حیدرآباد کے ممتاز سائنسی مضمون نگار یوسف مڑکی کا انتقال - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-12-26

حیدرآباد کے ممتاز سائنسی مضمون نگار یوسف مڑکی کا انتقال

yousuf-mudki hyderabad
حیدرآباد کے ممتاز قلمکار محمد یوسف مڑکی، جو اپنے تحریر کردہ سائنسی مضامین کے باعث مشہور تھے، منگل 25/دسمبر 2018 کی شب ویرنچی اسپتال [Virinchi Hospital] (بنجارہ ہلز) میں بعمر 62 سال، انتقال کر گئے۔
نماز جنازہ 26/دسمبر بعد نماز ظہر جامع مسجد ملےپلی میں ادا کی جائے گی اور تدفین قبرستان بیٹری لائن (اے۔سی۔گارڈز) میں عمل میں آئے گی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو فرزندان محمد مدثر مڑکی، محمد مبشر مڑکی اور ایک دختر شامل ہیں۔

احمد صاحب مڑکی کے فرزند محمد یوسف مڑکی کی پیدائش ہبلی (کرناٹک) میں 12/اکتوبر 1956 کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم ہبلی میں ہوئی۔ انہوں نے بی۔ایس۔سی کے بعد ایم۔اے کیا۔ ان کے مطالعے کے بنیادی موضوعات سائنس، ٹیکنالوجی اور طب تھے۔ سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں ہونے والی جدید تحقیقات پر ان کی نظر تھی۔ روزنامہ "منصف" کے سائنسی و طبی سپلیمنٹ کی ادارت کی ذمہ داری انہوں نے 1997 تا 2005 تک نبھائی۔ اس کے بعد 2005 سے تاحال وہ روزنامہ "اعتماد" (حیدرآباد) کے سائنس، صحت و ٹیکنالوجی سپلیمنٹ کے انچارج رہے۔
ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں انہوں نے جونئر انجینئر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ وہ کئی ادبی اور علمی سرگرمیوں سے وابستہ تھے۔ زونل آفس ساؤتھ سنٹرل ریلوے میں اردو لائبریری کے قیام کے لیے انہوں نے مساعی کی تھی اور غیر اردو داں افراد کو اردو سکھانے کی کلاسس کا بھی انہوں نے اہتمام کر رکھا تھا۔ انگریزی زبان سے سائنسی اور طبی مضامین کے اردو ترجمہ بالخصوص جدید طبی اصطلاحات کے اردو ترجمہ میں انہیں کافی مہارت حاصل تھی۔ سائنس، طب نبویؐ اور حفظان صحت کے مضامین پر انہیں کمال حاصل تھا۔ انہوں نے کتاب "سائنس، انسان اور ماحول" بھی تحریر کی تھی، جس پر انہیں 1992 میں آندھرا پردیش اردو اکیڈمی کی جانب سے انعام اول حاصل ہوا تھا۔
متحدہ آندھرا پردیش اور مہاراشٹرا کی نصابی کتب میں ان کے مضامین بطور اسباق شامل تھے۔ یونیورسٹیوں کے ترجمے اور تالیفی سرگرمیوں میں وہ اپنا قلمی تعاون فراہم کرتے تھے۔ اردو میں سائنسی لٹریچر کی ترقی و ترویج ان کی زندگی کا مشن رہا تھا۔


Hyderabad's Urdu writer Yousuf Mudki died.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں