آوازِ دوست - مختار مسعود کی تصنیف کا مطالعہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-10-06

آوازِ دوست - مختار مسعود کی تصنیف کا مطالعہ

a review on Awaz-e-Dost-Mukhtar-Masood
"میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا۔ مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی بات کہہ دی۔ جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں۔ جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے۔ ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو، اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہو جائے۔ تو صدیاں یوں ہی گم ہو جاتی ہیں۔ "
(آواز دوست ص 25)

مختار مسعود کی 'آوازِ دوست ' مختلف طویل مضامین اور خاکوں پر مشتمل تصنیف ہے جس میں نہ صرف یہ کہ مینار پاکستان کی تعمیر میں گمشدہ صدیوں کی بازیافت کی گئی ہے بلکہ قدیم کھنڈرات کونئی زندگی سے روشناس بھی کرایا گیا ہے۔مصنف نےان بے جان کھنڈروں سے اخذ کیے گئےمواد کوجدید تعمیر کا حصہ بنا دیا۔ عام طور پر جب ہم ادیبوں کی تخلیقات یا ناقدوں کی تنقیدوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں کسی خاص نقطہ نظر اور رجحان کا احساس ہوتا ہے اور ہم اسی کے اعتبار سےاپنے ذہن کو آمادہ اور تیار کر لیتے ہیں مگر کچھ ایسے فن پارے بھی ہمارے سامنے آتےہیں جوکسی خاص نظریہ بندی اوررجحان سے آزاد ہوتے ہیں،مختار مسعود کی یہ تصنیف تعمیرِپاکستان کے حالات کو پیش کرتی ہے اس میں کسی ادبی تحریک کی تبلیغ کی بجائے مینارِ پاکستان کے عنوان سے مختلف علامتی میناروں کے ذریعے دنیا کے بہت سے تعمیر شدہ اور زیر تعمیر میناروں کی پائیداری اور ناپائیداری کو ان کے خصوص اور ان کی انفرادیت کے ساتھ میناروں کے معماروں کی حوصلہ مندی اور دور بینی کو بھی تاریخ کے حوالے سے معتبر بنایا گیا ہے۔ بہر حال مینارکی تاریخی اہمیت اور اس کی بنیادی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میناروں کی تعمیر کے مختلف اسباب ہوتے ہیں اور ہر مینار کی تعمیر میں مختلف قرار دادیں بھی منظور ہوتی ہیں کبھی ایک نقطہ مینار بن جاتا ہے تو کبھی پورا ملک اور کبھی ساری کائنات ایک عظیم مینا رکی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ مینار کی تعمیر اور اس کی ضرورت کے حوالے سے مختار مسعودلکھتے ہیں:
"تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مینار کی ابتدائی صورت دفاعی ضرورت کے تحت وجود میں آئی۔ پھر اس کی علامتی حیثیت قائم ہوئی۔ اس کے بعد یہ دین کا ستون بنا اور آخر کار نشان خیر کے طور پر بنائے جانے لگے۔ مینارقرار داد ان ساری حیثیتوں پر محیط ہے۔ یہ نظریاتی دفاع کی ضرورت، تحریک آزادی کی علامت، دین کی سرفرازی کا گواہ اور ہماری تاریخ کا ایک نشان خیر ہے۔"
(آواز دوست ص 14 )

زبان و بیان کے اعتبار سے مختار مسعود نے "آوازِدوست" میں اسلوبیات کے سارے لوازم و شرائط کا خیال رکھتے ہوئے اپنے مفہوم کو واضح کیا ہے۔ بہت ہی علامتی اور استعاراتی گفتگو کرنے کے باوجودوہ قاری تک اپنی بات کو بڑی آسانی سے پہنچاتے ہیں، پڑھنے والا نہ صرف یہ کہ ان کی تحریروں سے لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ ایک ایک جملے میں معنی کی بہت کی جہتیں بھی تلاش کر لیتا ہے ۔ مختار مسعود کا کمال یہ ہے وہ سامنے کی باتیں کرتے کرتے کب قاری کو نئی دنیا اور نئے انکشافات سے متعارف کرا دیتے ہیں اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس نئی دنیا میں جا چکے ہوتے ہیں، بات سے بات پیدا کر کے پڑھنے والے کو بالکل نئے تجربے سے روشناس کرانے کے ہنر سے وہ پوری طرح واقف ہیں۔ علی گڑھ میں مینارپاکستان کی تعمیر میں حصہ لینے والے طلباء نے جب محمد علی جناح کا شاندار استقبال کیا تو اس وقت کی تصویر کشی کرتے ہوئے مختار مسعود لکھتے ہیں:
"علی گڑھ کی اس نئی نسل نے قائد اعظم کی بگھی کھینچی اور مولانا آزاد کی ریل گاڑی روکی۔ مولانا آزاد دلی سے جاتے ہوئے صرف ایک بار علی گڑھ سے گزرنے والی ریل گاڑی میں سوار ہوگئے۔ علی گڑھ میں ان کی گاڑی کی زنجیراتنی بار کھینچی گئی کہ طوفان میل گھنٹہ بھر اسٹیشن پر کھڑی رہی، مسلمان کلکٹرپہنچے، اساتذہ آئے، تب کہیں گاڑی کو جانے کی اجازت ملی۔ انہی دنوں قائد اعظم آئے تو لڑکوں نے فرطِ عقیدت سے بگھی کے گھوڑے کھول دئیے اور اسے کشاں کشاں حبیب منزل تک لے گئے۔ گاڑیاں کھینچنا اور روکنا تو وقت کی بات تھی۔ وقت بالکل بدل گیاہے۔ تحریک پاکستان کی بگھی کے کتنے ہی گھوڑے اب ملازمت کی بیل گاڑی میں جتے ہوئے ہیں۔"
(ص 32 )

مختار مسعود نے اپنی تحریروں کے ذریعے بہت سے حقائق کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تعمیر و تشکیل کے نشیب و فراز سے بھی واقف کرایا ہے۔ انہوں نے آزادی سے قبل اورقیامِ پاکستان کےبعد کے جن حالات و کوائف سے روشناس کرایا ہے و ہ محض تاریخ نگاری نہیں کہی جاسکتی بلکہ انھیں خوبصورت ادبی فن پارے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
ذکر کیا جاچکاہے کہ وہ بات سے بات پیدا کرتے ہوئےکب کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔پاکستان کی تعمیر کے بنیاد گزاروں اور تحریک پاکستان کی بگھی کو کھینچنے والے گھوڑوں کا ذکر کرنے کے بعد وہ انسان کی تعمیر کی بات یوں کرتے ہیں:
"بدی اور نیکی کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے۔ ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں تو ننگ کائنات اور ایک قدم آگے بڑھ جائیں تو اشرف المخلوقات، درمیان میں ٹھہر جائیں تو محض ہجوم آبادی۔ 14 / اگست 1947 ء کو بعض لوگوں نے یہ قدم پیچھے کی جانب اٹھایا۔ تاریخ آگے بڑھ رہی تھی اور تاریخ ساز پیچھے ہٹ رہے تھے، کہتے ہیں کہ مالِ غنیمت مفت ملا تھا مگر یہ شیٔ بازار زندگی میں سب سے گراں نکلی۔ جن کے سامنے غنیم نہ ٹھہر سکا وہ خود مالِ غنیمت کے سامنے نہ ٹھہر سکے ۔یہ مالِ غنیمت ہی تو تھا جس کہ وجہ سے غزوہ اُحد کے بعد خدا کی طرف سے تہدید نازل ہوئی تھی۔ خود ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مالِ غنیمت کے مقابلے میں کتنے ہی ستارے ڈوبے، سورج گہنائے، بت گرے اور مینار بیٹھ گئے۔ "
(آوازدوست ص 44 )

ادبی اسلوب کے حوالے سے اگراس کی نثرکا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ مختار مسعود ادبی شعریات اور اسلوبیات سے کس حد تک واقف ہیں۔ اسلوبیات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادب میں اسلوب کی اصطلاح کا استعمال بہت قدیم ہے، اور اسی قدیم اصطلاح کو سامنے رکھ کر جدید طور پر اسلوبیات کا استعمال کیا جانے لگا۔ افلاطون کے نقطہ نظر سے اسلوبیات خیال ، مواد، اور ہیئت کے اعتبار سے جامع ہوتی ہے اور جب کوئی خیال یا مواد اپنی ہیئت میں ظاہر ہوتا ہے تو وہ اسلوب بن جاتا ہے۔ ارسطوئی دبستان کے ناقدین اسلوب کو اضافی اصطلاح کی شکل میں پیش کرتے ہیں وہ اسے بہت سے عناصر کی آمیزش کا خمیر سمجھتے ہیں۔اسلوب کی ماہیئت کو سمجھنے کے لیے مصنف کی شخصیت کے علاوہ اسلوب اور خیال کے باہمی ربط کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔ اسلوب بنیادی طور پر وسیلہ ہے خیالات اور احساسات کے اظہار کا۔ اگر مصنف اپنے خیالات و احساسات کی ترسیل قاری تک آسانی سے کرتا ہے تواسے مصنف کے اسلوب کی کامیابی سمجھا جاتاہے۔ مختار مسعود اپنی بہترین نثر اور خوبصورت اسلوب کے ذریعے قارئین تک اپنے خیالات کی ترسیل بھی کرتے ہیں اور ادبی حسن کاری کا ثبوت بھی دیتےہیں۔

بہرحال پاکستان کی تعمیر اور اس کی آزادی کے حوالے سے مختار مسعود نے جن حقائق و کوائف کا بیان کیا ہے اس میں تاریخ اور ادب دونوں بدرجہ اتم موجود ہیں۔زیر بحث کتاب میں شامل دوسرا اور آخری، اہم اور وقیع مضمون 'قحط الرجال'ہے جس میں انھوں نے اپنے علمی اور ادبی رشتے کی بنیاد پر ایسے عظیم انسانوں کے خاکے پیش کیے ہیں جو اپنے میدان میں یکتائے زمانہ اور نابغہء روزگار تھے۔خاکہ کھییچنے کی عام روش سے ہٹ کر مختار مسعود نے جوتصویر کشی کی ہے وہ قابل ستائش اور لائق دادوتحسین ہے۔عام طور پر کسی بھی شخص کا خاکہ اس کے ظاہر و باطن اور عادات واطوارسے بحث کرتا ہے لیکن مختار مسعود نے 'قحط الرجال'کے ذیل میںجتنے بھی خاکے پیش کیے ہیں ان میں سے ہر ایک نہ صرف یہ کہ جس شخص کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے اس کے صفات و عادات کو جمع کیا ہے بلکہ اس کے متعلقات اور اس کے عہد کے اجمالی حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔خاکوں پر مشتمل طویل ترین مضمون 'قحط الرجال'کا آغاز کچھ اس انداز سے کرتے ہیںجس کا پہلا جملہ ہی قاری کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے کافی ہے۔دیکھیں اقتباس:
"قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔مرگ انبوہ کا جشن ہو تو قحط،حیات بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا دوسرا زندگی کی نا حق تہمت کا،ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الارض کا۔زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں۔"
(آواز دوست ص49)

مختار مسعود نے ایک ایک جملے میں معنی کی بہت سی جہتیں پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ان کی نثر کا کمال یہ ہے کہ وہ چند فقروں اور جملوں میں بڑی سے بڑی بات کہہ جاتے ہیں۔قحط اور قحط الرجال کے فرق کو جس طور پر واضح کیا ہے اس سے اندازہ ہے کہ مصنف کا مطالعہ اور مشاہدہ کتنا گہر اہے انھوں نے اپنی تحریروں میں علمی موشگافیوں کے علاوہ تجربات اور مشاہدات کا بھی بر محل استعمال کرکے ادبی نثرکے ساتھ ترسیل و ابلاغ میں بھی آسانی پیدا کر دی ہے۔قحط او رقحط الرجال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:
"بستی، گھر اور زبان خاموش ، درخت ،جھاڑ اور چہرے مرجھائے ، مٹی ،موسم اور لب خشک ، ندی، نہر اور حلق سوکھے ، جہاں پانی موجیں مارتا تھا وہاں خاک اڑنے لگی۔ جہاں سے مینہ برستا تھا وہاں سے آگ برسنے لگی۔ لوگ پہلے نڈھال ہوئے پھر بے حال ۔ آباد یاں اجڑ گئیں اور ویرانے بس گئے۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی نہ کسی کو اس کا یار اتھا نہ کسی کو اس کا سراغ ۔ یہ قحط میں زمین کا حال تھا۔ ابردل کھول کر برسا۔ چھوٹے چھوٹے دریاؤں میں بھی پانی چڑھ آیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا جل تھل ہوا کہ سبھی تردامن ہوگئے۔ دولت کا سیلاب آیا اور قناعت کوخس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ علم و دانش دریا برد ہوئے اور ہوش و خردمئے ناب میں غرق ۔ دن ہواوہوس میں کٹنے لگا اور رات ناؤنوش میں ۔ دن کی روشنی اتنی تیز تھی کہ آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ رات کا شور اتنا بلند تھا کہ ہر آواز اس میں ڈوب گئی۔ کارواں نے راہ میں ہی رخت سفر کھودیا۔ لوگ شادباد کے ترانے گانے لگے ۔ گرچہ منزل مراد ابھی بہت دور تھی ۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی ۔ نہ کسی کو اس کا یارا تھا نہ کسی کو اس کا سراغ۔ یہ قحط الرجال میں اہل زمین کا حال تھا۔"
(آواز دوست، ص 49)

یقینا مختار مسعود اپنی تحریروں میں خون جگر کا استعمال کرتے ہیں اورجس زاویے سے گفتگوکرتے ہیںاس کو تشنۂ تعبیر نہیں رکھتے بلکہ پوری طرح اس کا حق ادا کردیتے ہیں۔ قحط الرجال میں انہوں نے جس طرح بڑھتی ہوئی انسانی آبادی اور اس میں ناپید ہوتی ہوئی انسانیت کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور اپنی مردم شناسی کے ذریعے ہزاروں انسانوں کی بھیڑ میں چند کمیاب اور کامیاب انسانوں کوتلاش کیا،اس کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں یقینا ایسی صلاحیت اور خوبی ضرور موجودہوگی جولاکھوں میں نہ تھی۔یہ مصنف کی بالغ نظری اور گہرے مشاہدے کا ثبوت ہے کہ انھوں نے عالمی پیمانے پر چند ایسے افراد کو تلاش کیا جو بہر صورت نسل انسانی کے لیے باعث ِافتخاربنے ۔ اپنے عہد کے علاوہ انھوں نے ایسے عظیم انسانوں کی جستجوبھی کی ہے جو ماضی کا حصہ اور تاریخ کے اوراق پارینہ کا جز بن چکے تھے۔ شخصیتوں کے انتخاب میں انہوں نے اپنے وسیع مطالعے کو کام میں لا کر عظیم ہستیوں کی زندگیوں کو نمونے کے طور پر پیش کیا ہے ۔ کھینچےگئےخاکوں میں مختار مسعود نے دیومالائی اور اساطیری قصے کہانیوں کا سا رنگ بھر کر افسانوی انداز پیدا کر دیا ہے۔ایک صاحب بصیرت ادیب اور فن کار کا کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ بات سے بات پیدا کرکے قاری کے لیے تسکین روح کا سامان فراہم کرے ۔ ان کی نثر کی خوبی یہ ہے کہ یہ متبادل الفاظ کو مترادفات کی صورت میں نہیں پیش کرتے بلکہ ان کے درمیان جو بھی حد فاصل ہے اس کے خطوط کو مزید روشن کرکے فرق قائم رکھتے ہیں۔ ایک مقام پر وہ نوکر اور چاکر کے درمیان فرق کو یوں واضح کرتے ہیں:
"میں شہنشاہ کا نوکر نہیں بلکہ چاکر ہوں مجھے چونکہ نوکر اور چاکر کا فرق معلوم نہ تھا اس لیے میں نے فصیح الدین سے پوچھاجو یہ واقعہ سنا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا یہ الفاظ اگر چہ اب ہم معنی سمجھے جاتے ہیں مگر اصل فرق یہ ہے کہ نوکر مالک کی خدمت کرتا ہے اور چاکر مالک کے اصطبل اورفیل خانے کے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ چاکری گویامالک کے جانوروں کی نوکری ہوتی ہے"
(لوح ایام صفحہ 58)

عام طور پر ان دونوں لفظوں کا استعمال ایک ہی معنی میں ہوتا ہے مگر مختار مسعود نے اس چھوٹے سے فرق کو بیان کر کے اپنے قاری کو اس کی طرف متوجہ کر دیا۔اسی طرح آواز دوست میں انہوں نے شہید اور محسن کے درمیان معنوی فرق کوواضح کرتے ہوئے لکھا ہے:
" اہل شہادت اور اہل احسان میں فرق صرف اتنا ہے کہ شہید دوسروں کے لیے جان دیتا ہے اور محسن دوسروں کے لیے زندہ رہتاہے۔ ایک کا صدقہ جان ہے اور دوسرے کا تحفہ زندگی ۔ ایک سے ممکن وجود میںآتا ہے اور دوسرے سے اس وجود کو توانائی ملتی ہے۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی ہوتا ہے جو اس توانا وجود کو تابندگی بخشتا ہے۔ انہیں اہل جمال کہتے ہیں۔ جس سر حد کو اہل شہادت میسر نہ آئیں وہ مٹ جاتی ہے جس آبادی میں اہل احسان نہ ہو ں اسے خانہ جنگی اور خانہ بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس تمدن کو اہل جمال کی خدمت حاصل نہ ہوں وہ خوشنما اور دیر پانہیں ہوتا۔"
(آواز دوست ص 58, 59)

مختار مسعود نے اپنی اس تصنیف کے دوسرے حصے میں چنداورچنندہ خاکے پیش کیے ہیں ۔ انھوں نے جن اہم شخصیتوں کے خاکوں کو ضبطِ تحریر کیاہے ان میں سروجنی نائیڈو اور ٹائن بی کے خاکے لا زوال اور بے مثال کہے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ پلوٹارک اور حسرت موہانی کے خاکے بھی بے حد اہم ہیں ۔ انہوں نے سب سے پہلے پلوٹارک کا ذکر کیا ہے جس کے ذیل میں تاریخ کی اوراق گردانی بھی کی ہے ۔ مختار مسعود نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس کو تشنہ تعبیر نہیں رکھاہےبلکہ اس کے سارے رخوںاور پہلووں سے بحث کرکے تاریخی ادوار کی احاطہ بندی بھی کر دی ہے:
"پہلے زمانے میں آدمی اپنے کردار سے بڑا بنتا تھا اور ہومر ، پلوٹارک اور فردوسی ان کی عظمت کے محافظ بن جاتے تھے اور اب ایسا اندھیرا ہوگیا ہے کہ آدمی عظمت کا گاہک بن کر تعلقات عا مہ کے تجارتی اداروں سے شہرت خریدنے جاتا ہے۔ وہ مشاہیر تھے اور یہ مشتہر ۔ ان کی شہر ت میں قوت بازو کو دخل تھا اور ان کی شہرت میں صرف قوت خریدکو ۔ "
(ص 72)

آیئے تاریخ کے ایک ایسے منظر کو دیکھتے ہیں جس میں مسولینی کے مزاج کی عکاسی ہوتی ہے:
"اس نے اپنا دفتر ایک ساٹھ فٹ لمبے کمرے میں بنایا تھا ملاقات کرنے والے کو کمرے کے ایک سرے سے چل کر دوسرے سرے تک جانا پڑتا اور اسے اس بات کا خیال بھی ہوتاکہ مسولینی اسے دیکھ رہا ہے۔فاصلے کی طوالت اور مسولینی کی ہیبت سے بہت سے لوگوں کے قدم اکھڑ جاتے اور وہ مرعوب ہوجاتے ۔ جس نے مخلوق سے اتنا فاصلہ پیدا کرلیا وہ خالق سے کیونکر نزدیک ہوسکتا ہے ۔"
(آواز دوست ص74)

تاریخ کو اس انداز سے پیش کرنے کا ہنر ہر ایک کو نہیں آتا یہ کمال کم ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔جن میں سے ایک مختار مسعود بھی ہیں ۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ آوازِدوست میں تاریخی عناصر پیش کیے ہیں بلکہ ان کی دوسری کتاب 'لوح ایام 'کا مطالعہ بھی اس حوالے سےکارآمد ہوگا۔جس میں انھوںنے جس عہد کی تاریخ پیش کی ہے اس کے سارے ابعاد وجہات سے پردہ اٹھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ــ'لوح ایام'میں انھوں نے ایران کے انقلاب کی تاریخی اور سماجی حقیقت کو جس طرح بیان کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مشاہدہ کتنا گہرا اور مطالعہ کتنا وسیع ہے۔
زیر بحث مضمون'قحط الرجال'میں انھوں نے معروف ادیب اور ناول نگار فاسٹر کی زندگی کے مختلف گوشوں سے متعارف کرایا ہے اور ایک ادیب اور ناول نگار کی حیثیت سے اس کی ادبی زندگی کا احاطہ کرنے کے ساتھ اس کے نظریات و خیالات کو بھی پیش کیا ہے۔فاسٹر نے صرف پانچ ناول لکھے اور انھیں کی دولت وشہرت سے بقیہ زندگی گزار دی۔جب اس سے اس کے سلسلے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا:
"میں جس عہد کے بارے میں لکھتا تھا وہ بیت گیا اب نہ وہ گھر ہے اور نہ وہ گھر والے،نہ ہی اس زمانے کا سکون۔سب کچھ بدل گیا ہے۔اور میں اگر چہ نئی دنیا کے بارے میں سوچ سکتا ہوں مگر اس کو ناول میں ڈھالنے سے قاصر ہوں۔"
(آواز دوست، ص97)

فاسٹر کے ناولوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مختار مسعود لکھتے ہیں:
"فاسٹر کے بہترین ناول کا موضوع شروع صدی کا غلام برطانوی ہندوستان ہے۔ اس ناول میںمشاہدے اور محسوسات کا ایک انبار لگا ہوا ہے ان کی وسعت اور گہرائی پر ان انگریزوں کو بھی حیرت ہوئی جنکی ملازمت کی ساری مدت ہندوستان میں بسر ہوئی۔ہر شخص کو نہ تو وہ نظر ملتی ہے جو ایک جھلک میں سب کچھ دیکھ لے اور نہ وہ دل میسر آتا ہے جسے ہر دھڑکن کے ساتھ القاء ہوتا ہے ۔فاسٹر کے حصے میں بہت کچھ آیا تھا ،نظر کی باریکیاں بھی اور بیان کی خوبیاں بھی ۔"
(آواز دوست، ص97)

جس طرح مختار مسعود نے فاسٹر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے انھیں خوبیوں سے مزین فاسٹر کی تحریریں بھی نظر آتی ہیں۔
آواز دوست کی خوبی یہ ہے کہ اس میںشروع سے آخر تک قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔انھوں نے جن لفظوں کا استعمال کیا ہے ان میں ایک معنوی اعتبار سے ربط پایا جاتاہے۔ملا واحدی کے خاکے میں بھی اپنی نثر کا جادو دکھاتے ہوئے ان کی حیات کو چند فقروں میںکچھ یوں محیط کر دیا ہے:
"ملا واحدی کے تین امتیازات ہیں: عبارت ادارت اور رفاقت ان کی عبارت میں ستر برس کی مشق اور مہارت شامل ہے ۔ ادارت کا یہ حال ہے کہ ایک وقت وہ اکھٹے نور سائل کے مدیر و مہتمم تھے ان کے دوسرے رسالے اور اخبار نہ جانے کتنی دیر چلے مگر ایک سخت جان ماہنامہ وہ پچاس برس تک باقاعدگی سے نکالتے رہے ۔ جہاں تک رفاقت کا تعلق ہے اس کے دودعویدار ہیں ۔ شہروں میں دلی اور انسا نوں میں خواجہ حسن نظامی ایک واحدی صاحب کا ساتھ چھوڑگئے اور دوسرے کو واحدی صاحب نے خود چھوڑ دیا۔"
(آواز دوست، ص104)

ملا واحدی کے علاوہ حسرت موہانی کی شخصیت کو پیش کرتے ہوئے انھیں مجموعہ اضداد کا مجسمہ قرار دیا ہے۔ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس شخص کا خاکہ کھینچا جارہا ہے اس کی ذات و صفات سے کس حد تک واقفیت ضروری ہے ۔چونکہ حسر ت کا تعلق سیاست تصوف اور شاعری سے تھا اس لیے ان کی ذات کو سمجھنا اور پھرقلمبند کرنا اہم کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔ مگر مختار مسعود نے ان کی ذات کو بڑی فنکارانہ مہارت کے ساتھ پیش کیا جس میں ان کی زندگی کے ہر پہلوکو نمایاں طور پر دیکھا جا سکتاہے۔ وہ لکھتے ہیں:
" حسرت کی زندگی کے تین رخ تھے سیاست ، سلوک اور شاعری سیاست کا تقاضہ ہنگامہ پروری اور ہنگامہ پسندی تھا ۔ سلوک کو سکون اور تنہائی کی ضرورت تھی ، شاعری کو بے دماغی اور بے فکری درکار تھی ۔حسرت نے یہ سارے تقاضے پورے کیے اور ایک مجموعہ اضداد بن گئے۔ ان کی ذات کی تقسیم یوں ہوئی کہ دماغ سیاست کو ملا ، دل شاعری کو بخشا گیا اور پیشانی عبادت کے لیے وقف ہوگئی "
( آواز دوست، ص121)

پیش کیے گئے خاکو ں کے درمیان مختار مسعود نے کچھ ایسے لا زوال خاکے بھی پیش کئے ہیں جو اس صنف کے اہم ستون کہے جا سکتے ہیں انھیں میں سے ایک سر وجنی نائیڈو کا بھی خاکہ ہے جس میں اس صنف کے سارے لوازم اور شرائط اپنی فنی خوبیوں کے ساتھ بدرجہ اتم موجو د ہیں۔ انداز بیان دلکش ہے جوقاری کو اپنی طرف بہت جلد متوجہ کرلیتا ہے۔
مصنف نے 'آواز دوست 'میں قریب اور بعید دونوںزمانوں کوبڑی ہنر مندی کے ساتھ پیش کیا ہے اوران کے حالات وکوائف کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ ہر مضمون اور خاکہ تر و تازہ معلوم ہوتا ہے۔ بہر حال آئیے دیکھتے ہیں کہ مختار مسعود نے سروجنی نائیڈو سے اپنے قارئین کو کس حد تک متعارف کرایا ہے:
"دبلی پتلی ،بوٹاقد، تنگ دہن ، آنکھیں کشادہ اور روشن،بالوں میں گھنگھر ہیں اور چھوٹا سا جوڑا گردن پر ڈھلکا ہوا ہے ، جوڑے میں جڑاؤ پھول ہیں اور گلے میں موتیوں کا ہار ۔ بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی میں بڑی سی انگوٹھی ہے ، ساڑی کا پلو کا ندھے پر کلپ سے بندھا ہوا، صورت من موہنی ، پہلی نظر میں پر اثر ، دوسری میں پر اسرار ، میں نے بھی جب اس بت کودوسری بار نظر بھر کر دیکھا تو صورت ہی بدلی ہوئی تھی ۔ ایک بھاری سانولی اور معمر عورت نے سلک کی سلیٹی ساڑی باندھی ہے۔ پلو سر پر ہے، اور نصف چہرہ بھی اس میں چھپا ہوا ہے اس نے دائیں ہاتھ سے ایک خوشنما قوس بنائی اور اسے ابرو کے سامنے لا کر سر کی ہلکی سی جنبش کے ساتھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے اراکین کو جو وکٹوریا گیٹ میںصف بستہ کھڑے تھے یوں آداب کیا گو یاوہ مسلم تمدن کا مرقع ہے یا شائستگی کا مجسمہ ۔ آداب کرتے ہوئے ساڑی کا پلو چہرے سے ڈھلک گیا تو ہم نے پہچانا کہ یہ سروجنی نائیڈو ہے۔"
(آواز دوست180,181 )

جس وقت سروجنی نائڈو کا مسلم یونیورسٹی میں زبر دست استقبال ہوا اور پورے اسلامی تمدن اور تہذیب کے ساتھ ان کو صف اول میں بٹھایا گیا،اس پورے منظر کو مختار مسعود نے اپنی تحریروں کے ذریعہ متحرک بنا دیا ہے ۔ظاہری اور باطنی اوصاف کے علاوہ طلباء کے استقبال کا انداز ا ور نائڈوکی تقریر کا جوش اور اس میں حق و صداقت سے پر آواز کا پورااہتمام کیا ہے۔ جلسے کی کیفیت اور تقریر کے انداز کو ملاحظہ کیجیے:
" میں آج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کئی لوگوں کے مشورے کے خلاف اور چند لوگوں کی دھمکی کے باوجود حاضر ہوئی ہوں ، مجھے علی گڑھ کی ضلعی اور یوپی کی صوبائی کانگریس نے پہلے مشورہ اور پھر حکم دیاکہ تم مسلم یونیورسٹی کادورہ منسوخ کر دو۔ انہیں یہ بات بھو ل گئی کہ گورنر کی حیثیت سے میں اب کانگریس کی ممبر نہیں رہی لہٰذانہ ان کی رائے کی پابندہوں نہ ان کے ضابطے سے مجبور، اور میں کسی کی دھمکیوں کو کب خاطر میں لاتی ہوں ، میں حاضر ہوگئی ہوں ، بلبل کو چمن میں جانے سے بھلا کون روک سکتا ہے،،
(آواز دوست ص 174)

ایک دوسرے مقام پر وہ اسلام کے پیغامات کی صداقت اور حقانیت کا اعلان کرتے ہوئے یوں گویا ہوتی ہیں:
" اگر چہ میں تمہارے دوش بہ دوش کھڑے ہونے کے باوجود تمہاری نظروں میں ایک کا فرہ ہوں مگر میں تمہارے سارے خوابوں میں شریک ہوں، میں تمہارے خوابوں اور بلند خیالوں میںبھی تمہارے دوش بدوش ہوں کیونکہ اسلام کے نظریات بنیادی اور حتمی طور پر اتنے ترقی پسند نظریات ہیں کہ کوئی انسان جو ترقی سے محبت کرتا ہو ان پر ایمان لانے سے انکار نہیں کر سکتا۔"
(آواز دوست ص :194 )

یقینا جس طرح سے سروجنی نائیڈو کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کوروشن کیا گیا ہے وہ ایک دیر پا اثر چھوڑنے والا اندازبیان ہے۔ مختار مسعود نے لفظوں کی ایک ایسی خوبصورت لڑی تیار کی ہے جس میں سروجنی نائیڈو کی تقریروں سے بکھرے ہوئے موتیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔تقریروں کے علاوہ جہاں پر خاموشی کی تصویر کھینچی ہے وہاں بھی مختارمسعود نے ایسی دلنشین اور دلفریب تصویر بنائی ہے جو آنکھوں کے لیے خوشگوار منظرکی طرح ہے ۔ جو عورت اپنے نظریات اور بے باکی کے ساتھ اپنی تقریروں میں حقیقت پسندی اور صاف گوئی کے لئے معروف تھی وہی اپنے آخری ایام میں کتنی خاموشی کے ساتھ خواب دیکھتی ہوئی ابدی نیند سوگئی۔دیکھیں اقتباس:
" گورنمنٹ ہائوس کے ایک طویل و عریض کمرے میں وہ اکیلی سوئی ہوئی تھی۔سوتے میں اس کی آنکھ لگ گئی اور پھر وہ جاگ نہ سکی۔جب موت کا فرشتہ آیا ہوگا تو اس نے کہا ہوگا ،تنہا کیوں آئے ہو۔تمھاری تعداد تو لاکھوں میں بیان ہوتی ہے۔آج سے تم میرے سامعین ہو۔آئو میں تمھیں اپنی نظم'الوداع'سنائوں ؎
کیا تمھیں اس کے سوا کوئی اور صلہ بھی چاہیے
اے وہ جس نے مجھ سے میری متاع حیات چھین لی
اچھا میں تمھیں الوداع کہے بغیر رخصت ہو جائوں گی
اےمردہ خوابوںکےمعبد،اے مرے آنسووں کےمندر،
(ص:197)

علم، مشاہدہ ، مطالعہ اورتجربہ اگر یکجا طور پر دیکھنا مقصود ہو تو مختارمسعو دکی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جس طرح انہوں نے آواز دوست میں اپنے مشاہدات و تجربات کو لفظوں کا جامہ پہنایا ہے اس سے بہتر طور پر ان کی معتبر تصنیف 'لوح ایام' میں دیکھاجاسکتا ہے ۔ اس کتاب میںایران کی قدیم تاریخ کے ساتھ ساتھ انقلابی ایران کی داغ بیل اور اس کی ابتدائی صورتحال سے پوری طرح واقف کرایا گیاہے۔ 'لوح ایام 'اپنی معنویتوں کے اعتبار سے ان کی دونوں تصنیف 'سفر نصیب ' اور 'آواز دوست' سے اہم اور وقیع تسلیم کی جاسکتی ہے ۔بہر حال زیر بحث کتاب 'آواز دوست' اپنی قدروقیمت اور شناخت میں منفرد ہے ۔ ذکر کیا جا چکا ہے کہ کتاب کے دوسرے حصے میں مختلف خاکے پیش کئے گئے ہیں جن میں سے چند زیر بحث آئے مگر جن دو خاکوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک سروجنی نائیڈو کا ہے جس کا ذکر کیا جاچکا ہے دوسراخاکہ معروف تاریخ داں ٹائن بی کا ہے۔ جس کو مصنف نے تاریخ کے ایک اہم کردار کی صورت میں دیکھا ہے۔ جس کے اندر نہ صرف یہ کہ ایک مورخ کے صفات موجود ہیں بلکہ اس میں ایک فلسفی اور ادیب کی خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

ٹائن بی ایک عظیم مورخ کی حیثیت سے معروف ہے اور اس کی شہرت و اہمیت کا اندازہ اس کی کتاب 'تاریخ کا ایک مطالعہ' سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ٹائن بی ایک ایسا مورخ ہے جس نے تاریخ کے واقعات اور حادثات کو محض خاموش تماشائی کی صورت میں نہیں دیکھا بلکہ ایک ادیب اور فلسفی کے ذہن سے ہر لمحۂ گزراں کومحسوس کیا ۔ عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں مورخ کے ذاتی نظریات بہت کم دکھائی دیتے ہیں مگر ٹائن بی نے تاریخ نویسی کی روایت سے ہٹ کر اپنا راستہ خود بنایا اور وہی اس کی شناخت ، شہرت، اور مقبولیت کا سبب بن گیا ۔ حالانکہ اس کی کتاب میں کسی خاص عہد یا علاقے کی تاریخ مرتب نہیں کی گئی ہے بلکہ عالمی تاریخ کے ساتھ انسانی تہذیب کی تاریخ کا ایک ایسا جائزہ لیا گیا ہے جس سے فلسفہ تاریخ کا ایک نیا باب وا ہوتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ٹائن بی نے تاریخ اور تہذیب کو کس طرح فلسفیانہ اساس کے ساتھ پیش کیا ہے:
"پانچ تہذیبیں پیدا ہوئیں مگر بن کھلے مرجھا گئیں ۔اکیس تہذیبیں ترقی کے مختلف مدارج تک پہنچیں اور انھیں میں سے دو اتنی دور تک پھیل گئیں کہ ان کی دو شاخیں بجائے خود تہذیب کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔ان تیئیس تہذیبوں میں سے بیشتر گزشتہ سے پیوستہ ہیں۔اور صرف چھ براہ راست ایام جاہلیت سے پیدا ہوئیں ۔۔۔۔۔مشکلات سے مقابلہ کرتے ہوئے جب کوئی معاشرہ فتح حاصل کرتا ہے تو تہذیب کی داغ بیل پڑتی ہے۔مشکلات جغرافیائی ہو سکتی ہیں۔مثلا تکلیف دہ آب و ہوا یا تاریخی ہو سکتی ہے ۔مثلا ًغلامی ،حملے یا سرحدوں پر دبائو ،مشکلات کے بارے میں یہ بھی ضروری ہے کہ نہ تو وہ اتنی آسان ہوں کہ ان سے مقابلہ معمولی نوعیت کا ہو اور نہ اتنی کڑی ہوں کہ مقابلہ کرنے والا گروہ نیست و نابود ہو جائے۔"
(آواز دوست ،ص:202)

ٹائن بی نے اپنے عہد اور ما قبل کے نظریہ ساز ادیبوں اور فلسفیوں کے خیالات سے اختلاف رائے کرتے ہوئے اپنے نظریے کی تشکیل بھی کی ہے اور اختلاف کا جواز بھی پیش کیا ہے۔زوال کی تاریخ کے بارے میں ٹائن بی کے اپنے نظریات بھی ہیں جو زوال کی تاریخ کو مزید مستحکم اور مؤثق بناتے ہیں۔اس کے نزدیک زوال کی سب سے بڑی وجہ خود ارادیت کی ناکامی ہے۔جو طباعی کے فقدان سے پیدا ہوتی ہے۔کسی بھی تہذیب کا زوال قومی یکجہتی کے فقدان پر موقوف ہوتا ہے،ایسا نہیں ہے بلکہ اور بھی بہت سی وجہیں ممکن ہیں جن کے سبب تہذیب کا زوال ہوتا ہے ۔مختار مسعود نے ٹائن بی کی تصنیف کردہ کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کر کے اس کی تلخیص کی ہے،انداز بیان اتنا دلکش اور دلنشین ہے کہ اصل متن کا لطف حاصل ہوتا ہے۔جن فلسفیانہ مباحث کو مختار مسعود نے پیش کیا ہے وہ نہایت سنجیدہ اور پیچیدہ مضامین کو محیط ہیں مگر انھوں نے ان سارے مسائل کو بڑی آسانی سے حل کرکے اصل مقصد تک رسائی حاصل کی۔ٹائن بی کے نظریات اور اس کی تاریخ دانی کا اگر اجمالی طور پر مطالعہ کرنا مقصود ہو تو زیربحث کتاب 'آواز دوست 'میں ٹائن بی کے خاکے کودیکھا جا سکتا ہے۔مصنف نے ٹائن بی کے ساتھ اپنے خیالات کو بھی شامل کیا ہے جس سے قارئین کو علمی اور فلسفیانہ مباحث کی تفہیم میں مزید آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ٹائن بی کی علمی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے مختار مسعود لکھتے ہیں:
"ٹائن بی کے سامنے تاریخ عالم کے بکھرے ہوئے لا تعداد اوراق ،سیکڑوں ملک،ہزاروں حکومتیں،بے شمار جنگیں پھیلی ہوئی ہیں۔اور بے حساب بادشاہ،سپہ سالار ،فلسفی ایسے کھڑے ہیں کہ دیکھنے والے کو واقعات اور انسانوں کا ایک بالترتیب ہجوم نظر آتا ہے۔مگر ٹائن بی کے سامنے یہ ہجوم اقلیدسی شکلوں میں تقسیم ہے ۔طرح طرح کی شکلیں بنتی ہیں مگر سب متعین اور واضح ہیں۔اس ہجوم میں ایک نظم اور نمونہ ہے جسے ہر ایک کی نظر نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔وسعت نظر کا یہ عالم ہے، اور اس کتاب میں اتنے حوالے ہیں کہ اسے انسائیکلو پیڈیائی درجہ حاصل ہے۔متن سے ہٹ کر محض فٹ نوٹ اور ضمیمے پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ ٹائن بی نے کیا کیا سمیٹا ہے اور اسے کہاں کہاں پیوند کرتے اور کس کس کام میں لاتے ہیں۔"
(آوازدوست، ص:211)

بہر حال گزرے ہوئے زمانوں سے اپنی بصیرت کے ذریعے بہت سے بے نشان اور سنگ میل کی حیثیت رکھنے والے انسانوں کو تلاش کر کے مستقبل کی راہ کو آسان بنانے والے ٹائن بی نے تقریباًتیس سال ایک ہی کینوس پر تاریخ کی تصویر سازی میں گزارےاور ہر شخص اور تاریخ کے اوراق کے خطوط وحدودکو اپنی بالغ نظری،وسعت مطالعہ اور باریک بینی سےدیکا اور پرکھا ہے،جس میں ہر زاوئے اور ہر پہلو سے نمایاں کیے گئے انسانوں اور زمانوں کو دیکھا اور پر کھا جا سکتا ہے۔اگر چہ ٹائن بی کی تاریخ نویسی اور اس کے علمی کارنامے کا احاطہ کرتے ہوئے مختار مسعود نے ایک تلخیص کے طور پر پیش کیا ہے مگر جس ہنر مندی اور دقت نظر کا ثبوت دیا ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یقینا جس قدر معلومات کی فراہمی ہمیں آواز دوست سے ہوتی ہے اس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی عہد یا تہذیب کی تاریخ کو ترتیب و تنظیم کے ساتھ بیان کرنا کتنا دقت طلب مسئلہ ہوتا ہے۔مختار مسعود نے ٹائن بی کی تاریخ دانی اور فلسفیانہ نظریات کو محیط کرنے کی کس حد تک کوشش کی ہے۔ظاہر ہے کہ جب تلخیص میں اتنے اہم مسائل حیات اور فلسفے پر مبنی گوشے بیان کیے جا سکتے ہیں تو اصل متن میں علوم کے کتنے باب روشن ہوں گے۔ٹائن بی کی کتاب میں علم،بصیرت،مشاہدے اور تجربے سے تیار کیا گیا آمیزہ جو عالمی تاریخ اور انسانی تہذیب کا احاطہ کرتاہے ،اس کتاب کی
تلخیص میں مختار مسعود نے گہرے مطالعے کا ثبوت دیا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ'آوازدوست 'اپنے موضوعات اور مواد کے لحاظ سے اردو زبان و ا دب کی منفرد تصنیف ہے جس میں اسلوب کا عمدہ تجربہ کیا گیا ہے۔

***
ڈاکٹر علی عباس
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ
ای-میل: aliabbaskpj[@]gmail.com
موبائل: 9988371214
ڈاکٹر علی عباس

Awaz e Dost Mukhtar Masood, a review. Article by: Dr. Ali Abbas

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں