیہ اوپر اور سادہ نیچے رکھ لیا۔ ولایتی کمبل نکال کر سودیشی کمبل ہولڈال کی جیب میں رکھ دیا۔ ارادہ تھا کہ بس یہی کپڑے پہنے ہوئے لیٹ جائیں گے مگر اب یہ رائے تبدیل کر دی۔ شب خوابی کے ریشمی سوٹ کی ضرورت نہایت شدت کے ساتھ محسوس ہوئی ورنہ ظاہر ہے کہ وہ یہی کہتیں اپنے دل میں کہ عجیب جانگو ہے جس کے سونے اور جاگنے کا ایک ہی لباس ہوتا ہے۔ ہائے اس وقت ڈریس گون نہ ہواوہ اونی نہ سہی ریشمی سہی مگر کچھ تو بہار دے ہی جاتا۔ بہر حال لیٹ گئے۔ رضائی کی طرف ہمہ تن متوجہ اور رضائی ہٹنے کے ہمہ تن منتظر۔
اس کاحسین ہونا تو خیر طے تھا کاش حسن کے ساتھ ہی ساتھ ناکتخدا بھی ہوتا کہ۔۔ ۔ تاکہ۔۔ مگر خیر یہ بات تو بہت قبل از وقت ہے معلوم نہیں اس کے والدین اس نسبت کو منظور بھی کریں گے یا نہیں لیکن ایک بات ہے کہ والدین کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ اس قدر آزاد خیال ہے کہ تنہا سفر کر رہی ہے اور ناکتخدا بھی اس لئے ہے کہ نہ تو کوئی بچہ ہے نہ بچے کاباپ۔ یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ اگر اس حسینہ کی خدانخواستہ شادی ہو چکی ہوتی تو ایسی حسین بیوی کو تنہا سفر کرنے کی اجازت مشکل ہی سے کوئی شوہر دے سکتا تھا تو گویا اس کی شادی نہیں ہوئی ہے مگر ایک مصیبت یہ بھی تو تھی کہ ہماری شادی ہو چکی تھی۔ مگر سنئے تو سہی اگر ہو بھی چکی تھی تو کیا ؟ اول تو اس بیچاری کو اس کی خبر ہی کیونکر ہو سکتی ہے اور خبر ہوبھی تو دوسری شادی کوئی گناہ تو ہے نہیں۔ شفقت ماموں نے دوسری شادی کی تھی، پہلی بیوی میکے میں رہتی تھی اور دوسری بنگلہ میں۔ ان کو عدالت کی مقرر کی ہوئی رقم دی جاتی تھی اور ان کو سب کچھ۔ ان کے بچوں کے بھی یہی باپ تھے اور ان کے بچوں کے بھی۔ مگر صاحب یہ دھوتی اوڑھنے والا اور سردی میں سکڑنے والا مسافر بھی عجیب بے حس تھا یعنی اس کو سونے اور سردی کھانے کے علاوہ گویا اس کی خبر ہی نہ تھی کہ عین اس کے سامنے ہی ایک فتنہ بیدار ہے اور فتنہ گرمحو خواب ہے، حالانکہ از روئے قاعدہ اس بے بستر مسافر کو ہم سے زیادہ خوش نصیب ہونا چاہئے تھا اس لئے کہ یہ پہلے ہی سے ان کا ہم سفر تھا۔ جن کے شریک سفر ہونے کی سعادت ہم کو اب حاصل ہوئی تھی اور قرینہ یہ بتا رہا تھا کہ یہی ہمارا حاصل زندگی بن کر رہے گا۔ لیٹے لیٹے ایک دم سے خیال آیا کہ یہ جوہم سگریٹ پی رہے ہیں اس کا درجہ بیٹری سے کچھ یونہی سا بلند ہے اور سب سے بڑا نقص اس کمبخت سگریٹ میں یہ ہوتا ہے کہ ناظرین کو اس بات کا اندازہ کرایا ہی نہیں جا سکتا کہ یہ سگریٹ ایک آنہ پیکٹ والا نہیں بلکہ ڈھائی روپیہ ڈبے والا ہے۔ اس کی لے دے کر بس یہی ایک ترکیب ہے کہ سگریٹ لبوں میں دبا کر اس کا ڈبہ آدمیا پنے ہاتھ میں لئے رہے۔ سگریٹ ایک سرے سے نہ پینا بھی اپنے کوبے وقوف ثابت کرانے کے برابر ہے۔ ظاہرہے کہ وہ نہایت آسانی سے یہ سوچ سکتی تھی کہ جس شخص میں اب تک سگریٹ پینے تک کا بلوغ نہ پیدا ہوا ہو اس میں ایک عورت کی پذیرائی کا شعور کیونکر ممکن ہے۔ یاد آیا کہ اٹیچی میں پائپ رکھا ہوا ہے۔ ایک دم اچھل پڑے۔ طبیعت باغ باغ ہو گئی بلکہ پسلی پھڑک اٹھی نگہ انتخاب کی۔ واقعی پائپ اس قسم کے مواقع کے لیے نہایت آزمودہ چیز ہے۔ پائپ پینے والے کی طرف تو عورت اس طرح کشاں کشاں آتی ہے جس طرح خیر اس وقت کوئی تشبیہہ یاد نہیں آ رہی ہے بہر حال عورت پائپ کی طرف کھنچتی ضرور ہے۔ ہم نے بستر سے اٹھ کر فوراً اٹیچی میں سے پائپ نکالا۔ تمباکو کا ڈبہ برآمد کیا اور اپنے حسین شکار کے لیے پائپ سے مسلح ہو کر پھر لیٹ گئے۔
معلوم نہیں اس قسم کے امتحانی مواقع پر سب کا دماغ اس قدر حاضر ہو جاتا ہے یا قدرت نے یہ خصوصیت ہم ہی کو عطا کی ہے کہ بلاکی سوجھ بوجھ ہو جاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر فوراً پہنچ جاتی ہے۔ مثلاً اس وقت ہم کو خیال آیا کہ ہم روشنی کے رخ پرلیٹے ہوئے نہیں ہیں اور ہمارے چہرے پر اندھیرا ہے اگر ہم اس رخ کو بدل دیں یعنی تکیے اس طرف رکھ دیں جدھر فی الحال پائتنی ہے تو چہرے پر روشنی پڑنے لگے گی اور دیکھنے والے کو رنگ نکھرا ہوا نظر آئے گا۔ یاد رکھئے کہ بجلی کی روشنی کے نکھار کے لئے نہایت مجرب تسلیم کی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مانی ہوئی بات ہے کہ یہ سانولا سلونا رنگ ہوتا ہے نا اس کو اگر اندھیرے میں رکھا جائے تو چہرہ کا نمک کالا نمک نظر آتا اور بلا وجہ انسان کو سیاہ فام ہونے کی ندامت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ موقع اس قسم کی ندامت کا نہ تھا۔ ہم نے فوراً ہولڈال کا رخ بدل دیا اور رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر دل ہی دل میں کہنے لگے کہ دیکھیں اب ادھر جاتا ہے پروانہ یا ادھر آتا ہے۔
مگر صاحب قیامت کی جوان اور الھڑ لھڑ جوان نیند تھی کہ کروٹ تک بدلنے کا ہوش نہ تھا۔ ٹرین کی جنبشوں سے رضائی کے ریشم میں ہلکی ہلکی لہریں پیدا ہو رہی تھیں اور ان لہروں کی وجہ سے کامدانی اور بھی جگمگ جگمگ ہو رہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی لالہ زار میں کسی بہت بڑے سرمایہ دار جگنو کی برات آئی ہوئی ہے۔ یا بحیرہ احمر میں ایک دم سے تمام ستارے غسل کرنے کے لئے اتر آئے ہیں۔ مختصر یہ کہ رضائی جاگ رہی تھی اور رضائی والی تھی کہ کس طرح جاگنے کا نام ہی نہ لیتی تھی اور یہاں دماغ تھا کہا سکے جاگنے کے بعد پیش آنے والے واقعات کے تصوروں کا گویا میلہ لگائے ہوئے تھا۔ تقریب ملاقات کی بیشمار تجویز یں ذہن میں آ کر رد ہو رہی تھیں۔ تعارفی مکالمے کے ریہرسل پر ریہرسل دل ہی دل میں ہو رہے تھے اپنے سوالات کے ساتھ ان کے جوابات بھی ذہن رسا خوہی دے رہا تھا کہ ہم ان سے کہیں گے۔
"معاف کیجئے گا غالباً دو بجے ہوں گے۔ "
وہ: "جی ہاں شاید چار ابھی نہیں بجے۔ "
ہم: "تو کیا آپ بھی بھوپال تشریف لے جا رہی ہیں ؟"
وہ: "جی ہاں تو کیا آپ بھی بھوپال ہی جا رہے ہیں ؟"
ہم: "جی ہاں بھوپال، مجھ کو وہاں کی ایک ادبی انجمن کے سالانہ اجلاس کی ایک نشست کی صدارت کرنا ہے۔ "
وہ: "جناب کا اسم مبارک؟"
ہم: " مجھے کاشف الکلامی الہاپڑ کہتے ہیں۔ روزنامہ غریب کا مدیر اعلیٰ ہوں۔ "
وہ: "اوہ آپ ہی کاشف صاحب ہیں۔ میں نے تو آپ کا نام اکثر سنا ہے۔ آپ کی کتاب "شکورو نصیبن" میرے کتب خانہ میں موجود ہے۔ بڑی مسرت ہوئی آپ سے مل کر۔ "
ہم: ’ ’ جو الفاظ میرے جوف دماغ میں محدود تخیل تھے، وہ آپ نے ارشاد فرمادئیے۔ اب میں اپنے جذبہ مسرت کو معذور تکلم پاتا ہوں اور زبان بے زبانی ہی کو ترجمانی کا ذریعہ بناتا ہوں۔ "
وہ: "ماشاء اللہ صرف قلم ہی میں جادو نہیں بلکہ گفتگو میں بھی وہی تحریر والا سحر موجود ہے۔ "
ہم: "میں دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ کا۔۔ ۔ یعنی۔۔ ۔ اسم۔۔ ۔ "
وہ: "جی میرا نام ناہید درخشاں ہے میرے والد خان بہادر طغرل خاں کا نام آپ نے سنا ہو گا۔ "
ہم: "اچھا۔۔ ۔ اچھا۔۔ اور آپ کے۔۔ ۔ "
وہ: " جی نہیں بس اور میرے کچھ نہیں۔ میں ابھی۔ "
رضائی میں یکایک جنبش ہوئی اور یہاں ہمارا ریہر سل ختم۔ بالوں پر ایک ہاتھ پھیر کر دل ہی دل میں کہا آخر آمد زپش پردہ تقدیر پدید۔ مگر وہ جنبش کامدانی کے ستاروں کو جگمگاکر رہ گئی۔ ایک لہر سی آئی اور پھر سطح پر سکون طاری ہو گیا۔ مگر یہ اچھا ہی ہوا اس لئے کہ ایک نہایت شدید غلطی کا فوراً احساس ہم کو ہوا کہ ہم نے یہ کیا غضب کیا تھا کہ سر پر ہاتھ پھیرکر بالوں کو درست کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ بات ہم کو ہپلے سے معلوم تھی کہ خواتین عام طور پر بنے سنورے بالوں کو پسند نہیں کرتیں بلکہ وہ مرد کے بالوں میں ایک مستقل ژولیدگی دیکھنا چاہتی ہیں۔ روکھے روکھے سے بال تھوڑے سے الجھاؤ کے ساتھ اگر کسی مرد کے سر پر ہوں تو عورتیں اس کو آسانی کے ساتھ ادبی قسم کا آدمی سمجھ لیاکرتی ہیں اور بنے ہوئے بالوں والے مرد کے متعلق تو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کسی تھیٹر کا ایکٹر ہے یا کسی دفتر کا بابو۔ دوسرے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ الجھے ہوئے نیم پریشاں بالوں کے ساتھ پائپ بھی خوب سجتا ہے اور اس سے آدمی کے مفکر ہونے کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے بالوں پر دو ہاتھ بے ترتیبی سے ادھر ادھر پھیر کر ان کو منتشر کر دیا اس طرح دل پر سے یہ بوجھ اتر گیا کہ اب کم سے کم خوبصورت بلا کے ہیرو نظر آئیں گے اور نہ حاکم پرگنہ کے اہل مد اور نہ کسی کے اہل خانہ۔
دماغ تو ان احتیاطوں میں مصروف تھا کہ رضائی والے سر برستہ راز کی مستقل طور پر کھوج تھی۔ تو کیا واقعی اس کا نام ناہید درخشاں ہو گا؟ بہر حال ناہید درخشاں نہ سہی، طاؤس رقصاں سہی، مہ کنعاں سہی مگر ہو گا یقیناً کوئی نہایت ہی ادبی قسم کا کھنکتا ہوا نام اور اس نام سے پہلے جب اس میں "آنسہ" لگا دیا جائے تو واقعی یہی معلوم ہو گا کہ کامدانی ڑی ہوئی ارغوانی رضائی میں کامدار کامنی گوٹ لگادی گئی ہے۔ اس قسم کی شریک زندگی ایک شوہر کو کس قدر بلند کر سکتی ہے۔ اس کا اندازہ ہر ایک نہیں کر سکتا۔ حد یہ ہے کہ وہ شریک سفر دھوتی اوڑھنے اور سردی کھانے والا مسافر بھی نہیں کر سکتا جو جمال ہمنشیں کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود محروم تھا۔ در اصل یہ لوگ آدمی تھوڑی ہوتے ہیں چوپائے ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت ہمارا مستقبل ہمارے پیش نظر تھا۔ چمکتا ہوا جگمگاتا ہوا معطر معطر، لطیف لطیف، حسین حسین۔ بات یہ ہے کہ زندگی کا بہت بڑا حصہ اسی شرمندگی میں گزر گیا ہے کہ کوئی تقریب ہو، کوئی اجتماع ہو کوئی محفل ہو، ہم اپنی اہل خانہ کو ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ سب اپنی اپنی بیویوں کو چمکاتے ہوئے اور خود چمکتے ہوئے آتے ہیں اور ہم"واحد حاضر" بنے ہوئے ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ نہ ہوتی بیوی تو کوئی غم نہ تھا مگر بیوی موجود اور ہم تنہا خلوت آباد جلوت ویران۔ گھرمیں عیالدار باہر بے وارثے، بات یہ ہے کہ ڈرتے ہیں کہ کہیں غلط ساری باندھ کر پہنچ جائیں، کوئی بھونڈی بات نہ کہہ دیں۔ سر کے بال گنواروں کی طرح کے نہ سمجھ لئے جائیں۔ ساری، جمپر، جوتے اور موزے کے رنگوں کا توازن اور تناسب مضحکہ خیز نہ ہو جائے۔ یہ تمام اندیشے محض اس لئے ہیں کہ بیگم صاحبہ کی تربیت بحیثیت ایک "بٹیا" کے ہوئی ہے بحیثیت"مس بابا" کے نہیں ہوئی ہے۔ اسکول اور کالج میں پڑھی ہوئی نہیں ہیں۔ ایسی بیوی کو محفل میں لے جانا کسی وقت بھی خطرے سے خالی نہیں۔ مگر اب انشاء اللہ العزیز یہ کمی پوری ہو جائے گی۔ اب ہم بھی سوسائٹی میں بیوی کافر والا کوٹ اپنے کندھوںر ڈال کر احباب سے سرخروئی کے ساتھ بات کر سکیں گے اور اب ہماری مسزکے بھی نقرئی طلائی اور گنگا جمنی قہقہے پارٹیوں کے سبزہ زاروں پر زمزمے برساتے اور رقص کرتے نظر آئیں گے۔ ہمارے منہ میں سگارہے ہاتھ پتلون کی جیب میں اور ٹہل رہے ہیں۔ وہ ایک حسین تیتری کی طرح اس صوفے سے اس صوفہ پر اس صوفے سے اس صوفہ پر اڑتی نظر آ رہی ہیں۔ ہائے کیا زندگی ہو گی۔ سوچتے سوچتے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل خود بخود گنگنانے لگا۔
میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر
یکایک رضائی میں پھر جنبش ہوئی۔ ستارے جھلملائے۔ نظریں بہکیں اور ریشم کے اس چھوٹے سے سمندر میں ہلکا سا طوفان آیا اور معلوم ہوا کہ ان کو کچھ زیادہ سردی لگ رہی ہے اس لئے پیر کچھ سکڑ گئے تھے اور رضائی کے نیچے جسم کچھ سمٹا ہوا سا نظر آ رہا تھا۔ دل نے فوراً ایک لاجواب تدبیر سجھائی۔ دماغ نے تائید کی اور ہم ایک دس بستر سے نکل کر ٹرین کے فرش پر کھڑے ہو گئے۔ ولایتی کمبل اٹھا کر اس زر کار رضائی پر آہستہ سے ڈال دیا۔ دیکھئے اس کو کہتے ہیں سوجھ بوجھ۔ گویا وہ سوتی ہی رہیں اورہم نے اپنا جادو جگا لیا۔ اب جب وہ بیدار ہوں گی اور اپنے اوپر اس کمبل کو دیکھیں گی تو ان کے سوالیہ نشان بنے ہوئے حسین چہرہ کے سامنے ہمارا صرف مسکرادینا کافی ہو گا اور اس مسکراہٹ پر ان کی وہ محجوب شکر گزاری اور ہماری شرافت کا وہ خاموش اعتراف بجائے خود نہایت لاجواب قسم کا تعارف ہو گا۔ اس قسم کے تعارف میں عدم واقفیت والی بیگانگی اور تکلف بالکل نہیں ہوتا بلکہ در اصل تعارف تو پہلے ہی حاصل ہو چکتا ہے کچھ یوں ہی سی خانہ پری باقی رہ جاتی ہے۔ مقصد تو یہ ہے کہ ان کے دل میں جگہ پیدا کرنے کا ذریعہ چونکہ رسمی تعارف نہ ہو سکتا تھا لہٰذا منجانب اللہ یہ ترکیب ذہن میں آ گئی اور ہم خوش ہو کر گنگنانے لگے ؎
ہائے اس اون کے کمبل کی یہ قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو محبوب کی سردی کھونا
ٹرین کی رفتار سست ہونے لگی شاید کوئی اسٹیشن قریب تھا۔ چند ہچکولے کھانے کے بعد ٹرین ٹھہر گئی اور ٹرین کے ٹھہرتے ہی ہمارے ہی ڈبہ میں مسافروں کا وہ سیلاب آیا ہے کہ الٰہی تو بہ گٹھری نما پگڑ باندھے ہوئے درجنوں لٹھ بند، گھونگھٹ نکالے ہوئے، بچوں کو چمٹائے ہوئے بیسیوں عورتیں اور پھر ان سب کا سامان بستر پوٹلے، پوٹلیاں، مختلف قسم کی ترکاریوں کے جھابے، برتنوں کی بوریاں، گھی کے پیپے، حقے، ٹوکرے، ٹوکریاں ایک آفت ہی تو آ گئی۔ کسی نے کسی کے سر پر قدم رنجہ فرمایا تو کسی کالے پالک، بن کر گود میں بیٹھ گیا۔ کوئی کسی سے ہا تھا پائی میں مصروف ہو گیا اور کسی نے محض مباحثہ کافی سمجھا۔ خود ہمارے بستر پر ایک محترمہ ایک گز کا گھونگھٹ نکالے اپنے لخت جگر کو کلیجہ سے لگائے دودھ پلارہی تھیں اور ان کے دوسرے صاحبزادے ہمارے پھول دار تکیہ پر بیٹھے اپنے والد بزرگوار کو بھی وہیں بیٹھ جانے کی تاکید فرمارہے تھے۔ مگر خود ہم اپ نے بستر کی طرف سے بے فکر رضائی والی کا سپر بنے کھڑے تھے کہ کوئی ان کے خوابِ ناز میں مخل نہ ہو۔ مگر آخر کب تک؟ جب لوگوں کو کہیں جگہ نہ ملی تو ادھر بھی متوجہ ہوئے اور ہم نے ایک گنوار کو ڈھکیلتے ہوئے کہا:
"آنکھیں ہیں منہ پریا نہیں دیکھ رہے ہو کہ ایک عورت لیٹی ہے اور گھسے پڑتے ہو۔ "
"لیٹی ہیں تو اٹھا کے بٹھاؤنا ان کو بابو جی۔ ہم آخر کہاں بیٹھیں گے ؟ کلوا کی ماں بیٹھ ادھر تو۔ "
"نہیں یہاں کوئی نہیں بیٹھ سکتا۔ "
"بیٹھ کیسے نہیں سکتا ہم نے بھی ٹکٹ لیا ہے۔ "
"نہیں مانو گے تم۔ ارے بھائی کہیں اور بیٹھ جاؤ۔ میرے بستر پر بیٹھ جاؤ۔ "
رضائی کو پھر جنبش ہوئی، کمبل کھسکا، تارے جگمگائے، اور "استغفراللہ" کہتے ہوئے ایک بزرگ رضائی سے برآمد ہو کر بیٹھ گئے۔ ہم نے مسافروں سے لڑتے لڑتے ان بزرگ محترم کو دیکھا۔ اگر گاڑی کھڑی نہ ہوتی تو شاید زنجیر کھینچ لینے کو دل چاہتا۔ مگر اب اس بوڑھی گھوڑی کی وہ لال لگام دیکھ رہتے تھے جس پر کامدانی کا ہر تارہ معلوم نہیں رورہا تھا یا ہنس رہا تھا۔ دھوتی اوڑھنے والا مسافر اب تک بیٹھا ہوا سورہا تھا اور کمبل کے باوجود ہماری نیند غائب تھی۔

***
ماخوذ از کتاب:
اردو کے مزاحیہ افسانے

Razaai, humorous short story. By: Shaukat Thanvi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں