محرم الحرام حادثہ کربلا اور مسلم قوم - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-09-21

محرم الحرام حادثہ کربلا اور مسلم قوم

muharram-fasting
محرم الحرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے "حرمت والے مہینے" قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حرمت والے مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ہیں۔
(بخاری کتاب التفسیر سورۂ براۃ)

اسی مہینے محرم سے ہجری سن شروع ہوتا ہے۔ ہجری سن کا استعمال رسول اللہ ﷺ کے عہد میں نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شروع ہوا۔ اس سے پہلے لوگ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ہجرت اور وفات کے درمیان سنین کو خاص خاص نام سے موسوم کیا کرتے تھے۔ مثلاً ہجرت کے بعد والے پہلے سال کو "سنہ اذان" دوسرے کو "سنہ امر بالقتال" تیسرے کو "سنہ تمحیص" چوتھے کو "شنہ ترفۂ" پانچویں کو "سنہ زلزال" چھٹے کو "سنہ استیناس" ساتویں کو "سنہ استغلاب" آٹھویں کو "سنہ استوار" نوویں کو "سنہ براۃ" دسویں کو "سنہ وداع" کے نام سے یاد کرتے تھے لیکن ظاہر ہے اس طرح سنین کا تسلسل قائم رکھنا ممکن نہ تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت 17ھ میں حضرت ابو موسی اشعریؓ نے جب کہ وہ یمن کے گورنر تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس طرف توجہ دلائی تو امیرالمومنین حضرت عمر ؓ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے واقعہ کو اسلامی سنہ کی ابتداء قرار دے کر اسلامی سنین کا شمار شروع کیا اور چونکہ 13ھ نبوت کے ماہ ذی الحجہ کے اواخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا عزم کرلیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند نکلا وہ محرم کا تھا اس لئے حضرت عثمان ذو النورینؓ کے مشورہ سے محرم کو ہجری سال کا پہلا مہینہ قرا ر دیا گیا۔
(فتح الباری کتاب مناقب الانصار باب التاریخ، تحت حدیث 3934۔ رحمۃ للعالمین جلد3،باب ہشتم)

دین کی حفاظت و صیانت اور اس کی سر بلندی کے لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنا بائی وطن مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف جو ہجرت فرمائی تھی اور جس کی اقتداء آپ کے جان نثار مہاجر صحابہ نے کی تھی۔ یہ ہجری سن ہمیں اس واقعہ کی یاد دلاتا ہے اور اگر دینی حس بیدار ہو تو دین کی بقاء و سر بلندی کے لئے قربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
اور یہ ماہ محرم الحرام جسے اسلامی سن کا پہلا مہینہ ہونے کا شرف حاصل ہے اور جو حڑمت والے مہینوں میں سے ایک ہے اس کی دسویں تاریخ کو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے روزہ رکھا ہے اور اس دن کے روزہ کو ایک خصوصی فضیلت والا روزہ قرار دیا ہے۔ رمضان کے روزے کی فرضیت سے پہلے محرم کی دسویں تاریخ(یوم عاشورا) کا روزہ فرض تھا بعد میں یہ روزہ فرض تو نہیں رہا لیکن اس روزے کی مشروعیت برقرار رہی۔
اس دسویں تاریخ کو رسول اللہ ﷺ کی وفات پر نصف صدی کا عرصہ گزر جانے کے بعد محرم 61؁ھ میں وہ واقعہ پیش آیا جو واقعہ کربلا کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ جو اسلامی تاریخ کا مشہور ترین واقعہ بن گیا ہے اور جس واقعہ نے استحقاق سے زیادہ ہمیں اپنی طرف کھینچا اور ضرورت سے زیادہ ہمیں الجھایا ہے۔ اس واقعہ کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اس کو نیکی و بدی، یا جمہوریت وملوکیت کی لڑائی کی حیثیت سے پیش کیاجاتا ہے ، حالانکہ یہ قطعاً بے بنیاد ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت کا مقابلہ یزید کی سیرت و عمل سے کیاجائے تو جگر گوشہ ٔ رسول کا پلہ نیکیوں میں بھاری رہے گا اور اس میں بھی کلام نہیں کہ یزید نے اپنے افعال سے اسلام میں ملوکیت کی بنیادوں کو مستحکم کیا، لیکن ہم یہ ماننے سے قاصر ہیں کہ یہ لڑائی نیکی و بدی کے درمیان تھی یا اگر حضرت حسینؓ کامیاب ہوجاتے تو حکومت کا جو ڈھنگ سامنے آتا وہ جمہوریت کا ڈھنگ ہوتا۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ خلافت کی تقسیم بر بنائے اقربیت ہونی چاہئے بربنائے انتخاب و مشورہ نہیں۔اور حضرت حسین ؓ بھی بربنائے اقربیت ہی اپنے کو خلافت و حکومت کا حقدار سمجھتے تھے۔ لہذا اگر یزید صالح اور متقی بھی ہوتا تب بھی وہ اپنے نقطہ نظر کی رعایت سے اس کی بیعت نہ کرتے۔ یہ تو محض ایک اتفاق ہے کہ دو لڑنے والوں میں ایک نہایت متقی و صالح ہیا ور دوسرا متہم بفسق و فجور۔
بہر حال حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت جن واقعات کی بنا پر ہوئی ان کے پیچھے کوئی جمہوری تصور کار فرما نہ تھا نہ خود وہ تصور ہی اس کا محرک تھا جس کے وہ قائل تھے۔ وہ تو اہل کوفہ کے دھوکے اور غداری سے یکایک حالات بدل گئے اور ایسا ہوا کہ ان کو یزید کی فوجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمانا پڑا۔
یہ ایک ناخوشگوار حادثہ تھا جو وقوع پذیر ہوا ، اور عواقب و انجام کے اعتبار سے دیکھاجائے تو یہ امت مسلمہ کے لئے ایک منحوس ترین واقعہ ثابت ہوا۔ اس کے بطن سے بیشمار برائیوں اور گمراہیوں نے جنم لیا اور اس سے بد عات و خرافات کا وہ طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ اس دن کا جو اصل و مشروع کام تھا وہ بدعات کے اس طوفان میں مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

ماہ محرم کا وہ دن جسے رسول اللہ نے روزہ کا دن قرار دیا تھا اور جس دن کا خاص شرعی کام روزہ رکھنا تھا اس دن روزہ رکھنے کے بجائے بے شمار بدعات و خرافات کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور عوام و توام کتنے خواص تک اس دن کی سنت صحیحہ سے بے تعلق ہوکر بدعات و خرافات کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان خرافات کو دینی کام سمجھتے ہیں۔
اب تو صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ محرم کا مہینہ شروع ہوتے ہی حادثۂ کربلا کی یاد شروع ہوجاتی ہے۔ اسٹیج سنجے لگتے ہیں اور شیعوں وخرافیوں ہی کے حلقے میں نہیں بلکہ خرافات سے خود کو مستثنیٰ سمجھنے والوں کے حلقوں میں بھی بڑا زور شور پیداہوجاتا ہے اور بڑے بڑے ثقہ حضرات تک فضائل محرم و حادثہ کربلا و شہید کربلا سے متعلق بے سروپا روایات کو پورے زوروقوت کے ساتھ بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ اور پورا عشرہ تقاریر کا سلسلہ چلتا ہے اور وعظ و بیان کی محفلیں جمتی ہیں۔ ان کی بلا سے روایات بے بنیاد ہوں اور بیان خلاف تحقیق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی اس موضوع پر تحقیقی معلومات سے عموماًعاری ہوتے ہیں۔ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے معاملہ میں جذبات کا شکار ہوتے ہیں اور فضائل محرم و یوم عاشوراء کی بابت بے بنیاد روایتوں کو صحیح اور حقیقت سمجھتے ہیں۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ اسلام کا کوئی نادرالوجود واقعہ نہیں ہے۔ ان سے بھی بڑے بڑے صحابہ اور اس سے بھی اعلیٰ اعلیٰ مقاصد کے لئے لڑے اور شہید ہوئے مگر رسول اللہ ﷺ نے نہ صحابہ کرام نے ، نہ ان کے اتباع اخیارنے، نہ ائمہ عظام نے سال بہ سال ان کے تذکرۂ شہادت کی محفلیں منعقد کیں، نہ ان کی برسی منائی، نہ ان پر سالانہ عزاوماتم کا کوئی سلسلہ جاری کیا۔ حادثہ ٔ کربلا کے بعد ہی کی پیداوار ائمہ کرام ابو حنیفہ،مالک، شافعی، احمد، بخاری، مسلم، حسن بصری و پیران پیر وغیرہ ائمہ و اولیاء بزرگان ہیں کیا ان حضرات نے بھی اس حادثہ کے سلسلہ میں وہ سب کچھ کیاجو آج کیاجارہا ہے۔ یا وہ سب کرنے ک وکہا جس کا اس مہینہ کے شروع ہوتے ہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
مولانا عبدالماجد دریا آبادی مرحوم کے لفظوں میں:
جوانان جنت کے سردار کی برسی اس ماہ میں ہر جگہ کے طول و عرض میں منائی جائے گی لیکن کیونکر اور کس طرح؟ اس کے سرخ سرخ خون کی یاد میں نئے نئے سبز رنگ کے کپڑے رنگ کر پہنے جائیں گے۔ وہ بھوکا رہا تھا اس کی بھوک کی یاد میں لذیذ کھانے کھائے جائیں گے اور گھر مزیدار حلوے اور شیر مالوں کے حصے تقسیم ہوں گے۔ وہ پیاس میں تڑپا تھا اس کی پیاس کو یاد کر کے برف اور دودھ ڈال کر اعلیٰ درجہ کے مکلف شربت تیار ہوں گے اور ان کے کئی کئی گلاس زیر حلق اتارے جائیں گے۔ اس نے اپنی راتیں رکوع و سجود میں قیام و تلاوت میں مناجات و زاری میں بسر کی تھیں اور اس کی برسی منانے والے مٹی کے چراغ، بجلی کے قمقمے اور گیس کے ہنڈے جلا جلا کر ساری رات ایک میلہ اور جشن قائم رکھیں گے۔ اس کے گھر کی معزز خواتین معاذ اللہ موسیقی کا ذکر ہی کیا شاید شاعری کے بھی قریب نہیں گئی تھیں۔ اس گھرانے کی باندی اور کنیز ہونے پر فخر کرنے والی عورتیں اپنی راتیں خوش الحانی کی پوری رعایت کے ساتھ سوز خوانیوں کے کمالات دکھانے میں بسر کردیں گی۔ اس کے کان میں شاید ساری عمر کبھی باجے کی آواز نہ پڑی ہو۔ آج اس کے نام پر عشرہ بھر ہر ہر گلی کوچہ ڈھول اور تاشوں کے شور سے گونج کررہے گا، تعزیے اٹھیں گے، علم گشت کریں گے ، براق بنیں گے، مجلسیں برپا ہوں گی ، کہیں چائے تقسیم ہوگی ، کہیں شیر مال بنیں گے ، غرض پورے دس دن خوب دل کھول کر جشن رہے گا ، جو کھانے کبھی نہ کھائے تھے کھانے میں آئیں گے ، جو منظر کبھی نہ دیکھے تھے دیکھنے میں آئیں گے۔
اور سب کچھ کون کرے گا؟ آریہ نہیں، یہودی نہیں، عیسائی نہیں، ہندو نہیں، سکھ نہیں، پارسی نہیں، دشمن نہیں دوست ، غیر مسلم نہیں اپنے کو مسلمان کہلانے والے اور مسلمانوں میں بھی اپنے کو سنّی کہنے والے اور اپنے اہل سنت ہونے پر فخر کرنے والے لوگ کریں گے ، اور اگر کوئی اس سارے ہنگامۂ عیش و عشرت کے خلاف اس یاد ایام کے نہیں، تمسخر یاد ایام کے خلاف زبان کھولے تو وہ مردود ہے ، دشمن اہل بیت ہے ، لا مذہب ہے ، بے دین ہے اور سب کے عقائد کو بگاڑنے والا ہے۔
(منقول از: ہفت روزہ المنبر فیصل آباد، شمارہ:6،دسمبر 78ء)

ماخوذ از مقدمۂ کتاب:
محرم الحرام و مسئلہ سیدنا حسین و یزید۔ (سن اشاعت: 2001)
تالیف: شیخ عبدالسلام رحمانی

Muharram, Karabla and Muslims. by: Abdus Salam Rehmani

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں