روس میں اردو - تحقیقی مضمون از ڈاکٹر لڈمیلا ویسلیسیوا - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-05-01

روس میں اردو - تحقیقی مضمون از ڈاکٹر لڈمیلا ویسلیسیوا

urdu-in-russia-Ludmila-Vassilyeva
روس کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اردو صرف ایک غیر ملکی زبان کی حیثیت سے موجود ہے ۔ زیادہ تر مغربی ممالک کے برعکس روس میں کوئی برادری یا کوئی حلقہ نہیں ہے جس کے لئے اردو مادری زبان ہو اور جس نے اپنی زباں اور تہذیب کی بقا اور ارتقاکی خاطر کوئی کاوشوں میں سرگرداں ہو۔
لیکن اس کے باوجود کہ روس میں اردو نہیں بولی جاتی ہے آج روس کو اردو زبان و ادب کی دنیا کی ایک اہم بستی کہاجاتا ہے ۔ یہاں وسیع پیمانے پر اردو کی تعلیم و تدریس ، تحقیق و مطالعے اور ترجمے کا کام ہوتا ہے ۔ بر صغیر کے باہر اردو کے فروغ و تبلیغ کے صلے میں دوہا میں انڈوقطر اردو مرکز کا قائم کردہ پہلا عالمی اعزاز سن1994ء میں روس کو ہی ملا جو اردو پر کام کے معیار اور مقدار کے لحاظ سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پیش پیش ثابت ہوا۔

آج روس میں ماسکو میں ریاستی یونیورسٹی میں اور بین الاقوامی تعلقات کی انسٹی ٹیوٹ میں اور سانکت پیترس بئرگ( ثابق لینن گراد) کی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیمی سطح پر اردو کی تدریس کی جاتی ہے ۔ تحقیق و مطالعے کا مرکزی ادارہ ماسکو کی سائنسی اکادمی کی علم شرقیات کی انسٹی ٹیوٹ ہے اور سانکت۔ پیٹرس بورگ کا اس کا شعبہ بھی۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سنجیدہ مقابلے میں کامیاب ہونے والے طالب علم داخلہ لے کر اے ایم کے بعد ایم فل ، پی ۔ ایچ ڈی اور ڈی لٹ تک کی ڈگری حاصل کرسکتے ہیں۔ علم شرقیات کی انسٹی ٹیوٹ میں جو تحقیقاتی ادارہ ہے صرف پی ۔ ایچ ۔ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

روس میں اردو زبان کو سب سے پہلے بر صغیر ہند کے ایک منفرد ادب و ثقافت کا ترجمان سمجھتے ہیں اور بعد میں اسے دین سے وابستہ کرتے ہیں۔واضح رہے کہ اسلام کی تاریخ اور علم اسلامیت کی اساساردو کے طالب علموں کے نصابی پروگرام میں لازمی مضامین کی حیثیت سے شامل ہیں۔
روس اس لحاظ سے بھی دوسرے مغربی ملکوں سے مختلف ہے کہ یہاں اردو اہل زبان مہاجرین کے ساتھ نہیں آئی بلکہ تعلیم و مطالعے کے ایک موضوع کی حیثیت سے متعارف ہوئی ۔ روس میں اردو کی تعلیم کا آغاز کوئی 100 سال قبل ہوا تھا۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں روسی زار شاہی حکومت کے بعض فوجی اور سیاسی مقاصد کے پیش نظر زار شاہی روس کے ایک وسیع و عریض جنوبی علاقہ ترکستان کے مرکزی شہر تاشقند میں جو بعد میں سوویت رپبلک ازبکستان کا دارالحکومت بنا تھا اور اب خود مختار ملک ازبکستان ہے مشرقی ممالک میں بولی جانے والی زبانوں کا سکول قائم ہوا تھا ۔ اس میں عربی اور فارسی کے علاوہ اردو بھی پڑھائی جاتی تھی۔ اس اسکول میں روسی فوجی افسر زیر تعلیم تھے ۔ ان کے لئے تیار کردہ اردو کے قواعد کی کتابیں روسی زبان میں اردو کی پہلی پہلی نصابی کتابیں تھیں۔ ان میں اردو کی نظم و نثر کے نمونے اور ان کے روسی ترجمے بھی شامل تھے ۔ یہ کلاسکی اردو شعرا کے کچھ اشعار تھے اور داستانوں اور پریوں کے قصوں کے اقتباسات۔ اسی زمانے میں ایک ہی جلد میں روسی اردو اور اردو روسی پہلا لغت بھی شائع ہوا تھا۔
روس میں اردو تعلیم کا یہ سلسلہ سن 1917ء کے اکتوبر انقلاب برپا ہونے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہونے کی وجہ سے منقطع ہوا تھا۔ انقلابی جوش و خروش میں بہت ساری قدروں کا نیست و نابود ہوا تھا اور ان کی جگہ نئی قدروں نے لی۔ لیکن اردو کے پہلے پہ لے روسی طالب علموں کی محنت رائیگاں نہیں ہوئی۔سن 1921ء میں اشتراکی روس کے سربراہ لینن کے فرمان پرپیتروگراد( لینن گراد) اور ماسکو میں بھی "بولی جانے والی مشرقی زبانوں کی انسٹی ٹیوٹ "کے نام سے دو اعلیٰ تعلیمی ادارے کھلے جن میں چینی، عربی، فارسی اور اردو پڑھائی جانے لگی۔ نصابی سامان مرتب کرنے میں مذکورہ بالا پہلی روسی نصابی کتابیں اور لغت بہت مددگار ثابت ہوئے ۔
دراصل اسی وقت روس میں اردو تعلیم و تدریس کی بنیاد ڈالی گئی ۔ اس عمل سے اکاڈمیشن Alexey P. Barnnikov (1952-1800) کا نام منسوب ہے جو روس میں اردو شناسی کے بانی اور اردو زبان اور عصری ادب کے مطالعے کے الم بردار مانے جاتے ہیں۔ موصوف جو سنسکرت کے معروف سکولر بھی تھے روس میں ہی رہ کر اردو سیکھی اور بعد ازاں اپنی ساری زندگی کو اردو زبان و ادب کی خدمات کے لئے وقف کردیا۔ ان کی لکھی ہوئی نصابی کتابیں اور ان کے ترتیب کئے گئے لغات 20 ویں صدی کے چھٹے عشرے تک اردو کے روسی طالب علم استعمال کرتے رہے تھے۔ عصری ادب کے موصوف کے ترجموں سے اردو سے روسی میں ترجمے کے کام کی مسلسل روایت بھی چلی آرہی ہے ۔
روس میں اردو کی تعلیم و مطالعے کی رفتار ہموار نہیں ہوتی ہے ۔ وہ کبھی تیز رہتی ہے اور کبھی دھیمی پڑ جاتی ہے جو عام طور پرملک کے حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ بر صغیر میں آزادی کاد ور شروع ہونے کے بعد سے روس میں بھی تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں۔ سوویت لوگوں کی طرف سے ہندوستان اور پاکستان کے عوام کی زندگی سے دلچسپی جو روس کے قدیم زمانوں سے موجود رہی نئے زور سے بڑھی۔ اب روس میں اردو زبان و ادب کی تعلیم و تدریس اور تحقیق و مطالعے کے لئے زیادہ خوش گوار حالات پیدا ہوئے تھے جس کے نتیجے میں اردو سے متعلق دونوں بنیادی شعبوں میں یعنی تعلیمی اور تحقیقاتی میدانوں میں کام کا پیمانہ بہت بڑھ گیا اور اس کی سطح بھی اٹھی۔
اردو پر کام کی مقدار اور معیار کے لحاظ سے 20 ویں صدی کے چھٹے عشرے سے لے کر آٹھویں عشرے کے وسط تک کا دور روس میں اردو کے فروغ کا سب سے روشن دور تھا ۔ اس دوران مزکورہ بالا تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل بڑے مستعدی سے اردو کی خدمت میں لگ گئے ۔ نئے روسی اردو اور اردو روسی لغات مرتب ہوئے، اردو گرامر پر کئی ساری کتابیں لکھی گئیں اور بے شمار ترجمے ہوئے ۔ اردو ادب پر خاص طور پر قابل ستائش پیمانے اور معیار کا کام ہوا۔

یاد رہے کہ 20 ویں صدی کے پانچویں چھٹے عشروں میں روس کا نام نہاد لوہے کا پردہ پوری طرح ہٹا نہیں تھا ۔ غیر ممالک سے روس کے باشندوں کے تعلقات بہت محدود تھے ۔ اردو وغیرہ سے متعلق زیادہ تر معلومات کتابی نوعیت کی ہوتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود روسی اساتذہ اور طالب علم جاں فشانی س اردو شناسی کی دشوار گزار راہ پر قدم بڑھاتے گئے ۔ اب عہد حاضر کی نسل کے روسی اردو دانوں کے زیادہ تر اساتذہ اس دنیا میں نہیں رہے ۔ لیکن ان کے نام سابق شاگرد نہیں بھولتے ہیں۔ یہ تھے لینن گراد کے اور ماسکو کے ماہرین لسانیت پروفیسر
G. A. Zograf,
Dr.A.A Axyonov,
Dr. O.D Zhmotova,
Dr. N.I. Solntseva,
Dr. V.A V.S. Meresh,
Dr. B.I. Klyuev,
S.A Chernishov,
Dr. Chernikova.
اور دوسرے ۔ ان سب کے نام ہماری اردو کی نصابی کتابوں اور لغتوں کی سرورقوں پر تحریر ہیں۔
آج کل اردو کی تعلیم کے میدان میں بعض بزرگ اساتذہ کے ساتھ ساتھ کل کے ان کے شاگرد اردو پڑھانے آئے ہیں ۔مثلاً ماسکو یونیورسٹی میں
Dr. Galina M. Dashenko اور ان کی سابق شاگرد Marina Mikhailova اور Ekaterina Akimushkina پڑھاتی ہیں اور بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ میںDr.A۔A. Davidovaکے ساتھ جوان استانیNatalya Milyohinaشعبہ اردو میں کام کرتی ہیں۔
روس میں اردو اسب کا شعبہ ایک الگ موضوع ہے ۔ یہاں نہایت اختصار سے کام لیتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ20 صدی کے آخری دہائیوں میں روسی ماہرین ادبیات روسی اردو شناسProf۔ Alexey s۔ Sukhochov(مرحوم)N۔V۔ , Prof۔ A۔A Suvorova Dr۔ Ludmila , Prof۔ Natalia Prigarina, Glebov Vassilyevaجیسے ماہرین ادبیات کی اردو ادب پر تخلیقاتاور ان کے ہی اردو شعر و ادب کے روسی زبان میں ترجموں کی بدولت روس میں اردو ادب سے عام لوگوں کی آشنائی ہوئی اور اس سے ان کی دلچسپی بھی بڑھی۔
دوسری طرف ، روسی اسکولروں کو، اردو کی ان کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا۔

روس میں سارا کام منصوبہ بند اس لحاظ سے ہے کہ اردو ادب کے مطالعے کے مختلف ادوار میں روسی سکولروں کے سامنے جد اجدامقاصد رکھے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں یہ مجموعی نوعیت کے کام ہوتے تھے ۔ لیکن پھر ماسکو اور لینن گراد میں علم شرقیات کی انسٹیٹوں میں بر صغیر کی زبانوں کے ادب کے شعبوں کے قیام کے بعد کام کی نوعیت بدل گئی۔ اب الگ الگ اردو ادیبوں اور شاعروں کی تخلیق، اس کے مختلف پہلو اور پھر اردو ادب کے خصوصی مسائل مطالعے کے موضوع بننے لگے ۔ اس دور کے روح رواں بیشکProf۔ Alexey S۔ Sukhochovتھے جو نہ صرف مشہور اردو اسکولر بلکہ باجوہر ماہر ادبیات ، مصنف اور مترجم بھی تھے ۔ در حقیقت پچھلی صدی کے چھٹے عشرے سے لے کر زندگی کے آخری دم تک وہی روسی اردو شناسوں کا سربراہ اوراستاد تھے۔ ان کا دائرہ مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انہوں نے کئی ساری تصانیف لکھی ہیں جو بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ کرشن چندر، اور مخدوم محی الدین، کتابوں کے علاوہ، داستاں سے ناول تک، عنوان سے ان کی ایک خصوصی کتاب ہے۔ اس میں سر سید احمد خان کے کردار اور ان کی سر گرمیوں کو روس میں بالکل نئے زاویے سے دیکھا گیا ، ان کے کارناموں اور کاموں کے مثبت پہلوؤں پر خاص زور دیا گیا جب کہ اس سے پہلے سوویت کتابوں میں سر سید کو صرف منفی روشنی میں دیکھاجاتا تھا اور ان کی برطانوی حکام سے مصالحت کو ہی ابھار کر ان پر تنقید کی جاتی تھی ۔ سرسید احمد خان کا کردار Prof۔Sukhochov کی توجہ کو ہمیشہ مبذول کرتا تھا۔ ان کا آخری کام بھی سرسید سے اور اردو ادب کی تاریخ میں ان کے پسندیدہ، روشن خیالی کے دور سے وابستہ تھا۔ حالی کی کتاب حیات جاوید کا ترجمہ مکمل کرتے ہی موصوف27 فروری سن 2000 کو ناگاہ اپنی زندگی کی راہ بھی طے کر چکے۔ مستقبل قریب میں ان کی کوئی تلافی نظر نہیں آتی ہے ۔۔
پروفیسر مرحوم کے کئی سابق شاگرد اب خود معروف اسکولر بن گئے ہیں۔Prof۔ Anna A۔ Suvorovaکا نام سر فہرست ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں اردو ادب کے مطالعے میں بیش قیمت دین کی حیثیت رکھتی ہیں۔موصوفہ نے داستانوں اور اردو ڈرامے پر ، مثنوی اور لکھنو کی تہذیب پر کام کیا۔ جنوبی ایشیا کے اولیا پر ان کی کتاب اب انگریزی میں بھی ترجمہ کی جارہی ہے ۔
راقم السطور بھی Prof۔ Sukhochovکی شاگرد تھی۔ حالی اور فیض پر کتابیں اور اردو شعروشاعری کے مختلف مسائل پر موصوفہ کی تصانیف اور اردو سے روسی میں نظم و نثر کے تراجم بھی روسی قارین کو منفرد اردوادب و شاعری کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔
روسی کی مشہور اقبال شناس اور غالب شناس Prof Natalia Prigarina کا نام بھی غیر ممالک میں پہچانا جاتا ہے ۔ علامہ اقبال پر ان کی تصانیف کو خود فیض احمد فیض نے سراہا تھا ۔ مرزا غالب موصوفہ کی کتاب کے اردو اور انگریزی زبانوں میں ترجمے متعدد قارین اور ناقدین کی دلچسپی اور غوروخوص کا باعث بنی۔
آج کل ملک کی معاشی اور سماجی بدحالی کے حالات میں اردو کے میدان میں سر گرمیاں کافی دھیمی پڑ گئی ہیں۔ اس کی کئی ساری وجوہ ہیں۔ غالباً سب سے بڑی اور بری بات یہ ہے کہ سوویت یونین کی شکست کے نتیجے میں وہ زیادہ ترادارے بند ہوگئے ہیں جہاں اردو جاننے والوں کی ضرورت رہتی تھی ۔ اس زمانے میں یونیورسٹی ختم کرنے کے بعد جہاں ماہرین اشاعت گھروں میں مترجم اور مدیر کی حیثیت سے کام کرسکتے تھے جہاں اردو سے اور اردو میں ترجمے اور اشاعت کا کام زوروشور سے ہوتا تھا۔ چند مثالوں سے اس کام کے پیمانے اور اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ 1969ء میں غالب کی غزلوں کا انتخاب 25000ہزار کاپیوں کی تعداد میں نکلا۔ 1981ء میں علامہ اقبال کی نظموں کی کتاب کی اشاعت 10000 ہزار کا پیاں تھیں، 1977ء اور 1985ء میں فیض کے مجموعوں کی دس دس ہزار، 1983میں رجب علی بیگ سرور کے فسانہ عجائب کی 15000 ہزار، قرۃ العین حیدر کے ناول، آخر شب کے ہم سفر کی 30000 ہزار کاپیاں۔۔۔ یہ فہرست بہت طویل ہے ۔ واضح رہے کہ اتنے بڑے کام کے لئے کتنے ہی ماہرین کی مانگ ہوتی تھی ۔ اب یہ دونوں اشاعت گھر بند ہوگئے ہیں۔ یہ ہی رسالہ "سوویت یونین" کے ساتھ ہوا جو اردو میں بھی نکلتا تھا ۔ کام کی ایک اور جگہ ماسکو ریڈیو کی اردو سرویس تھی۔ سوویت زمانے میں ماسکو ریڈیو سے روز آدھے آدھے گھنٹے کے چھ پروگرام نشر کئے جاتے تھے ۔ اب صرف دو نشر ئیے رہ گئے ہیں۔

اب اردو جاننے والے جو ان ماہرین کی ضرورت عملی طور پر صرف تعلیمی اداروں میں ہی رہ گئی ہے۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی کے اساتذہ کا عملہ اکثر بدلتا نہیں۔ دوسری طرف ، خود نوجوان تعلیمی کام سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ آج کے روس میں میڈیکل ڈاکٹروں کی طرح اساتذہ کی بھی سب سے حقیر تنخواہیں مقرر ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ سوویت دور میں مشرقی زبانوں کے ماہرین کی تنخواہیں خاص طور سے بڑی ہوتی تھی اور مستشرق سکولروں کا سماجی رتبہ بھی بہت بلند تھا۔ یہ سب اردو سمیت مشرقی زبانوں کی تعلیم نوجوان لوگوں کے لئے باعث کشش تھا۔
لیکن روسی اردو شناس امید بھری نظروں سے مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔ آج اردو سے متعلق میدان عمل میں صرف وہی شوقین قدم رکھتے ہیں جن کو اردو اور مشرقی تہذیب اور ثقافت عزیز ہے ۔ ان کا شوق وولولہ ان کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے ۔ آج ہمیں
E.E.Badikova,M. Guseinova , Akimushkina, M.Rusanov
جیسے با استعداد اور قابل نوجوان روسی اردو دانوں سے ڈھارس بندھی ہوئی ہے ۔ روس کی اردو شناسی اپنی نئی بہار کے انتظار میں ہے۔
روس میں بعض وجوہ سے اردو زبان کے اساتذہ روسی ہی ہوتے ہیں جن کے لئے اردو ایک سیکھی ہوئی زبان ہے ۔ اردو تہذیب کیا چیز ہے اس کا علم بنیادی طور پر یونیورسٹی میں انہیں اساتذہ سے حاصل کیاجاتا ہے اور اس موضوع پر روسی کتابوں سے بھی۔ شعر فہمی غیر زبان لوگوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ شاعری احساسات کی دنیا سے وابستہ ہے۔ ہر زبان میں شعر سب سے پہلے دل سے ہی اپیل کرتا ہے اور دل میں اتر جاتا ہے ۔ بعد میں دماغی طور پر شعر کی قدردانی کی جاتی ہے ۔ یعنی اہل اردو لوگوں کے لئے شعر کی راہ دل سے دماغ کی طرف ہوتی ہے جب کہ غیر زبان کے لئے اردو شعر کی راہ الٹی، یعنی دماغ سے دل کی طرف ہوتی ہے ۔ اردو شعر ٹھیک سے سمجھنے سے پہلے ہم اسے دل میں اتار نہیں سکتے ہیں۔

***
ماخوذ از مجلہ: چہار سو ، جلد:23۔ شمارہ: مارچ/اپریل 2014

Urdu in Russia. Research Article by: Dr. Ludmila Vassilyeva

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں